Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ٌٌٌٌٌلاک ڈاؤن کے دوران گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے ضیا الرحمان مسکان اور مومن عمران سے “مالیگاؤں پیٹرن “پر خیال اثر کی گفتگو

Published

on

دل والوں کی بستی اور زندہ دلوں کے شہر مالیگاؤں نے بہت کم وقت میں کورونا پر فتح حاصل کرکے دنیا کو ایک پیغام دیا کہ کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے . انسان اگر اپنے من میں ارادہ کر لے تو فتح اس کے قدم ضرور چومتی ہے. جس طرح پوری دنیا کو کورونا نے بے بس کردیا ہے. اسی جان لیوا وائرس کو بہت ہی کم وقت میں مالیگاؤں سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا جو ایک تاریخی قابل تحسین اقدام ہے. اس وقت پورے ملک میں “مالیگاؤں پیٹرن” کی گونج سنائی دے رہی ہے. ممبئی پریس کے نمائندے نے جب مختلف شہروں کے ذمہ داران سے مالیگاؤں پیٹرن کی گونج سنی تو گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے ضیاء مسکان اور مومن عمران سے تفصیلی بات چیت کی تاکہ کورونا سے متاثر شہر اس مالیگاؤں پیٹرن سے استفادہ حاصل کر سیکیں. مالیگاؤں پیٹرن کے متعلق ضیاء الرحمن مسکان اور مومن عمران نے کورونا کو شکست دینے کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا تاکہ کورونا متاثر شہر اسے اپنا کر کورونا کو مہاراشٹر سے کیا ہندوستان کی سرحد چھوڑنے پر مجبور کردیں گے.
لاک ڈاؤن کے دوران مریضوں کو گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے بچوں کی تلاش گروپ کے روح رواں ضیاء الرحمان مسکان اور مومن عمران اپنی طویل گفتگو میں کہا کہ جہاں نماز روزوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اسباب کے درجوں میں درج بالا باتوں پر عمل پیرا ہونگے تو انشاءاللہ کرونا سے جیت جاوگے.انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ شوگر پریشر کڈنی لیور دمہ کینسر اور دماغی مریضوں کی کسی بھی حال میڈیسن کا ناغہ نہیں ہونا چاہئے. اگر مریض کا سرچیولیشن 90 کے نیچے ہے تو اسے فوراً آکسیجن مشین فراہم کریں تاکہ سرچیولیشن کنٹرول ہو سکے . اگر مریض کا سرچیولیشن کم ہے اس کی حالت نازک ہے تو پہلے بیماری سمجھیں. مثلا”شوگر پریشر کڈنی دمہ کینسر اور دماغی امراض کے مریض ہو تو سب سے پہلے اس بیماری کا علاج کریں کیونکہ سرکاری ہاپسلٹوں میں صرف کورونا کا علاج کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مریض کی جو اصل بیماری ہے اس کا علاج نہ ہونے سے مریض کی موت ہو جاتی ہے. بند پڑے پرائیوٹ آئی سی یو وارڈ والے (ونیٹی لیٹر مشین اور آکسیجن سیلنڈر سے لیس) ہاسپٹل کو جاری کرنے کی پوری پوری کوشش کرنا چاہئے. سب سے پہلے میّت کے پکارے بند کروائے جائیں، شہر کی تمام میڈیکل اسٹورز دیر رات تک کھلی رکھی جائیں، محلّہ کلینک کھولے جائیں جس میں کم از کم پانچ ڈاکٹرز ہوں، ایک ایسی پوسٹ بنائی جائے جس میں لکھا ہو کہ شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات کو لے کر ایک ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ بنایا جائے جس میں صرف یہی حضرات ہوں ، یاد رہے اِس پوسٹ میں کم از کم پانچ لوگوں کا نمبر ہو جو کہ ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ کے ایڈمنز ہوں، اب ایک ایسا واٹس اپ گروپ بنایا جائے جس میں کم از کم بیس جیالے نوجوان سوشل ورکرز ہوں اور صرف شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور کچھ ڈاکٹرز ہوں، اب ایک پوسٹ ایسی چلائی جائے جس میں یہ لکھا ہو کہ وہ تمام حضرات جنہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی مطلوبہ دوائیں نہیں مل رہی ہے وہ واٹس اپ کے ذریعے نیچے دئے گئے ہمارے رضا کاروں کے واٹس اپ نمبروں پر پرچی کی فوٹو یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں ہمارے رضاکار آپ کو وہ دوا اُسی قیمت میں آپ کے گھر تک پہنچا کر دینگے، اب آپ کے رضا کاروں کے پرسنل نمبر پر لوگ پرچی یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں گے رضا کاروں کو اُس فوٹو کو فوراً ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ گروپ میں ڈالنا ہے اور پوچھنا ہے کہ یہ کس میڈیکل پر دستیاب ہے؟ گروپ میں موجود میڈیکل اسٹورز مالکان کا کام یہ ہوگا کہ وہ ہر فوٹو کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اگر علم ہو کہ ان کی میڈیکل پر دستیاب ہے تو فوٹو کو ٹیگ کر کے اپنی میڈیکل کا نام لکھ دیں یا رہنمائی فرما دیں، رضا کار کو یہ معلوم ہونے پر کہ میری پرچی والی دوا فلاں میڈیکل پر دستیاب ہے تو رضا کار فوراً جائے اور دوا خرید کر اُسکی بِل لے لے اور اُس بندے کے گھر پر دوا پہونچا کر بِل کے مطابق رقم لے لے، یاد رہے اِس کام کا معاوضہ نہیں لینا ہے، کچھ دوائیں ایسی بھی ہونگی جو کہیں نہیں ملے گی ایسے میں گروپ میں موجود ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات اُس کا اچھا سا بدل (سبٹیٹیوٹ) بتا دیں، رضا کار سامنے والے کو آگاہ کریں کہ آپ کی مطلوبہ دوا نہیں مل رہی ہے مگر اُس کے بدل میں آپ فلاں دوا لے سکتے ہیں۔ اگر سامنے والا راضی ہوا تو اُسے اُس کی دوا کا بدل دے دیں، رضاکاروں میں سے کچھ لوگ روزانہ پوری احتیاط کے ساتھ اُن دواخانوں میں جائیں جہاں کرونا مریضوں کو ایڈمٹ کِیا جا رہا ہے اور وہاں بِنا مذہب و مسلک تمام مریضوں کے آکسیجن سلنڈر جانچ کریں اور آکسیجن سلنڈر تبدیل کریں، مریضوں کے حالات جانچیں اُن سے بات چیت کریں، اُنہیں پہلے کیا بیماری تھی یہ پوچھیں اور دھیان دیں کہ اُن کا ٹریٹمنٹ کِس قسم کا چل رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اُنہیں بیماری کچھ اور ہے اور علاج صرف کرونا کا کِیا جا رہا ہے؟ اُن کو تسلی اور حوصلہ مند کلمات کہیں، اُنہیں کیا تکلیف ہیں یہ پوچھیں اور اُن کی تکالیف دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں، ڈاکٹرز حضرات کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اُن سے بھی درخواست کریں کہ وہ بھی پوری ایمانداری سے مریضوں کا علاج کرنے پر آمادہ ہوں، شہر کے بند پڑے ہاسپٹلز سے کسی بھی طرح کچھ آکسیجن سلنڈر لے لیں اور اُنہیں کرونا کے علاوہ دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کو اُنکے ہی گھروں میں لگائے جائیں، دوسرے شہروں سے جن لوگوں کا علاج چل رہا ہے ایسے مریضوں کی دوائیں لانے کے لئے کچھ بندوں کو قانونی طور سے ڈپارٹمنٹ کے اجازت نامہ کے ساتھ دوسرے شہروں میں احتیاط کے ساتھ بھیجیں اور دوائیں منگوا کر مریضوں کے گھر پہونچائیں، ایمرجنسی معاملات والے مریضوں کو کسی بھی صورت میں فوری طبّی امداد پہونچانے کی کوشش کریں۔ شہر میں موجود پولیس اہلکاروں کو کِس چیز کی تکلیف ہے اِس پر بھی خاص نظر رکھیں، اُنھیں دھوپ سے بچنے کے لئے شامیانے لگوا دیں (اگر نا لگے ہوں تو) اُن کو صاف شفاف پانی کا انتظام کر دیں، اُن کو اگر کولر یا پنکھے کی ضرورت ہو تو اُس کا انتظام کریں، اُن کے ذریعے دی گئی ہدایات پر عمل کریں. یہی وہ سارے کام ہیں جنہیں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں والوں نے کِیا تھا۔ آپ ایسا ضرور کریں انشاء اللہ کچھ ہی دِنوں میں آپ کا شہر کرونا مکت ہو جائے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان