Connect with us
Tuesday,08-September-2026

(جنرل (عام

جمعیۃعلماء ہند پر بے بنیاد الزام:گلزار احمد اعظمی

Published

on

کل بروز جمعرات(مورخہ23/ جولائی 2020ء) رپبلک اردو آن لائن نیوز پورٹل پر متھرا کاشی معاملے میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی مداخلت کار کی عرضداشت پر تبصرہ کیا گیا ہے اور تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد احمد ولی نے لکھا ہے کہ جمعیۃ علماء ہندنے اپنی عرضداشت میں لکھا ہیکہ ”ان تمام قطع نظر اگر عرض گذار کے تمام اعتراضات اور الزامات کو سچ تصور کرلیا جائے تو یہ کچھ نہیں سوائے تاریخ کی غلطیوں کی درستگی کا مطالبہ کرنا ہے. اس کا مطلب یہ کہ مسلم سلاطین کے ذریعہ ہندو عبادت گاہوں کی مبینہ مسماری اور اس پر مسلم عبادت گاہیں تعمیر کرنا ہے”۔ اولاً معترض کی مذکورہ عبارت ہی کافی گنجلک اور مبہم ہے،جس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں،ثانیاً یہ اعتراض برائے اعتراض ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔جبکہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کا سوال سادھوؤں کی تنظیم نے کیا ہے اور جمعیۃ علماء ہند نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کی عرضداشت کے پیراگراف 9(ix) میں لکھا ہیکہ بابری مسجد فیصلہ میں عدالت پہلے ہی یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔اس لئے اس پٹیشن کو خارج کیا جائے۔(یہی خبر ملک کے دوسرے اخبارات میں بھی ایجنسی کے ذریعہ چھپی ہے)
تبصرہ نگار اخباری بیان کا سہارا لینے سے پہلے اگر جمعیۃ علماء ہند سے وضاحت طلب کرلیتے یا وہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کا مطالعہ کرلیتے جس کو ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے تیار کیا تھا اور جسے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے فائنل کیا تھاتوشاید ان کو اتنا طویل مضمون لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس طرح کے حساس معاملات پر تبصرہ کرنے سے قبل بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس فیصلہ میں عدالت نے کہا ہیکہ پلیس آف ورشپ قانون کے تحت عبادت گاہوں کو تحفظ حاصل ہے۔
جہاں تک گیان واپی معاملے میں جمعیۃ علماء ہند کے مداخلت کار بننے کا سوال ہے تو یہ بات ذہین نشین کرلینی چاہئے کہ مرکزی حکومت پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا،اور جمعیۃعلماء ہند جس کے بنیادی اغراض و مقاصد کی سب سے پہلی شق میں اسلام،شعائر اسلام اور مسلمانوں کے ماٰثر و معابد کی حفاظت شامل ہے، ایسے نازک وقت میں جمعیۃ علماء ہند کیسے خاموش تماشائی بنی رہ سکتی تھی۔احقر نے اس پٹیشن کی مخالفت کرنا اپنا فرض منصبی سمجھا۔ از! گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

ساکی ناکہ اسلم شیخ مین ہول سانحہ : امدادی رقم ۱۰ لاکھ بینک اکاؤنٹ میں جمع، مرحوم کی اہلیہ انجم شیخ نے مئیر کا کیا شکریہ ادا

Published

on

Ritu-Tawde

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے 10 لاکھ کی مالی امداد انجم شیخ کے حوالے کی گئی ہے، مرحوم اسلم شیخ کی اہلیہ جو ساکی ناکہ (یادو نگر) کے رہنے والے ہیں جو خیرانی روڈ، کرلا میں ایک مین ہول کے سانحے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ انجم شیخ نے ایک خط بھیجا جس میں میئر، تمام سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں اور میونسپل انتظامیہ کو اس بحران کے دوران ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی طرف سے فراہم کردہ فوری مدد اور کارپوریشن کی طرف سے بروقت فراہم کی جانے والی مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔ 2 جولائی 2026 کو پیش آنے والے سانحے کے بعد، مئیر ریتو تاوڑے شیخ خاندان سے تعزیت کے لیے پہنچی خاندان کی ضرورت مند حالات کو تسلیم کرتے ہوئے، اس نے فوری طور پر 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کارپوریشن کے ‘ایل’ وارڈ (کرلا) دفتر نے اس معاملے کی پیروی کی، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور وراثت کے دستاویزات سے متعلق ضروری رسمی کارروائیوں کی تکمیل کو یقینی بنایا۔

4 اگست 2026 کو، 10 لاکھ کی رقم براہ راست انجم شیخ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی میونسپل کارپوریشن کو امداد کا تحریری اعتراف جمع کرواتے ہوئے، انجم شیخ نے اپنے خط میں کہا میئر کی طرف سے ہمارے خاندان کے لیے اس انتہائی مشکل وقت میں کیا گیا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ میں تمام جماعتوں کے عوامی نمائندوں، عہدیداروں، میئر، اور میونسپل افسران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سارے عمل میں رہنمائی اور تعاون کیا خاندان کے والد کفیل اسلم شیخ کے سانحہ ارتحال سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ تاہم، اس سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا فرض تھا۔ انجم شیخ کے خط میں ظاہر کیے گئے جذبات میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو زیادہ حساسیت کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ پی ایم او دفتر کا اہلکار بتا کر تقریب میں داخلہ کی کوشش دو زیر حراست

Published

on

ممبئی : وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ممبئی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اس وقت ہلچل مچ گئی جب ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع نیتا امبانی کلچرل سینٹر (این ایم اے سی سی) میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے اہلکار کے طور پر ظاہر کر کے داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نوجوان کے ساتھ آنے والے ایک اور شخص کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حراست میں لیے گئے نوجوان کی شناخت 24 سالہ روہن پاریکھ کے طور پر کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روہن کے پاس ایک شناختی کارڈ تھا جس میں وزیر اعظم کے دفتر سے وابستگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی چیک کے دوران معائنہ کرنے پر کارڈ جعلی نکلا۔پی ایم او آفیشل ہونے کا دعویٰ کیا۔ ذرائع کے مطابق روہن پاریکھ نے خود کو وزیر اعظم کے دفتر کا اہلکار بتایا۔ وہ اس دعویٰ شدہ شناخت کی بنیاد پر تقریب کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وزیر اعظم کے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے جائے وقوعہ پر تعینات سیکورٹی ایجنسیاں اور ممبئی پولیس پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھی۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو اس کی نقل و حرکت مشکوک معلوم ہوئی اور اس کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ جانچ کے دوران اس کے قبضے میں پی ایم او شناختی کارڈ مشکوک پایا گیا۔ چنانچہ اسے حراست میں لے لیا گیا، اور پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ باڈی گارڈ اس کے ساتھ قبضے سے بندوق برآمدہوئی ۔کیس کا ایک خاص طور پر سنگین پہلو یہ ہے کہ روہن پاریکھ تنہا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک فرد بھی تھا جو اس کے محافظ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس شخص سے ایک بندوق برآمد ہوئی۔پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے سرکاری معلومات جاری نہیں کی ہیں کہ بندوق لائسنس یافتہ ہے یا غیر قانونی۔ حکام اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کے پاس اسلحہ لے جانے کے لیے ایک درست لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات موجود تھیں۔ کرائم برانچ نے تفتیش شروع کر دی ہے واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات ممبئی کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ روہن پاریکھ نے مبینہ طور پر جعلی پی ایم او شناختی کارڈ کیوں بنایا اور اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی اس کی بھی تلاش کر رہی ہے کہ روہن نے شناختی کارڈ کہاں سے حاصل کیا، اس کے ساتھ آنے والے مسلح فرد سے اس کا تعلق اور اس واقعہ سے قبل دونوں نے کن مقامات کا دورہ کیا تھاسیکیورٹی ایجنسیاں بھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ وزیر اعظم کی شرکت سے متعلق ایک تقریب کا ہے، سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس پورے واقعہ کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ پولیس فی الحال حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ان کے موبائل فون، شناختی دستاویزات اور دیگر سامان کی جانچ کر رہی ہے مزید قانونی کارروائی اور الزامات کی تصدیق کے بارے میں تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کے شمالی علاقہ میں منشیات فروشوں کے خلاف پولس کی سخت کارروائی، غیر قانونی گھر و قبضہ جات مسمار : ڈی سی پی گجانن راج مانے

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی پولیس نے منشیات فروشو ں کے خلاف اب سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ منشیات فروشوں پر قدغن لگانے کے لئے پولس نے ان کے غیر قانونی مکانات اور اثاثوں وملکیت کی مسماری اور بلڈورز ایکشن شروع کردیا ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر، شمالی ممبئی 3، ممبئی کے حکم کے مطابق کرار پولیس تھانے کی حدود میں منشیات فروشی کرنے والے ریکارڈ پر موجود جرائم پیشہ مطلوب ملزمین کے گھر پر بی ایم سی اور پولس کی مشترکہ کارروائی میں گھروں اور جنگلات کی زمین پر قائم غیر قانونی قبضہ جات پر بلڈوزر چلایا گیا۔ جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں میں 1) سائلہ سبھاش پٹیل عرف شالو عمر 35 سال عرف سائلہ بائی عرف شالو راجو پوار، 2) دھرمندر لوہاری جیسوار عمر 20 سال، 3) سکندر لوہار جیسوار عمر 21 سال، 4) پشپا نارائن تاڈے عمر 36 سال، 5) سبھاش موتی لال پٹیل عمر 49 سال، 6) بھرت عرف سونو رام ناتھ نشاد عمر 27 سال، 7) محمد ابراہیم عبدالعزیز شیخ عرف جون عمر 59 سال، 8) امنہ قدیر محمد انصاری عمر 39 سال، 9) عائشہ سلیم شیخ عمر 40 سال، 10) سنتوش اشوک شرکے عمر 21 سال، 11) غفران علی ممتاز علی خان عمر 35 سال شامل ہے ان کے غیر قانونی ٹھکانوں اور گھروں و مکانات پر پولس نے بی ایم سی کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کر کے مکانات کو ہی بلڈوز کردیا ہے۔ یہ پولیس تھانے کی حدود میں محکمہ جنگلات کے آپا پاڑہ، پالن نگر، بنجاری پاڑہ، پنپری پاڑہ، آدیواسی پوپٹ کمپاؤنڈ، امبیڈکر نگر، ماتنگ گڑھ، للوبھائی کمپاؤنڈ، جیسوار نگر، جامروشی نگر اس جگہ پر غیر قانونی گھر تعمیر کر کے مقیم تھے۔

ان کے خلاف این ڈی پی ایس قانون کے تحت وقتاً فوقتاً کرار پولیس تھانے میں مقدمات درج ہیں۔ مذکورہ منشیات فروشی کرنے والے ملزمان کے غیر قانونی گھروں پر کارروائی کرکے منشیات فروشی کے دھندے کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے آج تاریخ ۷ ستمبر کو صبح 10:00 بجے سے 16:00 بجے تک کرار پولیس تھانے اور محکمہ جنگلات کی جانب سے مشترکہ طور پر غیر قانونی 11 گھروں پر انہدامی کارروائی کی گئی مذکورہ کارروائی پولیس ڈپٹی کمشنر، گجانن شولنگ راجمانے، شمالی زون 3، ممبئی اوراسسٹنٹ پولیس کمشنر، سمتا نگر ڈیویژن، ممبئی کی رہنمائی میں کرار پولیس تھانے کے سینئر پولیس انسپکٹر سشیل کمار گائیکواڈ کی نگرانی میں کرار پولیس تھانے کے پولیس افسران اور عملدار نیز محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین کے ساتھ مشترکہ طور پر انہدامی کارروائی کو انجام دیا گیا اس سے منشیات فروشوں میں پولس اور بی ایم سی اور محکمہ جنگلات کی کارروائی کا خوف پیدا ہوگا اس کارروائی کے بعد منشیات فروشوں میں کافی دہشت ہے اس سے عوام میں پولس کے تئیں اعتماد بحال ہوا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان