Connect with us
Wednesday,25-March-2026

سیاست

مودی، کووِڈ۔19 اور سودیشی سوچ

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی کے 20لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نٹ کہاکہ جب کوئی ملک شدید وبائی بحران سے نبرد آزما ہو اور سماجی حسیت پرناامیدی کے احساس کا غلبہ طاری ہونے لگے، تو ایسے ماحول میں ایک بڑا معاشی پیکیج گہرے سکون کا احساس دلاتا ہے اپور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے معزز وزیر اعظم نریندر مودی ایک مستقل مزاج اور پختہ کار رہنما ہیں۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک تفصیلی بیان میں کہاکہ جب موجودہ بحران کے دور میں پورے ملک کی نگاہیں اپنے قائد پر مرکوز ہیں، تو مودی انہیں مایوس نہیں کرتے۔ مودی نے اپنے اقتدار کے شاندار چھ برسوں کے دوران ایک سچے اور مخلص رہنما کی طرح بروقت اور مناسب معاشی پالیسیاں وضع کرکے اپنے ہم وطنوں کے تئیں بے پناہ محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس پیکیج کو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مودی کی عقیدت کی عملی مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دراصل، اس قدم کو موجودہ معاشی خرابیوں کو درست کرنے کے حل کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں مودی کی پرجوش قوم پرستی کا جذبہ بھی چھپا ہوا ہے اور اس سے معیشت کی بحالی کے سلسلے میں ان کے مضبوط ویژن کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ دراصل، انہوں نے آج ہمیں ایک جامع معاشی تعمیر نو کے امکانات سے روبرو کرایا ہے، جو خصوصی طور پر خود کفالت پرزور دیتا ہے۔ اس کا طویل المدتی فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری دیہی زندگی کی باز آبادکاری بامعنی طریقے سے ہو سکے گی اور وہاں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے ان میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک فعال اور عملی لیڈر کے طور پر مودی نے ایسی معاشرتی اور معاشی پالیسیاں وضع کی ہیں یا پرانی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہے، جن کو فوری طور پر لاگو کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ موجودہ اقدام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہمیں بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ مودی ہمارے ملک کو قومیانے کی پالیسی کی راہ پر لے جارہے ہیں، جہاں معاشی خرابیوں کا علاج سودیشی مصنوعات کے لیے سازگار ماحول تیار کرکے کیا جائے گا۔ موجودہ وبائی مرض کے دوران مودی نے وقتاً فوقتاً لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’گمچھا‘ جسے تولیہ بھی کہا جاتا ہے، اور آیورویدک ادویات کا استعمال کریں۔ یہ عمل دیسی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں بہتری لانے کا محرک بن سکتا ہے، جو بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ہماری بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو بھی جذب کرسکتا ہے۔ اس عمل میں نچلی سطح سے شروع کر کے مزدوروں کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ایسی سوچ اور زیادہ با معنی ہو جاتی ہے۔ درحقیقت، دیسی صنعتوں کے فروغ کے ذریعہ معیشت کی تجدید کاری پر وزیر اعظم مودی کا زور معیشت کی دائمی سست رفتاری کے مسئلے کا مستقل حل پیش کرنے کے ان کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ سودیشی صنعت کے احیا اور ان کی حوصلہ افزائی سے ہمارے ملک کے عوام کے ایک بڑے طبقے کو کھیتی سے ہونے والی معمولی آمدنی میں اضافے کا موقع ملے گا اور انہیں اپنی محنت کا بہتر صلہ مل سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ مودی کی سیاسی بصیرت اورسوجھ بوجھ کا جائزہ لیا جائے، تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ گھریلو صنعتوں کی جانب ان کا جھکاؤ ان کی حب الوطنی کی غمازی کرتا ہے۔ درآمد شدہ اشیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار موجودہ نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے بے بہرہ اور اپنے پرشکوہ ورثے سے غافل کر دیا ہے۔ مودی کا خود انحصاری کی طرف رجحان کا مقصد اپنے لوگوں کو ان کی طاقت کا احساس دلانا اور ان کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا ہے۔ مودی کے معاشی منصوبے موجودہ دور سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ منصوبے انہیں ایک قوم پرست، ایک کارکن اور ایک کرم یوگی کی حیثیت سے نشان زد کرتے ہیں، جو ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے اور جو ہندوستانیت پر عمل کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے کی بنیاد مودی کے اس پختہ یقین پر ہے کہ غریب اور کم مراعات یافتہ لوگ نظریاتی تنازعات میں الجھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہمارے ملک میں ایسی پالیسیاں وضع کی جانی چاہئیں، جن سے ہماری آبادی کو بھرپور فوائد حاصل ہوں۔ لہٰذا، مودی ہمیشہ اپنی سیاسی کوششوں کی تکمیل کے لیے مذاکرات اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم کاایک بنیادی سروکار یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنی قدیم اقتصادی روایات اور مشترکہ نصب العین کے حصول کا احساس دلایا جائے۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کو معیشت کا بنیادی محور قرار دینے کی مودی کی منطق سوامی وویکانند کے ان خیالات پر قائم ہے، جس کے تحت انہوں نے لوگوں میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا ایک مضبوط احساس پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی۔ وویکانند نے اپنے ہم وطنوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی مدد آپ کریں اور باہر کی مسلط کردہ مادی یا غیر مادی چیزوں پر انحصار نہ کریں۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وویکانند نے فرد کی جن خفیہ صلاحیتوں کو ابھار کر حکومت سے تعاون کرنے پر زور دیا تھا، اس کی جھلک مختلف حالات سے نمٹنے کے مودی کے طرز عمل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج، جس کا جھکاؤ سودیشی کی طرف ہے، در حقیقت معیشت کی فعالیت کی از سرنو تشکیل کے ایک منظم اور ٹھوس پروگرام کی شروعات ہے۔ اس میں ایسے حالات پیدا ہوں گے، جو انفرادی وقار کو بحال کریں گے۔ اس طرح کا رویہ ہماری آبادی کے تمام طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے اور گھریلومصنوعات کی فراہمی کا ایک مضبوط اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے معاشرے میں سستے اور غیر معیاری امپورٹیڈ سامان کی بالادستی کی گرفت کم ہوگی۔ دیسی سامان کی زیادہ سے زیادہ پیداوار اور کھپت کی وجہ سے مختلف معاشی گروہ ریاست، سرمایہ، بازار اور معاشرے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت طور پر نئی شکل دینا شروع کر دیں گے۔
ہم سب اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ مودی کی موجودہ معاشی پالیسی کا زور واضح طور پر چھوٹی اور دیسی صنعتوں پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی کے تعلقات میں مضبوطی آئے گی اور اقتدار کا ڈھانچہ زیادہ قابل قبول اوردرست ہوگا۔ اس میں ایک منطق یہ بھی ہے کہ حاشیہ اور مرکزی دھارے، دونوں سطحوں پر لوگ خود اپنی خوشحالی کو اپنی قوم کے ساتھ جوڑکر دیکھنے لگیں گے۔ یہ ایسے احساسات ہیں جنہیں درآمدی سامان پر مسلسل اور بڑھتے ہوئے انحصار نے ختم کردیا تھا۔ دیسی صنعت پر زور کی وجہ سے قوم پرستی اور حب الوطنی جیسے متحد کرنے والے جذبے کو بھی نمایاں طور پر وسعت ملے گی۔ ہمارے شہری خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے لگیں گے اور ہندوستانی مصنوعات کا استعمال کرنیکی وجہ سے وہ اپنے ورثہ اور تہذیب پر فخر محسوس کریں گے اور مادر وطن کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوطی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقامی صنعتوں اور اشیا کے حق میں مودی کا دعویٰ عام ہندوستانیوں، خاص طور پر دیہی علاقے کے لوگوں کی امنگوں اور آرزوؤں کے عین موافق ہے۔ اس سے ان کی سیاسی قیادت کے احترام اور ساکھ میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ میں حتمی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوووِڈ -19 کے ذریعہ پیداشدہ نازک صورتحال پر مودی کے رسپانس سے نہ صرف ہمیں اس سانحہ سے باہر آنے میں کامیابی ملے گی، بلکہ اس سے جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی اوراس سے ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوں گے جہاں علاحدگی اور امتیازیت جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی اور اسی کی خواہش مودی جی کرتے ہیں اور بہ حیثیت ہندوستانی ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم آخرکار یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک سپر پاور اور ایک شاندار ملک بنائیں، جو تمام میدانوں میں عالمی برادری کی قیادت کر سکے۔ ہماری متحرک اور فعال قیادت کی یہ خواہشیں دور ازکار بھی نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ ہندوستان اور ہندوستان کے لوگ ان کی پالیسیوں اور ان کے تاثرات کا احترام کریں گے۔ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کریں گے، جو ایک شدید بحران کے دور میں ملک کی مدد کے لیے بروقت کھڑا ہوا اور ہمارے عوام کی بے پناہ خدمت کی، جنہیں ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کی مثال موجودہ صدی میں نہیں ملتی۔ میں ان کی انسان دوستی کی کوششوں کو سلام کرتا ہوں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایوان اسمبلی میں ابوعاصم اعظمی کا مہاراشٹر میں نفرتی تقاریر جیسے جرائم کے واقعات پر تشویش، سخت کارروائی کا مطالبہ

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے ایوان میں سرکار کی ہیٹ اسپیچ اشتعال انگیز تقاریر کے سبب نفرتی جرائم میں اضافہ ہوا ہے اس پر کارروائی ضروری ہے سپریم کورٹ بھی اپنے رہنمایانہ اصول میں ہیٹ اسپیچ پر کارروائی کا حکم دینے کے ساتھ سرکاروں کو ازخود نوٹس لے کر کیس درج کرنے کی بھی ہدایت دی تھی لیکن سرکار کی اس پر نیت صاف نہیں ہے اور اسی بدنیتی کے سبب ہیٹ اسپیچ کے کیس میں کوئی کارروائی نہیں ہو تی اس لئے اس پر کارروائی کی ضرورت ہے سرکار اس معاملہ میں سخت کارروائی کرے۔ مہاراشٹر میں نفرتی ایجنڈے جاری ہے اور اس کے سبب حالات خراب ہوتے ہیں ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ مہاراشٹر میں نظم و نسق کی حالت خراب ہے اس کے ساتھ ہی سائنر جرائم میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے اس میں بزرگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس کے ساتھ ہی جرائم کے معاملات میں سزاکا ریٹ کم ہے یعنی زیادہ تر کیسوں میں جرم ثابت نہیں ہوتا ہے یہ انتہائی تشویشناک ہے ایسے میں تفتیش پر بھی سوال اٹھتاہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اجیت پوار کے گھر پر کالا جادو کیا جاتا تھا، روہیت پوار کا سنسنی خیز خلاصہ، تفتیش کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : نیشنلسٹ کانگریس پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی روہیت پوار نے اجیت پوار کے طیارہ حادثہ کے بعد اب سنسنی خیز خلاصہ کر تے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اجیت پوار کے گھر کے باہر کالا جادو کیا جاتا تھا اس کالا جادو کی وجہ پارٹی پر قابو و کنٹرول تو نہیں کیونکہ 16 فروری کو ایک مکتوب الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ارسال کیا گیا تھا جس میں پرفل پٹیل کو قومی صدر مقرر کیا گیا تھا, اس میں تین عہدیداروں کی دستخط تھی جس میں سنیل تتکرے, برج موہن سریواستو کا نام شامل ہے انہوں نے کہا کہ ان کی چچی سنترا پوار بھی اس سے لاعلم تھی یہ انتہائی تشویشناک بات ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی پر مکمل قبضہ کر نے کی سازش پہلے ہی انجام دی گئی تھی اس لئے اس کی جانچ ضروری ہے کہ اجیت پوار کی موت حادثہ یا قتل ہے انہوں نے کہا کہ اشوک کھرات سے ہی اجیت پوار کے گھر کے باہر جادو ٹونا کروایا جاتا تھا اس سنسنی خیز خلاصہ کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روہیت پوار نے کئی سنسنی خیز خلاصے کئے ہیں جس میں انہوں نے پارٹی پر دبدبہ قائم رکھنے کیلئے پرافل پٹیل اور سنیل تتکر ے کے الیکشن کمیشن کے اس مکتوب کا حوالہ دیا جو انہوں نے حادثہ کے 16 دن بعد ہی الیکشن کمیشن میں جمع کروایا تھا اس معاملہ میں بھی روہیت پوار نے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ روہیت پوار نے ایوان اسمبلی میں اس سے قبل اجیت پوار حادثہ میں داخل کرناٹک کی ایف آئی آر کی تفصیلات بتائی اور کہا کہ کرناٹک پولیس نے اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کر لی ہے جبکہ پونہ میں رات دن اجیت پوار عوام کی خدمت کر تے تھے کیا, اب اس ایف آئی آر کو بارامتی میں درج کر کے اس کی تفتیش ہوگی انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں ایف آئی آر مہاراشٹر منتقل کر دی گئی ہے. اس کی تفتیش اب ڈی جی پی کے سپرد ہے کیا ڈی جی پی اس تفتیش کو آگے بڑھائیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کماٹی پورہ بازآباکاری پروجیکٹ کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے, امین پٹیل کا پرزور مطالبہ, کام شروع کرنے کی یقین دہانی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر اور رکن اسمبلی امین پٹیل نے توجہ طلب نوٹس کے معرفت کماٹی پورہ بازآباکاری کلسٹر ڈیولپمنٹ کو فوری طور پر مکمل کرنے اور ورک آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ میں ۱۶ ہزار عمارتیں ہیں جس میں ۲۵ ہزار مکین آباد ہیں ان عمارتوں کی حالت خستہ ہے اور مانسون میں حادثات کا خطرہ ہے اگر ان عمارتوں کو حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی زمہ دار سرکار اور مہاڈ و متعلقہ ایجنسی ہو گی اس لئے اس پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ کماٹی پورہ علاقہ ایک گھنی، کثیر لسانی، متوسط ​​طبقے کی آبادی پر مشتمل ہے جو متعدد پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں آباد ہے۔ مقامی باشندوں کی جانب سے ان تعمیرات کی فوری بحالی کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کماٹی پورہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے ذریعے دوبارہ ترقی بازآبادکاری کی تجویز حکومت کو پیش کی گئی ہے، اور معمار ٹھیکیدارکی تقرری اور ٹینڈرز جاری کرنے جیسے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔تاہم، دوبارہ ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت بڑی تعداد میں عمارتیں عمر کھادی اور کماٹی پورہ جیسے علاقوں میں واقع ہیں۔ چھتیں گرنے، پانی کے رساؤ اور ساخت کی خرابی جیسے واقعات کی وجہ سے رہائشی خطرناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ری ڈیولپمنٹ کو تیز کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کئی میٹنگیں ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ ڈونگری، بھنڈی بازار، پائدھونی، بھولیشور، نال بازار، کلبا دیوی، اور محمد علی روڈ جیسے علاقے گنجان آباد ہیں اور بہت سی پرانی اور غیر محفوظ عمارتیں ہیں۔ مہاڈا کے لیے سروے کرنے، غیر قانونی تعمیرات کا معائنہ کرنے اور دوبارہ ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، مہاڈا میں عملے کی کمی کی وجہ سے، عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے رہائشیوں میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ہاؤسنگ کا بیان ، ڈیولپمنٹ کنٹرول ریگولیشن (ڈی سی آر) 33(9) کے تحت 12 جنوری 2023 کی حکومتی قرارداد کے ذریعے مہاڈا کے ذریعے کماٹی پورہ علاقے میں پرانی اور خستہ حال سیسڈ اور نان سیسڈ عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے منظوری دی گئی ہے۔اس منصوبے کے تحت، تقریباً734 عمارتوں اور 8,001 کرایہ داروں/ رہائشیوں کی بحالی کی جائے گی۔ پروجیکٹ کو تیز کرنے کے لیے، مہاڈا کو 9 جولائی 2025 کو ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے، خصوصی منصوبہ بندی اتھارٹی قرار دیا گیا تھا۔
ٹینڈرز 12 جون 2025 کو جاری کیے گئے تھے، اور مناسب کارروائی کے بعد،بھاگیرتھی ہاؤسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹھیکے دیے گئے تھے۔ لمیٹڈ اور کماٹی ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ14 نومبر 2025 کوورک آرڈر جاری کرنے کے لیے مزید کارروائی جاری ہے۔ پرائم منسٹر گرانٹ پروجیکٹ (پی ایم ای جی پی) کے تحت 1989-1995 کے دوران، تقریباً 269 سیسڈ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیاجس کے نتیجے میں 66 نئی عمارتیں بنیں۔ مرمت کے لیے، حکومت نے 29 اگست 2024 کو مہاراشٹر ہاؤسنگ فنڈ سے 150 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ ان میں سے، عمر کھادی اور کماٹی پورہ علاقوں میں 12 عمارتوں کی ساختی مرمت کے لیے 12.80 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، اور کام جاری ہے۔
عمر کھادی کے علاقے میں 81 عمارتوں کی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ کے لیے ایک تجویز 3 دسمبر 2024 کو ایم ایچ اے ڈی اے کو پیش کی گئی۔ فزیبلٹی کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ 20 عمارتوں کی بحالی کی تجویز ناقابل عمل پائی گئی، اور 36 عمارتوں کی نظرثانی شدہ رپورٹ 23 فروری 2026 کو پیش کی گئی، جس کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ ایم ایچ اے ڈی اے ایکٹ 1976 کی دفعہ79(اے) کے تحت عمارت کےمالکان کو دوبارہ ترقی کی تجاویز کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ تاہم،ہائی کورٹ نے 28 جولائی 2025 (درخواست نمبر 34771/2024) کو اس کارروائی پر روک لگا دی۔ نوٹسز کا جائزہ لینے کے لیے دو ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی مقرر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ مہاڈا نے ممبئی میں عمارتوں کے اسٹرکچرل اسٹیبلٹی آڈٹ کرنے کے لیے 64 اسٹرکچرل آڈیٹرز/آرکیٹیکٹس کو مقرر کیا ہے۔ مزید برآں، 23 فروری 2026 کو عملے کے ریکارڈ کی منظوری کے بعد ایم ایچ اے ڈی اے میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے بھرتی جاری ہے۔وزیر مملکت پنکج بھوئیر نے کہا کہ ایک ہفتہ میں ورک آرڈر جاری کر کے دو ماہ میں کام شروع کر دیا جائے گا اور اس پروجیکٹ کو وائٹل پروجیکٹ پر بھی وزیر اعلیٰ سے میٹنگ میں فیصلہ لیا جائے گا یہ یقین دہانی وزیر موصوف نے کروائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان