(جنرل (عام
ٌٌٌٌٌلاک ڈاؤن کے دوران گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے ضیا الرحمان مسکان اور مومن عمران سے “مالیگاؤں پیٹرن “پر خیال اثر کی گفتگو
دل والوں کی بستی اور زندہ دلوں کے شہر مالیگاؤں نے بہت کم وقت میں کورونا پر فتح حاصل کرکے دنیا کو ایک پیغام دیا کہ کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے . انسان اگر اپنے من میں ارادہ کر لے تو فتح اس کے قدم ضرور چومتی ہے. جس طرح پوری دنیا کو کورونا نے بے بس کردیا ہے. اسی جان لیوا وائرس کو بہت ہی کم وقت میں مالیگاؤں سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا جو ایک تاریخی قابل تحسین اقدام ہے. اس وقت پورے ملک میں “مالیگاؤں پیٹرن” کی گونج سنائی دے رہی ہے. ممبئی پریس کے نمائندے نے جب مختلف شہروں کے ذمہ داران سے مالیگاؤں پیٹرن کی گونج سنی تو گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے ضیاء مسکان اور مومن عمران سے تفصیلی بات چیت کی تاکہ کورونا سے متاثر شہر اس مالیگاؤں پیٹرن سے استفادہ حاصل کر سیکیں. مالیگاؤں پیٹرن کے متعلق ضیاء الرحمن مسکان اور مومن عمران نے کورونا کو شکست دینے کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا تاکہ کورونا متاثر شہر اسے اپنا کر کورونا کو مہاراشٹر سے کیا ہندوستان کی سرحد چھوڑنے پر مجبور کردیں گے.
لاک ڈاؤن کے دوران مریضوں کو گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے بچوں کی تلاش گروپ کے روح رواں ضیاء الرحمان مسکان اور مومن عمران اپنی طویل گفتگو میں کہا کہ جہاں نماز روزوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اسباب کے درجوں میں درج بالا باتوں پر عمل پیرا ہونگے تو انشاءاللہ کرونا سے جیت جاوگے.انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ شوگر پریشر کڈنی لیور دمہ کینسر اور دماغی مریضوں کی کسی بھی حال میڈیسن کا ناغہ نہیں ہونا چاہئے. اگر مریض کا سرچیولیشن 90 کے نیچے ہے تو اسے فوراً آکسیجن مشین فراہم کریں تاکہ سرچیولیشن کنٹرول ہو سکے . اگر مریض کا سرچیولیشن کم ہے اس کی حالت نازک ہے تو پہلے بیماری سمجھیں. مثلا”شوگر پریشر کڈنی دمہ کینسر اور دماغی امراض کے مریض ہو تو سب سے پہلے اس بیماری کا علاج کریں کیونکہ سرکاری ہاپسلٹوں میں صرف کورونا کا علاج کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مریض کی جو اصل بیماری ہے اس کا علاج نہ ہونے سے مریض کی موت ہو جاتی ہے. بند پڑے پرائیوٹ آئی سی یو وارڈ والے (ونیٹی لیٹر مشین اور آکسیجن سیلنڈر سے لیس) ہاسپٹل کو جاری کرنے کی پوری پوری کوشش کرنا چاہئے. سب سے پہلے میّت کے پکارے بند کروائے جائیں، شہر کی تمام میڈیکل اسٹورز دیر رات تک کھلی رکھی جائیں، محلّہ کلینک کھولے جائیں جس میں کم از کم پانچ ڈاکٹرز ہوں، ایک ایسی پوسٹ بنائی جائے جس میں لکھا ہو کہ شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات کو لے کر ایک ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ بنایا جائے جس میں صرف یہی حضرات ہوں ، یاد رہے اِس پوسٹ میں کم از کم پانچ لوگوں کا نمبر ہو جو کہ ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ کے ایڈمنز ہوں، اب ایک ایسا واٹس اپ گروپ بنایا جائے جس میں کم از کم بیس جیالے نوجوان سوشل ورکرز ہوں اور صرف شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور کچھ ڈاکٹرز ہوں، اب ایک پوسٹ ایسی چلائی جائے جس میں یہ لکھا ہو کہ وہ تمام حضرات جنہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی مطلوبہ دوائیں نہیں مل رہی ہے وہ واٹس اپ کے ذریعے نیچے دئے گئے ہمارے رضا کاروں کے واٹس اپ نمبروں پر پرچی کی فوٹو یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں ہمارے رضاکار آپ کو وہ دوا اُسی قیمت میں آپ کے گھر تک پہنچا کر دینگے، اب آپ کے رضا کاروں کے پرسنل نمبر پر لوگ پرچی یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں گے رضا کاروں کو اُس فوٹو کو فوراً ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ گروپ میں ڈالنا ہے اور پوچھنا ہے کہ یہ کس میڈیکل پر دستیاب ہے؟ گروپ میں موجود میڈیکل اسٹورز مالکان کا کام یہ ہوگا کہ وہ ہر فوٹو کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اگر علم ہو کہ ان کی میڈیکل پر دستیاب ہے تو فوٹو کو ٹیگ کر کے اپنی میڈیکل کا نام لکھ دیں یا رہنمائی فرما دیں، رضا کار کو یہ معلوم ہونے پر کہ میری پرچی والی دوا فلاں میڈیکل پر دستیاب ہے تو رضا کار فوراً جائے اور دوا خرید کر اُسکی بِل لے لے اور اُس بندے کے گھر پر دوا پہونچا کر بِل کے مطابق رقم لے لے، یاد رہے اِس کام کا معاوضہ نہیں لینا ہے، کچھ دوائیں ایسی بھی ہونگی جو کہیں نہیں ملے گی ایسے میں گروپ میں موجود ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات اُس کا اچھا سا بدل (سبٹیٹیوٹ) بتا دیں، رضا کار سامنے والے کو آگاہ کریں کہ آپ کی مطلوبہ دوا نہیں مل رہی ہے مگر اُس کے بدل میں آپ فلاں دوا لے سکتے ہیں۔ اگر سامنے والا راضی ہوا تو اُسے اُس کی دوا کا بدل دے دیں، رضاکاروں میں سے کچھ لوگ روزانہ پوری احتیاط کے ساتھ اُن دواخانوں میں جائیں جہاں کرونا مریضوں کو ایڈمٹ کِیا جا رہا ہے اور وہاں بِنا مذہب و مسلک تمام مریضوں کے آکسیجن سلنڈر جانچ کریں اور آکسیجن سلنڈر تبدیل کریں، مریضوں کے حالات جانچیں اُن سے بات چیت کریں، اُنہیں پہلے کیا بیماری تھی یہ پوچھیں اور دھیان دیں کہ اُن کا ٹریٹمنٹ کِس قسم کا چل رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اُنہیں بیماری کچھ اور ہے اور علاج صرف کرونا کا کِیا جا رہا ہے؟ اُن کو تسلی اور حوصلہ مند کلمات کہیں، اُنہیں کیا تکلیف ہیں یہ پوچھیں اور اُن کی تکالیف دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں، ڈاکٹرز حضرات کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اُن سے بھی درخواست کریں کہ وہ بھی پوری ایمانداری سے مریضوں کا علاج کرنے پر آمادہ ہوں، شہر کے بند پڑے ہاسپٹلز سے کسی بھی طرح کچھ آکسیجن سلنڈر لے لیں اور اُنہیں کرونا کے علاوہ دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کو اُنکے ہی گھروں میں لگائے جائیں، دوسرے شہروں سے جن لوگوں کا علاج چل رہا ہے ایسے مریضوں کی دوائیں لانے کے لئے کچھ بندوں کو قانونی طور سے ڈپارٹمنٹ کے اجازت نامہ کے ساتھ دوسرے شہروں میں احتیاط کے ساتھ بھیجیں اور دوائیں منگوا کر مریضوں کے گھر پہونچائیں، ایمرجنسی معاملات والے مریضوں کو کسی بھی صورت میں فوری طبّی امداد پہونچانے کی کوشش کریں۔ شہر میں موجود پولیس اہلکاروں کو کِس چیز کی تکلیف ہے اِس پر بھی خاص نظر رکھیں، اُنھیں دھوپ سے بچنے کے لئے شامیانے لگوا دیں (اگر نا لگے ہوں تو) اُن کو صاف شفاف پانی کا انتظام کر دیں، اُن کو اگر کولر یا پنکھے کی ضرورت ہو تو اُس کا انتظام کریں، اُن کے ذریعے دی گئی ہدایات پر عمل کریں. یہی وہ سارے کام ہیں جنہیں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں والوں نے کِیا تھا۔ آپ ایسا ضرور کریں انشاء اللہ کچھ ہی دِنوں میں آپ کا شہر کرونا مکت ہو جائے گا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
