Connect with us
Saturday,11-July-2026
تازہ خبریں

سیاست

مودی، کووِڈ۔19 اور سودیشی سوچ

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی کے 20لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نٹ کہاکہ جب کوئی ملک شدید وبائی بحران سے نبرد آزما ہو اور سماجی حسیت پرناامیدی کے احساس کا غلبہ طاری ہونے لگے، تو ایسے ماحول میں ایک بڑا معاشی پیکیج گہرے سکون کا احساس دلاتا ہے اپور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے معزز وزیر اعظم نریندر مودی ایک مستقل مزاج اور پختہ کار رہنما ہیں۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک تفصیلی بیان میں کہاکہ جب موجودہ بحران کے دور میں پورے ملک کی نگاہیں اپنے قائد پر مرکوز ہیں، تو مودی انہیں مایوس نہیں کرتے۔ مودی نے اپنے اقتدار کے شاندار چھ برسوں کے دوران ایک سچے اور مخلص رہنما کی طرح بروقت اور مناسب معاشی پالیسیاں وضع کرکے اپنے ہم وطنوں کے تئیں بے پناہ محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس پیکیج کو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مودی کی عقیدت کی عملی مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دراصل، اس قدم کو موجودہ معاشی خرابیوں کو درست کرنے کے حل کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں مودی کی پرجوش قوم پرستی کا جذبہ بھی چھپا ہوا ہے اور اس سے معیشت کی بحالی کے سلسلے میں ان کے مضبوط ویژن کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ دراصل، انہوں نے آج ہمیں ایک جامع معاشی تعمیر نو کے امکانات سے روبرو کرایا ہے، جو خصوصی طور پر خود کفالت پرزور دیتا ہے۔ اس کا طویل المدتی فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری دیہی زندگی کی باز آبادکاری بامعنی طریقے سے ہو سکے گی اور وہاں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے ان میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک فعال اور عملی لیڈر کے طور پر مودی نے ایسی معاشرتی اور معاشی پالیسیاں وضع کی ہیں یا پرانی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہے، جن کو فوری طور پر لاگو کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ موجودہ اقدام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہمیں بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ مودی ہمارے ملک کو قومیانے کی پالیسی کی راہ پر لے جارہے ہیں، جہاں معاشی خرابیوں کا علاج سودیشی مصنوعات کے لیے سازگار ماحول تیار کرکے کیا جائے گا۔ موجودہ وبائی مرض کے دوران مودی نے وقتاً فوقتاً لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’گمچھا‘ جسے تولیہ بھی کہا جاتا ہے، اور آیورویدک ادویات کا استعمال کریں۔ یہ عمل دیسی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں بہتری لانے کا محرک بن سکتا ہے، جو بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ہماری بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو بھی جذب کرسکتا ہے۔ اس عمل میں نچلی سطح سے شروع کر کے مزدوروں کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ایسی سوچ اور زیادہ با معنی ہو جاتی ہے۔ درحقیقت، دیسی صنعتوں کے فروغ کے ذریعہ معیشت کی تجدید کاری پر وزیر اعظم مودی کا زور معیشت کی دائمی سست رفتاری کے مسئلے کا مستقل حل پیش کرنے کے ان کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ سودیشی صنعت کے احیا اور ان کی حوصلہ افزائی سے ہمارے ملک کے عوام کے ایک بڑے طبقے کو کھیتی سے ہونے والی معمولی آمدنی میں اضافے کا موقع ملے گا اور انہیں اپنی محنت کا بہتر صلہ مل سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ مودی کی سیاسی بصیرت اورسوجھ بوجھ کا جائزہ لیا جائے، تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ گھریلو صنعتوں کی جانب ان کا جھکاؤ ان کی حب الوطنی کی غمازی کرتا ہے۔ درآمد شدہ اشیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار موجودہ نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے بے بہرہ اور اپنے پرشکوہ ورثے سے غافل کر دیا ہے۔ مودی کا خود انحصاری کی طرف رجحان کا مقصد اپنے لوگوں کو ان کی طاقت کا احساس دلانا اور ان کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا ہے۔ مودی کے معاشی منصوبے موجودہ دور سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ منصوبے انہیں ایک قوم پرست، ایک کارکن اور ایک کرم یوگی کی حیثیت سے نشان زد کرتے ہیں، جو ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے اور جو ہندوستانیت پر عمل کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے کی بنیاد مودی کے اس پختہ یقین پر ہے کہ غریب اور کم مراعات یافتہ لوگ نظریاتی تنازعات میں الجھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہمارے ملک میں ایسی پالیسیاں وضع کی جانی چاہئیں، جن سے ہماری آبادی کو بھرپور فوائد حاصل ہوں۔ لہٰذا، مودی ہمیشہ اپنی سیاسی کوششوں کی تکمیل کے لیے مذاکرات اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم کاایک بنیادی سروکار یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنی قدیم اقتصادی روایات اور مشترکہ نصب العین کے حصول کا احساس دلایا جائے۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کو معیشت کا بنیادی محور قرار دینے کی مودی کی منطق سوامی وویکانند کے ان خیالات پر قائم ہے، جس کے تحت انہوں نے لوگوں میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا ایک مضبوط احساس پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی۔ وویکانند نے اپنے ہم وطنوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی مدد آپ کریں اور باہر کی مسلط کردہ مادی یا غیر مادی چیزوں پر انحصار نہ کریں۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وویکانند نے فرد کی جن خفیہ صلاحیتوں کو ابھار کر حکومت سے تعاون کرنے پر زور دیا تھا، اس کی جھلک مختلف حالات سے نمٹنے کے مودی کے طرز عمل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج، جس کا جھکاؤ سودیشی کی طرف ہے، در حقیقت معیشت کی فعالیت کی از سرنو تشکیل کے ایک منظم اور ٹھوس پروگرام کی شروعات ہے۔ اس میں ایسے حالات پیدا ہوں گے، جو انفرادی وقار کو بحال کریں گے۔ اس طرح کا رویہ ہماری آبادی کے تمام طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے اور گھریلومصنوعات کی فراہمی کا ایک مضبوط اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے معاشرے میں سستے اور غیر معیاری امپورٹیڈ سامان کی بالادستی کی گرفت کم ہوگی۔ دیسی سامان کی زیادہ سے زیادہ پیداوار اور کھپت کی وجہ سے مختلف معاشی گروہ ریاست، سرمایہ، بازار اور معاشرے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت طور پر نئی شکل دینا شروع کر دیں گے۔
ہم سب اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ مودی کی موجودہ معاشی پالیسی کا زور واضح طور پر چھوٹی اور دیسی صنعتوں پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی کے تعلقات میں مضبوطی آئے گی اور اقتدار کا ڈھانچہ زیادہ قابل قبول اوردرست ہوگا۔ اس میں ایک منطق یہ بھی ہے کہ حاشیہ اور مرکزی دھارے، دونوں سطحوں پر لوگ خود اپنی خوشحالی کو اپنی قوم کے ساتھ جوڑکر دیکھنے لگیں گے۔ یہ ایسے احساسات ہیں جنہیں درآمدی سامان پر مسلسل اور بڑھتے ہوئے انحصار نے ختم کردیا تھا۔ دیسی صنعت پر زور کی وجہ سے قوم پرستی اور حب الوطنی جیسے متحد کرنے والے جذبے کو بھی نمایاں طور پر وسعت ملے گی۔ ہمارے شہری خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے لگیں گے اور ہندوستانی مصنوعات کا استعمال کرنیکی وجہ سے وہ اپنے ورثہ اور تہذیب پر فخر محسوس کریں گے اور مادر وطن کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوطی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقامی صنعتوں اور اشیا کے حق میں مودی کا دعویٰ عام ہندوستانیوں، خاص طور پر دیہی علاقے کے لوگوں کی امنگوں اور آرزوؤں کے عین موافق ہے۔ اس سے ان کی سیاسی قیادت کے احترام اور ساکھ میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ میں حتمی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوووِڈ -19 کے ذریعہ پیداشدہ نازک صورتحال پر مودی کے رسپانس سے نہ صرف ہمیں اس سانحہ سے باہر آنے میں کامیابی ملے گی، بلکہ اس سے جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی اوراس سے ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوں گے جہاں علاحدگی اور امتیازیت جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی اور اسی کی خواہش مودی جی کرتے ہیں اور بہ حیثیت ہندوستانی ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم آخرکار یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک سپر پاور اور ایک شاندار ملک بنائیں، جو تمام میدانوں میں عالمی برادری کی قیادت کر سکے۔ ہماری متحرک اور فعال قیادت کی یہ خواہشیں دور ازکار بھی نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ ہندوستان اور ہندوستان کے لوگ ان کی پالیسیوں اور ان کے تاثرات کا احترام کریں گے۔ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کریں گے، جو ایک شدید بحران کے دور میں ملک کی مدد کے لیے بروقت کھڑا ہوا اور ہمارے عوام کی بے پناہ خدمت کی، جنہیں ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کی مثال موجودہ صدی میں نہیں ملتی۔ میں ان کی انسان دوستی کی کوششوں کو سلام کرتا ہوں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کاندیولی سمتا نگر جنگل سے نابالغ لڑکی کی لاش برآمدُ، پولس تفتیش میں خلاصہ عاشق نے ہی معشوقہ کو قتل کیا تھا

Published

on

crime

ممبئی : کاندیولی سمتا نگر علاقہ سے ایک نابالغ ۱۶ سے ۱۷ سال کی لڑکی کی مسخ شدہ لاش برآمد ہونے کے بعد پولس نےاس کے عاشق کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جنگل میں ۱۰ جولائی کو لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس لاش کی پولس نے شناخت کی اور ٹیکنیکل تفتیش اور پنچنامہ کے بعد پولس نے ملزم کا سراغ لگایا, اس لاش کی ایف ایس ایل کروایا گیا۔ مقتولہ کی شناخت کے بعد جب اس کے ورثا اور رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کا سورج ماروتی واگھمارے ۲۱ سالہ سے معاشقہ ہے, اس کے بعد پولس نے مشتبہ ملزم کی تلاش کر کے اس معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی گجانن راج مانے کی ایما پر کی گئی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر میں دو ماہ کی توسیع، بی ایل اوز کو مکمل سہولیات اور شکایات کے ازالے جیسے اہم مطالبات کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا یقین دلایا۔

Published

on

Election-Commission

ممبئی : فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس (ایف ایم ایم) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج چیف الیکٹورل آفیسر، مہاراشٹر سے ملاقات کرکے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران عوام کو درپیش مسائل اور انتخابی عمل کو مزید شفاف، منصفانہ اور عوام دوست بنانے کے لیے ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔وفد نے بتایا کہ فیڈریشن نے یس آئی آر کے آغاز ہی سے ریاست بھر میں آگاہی مہم اور سہولت مراکز قائم کیے ہیں، جہاں رضاکار شہریوں کو اندراج (گنتی) کے عمل میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں اور بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان مراکز اور مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی عوامی شکایات اور تجاویز کی بنیاد پر یہ یادداشت تیار کی گئی۔

یادداشت میں سب سے پہلے موجودہ اندراجی مرحلے کی مدت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے شدید بارشوں، زرعی بوائی، تعمیرِ نو اور انہدامی کارروائیوں کے باعث نقل مکانی اور دیگر عملی مشکلات کے پیش نظر اندراج کی مدت میں کم از کم دو ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا گیا، کیونکہ ریاست میں فی الحال کوئی فوری انتخاب متوقع نہیں ہے۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ بوتھ لیول آفیسرز پر اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے انہیں عارضی طور پر غیر انتخابی سرکاری فرائض سے مستثنیٰ کیا جائے، جہاں ضرورت ہو اسسٹنٹ بی ایل اوز مقرر کیے جائیں، تمام بی ایل اوز کو ریفریشر ٹریننگ دی جائے، ان کے رابطہ نمبر، دفاتر اور دائرۂ کار کی تازہ ترین معلومات عوام کے لیے دستیاب کرائی جائیں، اور انہیں واضح ہدایات دی جائیں کہ وہ شہریوں کی ایناملیز اور دیگر مسائل کے حل میں عملی تعاون کریں۔

یادداشت میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بڑی تعداد میں شہری اب تکسر کے طریقۂ کار، آخری تاریخوں اور مطلوبہ دستاویزات سے ناواقف ہیں، خصوصاً بزرگ شہری، خواتین، مہاجر مزدور، معاشی طور پر کمزور طبقات اور دیہی آبادی۔ اس لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر کثیر لسانی بیداری مہم چلانے، سہولت مراکز کو مضبوط بنانے اور موبائل تصدیقی یونٹس قائم کرنے کی درخواست کی گئی۔

وفد نے دستاویزات اور میپنگ کے عمل میں پائی جانے والی الجھنوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مختلف اقسام کی ایناملیز اور ان کے لیے درکار دستاویزات کے بارے میں جامع عوامی رہنما ہدایات جاری کی جائیں، جہاں پرانے ریکارڈ دستیاب نہ ہوں وہاں دستاویزی تقاضوں میں آسانی پیدا کی جائے، مہاکاوی نمبر اور نام کی قانونی تبدیلیوں کو میپنگ میں مناسب اہمیت دی جائے، قابلِ قبول دستاویزات کی فہرست میں توسیع کی جائے اور ڈپلیکیٹ اندراجات سے متعلق یکساں تحریری ہدایات تمام فیلڈ افسران کو جاری کی جائیں۔

فیڈریشن نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض ایسے شہری جنہوں نے 2024 کے انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا، موجودہ عمل میں اپنے نام یا مہاکاوی ریکارڈ تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ ایسے ووٹروں کو بلاجواز دوبارہ نئے اندراج کا پابند نہ بنایا جائے اور اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے حذف ہو گیا ہو تو مناسب تصدیق کے بعد ایک آسان اور فوری اصلاحی طریقۂ کار کے ذریعے اس کا نام بحال کیا جائے۔

یادداشت میں شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے نوٹس جاری کرنے، دستاویزی تقاضوں اور نام حذف کرنے کے اصولوں سے متعلق مفصل اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) شائع کرنے، مؤثر، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر شکایات کے ازالے کا نظام قائم کرنے، ڈیٹا انٹری اور تصدیقی عمل کی نگرانی کے لیے مضبوط آڈٹ اور سپروائزری نظام نافذ کرنے اور پورے ایس آئی آر عمل کی آزادانہ نگرانی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہایس آئی آر کا اصل مقصد ہر اہل ووٹر کو انتخابی عمل میں شامل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی، تکنیکی یا طریقۂ کار کی خامیوں کے باعث کسی شہری کو اس کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا۔ اس لیے تمام انتخابی افسران کو شہری دوست رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی جانی چاہیے۔

اس موقع پر بھیونڈی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہمراہ مولانا حافظ اقبال چونا والا (رکن شوریٰ، دارالعلوم دیوبند وقف)، مولانا ظہیر عباس رضوی (نائب صدر، شیعہ پرسنل لا بورڈ)، فرید شیخ (صدر، امن کمیٹی ممبئی)، شاکر شیخ اور عبدالمجیب شیخ بھی وفد میں شامل تھے۔

وفد کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر، مہاراشٹر نے یادداشت میں پیش کیے گئے تمام نکات کو نہایت سنجیدگی سے سنا، ان تجاویز کو تعمیری قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ عوامی مفاد اور انتخابی عمل کی شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام مطالبات پر مناسب غور کرکے ضروری اقدامات کیے جائینگے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی کی سازش ناکام, مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آپریشن شروع, ۱۱۲ مشتبہ نوجوانوں سے پوچھ گچھ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی پاکستانی ڈان اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ایجنٹ شہزاد بھٹی کی سازش کو ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور اس گینگ سے آن لائن رابطہ کاروں سے تفتیش شروع کر دی ہے, جس سے ملک میں شہزاد بھٹی کی سازش کو اے ٹی ایس نے بے اثر کرکے بے نقاب کیا ہے۔

مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی سے وابستہ ۱۱۲ نوجوانوں سے باز پرس کی ہے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں اے ٹی ایس نے اس سے قبل بھی کریک ڈاؤن کیا تھا اور ۵۷ نوجوان سے باز پرس کی تھی آج صبح ۷ بجے اے ٹی ایس کی ۱۴ یونٹ نے شہزاد بھٹی گینگ کے آنلائن رابطہ کاروں سے باز پرس کی ہے ۱۱۲ نوجوانوں کو اے ٹی ایس نے اس وقت زیر حراست لے کر باز پرس کی جب اے ٹی ایس کو ان سے متعلق یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ آن لائن طریقے سے شہزاد بھٹی گینگ کے رابطہ میں ہے اور ان نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے ان نوجوانوں کو ملک مخالف سرگرمیوں اور بغاوت کےلیے آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا تھا اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کو ملک میں بدامنی اور تشدد کےلیے ورغلایا جارہا تھا اس سازش کو اے ٹی ایس نے ناکام بنا دیا ہے اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان نوجوانوں کو آن لائن رابطہ میں رکھ کر بیرون ملک کے ہینڈلر انہیں ورغلایا کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی یہ ہینڈلر کے بھی رابطے میں آجاتے ہیں ایسے میں اے ٹی ایس مہاراشٹرمیں آپریشن شہزاد بھٹی میں شدت پیدا کردی ہے ۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے اس کی تصدیق کی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان