Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

نااہل عوامی نمائندوں کے مقابل متحرک نوجوانوں کی یلغار نئے انقلابوں کی آمد کا اشارہ !!!

Published

on

خیال اثر مالیگانوی
مالیگاؤں بلدیہ کو جس دن سے کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے کارپوریشن یکے بعد دیگرے معاشی تنزلی کا شکار ہوتے جارہی ہے. ٹیکسوں کی وصولی کا گراف گرتا جارہا ہے وہیں تعمیری اقدامات بھی روز بروز پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں. شہری لیڈران نے شہریان کو تعمیر و ترقی کا خواب دکھاتے ہوئے اپنا خود کا فائدہ تو حاصل کر لیا لیکن شہر کو پستی میں ڈھکیلنے کی کوشش کرتے ہوئے کھنڈر میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے. اقتدار کی تبدیلی بھی شہر کے حق میں نفع بخش ثابت نہیں ہو سکی ہے. شہر کی خستہ حال سڑکیں, چوک چوراہے, گلیاں اور دیگر تعمیرات بھی آہ و فغاں کرتے ہوئے اپنی تعمیروں پر ماتم کناں ہیں. خستہ حال تعمیروں کی ہر پکار آج صدا بصحرا ثابت ہوتی جارہی ہے. یہ سب دیکھتے ہوئے شہر کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل “مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ “نامی تنظیم نے نیند کے شہر میں آواز کا پہلا پتھر پھنیکتے ہوئے اپنی موجودگی کا گونجدار اشارہ دیا ہے . اس تنظیم نے بےحس عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کو بے حسی کی نیند سے نکالنے کی بھرپور کوشش شروع کر دی ہے. اس تنظیم کی پہلی ہی گونجدار دستک سے کارپوریشن کی پتھریلی دیواریں, عوامی نمائندگان اور سرکاری آفیسران کے عالیشان قصر لرزہ براندام ہوئے لیکن ان کی یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت واپس لوٹ آئی. یہ گونج دار دستک بازگشت کی صورت شہر میں گونج ہی رہی تھی کہ مالیگاؤں کے نوجوان وکلاء کا ایک متحرک گروپ بھی شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے بے خطر میدان عمل میں اپنی موجودگی ثبت کر گیا.
نوجوان وکلاء کا یہ گروپ شہر کی تعمیر و ترقی کا مسئلہ لے کر میونسپل کمشنر دیپک کاسار سے ملنے کی کوشش کی لیکن ان کی غیر موجودگی میں ڈپٹی کمشنر نتن کاپڑنیس سے ملاقات کرکے انھیں شہر کی خستہ حالی کی جانب متوجہ کیا. اس گروپ نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے دستیاب شدہ فنڈ اور مالیگاؤں کے حاصل کردہ ٹیکسوں کی حصول یابی کا اوسط طلب کرتے ہوئے گفت و شنید کی. وکلاء کے اس گروپ نے نائب کمشنر کو شہر کی خستہ حال سڑکوں اور صاف صفائی کے ناقص انتظامات کی جانب بھی متوجہ کیا. مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ اور نوجوان وکلاء کے گروپ پر مشتمل نوجوانوں کا میدان عمل میں آنا ایک نئے انقلابوں کا اشارہ و استعارہ ثابت ہو سکتا ہے. ان نوجوانوں کے تیور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اب یہ قافلہ کسی بھی صورت کہیں بھی رکنے والا نہیں ہے. ان بلند حوصلہ نوجوانوں کا گروپ شہر کے لئے کتنا فیض رساں ثابت ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ طے ہے کہ نئے انقلابوں کا یہ نیا اشارہ شہر کی خستہ حالی کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا کیونکہ آج شہر کے ہاتھوں میں کھونے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں رہا اور پانے کے لئے سب کچھ ہے.
آج شہر کو صرف اور صرف میدان عمل میں آتے ہوئے بغاوتوں کا پرچم لہرانا ہے. ساتھ ہی شہر کی خستہ حالی دور کرنے کے علاوہ تعمیر و ترقی کے نئے در “وا “کرنے کے لئے فلک شگاف ایسے نعرے لگانے کی ضرورت ہے جو پتھریلی اور اے سی آفسوں میں موجود خطیر تنخواہ حاصل کرنے والے سرکاری آفیسران اور عوامی نمائندگان کو بےحسی کی نیندوں سے جگانے کا سبب جائیں. آج شہر کو ضرورت ہے کہ ایسے بلند حوصلہ نوجوانوں کی پذیرائی کرتے ہوئے دو چار قدم ان کے ساتھ چلتے جائیں تاکہ یہ نوجوان اپنے بلند حوصلوں کے ساتھ شہر کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کا ذریعہ بن جائیں.
دیکھئے…….. چند نوجوانوں پر مشتمل مفلوک الحال نوجوانوں کا قافلہ بلند شگاف نعرہ لگاتے ہوئے رواں دواں نظر آرہا ہے. یہ تمام نوجوان کھنڈر بنتے ہوئے مالیگاؤں کی عظمت رفتہ واپس لانے کا خواب سجائے ہوئے عملی طور پر اپنے خستہ حال مکانوں سے نکل کر جوق در جوق نئی منزلوں کی تلاش میں پا برہنہ نکل کھڑے ہوئے ہیں. ان سب کا ایک ہی خواب ہے کہ مالیگاؤں سنگا پور اور شنگھائی نہ سہی وہ مالیگاؤں بن جائے جسے ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے سینچا تھا. یہ ناممکن نہیں ممکن ہو سکتا ہے اگر شہریان اپنے کشکول میں جھوٹے وعدوں کی خیرات کی بجائے عملی اقدامات کی تعبریں طلب کرنا شروع کردیں. آج کے موجودہ لیڈران سے نالاں شہریان نئے انقلابوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ایک نا ایک دن ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے میں ضرور بہ ضرور کامیاب و کامران ہوں گے بس ضرورت ہے کہ کھلے دل سے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے. یہ حقیقت ہے کہ یہ بے لوث اور بےداغ نوجوانوں کا قافلہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی خمدار زلفوں کا اسیر نہیں بلکہ یہ تمام نوجوان مختلف سیاسی پارٹیوں کا جائزہ لینے کے بعد جب پایا تو ہر سیاسی پارٹی کا مقصد صرف اور صرف اقتدار پر قابض ہو کر مالی فوائد حاصل کرنا ہے. شہر کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں سبھی سیاسی پارٹیاں اور لیڈران بری طرح ناکام نظر آرہے ہیں یہی سبب ہے کہ انھوں نے کسی لیڈر, پارٹی اور کسی بھی قائد و سالار,قائد نسل نو, حبیب ملت, نقیب ملت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے عزم ارادے کو میر کارواں مانتے ہوئے آواز جرس بلند کی ہے. ان کا نعرہ یہی ہے کہ
نیند کے شہر میں آواز کا پتھر پھینکوں کوئی جاگے کہ نہ جاگے میں برابر پھینکوں
اسی کے ساتھ ساتھ ذی شعور شہریان کا سیاسی لیڈران اور سرکاری آفیسران سے کہنا ہے کہ اپنی مہنگی ترین کاروں میں بیٹھ کر شہر کی شاہراؤں اور چوک چوراہوں سے گزرتے ہوئے اپنی اپنی لگژری کاروں کے شیشے اور اپنی عینکیں اپنے مہنگے ترین رومال سے صاف کرتے ہوئے ایک نظر اوبڑ کھابڑ راستوں اور گندگی و تعفن سے اٹی ہوئی گلیوں کی طرف دیکھ لیں اور اگر یہ سب دیکھ کر ذرا بھی شرم آئے تواس کا مداوا کردیں شاید یہی کچھ میدان حشر میں ان کی بخش کا سبب جائے لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ سب دیکھتے ہوئے بھی وہ اپنے عالیشان مکانوں کے نرم گداز بستروں پر محو استراحت ہو کر پریوں کی آغوش اور خواب خرگوش میں گم ہو کر اپنی زنبیل سے پھر کوئی نیا تماشہ نکالتے ہوئے شہریان کو “خوش گمانیوں” کے صحراؤں میں جلنے اور جھلسنے کے لئے چھوڑ جائیں گے-

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان