سیاست
مودی، کووِڈ۔19 اور سودیشی سوچ
وزیر اعظم نریندر مودی کے 20لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نٹ کہاکہ جب کوئی ملک شدید وبائی بحران سے نبرد آزما ہو اور سماجی حسیت پرناامیدی کے احساس کا غلبہ طاری ہونے لگے، تو ایسے ماحول میں ایک بڑا معاشی پیکیج گہرے سکون کا احساس دلاتا ہے اپور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے معزز وزیر اعظم نریندر مودی ایک مستقل مزاج اور پختہ کار رہنما ہیں۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک تفصیلی بیان میں کہاکہ جب موجودہ بحران کے دور میں پورے ملک کی نگاہیں اپنے قائد پر مرکوز ہیں، تو مودی انہیں مایوس نہیں کرتے۔ مودی نے اپنے اقتدار کے شاندار چھ برسوں کے دوران ایک سچے اور مخلص رہنما کی طرح بروقت اور مناسب معاشی پالیسیاں وضع کرکے اپنے ہم وطنوں کے تئیں بے پناہ محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس پیکیج کو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مودی کی عقیدت کی عملی مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دراصل، اس قدم کو موجودہ معاشی خرابیوں کو درست کرنے کے حل کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں مودی کی پرجوش قوم پرستی کا جذبہ بھی چھپا ہوا ہے اور اس سے معیشت کی بحالی کے سلسلے میں ان کے مضبوط ویژن کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ دراصل، انہوں نے آج ہمیں ایک جامع معاشی تعمیر نو کے امکانات سے روبرو کرایا ہے، جو خصوصی طور پر خود کفالت پرزور دیتا ہے۔ اس کا طویل المدتی فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری دیہی زندگی کی باز آبادکاری بامعنی طریقے سے ہو سکے گی اور وہاں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے ان میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک فعال اور عملی لیڈر کے طور پر مودی نے ایسی معاشرتی اور معاشی پالیسیاں وضع کی ہیں یا پرانی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہے، جن کو فوری طور پر لاگو کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ موجودہ اقدام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہمیں بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ مودی ہمارے ملک کو قومیانے کی پالیسی کی راہ پر لے جارہے ہیں، جہاں معاشی خرابیوں کا علاج سودیشی مصنوعات کے لیے سازگار ماحول تیار کرکے کیا جائے گا۔ موجودہ وبائی مرض کے دوران مودی نے وقتاً فوقتاً لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’گمچھا‘ جسے تولیہ بھی کہا جاتا ہے، اور آیورویدک ادویات کا استعمال کریں۔ یہ عمل دیسی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں بہتری لانے کا محرک بن سکتا ہے، جو بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ہماری بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو بھی جذب کرسکتا ہے۔ اس عمل میں نچلی سطح سے شروع کر کے مزدوروں کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد پہنچائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ایسی سوچ اور زیادہ با معنی ہو جاتی ہے۔ درحقیقت، دیسی صنعتوں کے فروغ کے ذریعہ معیشت کی تجدید کاری پر وزیر اعظم مودی کا زور معیشت کی دائمی سست رفتاری کے مسئلے کا مستقل حل پیش کرنے کے ان کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ سودیشی صنعت کے احیا اور ان کی حوصلہ افزائی سے ہمارے ملک کے عوام کے ایک بڑے طبقے کو کھیتی سے ہونے والی معمولی آمدنی میں اضافے کا موقع ملے گا اور انہیں اپنی محنت کا بہتر صلہ مل سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ مودی کی سیاسی بصیرت اورسوجھ بوجھ کا جائزہ لیا جائے، تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ گھریلو صنعتوں کی جانب ان کا جھکاؤ ان کی حب الوطنی کی غمازی کرتا ہے۔ درآمد شدہ اشیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار موجودہ نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے بے بہرہ اور اپنے پرشکوہ ورثے سے غافل کر دیا ہے۔ مودی کا خود انحصاری کی طرف رجحان کا مقصد اپنے لوگوں کو ان کی طاقت کا احساس دلانا اور ان کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا ہے۔ مودی کے معاشی منصوبے موجودہ دور سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ منصوبے انہیں ایک قوم پرست، ایک کارکن اور ایک کرم یوگی کی حیثیت سے نشان زد کرتے ہیں، جو ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے اور جو ہندوستانیت پر عمل کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے کی بنیاد مودی کے اس پختہ یقین پر ہے کہ غریب اور کم مراعات یافتہ لوگ نظریاتی تنازعات میں الجھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہمارے ملک میں ایسی پالیسیاں وضع کی جانی چاہئیں، جن سے ہماری آبادی کو بھرپور فوائد حاصل ہوں۔ لہٰذا، مودی ہمیشہ اپنی سیاسی کوششوں کی تکمیل کے لیے مذاکرات اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم کاایک بنیادی سروکار یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اپنی قدیم اقتصادی روایات اور مشترکہ نصب العین کے حصول کا احساس دلایا جائے۔ چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کو معیشت کا بنیادی محور قرار دینے کی مودی کی منطق سوامی وویکانند کے ان خیالات پر قائم ہے، جس کے تحت انہوں نے لوگوں میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کا ایک مضبوط احساس پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی۔ وویکانند نے اپنے ہم وطنوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی مدد آپ کریں اور باہر کی مسلط کردہ مادی یا غیر مادی چیزوں پر انحصار نہ کریں۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وویکانند نے فرد کی جن خفیہ صلاحیتوں کو ابھار کر حکومت سے تعاون کرنے پر زور دیا تھا، اس کی جھلک مختلف حالات سے نمٹنے کے مودی کے طرز عمل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ معاشی پیکیج، جس کا جھکاؤ سودیشی کی طرف ہے، در حقیقت معیشت کی فعالیت کی از سرنو تشکیل کے ایک منظم اور ٹھوس پروگرام کی شروعات ہے۔ اس میں ایسے حالات پیدا ہوں گے، جو انفرادی وقار کو بحال کریں گے۔ اس طرح کا رویہ ہماری آبادی کے تمام طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے اور گھریلومصنوعات کی فراہمی کا ایک مضبوط اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے معاشرے میں سستے اور غیر معیاری امپورٹیڈ سامان کی بالادستی کی گرفت کم ہوگی۔ دیسی سامان کی زیادہ سے زیادہ پیداوار اور کھپت کی وجہ سے مختلف معاشی گروہ ریاست، سرمایہ، بازار اور معاشرے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت طور پر نئی شکل دینا شروع کر دیں گے۔
ہم سب اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ مودی کی موجودہ معاشی پالیسی کا زور واضح طور پر چھوٹی اور دیسی صنعتوں پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی کے تعلقات میں مضبوطی آئے گی اور اقتدار کا ڈھانچہ زیادہ قابل قبول اوردرست ہوگا۔ اس میں ایک منطق یہ بھی ہے کہ حاشیہ اور مرکزی دھارے، دونوں سطحوں پر لوگ خود اپنی خوشحالی کو اپنی قوم کے ساتھ جوڑکر دیکھنے لگیں گے۔ یہ ایسے احساسات ہیں جنہیں درآمدی سامان پر مسلسل اور بڑھتے ہوئے انحصار نے ختم کردیا تھا۔ دیسی صنعت پر زور کی وجہ سے قوم پرستی اور حب الوطنی جیسے متحد کرنے والے جذبے کو بھی نمایاں طور پر وسعت ملے گی۔ ہمارے شہری خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے لگیں گے اور ہندوستانی مصنوعات کا استعمال کرنیکی وجہ سے وہ اپنے ورثہ اور تہذیب پر فخر محسوس کریں گے اور مادر وطن کے ساتھ اپنے رشتہ کو مضبوطی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقامی صنعتوں اور اشیا کے حق میں مودی کا دعویٰ عام ہندوستانیوں، خاص طور پر دیہی علاقے کے لوگوں کی امنگوں اور آرزوؤں کے عین موافق ہے۔ اس سے ان کی سیاسی قیادت کے احترام اور ساکھ میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ میں حتمی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوووِڈ -19 کے ذریعہ پیداشدہ نازک صورتحال پر مودی کے رسپانس سے نہ صرف ہمیں اس سانحہ سے باہر آنے میں کامیابی ملے گی، بلکہ اس سے جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی اوراس سے ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوں گے جہاں علاحدگی اور امتیازیت جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی اور اسی کی خواہش مودی جی کرتے ہیں اور بہ حیثیت ہندوستانی ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم آخرکار یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک سپر پاور اور ایک شاندار ملک بنائیں، جو تمام میدانوں میں عالمی برادری کی قیادت کر سکے۔ ہماری متحرک اور فعال قیادت کی یہ خواہشیں دور ازکار بھی نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ ہندوستان اور ہندوستان کے لوگ ان کی پالیسیوں اور ان کے تاثرات کا احترام کریں گے۔ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کریں گے، جو ایک شدید بحران کے دور میں ملک کی مدد کے لیے بروقت کھڑا ہوا اور ہمارے عوام کی بے پناہ خدمت کی، جنہیں ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کی مثال موجودہ صدی میں نہیں ملتی۔ میں ان کی انسان دوستی کی کوششوں کو سلام کرتا ہوں۔
بین الاقوامی خبریں
ترکی میں شرعی قانون کا مطالبہ، خلیفہ اردگان کی مخالفت، اسلامی رہنما اور اہلیہ گرفتار

انقرہ : اسلامی اسکالر اور شریعت کے حامی الپرسلان کویتول کو ترکی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کویتول کے ساتھ ان کی اہلیہ سمرہ کویتول، وکیل بلال ایپک اور فرقان موومنٹ کے کئی ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کویتول کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انہوں نے حالیہ ایران امریکہ کشیدگی کے دوران رجب طیب اردگان کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی تھی۔ ان پر منظم جرائم، فراڈ، منی لانڈرنگ اور ٹیکس کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔
مقامی ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، الپرسلان کویتول کریمنل آرگنائزیشن کی تحقیقات کے حصے کے طور پر، جو اڈانا میں شروع ہوئی، چھ صوبوں میں ایک مہم شروع کی گئی۔ اس آپریشن کے ایک حصے کے طور پر، کویتول اور اس کی بیوی سمیت 56 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اڈانا صوبائی پولیس اور منظم جرائم کی شاخ کی ٹیموں نے 19 اگست کو آپریشن شروع کیا۔ ابتدائی طور پر 32 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، بعد میں مزید 24 کو حراست میں لیا گیا۔ کویتول اور اس کے ساتھیوں پر ایک مجرمانہ تنظیم بنانے، چلانے اور اس کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ضروری کارروائی کے بعد الپرسلان کویٹل اور ان کی اہلیہ سمیت 56 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
کویتول نے ایران امریکہ تنازعہ کے دوران ترک صدر اردگان پر تنقید کرکے توجہ مبذول کروائی۔ کویتول نے ترک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف واضح موقف اختیار کرے اور ایران اور مزاحمتی محاذ کی حمایت کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی کو ایران اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازعات کے تناظر میں غیر فعال یا دوغلا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ فرقان موومنٹ کے وکلاء نے گرفتاریوں پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ ترین کارروائی مجرمانہ تنظیم کی سرگرمیوں کے الزام میں کی گئی تھی، اس الزام کا گروپ پہلے سامنا کر چکا ہے۔ فرقان موومنٹ کے وکیل عالیشان انسی نے اس آپریشن کو پرانے کیسز کی دوبارہ جانچ قرار دیتے ہوئے اسے اسی شو کی تیسری کارروائی قرار دیا۔
کویتول ترکی میں شریعت پر مبنی حکمرانی کے نفاذ اور مسلمانوں کے سیاسی اتحاد کا زبردست حامی رہا ہے۔ کویتول نے 1993 اور 1997 کے درمیان مصر کی الازہر یونیورسٹی میں شریعت کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے ادانا میں فرقان فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ فرقان تحریک کا مقصد قرآن و سنت پر مبنی اسلامی تہذیب کی تعمیر کرنا ہے۔ اپنے مذہبی خطبات میں، کویتول نے دلیل دی ہے کہ اسلام کو صرف ذاتی عبادات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سیاسی اور سماجی زندگی کو بھی ڈھالنا چاہیے۔ کویتول نے دلیل دی ہے کہ الگ الگ ریاستوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ترکوں، کردوں اور عربوں کو اپنے مشترکہ عقیدے، اسلام کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے۔ وہ نسلی اور قومی شناختوں سے بالاتر ہو کر امت مسلمہ کی وکالت کرتے ہیں۔ کویتول نے عوامی طور پر اپنی شناخت ایک سنی اور حنفی کے طور پر کی ہے، یعنی اس کا تعلق حنفی سے ہے، جو سنی اسلام کے چار بڑے مکاتب فکر میں سے ایک ہے۔
(جنرل (عام
نبی محمد کی زندگی محبت، بھائی چارے کی ایک متاثر کن کہانی: آندھرا پردیش گورنر

آندھرا پردیش کے گورنر ایس عبدالنذیر نے بدھ کو کہا کہ پیغمبر محمد کی زندگی بنی نوع انسان کے لیے محبت، بھائی چارے اور نیکی کی ایک متاثر کن کہانی رہی ہے۔ گورنر نذیر اور چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے بدھ کے روز میلاد النبی کے موقع پر مسلمانوں کو مبارکباد دی، “میں آندھرا پردیش کے مسلمان بھائیوں کو میلاد النبی کے پرمسرت موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پیغمبر اسلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر۔ گورنر نے اپنے پیغام میں کہا۔
“پیغمبر کا مشن اس وقت پورا ہوتا ہے جب ہم اپنے ہم وطنوں کی خدمت ایمان، اعتماد، دیکھ بھال اور ہمدردی کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں رحمدلی، ہمدردی اور حضور کی تعلیمات کی یاد دلاتا ہے۔” میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک دن ہم سب کے درمیان امن اور خیر سگالی کا آغاز کرے۔” انہوں نے مزید کہا۔
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم روح تھے جنہوں نے پوری انسانیت کی بھلائی اور امن کے قیام کے لیے جدوجہد کی۔ میں اپنے ان مسلمان بھائیوں کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارکباد پیش کرتا ہوں جو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت، جنہوں نے اپنی زندگی ایک پرامن معاشرے کے فروغ کے لیے وقف کر دی تھی”۔ ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد دی۔ “عید میلاد کے مبارک موقع پر، تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی زندگیوں میں امن، خوشی اور خوشحالی بھرے، اس پرمسرت موقع پر سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ عید میلاد مبارک!،” نائب وزیر اعلیٰ نے ‘X’ پر پوسٹ کیا۔
انسانی وسائل کی ترقی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر نارا لوکیش نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: “پیغمبر اسلام کے یوم ولادت کی یاد میں منائے جانے والے میلاد النبی کے موقع پر، میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، آئیے ہمدردی، عاجزی، اور انسانیت کی خدمت کے راستے پر چلیں،” انہوں نے کہا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ہے۔
سابق چیف منسٹر اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پیغمبر اسلام کا انسانیت کے لیے دلوں میں محبت کے ساتھ غالب آنے کا پیغام، ہمدردی کے ساتھ مصیبت میں پڑنے والوں کی مدد اور معافی، صبر اور بھائی چارے کے ساتھ ایک پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے وہ ہمیشہ قابل تقلید ہے۔ وائی ایس جگن نے ‘X’ پر پوسٹ کیا، “میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر، میرے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو دلی مبارکباد۔
سیاست
پونے ایونٹ، اطالوی وزیر اعظم کی توہین کا پردہ پوشی: بی جے پی نے خواتین کے بارے میں راہل کے ‘دوہرے معیار’ کو قرار دیا

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روز قائد حزب اختلاف (ایل او پی) راہول گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے ان پر اپنے حالیہ “آزادی کو توڑنے” والے تبصرہ پر “دوہرا معیار” اپنانے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ پونے میں ‘چھترون کی گونج’ تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بنسوری سوراج نے کہا: “22 اگست کو، قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اس ملک میں ایک نیا جھوٹا بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کی، وہ کہتے ہیں کہ پدرانہ نظام کو توڑ دو، اور میں اس کے لیے سب کچھ ہوں، لیکن میں راہول گاندھی سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا آپ اپنا نعرہ صرف پونے میں اپنی سیاسی پارٹی کے اسٹیج تک محدود رکھتے ہیں؟
ایل او پی گاندھی پر کوئی ویژن اور نہ ہی کوئی مثبت ایجنڈا رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے، انہوں نے ریمارکس دیے: “وہ صرف ووٹروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کی تحقیقی ٹیم انھیں تحریری طور پر دیتی ہے۔” راچناٹک کانگریس نیشنل کنونشن کے دوران راہول گاندھی اور سندیپ دکشت کے مبینہ طنز اور اطالوی وزیر اعظم کے تذکرے کا حوالہ دیتے ہوئے، بی جے پی کے وزیر اعظم جارجیا کے رہنما میلونی نے کہا: “پہلے بی جے پی کی اپنی رپورٹ چیک کریں۔ ہمارے اتحادی ممالک میں سے ایک کا مذاق اڑایا گیا۔” “یہ تقریباً ایسا ہی تھا جیسے کسی لاکر روم میں لڑکوں کو سننا، وہ حقیقت میں سوشل میڈیا پر کرشن کے علاوہ کچھ نہیں کے لیے سستی اور سنسنی خیزی کا سہارا لے رہا تھا،” انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا سلوک ملک کے ایل او پی کے مطابق نہیں ہے۔
ایل او پی اور کانگریس کی “منافقت” کو قرار دیتے ہوئے، سوراج نے پارٹی رہنماؤں کی خواتین کے خلاف مبینہ نازیبا ریمارکس استعمال کرنے کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا: “جب منڈی ایم پی کنگنا رناوت کو ان کا انتخابی ٹکٹ ملا، تو کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ان کے خلاف نازیبا اور تضحیک آمیز تبصرے کیے گئے تھے۔ راہل گاندھی جی نے مکمل خاموشی اختیار کی، میں نے ذاتی طور پر اس بے حیائی کے خلاف شکایت درج کرائی۔
“پھر اپریل 2024 میں، رندیپ سرجے والا نے متھرا کی ایم پی ہیما مالنی کے خلاف ایک ناشائستہ تبصرہ کیا تھا، جس کے بعد ان پر 48 گھنٹوں کے لیے انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ پھر بھی راہول گاندھی نے اس معاملے پر کوئی ‘پیدرانہ نظام کو توڑنے والا’ تبصرہ نہیں کیا،” انہوں نے مزید کہا۔ ادھیر رنجن چودھری کے صدر مروپتترا کے مبینہ خطاب میں ادھیر رنجن چودھری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ 2022 اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے مبینہ طور پر 2020 میں بی جے پی کے ایک رہنما کو ‘آئٹم’ کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے، سوراج نے راہول گاندھی سے پوچھا، “آپ تب پدرانہ نظام کو کیوں نہیں توڑ رہے تھے؟”
مزید، انہوں نے کرناٹک کانگریس کے سابق ایم ایل اے کے آر کا حوالہ دیا۔ 2021 میں اسمبلی کے فلور میں ‘ریپ’ پر رمیش کمار کا ریمارک: “اس پر اسپیکر سمیت کانگریس کے تمام ایم ایل اے ہنس رہے تھے۔ اس پر بھی راہول گاندھی کیوں خاموش تھے؟” انہوں نے سوال کیا کہ کیا ‘پیدائش کو توڑنا’ ایل او پی کے لیے محض “بیان بازی” ہے؟
گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے، انہوں نے پوچھا: ’’کرناٹک یا ہماچل پردیش کی کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر کیوں نہیں ہے جہاں کانگریس اقتدار میں ہے؟‘‘ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کو کانگریس کے انتخابی نعرے تک محدود کردیا گیا ہے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اگر پارٹی واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی، تو وہ ناری آدِن شکتی وَن کی سخت مخالفت نہ کرتی۔
پونے تقریب میں راہول گاندھی کے ‘منوسمرتی’ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے، سوراج نے اسے “انتخابی غصہ” قرار دیا۔
اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ آئین تمام مذاہب کو مساوی حیثیت دیتا ہے، انہوں نے جواب دیا: “آپ صرف ایک مخصوص کمیونٹی کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟… کانگریس نے تین طلاق قانون کی مخالفت کیوں کی جو مسلم خواتین کے فائدے کے لیے تھی؟” سوراج نے دعویٰ کیا کہ راہول گاندھی کا پونے میں ‘پیدرانہ نظام کو توڑنا’ کا تبصرہ “13 اگست کے کانگریس پروگرام کے دوران اطالوی وزیر اعظم کے خلاف بدسلوکی اور ناشائستہ تبصرہ کو چھپانے کے لیے کیا گیا تھا”۔
مزید برآں، اس نے ایل او پی گاندھی کو خواتین کے لیے ان کے موقف کے پیش نظر قومی گیت وندے ماترم کا مکمل ورژن گانے کا چیلنج کیا، جبکہ کانگریس پر “جہادی ذہنیت کے سامنے ہتھیار ڈالنے” کا الزام لگایا۔ “یہ قوم ایک بہتر قائد حزب اختلاف کی مستحق ہے،” انہوں نے تبصرہ کیا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
