Connect with us
Thursday,06-August-2026

قومی خبریں

جمعیۃعلماء ہند قیدیوں کی بلاتفریق مذہب رہائی کیلئے سپریم کورٹ پہنچی۔ اگر خدا نخواستہ جیلوں میں کورونا وائرس پھیلا تو حالات دھماکہ خیز ہوجائیں گے: مولانا ارشدمدنی

Published

on

ممبئی کی مشہور آرتھر روڈ جیل اور بائیکلہ جیل میں قید ملزمین اور جیل اسٹاف کی کورونا پازیٹیو کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں مداخلت کار کی پٹیشن داخل کرکے سپریم کورٹ سے گذارش کی ہے کہ وہ ریاستی حکومتوں کو حکم جاری کرے کہ وہ جیل سے قیدیوں کو عارضی ضمانت پر رہا کرے تاکہ انہیں کورونا وائرس کے خطرے سے بچایا جاسکے۔
داخل پٹیشن میں یہ کہاگیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ریاستی حکومتوں نے ملزمین کو رہا نہیں کیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ پہلے ممبئی کی آرتھرروڈ جیل کے قیدی کورونا کا شکار ہوئے اور اب خواتین قیدیوں کے لئے مختص بائیکلہ جیل میں بھی قیدی کورونا کا شکار ہوچکے ہیں اسی طرح اِندور جیل سے بھی کورونا کا شکار ہوئے قیدیوں کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔پٹیشن میں مزید درج کیاگیا ہے کہ بیرون ممالک بشمول انڈونیشا،ساؤتھ افریقہ،ارجنٹینا وغیرہ ممالک نے پچاس ہزار سے زائد قیدیوں کو عارضی ضمانت پر رہا کیا اس کے برعکس ہندوستان نے محض چند ہزار قیدیوں کو ہی جیل سے رہا کیا ہے حالانکہ ہندوستانی جیلیں دوسرے ممالک کی جیلوں کی بہ نسبت قدرے گنجان ہیں۔
سپریم کور ٹ میں پٹیشن داخل کرنے کے تعلق سے جمعتہ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ آرتھر جیل میں مقید ملزمین کے اہل خانہ نے ان سے ملزمین کی عارضی رہائی کی کوشش کرنے کی گزارش کی جس کے بعد ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کے توسط سے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آرتھر روڈ جیل میں مقید قیدیوں اور اسٹاف جن کی کل تعداد 115 ہے کی کورونا پازیٹیو رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد ملزمین کے اہل خانہ میں شدید بے چینی بڑھ گئی اور انہوں نے جمعیۃعلماء ہند سے گزارش کی کہ وہ اس تعلق سے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرے کیونکہ سپریم کورٹ کا حکم ہونے کے باوجود جیل انتظامیہ انہیں رہا نہیں کررہی ہے۔ پٹیشن میں کہاگیا ہے کہ 800 ملزمین کی گنجائش والی آرتھر روڈ جیل میں فی الحال 2600 ملزمین مقید ہیں لہذا شوشل ڈسٹنسنگ کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اس لئے ملزمین کو ضمانت پر رہا کردینا چاہئے لیکن جیل انتظامیہ ایسا نہیں کرکے ملزمین کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے۔
جمعیۃعلماء ہندکے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس حوالہ سے کہا کہ جمعیۃعلماء ہندکی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانی بنیادپر بلاتفریق مذہب وملت سب کے لئے کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے ملک کی جیلوں میں برسوں سے سزاکاٹ رہے قیدیوں کی رہائی کے تعلق سے جو اہم پٹیشن سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے اس میں بھی تمام قیدیوں کی خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہورہائی کی درخواست کی گئی ہے مگر افسوس کا مقام تویہ ہے کہ ملک کے بے لگام الکٹرانک میڈیا نے اس مہلک وباکوبھی مذہبی رنگ دینے سے دریغ نہیں کیا مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ وبا مسلمانوں نے پھیلائی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس جھوٹ اور دروغ گوئی پر ہمارے شدید اعتراض، احتجاج اور سپریم کورٹ میں جانے کے باوجود الکٹرانک میڈیا کے خلاف جھوٹی تشہیراور مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے خلاف رچی گئی خطرناک سازش کولیکر سرکارکی طرف سے کسی طرح کی قانونی کارروائی کا نہ ہونا یہ بتاتاہے کہ اکثر الیکٹرانک میڈیا جو کچھ بھی مسلمانوں کے خلاف کررہا ہے اس کے لئے اسے اقتدارمیں موجود بااثرشخصیات کی خاموش اور کھلی حمایت حاصل ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام تراحتیاط اورکوشش کے باوجود ملک بھرمیں کورونا متاثرین کی تعدادمیں روزبروز اضافہ ہورہا ہے ہم نے اس کے پیش نظر ہی یہ پٹیشن عدالت میں داخل کی ہے دوسرے سپریم کورٹ کی واضح ہدایت پر بھی قاعدہ سے عمل نہیں ہوا ملک کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ممبئی کی آتھرروڈجیل اوربائیکلہ جیل میں اس طرح کے قیدی کوروناپازیٹیوپائے گئے ہیں یہ ایک بڑے خطرے کا اشارہ ہے اگر جیلوں میں اس وباکی روک تھام کے موثراقدامات نہ کئے گئے اور سیدھادوسری جیلوں میں پھیلی تو قیدیوں کی اکثریت اس کا شکارہوسکتی ہے اور تب حالات انتہائی دھماکہ خیز ہوجائیں گے۔ انہوں نے اخرمیں کہا کہ اس پٹیشن میں مستقل رہائی کے لئے نہیں بلکہ عارضی طورپر قیدیوں کو رہاکرنے کی گزارش کی گئی ہے تاکہ یہ قیدی اپنے گھرجاکر اس وباسے تحفظ کی تدبیر کرسکیں۔
واضح رہے کہ مارچ ماہ میں سپریم کورٹ نے از خود فیصلہ کرتے ہوئے ملک کی مختلف جیلوں میں مقید ملزمین کی رہائی کے تعلق سے انتظامات کئے جانے کا حکم دیا تھا لیکن مہاراشٹر میں ابتک صرف 576 ملزمین کی رہائی عمل میں آئی جبکہ ہائی پاور کمیٹی نے 11000ملزمین کی رہائی کی سفارش کی تھی یہ ہی حال ملک کے دیگر صوبوں کا بھی ہے۔

سیاست

اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے راہول گاندھی کے پریاگ راج پروگرام کی اجازت منسوخ کرنے کا الزام حکومت پر لگایا

Published

on

Sansad

نئی دہلی : اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے کسانوں کے مسائل اور طلباء کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پریاگ راج میں راہل گاندھی کے مجوزہ “چھترون کی گونج” پروگرام کی اجازت منسوخ کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ وویک تنکھا نے پریاگ راج میں راہل گاندھی کے پروگرام کی اجازت کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ملوث ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کو روکنے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اشوک سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی ملک کے طلباء، کسانوں اور عام لوگوں کی آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جمہوریت آمرانہ طریقوں سے نہیں چل سکتی اور ایسے اقدامات جمہوری اقدار کے خلاف ہیں۔

کانگریس ایم پی ورشا گائیکواڈ نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ بچوں کے خلاف مبینہ حملوں اور واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کا جوابدہ ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس مسئلہ پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے اور اسی وجہ سے متعلقہ وزراء ایوان میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں۔ حکومت راہول گاندھی سے سیاسی طور پر خوفزدہ دکھائی دیتی ہے۔

کسانوں کے مسئلہ پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرشانت پاڈول نے حکومت کی زرعی اور توانائی کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو 24 گھنٹے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کئی جگہوں پر انہیں صرف آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ دھان جیسی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ حکومت کی سولر پمپ سکیم غیر موثر ہے، کیونکہ بہت سے سولر پمپ 350 سے 1000 فٹ کی گہرائی سے پانی نکالنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سولر پالیسی میں ترمیم کرے۔

دریں اثنا، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے نے مغربی بنگال میں مبینہ طور پر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانا ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے رکن پارلیمنٹ مہوا ماجی نے پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر داخلہ کی موجودگی کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آئیں اور اپنا موقف پیش کریں، اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں ذمہ دار وزراء کا ایوان میں موجود ہونا ضروری ہے۔

بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر رانچی میں جاری طلبہ کی تحریک کے بارے میں مہوا ماجی نے کہا کہ جھارکھنڈ کی صورتحال دہلی سے مختلف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ چیئرپرسن کا استعفیٰ اسی دن منظور کر لیا گیا تھا جس دن پیپر لیک کا واقعہ سامنے آیا تھا، سی آئی ڈی کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور چھاپے اور کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ان کے مطابق، ریاستی حکومت طلباء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے طلباء کے ساتھ بات چیت کے لیے نمائندے بھی بھیجے ہیں اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

جموں و کشمیر : سیکورٹی فورسز نے مشتبہ دہشت گردانہ سرگرمی کے بعد پونچھ میں تلاشی آپریشن شروع کیا۔

Published

on

kashmir

جموں : جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں سیکورٹی فورسز نے دو الگ الگ گروپوں کی مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد منگل کو ایک بڑا تلاشی آپریشن شروع کیا۔ حکام نے بتایا کہ مشترکہ فورسز نے ضلع کے دور افتادہ علاقے سورنکوٹ میں دو مقامات پر مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد آپریشن شروع کیا۔ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے دستوں نے، راشٹریہ رائفلز کے دستوں کی مدد سے، دھارا سانگلہ، گجر نار، اور کھیرووالی ڈھوک علاقوں کے ساتھ ساتھ قریبی جنگلاتی دیہاتوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔

حکام نے بتایا کہ گھنے جنگلاتی علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ تاہم ابھی تک مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی رابطہ یا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔ حکام نے کہا کہ “دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک منظم آپریشن جاری ہے۔” دریں اثنا، ایک اور واقعہ میں، منگل کی صبح کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک مکان کے صحن سے ایک زنگ آلود پرانا مارٹر گولہ برآمد ہوا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ نہ پھٹنے والا خول اس وقت ملا جب کٹل برہمن گاؤں میں سبھاش چندر کے گھر کی کھدائی کرنے والے کارکنوں نے مشتبہ چیز کو دیکھا اور فوری طور پر حکام کو مطلع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے کو محفوظ کرلیا۔

نہ پھٹنے والے مارٹر گولے، جنہیں اکثر “غیر پھٹنے والا آرڈیننس” کہا جاتا ہے، مرکزی علاقے کے سرحدی علاقوں میں مختلف تاریخی اور تزویراتی وجوہات کی بناء پر کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع سرحدی دیہات کئی دہائیوں سے فوجی تنازعات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے گواہ ہیں۔ بھاری توپ خانے کی فائرنگ کے دوران ہزاروں مارٹر گولے داغے جاتے ہیں۔ ان گولوں کی ایک بڑی تعداد مکینیکل ناکامی، نرم زمین، یا فیوز کی خرابی کی وجہ سے اثر پر پھٹنے میں ناکام رہتی ہے۔

پونچھ، کپواڑہ اور راجوری جیسے علاقوں کا سرحدی علاقہ بہت پہاڑی، جنگلاتی اور دلدلی ہے۔ جب مارٹر گولہ کیچڑ، گھنے پودوں یا نرم قابل کاشت مٹی میں گرتا ہے تو اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر فیوز کو چالو کرنے میں ناکام رہتا ہے اور دھماکے کا سبب بنتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ متحرک خول گاد یا انڈر برش کے نیچے دب جاتے ہیں۔ مارٹر گولے جو مہینوں یا دہائیوں تک زیر زمین دفن رہتے ہیں وہ اکثر ماحولیاتی تبدیلیوں یا انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بے نقاب ہوتے ہیں۔

Continue Reading

سیاست

اروند کیجریوال ای-20 پیٹرول کے خلاف 4 اگست کو پی ایم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے

Published

on

kejriwal

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ ای-20 پیٹرول پالیسی کے خلاف احتجاج کے لیے پارٹی کے 100 کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ منگل کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کے دوران وہ وزیراعظم کو عوام کی طرف سے آن لائن پٹیشن اور خطوط پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیجریوال نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم ان سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلہ پر لوگوں کے خدشات کو سنیں گے۔

اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ای-20 پیٹرول کے خلاف شروع کی گئی آن لائن مہم کو صرف چند دنوں میں 233,238 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پٹیشن پر دستخط کرنے والے لوگوں کی تعداد اس پالیسی کے بارے میں عوام کی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو دوپہر 12 بجے عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لئے روانہ ہوں گے۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ انھوں نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر وزیراعظم کی رہائش گاہ جا کر عوام کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن اور خطوط پیش کریں گے اور اس مسئلے پر بات کریں گے۔ کیجریوال نے مرکزی حکومت کی ای-20 پالیسی پر کئی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مناسب سائنسی اور تکنیکی مدد فراہم کیے بغیر پورے ملک میں ای-20 پیٹرول کے نفاذ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ایندھن کے استعمال سے لوگوں کی گاڑیوں کا مائلیج متاثر ہو رہا ہے اور کئی گاڑیوں کے مالکان کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اس پالیسی کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو وہ انہیں عوامی سطح پر پیش کریں۔ کیجریوال نے یہ بھی الزام لگایا کہ ای-20 کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے، مواد تخلیق کرنے والوں اور اس معاملے پر سوالات اٹھانے والے عام شہریوں کو ٹرول کیا گیا، اور کچھ معاملات میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ ان کے مطابق اس سے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اینٹی ای-20 ٹاؤن ہال ایونٹ کو بڑی تعداد میں حمایت ملی۔ کیجریوال کے مطابق اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جب کہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن بھی دیکھا۔ انہوں نے اسے ای-20 کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کی علامت قرار دیا۔ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت پر ای-20 پالیسی کے پیچھے “چھپا ہوا ایجنڈا” ہونے کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیرونی دباؤ کے تحت ہندوستان پر ایتھنول پالیسی مسلط کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند سالوں میں بڑے پیمانے پر ایتھنول کی درآمد کا امکان ہے اور مرکزی حکومت کو ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ منگل کا مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا واحد مقصد عوام کے تحفظات اور مطالبات کو وزیر اعظم تک پہنچانا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان