Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

۱ اکتوبر اور ۲ اکتوبر گاندھی جینتی پر ٹیچر بھرتی کو لیکر اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کا سنکلپ دیوس اور انوکھا احتجاج ریاست میں کامیاب!

Published

on

( خیال اثر )
ریاست میں ٹیچر بھرتی کو مخصوص اجازت دےکر بچی ہوئی آسامیوں کو پر کیا جائے اور دوسری ٹی اے آئی ٹی امتحان کی تاریخ ظاہر کی جائے اس مطالبے کو لیکر اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ ۱۱۱۳۸ کے بانی ساجد نثار احمد کی قیادت میں ریاست بھر میں ایک جولائی ۲۰۲۰ سے گھر بیٹھے اندولن کی کامیاب شروعات کی تھی جسے تقریباً ۹۳ دن مکمل ہونے والے ہے اس کے علاوہ مختلف اندولن جیسے پوسٹ کارڈ اندولن ، بیروزگار دن اندولن، ٹیکسٹ میسج اندولن اور ڈگری جلاؤ اندولن کیے گئے جس پر پورے ریاست بھر سے اُسکی حمایت کی گئی ہے ، تمام اندولن کو کامیابی کے ساتھ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 کی زیر قیادت ریاست کے تمام ڈی ایڈ بی۔ایڈ طلباء و طالبات کے نے مکمل کیے ۔تنظیم کے بانی و سیکریٹری ساجد نثار احمد نے ٹیچر بھرتی کے مخصوص اجازت کے و دوسرے TAIT امتحان کے لیے حکومت کے وزراء و آفیسران سے مسلسل نمایندگی جاری ہے ۔ ۱ اکتوبر کو ریاست بھر میں ضلع کلیکٹر، و سرکاری آفیس کے معرفت ریاست کے گورنر عزت ماب بھگت سنگھ کوشیاری ، وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے ، فاینانس منسٹر محترم اجیت دادا پوار ،وزیر تعلیم ورشا گایکواڑ میڈم، وزیر دہی ترقیات محترم حسن مشرف , مالیاتی محکمہ،تعلیمی محکمہ کے آفیسران کو مطالباتی محضر نامہ پیش کیا گیا۔ نیز ای میل اور ٹویٹر،کے ذریعے بھی مطالبات روانہ کیے گئے نیز ۲ اکتوبر کو گاندھی جی جینتی کے موقع پر ریاست میں سنکلپ دیوس منایا گیا۔ نیز تنظیم کے زیرِ قیادت زوردار اجتجاج درج کرایا گیا۔ جس میں وزراء و آفیسران کو ای میل، ٹیوٹر کے ذریعے پیغام ارسال کر حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ٹیچر بھرتی کو مخصوص اجازت اور ٹی اے آئی ٹی کے امتحان تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ اس احتجاج میں ریاست کے تمام ڈی۔ایڈ بی۔ایڈ بیروزگار امیدوار ۱ اکتوبر کو اپنے اپنے ضلع کلیکٹر آفس اور تحصیل آفس نیز، متعلقہ سرکاری آفیسس کے سامنے آندولن کرکے احتجاج کیا ، اور تمام امیدوار اپنے متعلقہ آفیس کے افسران کو تنظیم کی جانب سے میمورنڈم پیش کیا گیا۔ مہاراشٹرا کے 31 اضلاع سے امیدوروں نے آج کے اندولن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے اپنے اضلاع کے کلیکٹر شکشن ادھکاری کو میمورنڈم دیا گیا۔ مالیگاؤں میں اپرضلع کلیکٹر، پرانت آفیسر، تحصیل دار، آفیسس میں مظاہرے کرتے ہوئے حکام کو میمورنڈم دیا گیا ۔ اس موقع پر ساجد نثار احمد ،الطاف ٫ ساجد حامد ،مصدق ، یونس ، الیاس ،خلیل اکبر ،واداد ، ہدایت جناب،فہیم ،عبدالوجید ، بلال احمد صاحب، مظہر ،شاہ ابراہیم ، ریحان ,دردانہ آپا, سلطانہ آپا. ریحانہ آپا موجود تھے۔
جلگاؤں ضلع کلکٹر کو
پرویز احمد (بھوسا وال جلگاؤں) شاہ اجمل (نصیرآبادجلگاؤں)٫ نزہت باجی (بھوسا ول جلگاؤں), عمران (جلگاؤں) ٫ تنویر (جلگاؤں) ریحان سر (جلگاؤں)ضلع جلگاؤں میں بورود کے تحصیلدار کو ندیم قریشی ٫ جابر کی جانب سے میمورنڈم دیا گیا،اپویبھاگے ادھیکاری فیض پور (یاول) ضلع جلگاؤں کو میمورنڈم دینے کے لیے ایاز سر (یاول) مجاہد سر (یاول)
صاد تروی سر (یاول) 4.بلال سر (یاول) شعیب سر، حفاظت سر موجود تھے۔ ضلع کلکٹر اکولہ میں شازیہ فردوس ،سیما شیخ ناصر ،مقیم احمد , محمد نوید ٫ نازیہ فردوس میڈیم، ارشاد شیخ سر کی جانب سے میمورنڈم دیاگیا۔
ابتدائی کلیکٹر آفس لا تور کو سلطان میڈم کی جانب سے میمورنڈم دیا گیا۔جالنہ ضلع ایجوکیشن آفیسر کو
محسن خان ، سفیان پٹھان سر ،توفیق ،اشفاق ، کی جانب سے میمورنڈم دیا گیا۔
اورنگ آباد کلکٹر
محسن اورنگ آباد ی کی جانب سے میمورنڈم دیا گیا۔
اچل پور تحصیلدار کو
محمد واثق ، محمد امین سر ،حامد علی ، شعیب احمد سر ، عامر سہیل کی موجوگی میمورنڈم دیا گیا‌۔بلدھنہ ضلع کلیکٹر کو
وسیم علی خان ، شاہ رخ ،عرفان کی موجودگی میں میمورنڈم دیا گیا۔چکلی تحصیلدار کو وسیم علی خان سر, شاہ رخ صاحب ،مصعب احمد ، شیخ رازق ، توفیق احمد ، کی جانب سے میمورنڈم دیا گیا۔تحصیل آفس نیر میں مسعود احمد خان صاحب ، صوفیان خان صاحب ، شہباز احمد صاحب،تنویز خان صاحب
دانش عادل سر،سہیل خان ، زبیر علی ،اظہر علی ،مصطیم خان ، نوید خان صاحب، کی جا نب سے میورونڈم دیا گیا۔
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کی جانب سے کیا گیا آندولن ریاست مہاراشٹر میں کامیاب رہا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان