Connect with us
Tuesday,04-August-2026

جرم

آج مالیگاؤں بڑا قبرستان بم بلاسٹ کو 14سال مکمل!

Published

on

(خیال اثر مالیگانوی )
اور پھر یوں ہوا کہ8 ستمبر 2006 شب برات کے موقع پر عین نماز جمعہ کے وقت جب فرزندان اسلام نماز جمعہ سے فارغ ہوکر امت مسلمہ اور امن عالم کی خیرخواہی کے لئے مصروف دعا تھے کہ اچانک شہر کے بڑا قبرستان میں واقع مسجد حمیدیہ کے صحن اور وضو خانہ کے باہر مسلسل طاقتور بم دھماکوں سے شہر خموشاں گونج اٹھا. مسجد کے صحن اور وضو خانہ کے باہر امت مسلمہ کے معصوم بچے, نوجوان اور ضعیف العمر افراد اپنے ہی خون میں نہائے ہوئے تھے یا شدید طور پر مجروح ہو گئے تھے یا پھر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے. عین اسی وقت اس مقام سے تھوڑی دوری پر واقع مشاورت چوک پر بھی ایسا ہی خوفناک بم بلاسٹ ہوا تھا. پورا شہر بم دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی چپ کے سناٹوں میں گونج رہا تھا. چہار جانب خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا. جوں جوں بم دھماکوں کی خبر شہر میں پھیلتی گئی عوام و خواص پا برہنہ دونوں مقامات کی جانب دوڑ پڑے. یہاں آنے والا ہر فرد اپنے عزیز و اقارب, اپنے معصوم بچوں کی تلاش میں مصروف دکھائی دیتا تھا. ایسے سنگین حالات میں کسی معصوم بچے کا سر بدن سے جدا ہوگیا تھا تو کسی کا ہاتھ پیر بم دھماکوں نے نوچ کھایا تھا. ہر سماجی خادم مجروحین کو طبی امداد مہیا کرنے کے لئے مختلف اسپتالوں میں لے جاکر اس کی جان بچانے میں لگے تھے. شہر کے تمام ہی بڑے اسپتال زخمیوں اور مرحومین کی نعشوں سے بھرے پڑے تھے. ہندوستان کا شاید مالیگاؤں شہر ہی وہ واحد شہر تھا جہاں کے بم دھماکوں کی خبریں اس وقت بی بی سی لندن کی اردو نشریات سے بھی پوری دنیا میں پہنچ گئی تھی. بم دھماکوں کی خبریں پھیلتے ہی ریاستی وزراء اور آل انڈیا کانگریس پارٹی کی قومی صدر سونیا گاندھی وغیرہ نے بھی مالیگاؤں کا دورہ کرتے ہوئے شہیدان بم بلاسٹ اور مجروحین کی داد رسی کی ناکام کوشش کی تھی. اس وقت کے ریاستی اے ٹی ایس چیف پی کے رگھوونشی بھی اپنی تفتشی ٹیم کے ہمراہ مالیگاؤں تشریف لائے تھے.
مالیگاؤں کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ رہی کہ اے ٹی ایس چیف اور ان کی ٹیم نے شہر کے ہی 9 اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانون کو ملزم بناکر اپنی مجرمانہ ذہنیت کو اجاگر کردیا تھا. یہ 9 مسلم نوجوان برسوں تک پابند سلاسل رہے اور مقدمہ کے دوران کوئی ثبوت اور ٹھوس گواہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے 11سال بعد باعزت رہا کئے گئے. مزید بدنصیبی یہ رہی کہ زخمیوں اور شہید ہونے والے افراد کو اسپتالوں تک لے جانے والوں کو ایک ایسی لاش بھی دستیاب ہوئی جس کے چہرے پر نقلی داڑی منڈھی ہوئی تھی .نقلی داڑھی والی یہ لاش کہاں غائب ہوئی یا کردی گئی آج تک اس کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے. آج مالیگاؤں بلاسٹ کو 14سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد اصل مجرمین قانون و عدلیہ کے ہاتھوں میں نہیں آ پائے ہیں. حالانکہ اس دوران
“سڑکوں کی زباں چلاتی ہے ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں
اے رہبر ملک و قوم ذرا آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا کچھ ہم بھی سنیں ہم کو بتا ”
شہر مالیگاؤں کی یہ صدائیں قانون و عدلیہ اور ارباب اقتدار کی پتھریلی سماعتوں سے ٹکرا کر باز گشت کی صورت ہر سال بم دھماکوں کی برسی کے موقع پر گونجتی رہتی ہیں مگر وائے ناکامی کے ایسی ہر صدا “صدا بصحرا “ثابت ہوتی رہتی ہے. ان بم دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد اور مجروحین کے عزیز و اقرباء آج بھی قانون و عدلیہ کی جانب متلاشی نگاہوں سے محو انتظار ہیں کہ شاید انھیں جیتے جی انصاف میسر ہو جائے. آج بھی مالیگاؤں کے دونوں بم دھماکوں کے مقامات سے گزرنے والے افراد کی نگاہوں میں وہ خونیں مناظر گردش میں آ جاتے ہیں. سارے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور ان کے دل کے نہاں خانوں سے یہی آواز ابھرتی ہے کہ کیا ان بم دھماکوں کے اصل مجرمین کبھی عدلیہ کے کٹہروں میں کھڑے کئے جائیں گے اور انھیں ان کے کئے کی سزا مل پائے گی لیکن شہر کے حساس اور ذی شعور افراد کا یہی کہنا ہے کہ
یہاں قانون نے آنکھوں پہ پٹی باندھ رکھی ہے
شرافت جیل میں سڑتی غندہ چھوٹ جاتا ہے
ایسا کہنے والوں کو یقین ہے کہ قانون کی نگاہوں میں ان بم دھماکوں کے اصل مجرمین کے روپ بدلتے سارے چہرے عیاں ہیں لیکن انھیں باعزت طریقے سے محفوظ رکھنے کی منظم سازش رچتے ہوئے انھیں مجرمین کی صف سے نکال کر عزت مابی کاتمغہ اور سند عطا کردی گئی ہے. المیہ یہ ہے کہ بم دھماکوں کی مذمت اور بےگناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لئے ریاستی و مرکزی حکومتوں تک گہار لگانے والی ملی تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں بھی امسال ان بم دھماکوں کی برسی کے موقع پر خاموش تماشائی بنی رہیں. کہیں سے کوئی آواز تو کیا سرگوشی بھی سنائی نہیں دی. سبھی آہستہ آہستہ بے حسی کے دلدل میں لمحہ بہ لمحہ دھنستے ہوئے سب کچھ بھول بیٹھے ہیں یا پھر
زباں تو چھین لی ہے مصلحت آموز دانش نے
میری خاموشیوں کو بولتے کنکر پہ لکھ دینا
آج بم دھماکوں کے دونوں مقامات کا ذرہ ذرہ, کنکر کنکر اور خون آلود مٹی انصاف کے منتظر ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ دونوں بم دھماکوں کے مجرمین کب تک قانون و عدلیہ کی گرفت سے دور رہتے ہیں. ہندوستان کا قانون یہ بھول بیٹھا ہے کہ ایک نا ایک دن حشر بپا ہوگا اور میدان حشر میں آخری عدالت کا انعقاد کرتے ہوئے خالق ارض و سما انصاف کے سارے حقیقی تقاضوں کو روبہ عمل لاتے ہوئے حق و انصاف کا ترازو لے کر طلبگاران انصاف کو انصاف عطا کرتے ہوئے مجرمین کو جنہم کے دہکتے الاؤ کا ایندھن بنا دے گا.

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش کے صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، انسداد بدعنوانی کا ادارہ منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

Published

on

Dhaka

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں طلباء کا احتجاج جاری ہے، صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی کی تنظیموں نے کھلنا شہر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزاد صحافت اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ 15 جولائی کی صبح کھلنا میں چار صحافیوں کو بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ صحافی اپنا کام ختم کر کے چائے کے ایک اسٹال کے باہر بیٹھے تھے۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے صحافیوں میں بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے کھلنا کے نمائندے اول شیخ بھی شامل تھے، جو گولیوں کی زد میں آ گئے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کا مقدمات درج کرنے میں ہچکچاہٹ خوف کی فضا اور حکام پر اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹی آئی بی نے ذمہ داروں کی شناخت اور جوابدہی کے لیے فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتخارزمان کے حوالے سے کہا کہ “یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص خبر کی جوابی کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافیوں پر یہ مسلح حملہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔”

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ یا غیر ضروری تاخیر کے غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف مجرموں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے۔ حملے کے پیچھے اصل محرکات کا پتہ لگانا، ذمہ دار کون تھا، کس کے کہنے پر یہ حملہ کیا گیا، اور اس بات کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا اس کا صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام سے تعلق تھا۔ ورنہ دیگر کیسز کی طرح یہ واقعہ بھی ان مقدمات کی طویل فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جن میں استثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔”

اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ متاثرین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے ہچکچاہٹ بنگلہ دیش میں صحافی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کے ایک مروجہ نمونے کی عکاسی کرتی ہے، جو انتقامی حملوں کے خوف سے ہے۔ افتخار الزمان نے کہا، “حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ متعلقہ حکام کی مکمل تحقیقات کرنے اور ضروری احتساب کو یقینی بنانے کی اہلیت اور خواہش پر اعتماد کی کمی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ ماننا مناسب ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے، بشمول سابقہ ​​قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران۔ صلاحیتوں.”

انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا کی آزادی محفوظ ہے جہاں متاثرین خود انصاف حاصل کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس طرح کے خوف اور عدم اعتماد سے آزاد، تحقیقاتی اور مفاد عامہ کی صحافت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ طاقتور اور مفاد پرست گروہوں کو سزا سے بچنے کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔” افتخار الزمان نے خوف کے اس انداز کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور ان کے خلاف ہر حملے کی معتبر تحقیقات، انصاف اور مناسب احتساب کی ضمانت دیں۔

Continue Reading

جرم

تھانے کرائم برانچ نے قتل کی سنسنی خیز گتھی سلجھائی! دوست کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے پھینکنے کے الزام میں دو بھائی گرفتار

Published

on

Mumbra-Arrest

تھانے : جرائم کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، تھانے کرائم برانچ نے جمعرات کو قتل کے ایک انتہائی بہیمانہ کیس کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں دو سگے بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ایک قریبی دوست کو قتل کیا، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور انہیں الگ الگ سنسان مقامات پر پھینک دیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الہاس نگر یونٹ-4 کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیش گجل کو ایک خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کے مطابق، آٹو رکشہ ڈرائیور بھائیوں—فیض ملیم (24) اور البان ملیم (23)—نے ممبرا کے رہنے والے اپنے دوست امن شیخ (23) کو قتل کر دیا تھا۔ معلومات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کا گلا ریت دیا، لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے ان ٹکڑوں کو الگ الگ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔

اس انٹیلی جنس معلومات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اور تھانے کے پولیس کمشنر آتوش ڈمبرے کی ہدایات پر، ایڈیشنل پولیس کمشنر پنجاب راؤ اگلے، ڈپٹی پولیس کمشنر امر سنگھ جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیکھر باگڑے کی قیادت میں کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر پی آئی راجیش گجل، اے پی آئی شری رنگ گوساوی اور ہیڈ کانسٹیبل گنیش گاؤڑے شامل تھے۔

پولیس نے دونوں ملزم بھائیوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران، بھائیوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ 13 جولائی 2026 کی رات انہوں نے امن شیخ کا گلا ریت کر اسے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے سر، ہاتھ اور پیر الگ کر دیے اور جرم کو چھپانے کے لیے بقایا جات کو کھراڑی گاؤں کے سنسان علاقوں میں پھینک دیا۔

تفتشی افسران اب اس قتل کے پیچھے کی وجہ (محرک) کا پتہ لگانے، باقی تمام شواہد کو برآمد کرنے اور قتل تک پہنچنے والے واقعات کے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کریٹ کرنے) کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان