Connect with us
Friday,29-August-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

عالمی اردو ٹرسٹ کا بے مثال کارنامہ: سر سیّد کی کلیّات مرتب، اجرا یوم سر سید کے موقع پر

Published

on

علیگڑھ تحریک اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سیّد احمد خاں کی 25 جلدوں پر مشتمل کلیات کی پہلی اور 25 ویں جلد کا اجرا یوم سر سید کے موقع پر17 اکتوبر کو کیا جائے گا۔ یہ مژدہ عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین اے رحمان نے آج سنایا۔
مسٹر رحمان نے بتایا کہ دونوں جلدیں طباعت کے مراحل سے گذر چکی ہیں۔ پہلی جلد خطبات احمدیہ بشمول جلا القلوب اور ازواجِ مطہرات پر مشتمل ہے جبکہ آخری جلد میں مذہبیات اور عقائد پر مبنی مضامین شامل ہیں۔ مسٹررحمان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اپریل 2021 تک یعنی آئندہ چھ ماہ میں کلیّات کی تمام پچیس جلدیں طبع ہو کر سامنے آ جائیں گی۔
تعلیمی میدان کے علاوہ صحافت، ترجمہ اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے والی عبقری شخصیت سر سید کو جدید اردو نثر کا قافلہ سالارکہا جاتا ہے۔ ان کی مستقل تصانیف کی تعداد اکتیس ہے جس میں سیرۃالنبی پر لکھی گئی ”خطباتِ احمدیہ“ اور ’تفسیر القران‘ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی ترجمے کئے، تزکِ جہانگیری، تاریخِ فیروز شاہی اور آئینِ اکبری جیسی کتابوں کی تصحیح کی اورعلیگڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ نیز اپنے مشہورِ زمانہ جریدے ”تہذیب الاخلاق“ میں مختلف موضوعات پر درجنوں مضامین لکھے۔
ان کی بعض کتابوں کے ترجمے ان کی زندگی میں ہی انگریزی،فرانسیسی اور فارسی میں ہونے لگے تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کے مکتوبات کا مجموعہ بھی دو جلدوں میں شائع ہوا تھا۔ان کے تئیں مسلمانوں کی عموماً اور علیگیرین حضرات کی خصوصاً عقیدت کو دیکھتے ہوئے یہ حیرت کی بات ہی کہی جائے گی کہ ان کی کلیّات مرتّب نہیں کی گئی جبکہ اس سلسلے میں چہار اطراف سے فرمائشیں اورتقاضے بھی ہوتے رہے۔
عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین نے یہ بتاتے ہوئے کہ 1961میں شیخ اسمعیل پانی پتی نے سر سیّد کی کچھ تحاریر کو جمع کیا اور مقالاتِ سرسیّد کے عنوان سے سولہ جلدوں میں مجلس ترقّی ادب لاہور سے شائع کیا۔ ان جلدوں میں بہر حال سر سیّد کی تقریباً ساٹھ فیصد تحریریں ہی احاطہ کی جا سکا۔ اس کے بعد1972میں اسمعیل پانی پتی نے مجلس ترقّی ادب لاہورسے ہی ”خطباتِ سر سیّد“ کا نام سے اایک اور کتاب شائع کی جو سر سیّد کے خطبات کا انتخاب تھا لیکن ان کے مکمّل کام کا احاطہ پھر بھی نہ ہو سکا۔
مسٹر رحمان نے کہا کہ ان دونوں کتابوں کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ انہیں کانٹے کی چھپائی میں طبع کیا گیا۔ اس چھپائی کا پڑھنا عام آدمی کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے۔
2017 میں سرسیّد کے دو سو سالہ جشنِ پیدائش کی تقریبات عالمی پیمانے پر منعقد کی گئیں۔اس سلسلے میں دلی کی علیگڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے بھی جامعہ ملّیہ کے شعبہئ انجینئیرنگ کے آڈیٹوریم میں ایک شاندار تقریب کاا نعقاد کیا۔ اس موقعے پر عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین اے رحمان نے جو خود بھی علیگیرین ہیں، یہ اعلان کیا کہ سر سیّد کی کلیّات عالمی اردو ٹرسٹ کے ذریعے شائع کی جائے گی۔ کلیّات کی ترتیب و تدوین کا ذمّہ خود انہوں نے اپنے سر لیا۔ اس طرح تین سال کی شب و روز محنت کے بعد سر سیّد کا تمام تصنیفی، تالیفی اور ترجمہ شدہ کام سترہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل پچیس جلدوں میں مع حواشی و مقدمہ ترتیب دیا جا سکا جو کمپیوٹر کمپوزنگ کے بعد اب کلیّات سر سیّد کے عنوان سے زیرِ طبع ہیں۔
مو جودہ سال علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے صد سالہ جشنِ تاسیس کا سال ہے اور سر سیّد ڈے (یومِ سر سیّد) یعنی آئندہ سترہ اکتوبر کو کلیّات کی پہلی اور پچیسویں یعنی آخری جلد کا جرا کیا جائے گا۔ یہ دونوں جلدیں طباعت کے مراحل سے گذر چکی ہیں۔ پہلی جلد خطبات احمدیہ بشمول جلا القلوب اور ازواجِ مطہرات پر مشتمل ہے جبکہ آخری جلد میں مذہبیات اور عقائد پر مبنی مضامین شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

Published

on

cyber Attack

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com