Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

عید الاضحی سے متعلق سرکاری گائیڈ لائن سے مسلمانوں میں مایوسی، سادگی کے ساتھ عید الاضحیٰ کا تہوار منانے اور دینی مدارس کا خصوصی خیال رکھا جائے (کل جماعتی تنظیم)

Published

on

(پریس ریلیز)
موجودہ صورت حال میں کارپوریشن کی ذمہ داری ہے کہ صاف صفائی کا غیر معمولی انتظام کرے اس طرح کی گزارش گذشتہ شام کل جماعتی تنظیم کی ایک اہم میٹنگ میں کی گئی جو جماعت اہل حدیث کے مرکزی دفتر اہل حدیث منزل گولڈن نگر میں بزرگ عالم دین مولانا عبدالحمید ازہری کی صدارت میں منعقد ہوئی تھی. جس میں درج ذیل امور پر تبادلہ خیال کیا گیا.
1)چونکہ مہاراشٹر سرکار کی ہدایت کے پیش نظر امسال عیدالاضحیٰ کے موقع پر جو کہ مسلمانوں کا عظیم تہوار ہے اور جس میں صاحب حیثیت مسلمان پر فرداًفرداً قربانی فرض ہے کارپوریشن عارضی سلاٹرہاؤس کا نظم نہیں کرے گی جس سے ماضی میں تھوڑے سے وقت میں صاف صفائی کا کام ہو جاتا تھا۔ موجودہ صورت حال میں کل جماعتی تنظیم کارپوریشن سے مطالبہ کرتی ہیکہ وہ صاف صفائی کا ایسا نظم کرے کہ قربانی کے جانور سےمتعلق سارا فضلہ وغیرہ مناسب ٹھکانوں پر پہنچوائیں اور شہر میں گندگی اور غلاظت نہ پھیلنے پائے یہ ایام عید میں کارپوریشن کی اولين ذمہ داری ہے۔
2)عوام سے کل جماعتی تنظيم پرزور اپیل کرتی ہیکہ وہ خود بھی صاف صفائی کا غیر معمولی خیال رکھیں اور گندگی اورغلاظت بڑھنے نہ دیں۔ چونکہ فرقہ پرست عناصر ایک عرصہ سے مدارس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح وہ یا تو بند ہوجائیں یا اتنے پریشان ہوجائیں کہ نئے مدارس کھلنے نہ پائیں۔رنگین جانوروں کی پابندی بھی اسی پالیسی کا ایک حصہ ہےاور اب صورتحال یہ ہے کہ اہل مدارس بھی چمڑا اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں اس لئے کل جماعتی تنظیم دینی مدارس کی بقاءاوراستحکام کے لیے مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ قربانی کرنے والے حضرات مدارس کو اپنی بساط کے مطابق صدقات و عطیات سے نوازیں اور رسید بنوائیں ۔ساتھ ساتھ عامۃ المسلمین سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ہر مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر کم از کم سو 100روپے کی رسید کسی بھی مدرسے کی بنائیں چاہیے اس پر قربانی فرض ہو یا نہ ہو اور صاحب حیثیت حضرات دل کھول کررسید بنوائیں۔ یہ بات علم میں آئی ہے کے سات پوڑا بھی جانور کا ایک قیمتی حصہ ہے اس لیے جلد از جلد حاصل کرکے اسے خریدنے والوں سے رابطہ قائم کرکے ان کے حوالے کر دیں تو امید ہے کہ چرم قربانی سے زیادہ معاوضہ اس کا مل جائےگا۔اس لئے اہل مدارس کی طرف خصوصی توجہ دیں اور باہمی صلاح و مشورہ بھی کریں. میٹنگ میں یہ بھی طے ہوا کہ کل جماعتی تنظیم کا ایک وفد کمشنرسے ملاقات کرکے کارپویشن کو صفائی کی طرف توجہ کرائے اور ساتھ ہی ایک وفد ایس پی صاحب سے مل کر ان کو ایک میمورنڈم دے اور ان کے ذریعہ سرکار کو یہ بتایا جائے کہ سرکار کی موجودہ گائیڈ لائن سے مسلمان بہت مایوس ہوئے ہیں ۔ میٹنگ میں کل جماعتی تنظیم کی توسیع کے سلسلے میں کئی افراد کے ناموں کا اضافہ کیا گیا. اس میٹنگ میں مولانا عبدالحمید ازہری کے علاوہ مولانا شکیل احمد فیضی، فیروز اعظمی، یوسف الیاس، یوسف سیٹھ نیشنل والے، صوفی سعید سعدی، مولانا عبدالقیوم قاسمی، حافظ اشفاق محمدی، عبدالعظیم فلاحی، اکبر سیٹھ اشرفی، اطہر حسین اشرفی، حافظ عنایت محمدی، نورالعین صابری، حافظ جمال ناصر ایوبی، ڈاکٹر اخلاق،مولانا عبدالرحمن جمالی سمیت دیگر نمائندہ شخصیات موجود تھیں. اس طرح کی تحریری اطلاع مولانا جمال عارف ندوی کی جانب سے فراہم کی گئی.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان