جرم
اسپتال کی لاپرواہی کی وجہ سے مالیگاوں میں اپنی کوکھ میں دو جڑواں بچوں کو لیے ایک خاتون نے توڈا دم
اسپشیل اسٹوری:
(خیال اثر)
انتہائی تیزی سے شہر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے تو صرف 4 اموات ہوئی ہیں مگر لاک ڈاؤن اور مسلمانوں سے تعصب اور خود مسلمانوں کی خودغرضی نے نجانے کتنی جانوں کی قربانی لی ہیں. اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے. ساری دنیا گھومنے کے بعد بھی کورونا کو کوئی لیبل نہیں ملا تھا مگر ہندوستان میں قدم رکھتے ہی اسے زبردستی مسلمان کردیا گیا. تعصب اور نفرت کے گہرے اندھیرے میں کورونا کا دم گھٹنے لگا. جبکہ وہ بغیر کسی لیبل یا مذہبی شناخت کے ایک اچھی زندگی گذار رہا تھا. اب مالیگاؤں میں کورونا کا جو قہر ہے وہ صرف مسلم علاقوں میں ہیں. کیونکہ غیر مسلم علاقے کورونا کے لئے بالکل بند ہیں. ارے بھئی کورونا کیا مسلمانوں کے لئے بھی بند ہیں. لاک ڈاؤن کے تین ہفتے مکمل ہوگئے. ساتھ ہی کرفیو, شٹ ڈاؤن اور اس کے بعد ہاٹ اسپاٹ ڈکلیئر کرکے تمام علاقوں کو سیل کردیا گیا ہے. مالیگاؤں شہر محنت کشوں کی بستی ہے. یہ مزدوروں کا شہر ہے. جہاں آہنی مشینوں سے نبزد آزما ہوکر خون پسینہ ایک کرکے روزی کمائی جاتی ہیں. اس شہر کے تعلق سے مشہور تھا کہ مالیگاؤں میں کوئی بھوکا نہیں سوتا. آج کورونا کا قہر اور لاک ڈاؤن میں پولس کا تعصب ہے کہ نہ جانے کتنے گھروں میں چولھا نہیں جل رہا ہے. مسلم اکثریتی شہر ہونے کی مار مالیگاؤں ہمیشہ ہی جھیلتا ہے. لاک ڈاؤن میں گیس ایجنسی مسلمانوں کے ساتھ جو تعصب کا گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو جونا بس اسٹینڈ سے سلینڈر حاصل کرنے کو کہا جارہا ہے جب صارفین وہاں پہنچ رہے ہیں تو پولس ڈنڈوں سے استقبال کررہی ہیں. شہر کے علاقوں کو پولس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے. 7 سے 12 بجے کا وقت کرفیو کھل جاتا ہے مگر کہیں 8 بجے تو کہیں 9 بجے سے ہی ہولس ڈنڈے لے کر میدان میں اتر جاتی ہیں اور طبیعت سے پٹائی کی جارہی ہیں- یہاں تک کہ ایک جگہ تو پولس نے اس قدر زور سے ڈنڈا مارا کہ وہ ڈنڈا ہی ٹوٹ گیا. اس کے علاوہ صرف اموات کورونا سے ہوئی ہے مگر ایسے کتنے کیس سامنے آرہے ہیں جہاں لاک ڈاؤن اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے عوام اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں- کورونا سے زیادہ لوگ طبعی موت سے مرررہے ہیں. آج ملکی اور شہری حالات میں کورونا نے ایک خوف کا ماحول پیدا کررکھاھے روز روز نت نئی خبریں موصول ہورہی ھے مگر یہ خبریں کہاں تک صحیح ہیں کچھ کہانہیں جاسکتا.
آج حالات ایسی ڈگر پر آگئے ہیں کہ نجی ہسپتال بھی لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے دمہ؛ شوگر؛ ہارٹ اٹیک اور خاص کر ڈیلیوری کیسیس میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی جانیں بھی تلف ہورہی ہیں کون ہے اس کا ذمہ دار؟ ؟؟؟؟
پولس انتظامیہ؟ نجی ہسپتالوں کے انچارج؟؟سیاسی لیڈران؟ ؟؟ یا عوام؟ ؟؟؟ آخر کب تک کورونا کا ڈر بتاکر عوامی زندگی سے کھلواڑ ہوتارہیگا. کمال پورہ کا ساکن نعیم احمد کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کتنے ہاسپٹل لے جایا گیا. مگر سب کے سب بند تھے. آخر نعیم احمد کو بھی بروقت طبی امداد نہ ملی اور وہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملے. ابھی گذشتہ دنوں ملت کی رہائشی ایک خاتون خانہ جو ڈیلیوری کے لئے پورے شہر میں لے کر گھومتے رہے ایک ڈاکٹر نے 30 ہزار روپئے لے کر سیزر کردیا مگر نوزائیدہ بچی کو عمل تنفس میں دشواری کی وجہ سے ویلنٹی لیٹر کی ضرورت تھی. اہل خانہ بچی کو لے کر پورے شہر میں گھومتے رہے. یہاں تک کہ ندی کے اس پار بھی گئے مگر دوارکا منی اور سمرتھ ہاسپٹل بند تھے. اس طرح 6 گھنٹے بیت گئے اور وہ نوزائیدہ بچی بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے زندگی کی جنگ ہار گئی. اس نوزائیدہ بچی کو ابھی شہریان بھولیں بھی نہیں تھے کہ مورخہ 17 اپریل 2020 بروز جمعہ صبح 11 بجے مچھلی بازار نوری ٹاور کے پاس کی رہائشی 22 سالہ زیبا وسیم احمد کو پیٹ میں درد ہونا شروع ہوا تو اس کے شوہر وسیم احمد نے زیبا کو ایک مسلم ڈاکٹر کے پاس لے گئے تمام چیک کے بعد اس ڈاکٹر نے کہا کہ اسے کسی بڑے ہاسپٹل لے جایا جائے کیونکہ اس کی کوکھ میں دو جڑواں بچے ہیں اس کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہے اور اس کا خون بھی بی نیگیٹو ہے تب شوہر وسیم احمد زیبا کو لیکر دوسرے ڈاکٹر کے پاس پہنچے وہاں بھی یہی جواب ملا شوہر وسیم احمد صبح 11 بجے سے اس ہاسپٹل سے اُس ہوسپٹل بھٹکتے بھٹکتے رہے. اس طرح رات ہوگئی مگر کوئی طبی امداد ان کی بیوی کو نہیں ملی خوف دہشت کے عالم میں شوہر وسیم احمد زیبا کو لیے آئی ایس پلازہ بھکو چوک میں واقع مریم ہاسپٹل لے کر پہنچے جہاں ڈاکٹر شمینہ نے چیک اپ کیا اور کہا کی میں بذریعہ سیزر (آپریشن) کرکے دونوں جڑواں بچوں کو اور ماں کو بچا سکتی ہوں مگر سیزر کے بعد ارجنٹ میں آئی سی یو وارڈ کی ضرورت پڑیگی آپ لوگ آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے رابطہ کرو اگر وہ ہاسپٹل مل جائے تو میں خود وہاں آکر سیزر کردونگی-
تب انصاری ضیاء الرحمن مسکان اور زیبا کے گھر والوں نے آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹلوں سے رابطہ کرنا شروع کیا ندی کے اس پار تو آپ بھی جانتے ہو کوئی ہوسپٹل میں مسلم پیسنٹ کو ایڈمیٹ نہیں کیا جارہا ہے مگر مسلم اکثریتی والے ندی کے اِس پار چند نامور آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل ہیں جہاں رابطہ کرنے پر صاف جواب ملا کہ ہمارے پاس آئی سی یو وارڈ میں کام کرنے والا اسٹاف نہیں ہے ادھر جڑواں بچوں کو اپنی کوکھ میں لیے تڑپتی ہوئی زیبا کبھی مریم ہاسپٹل تو کبھی سول ہاسپٹل تو کبھی یشفین ہاسپٹل میں گھومتی رہی. زندگی اور موت کے درمیان جنگ جاری تھی مگر کسی بھی مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹل میں زیبا کو نہیں لیا گیا. تب زندگی اور موت کی اس جنگ میں 3 زندگیاں ہار گئیں اور موت جیت گئی.
ہم لوگ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران سے گزارش کرتے رہیں ایک جڑواں بچوں کی والدین ایمان والے مسلم ڈاکٹروں سے مدد کی پکار لگاتے رہے مگر جن کے اختیارات میں تھا وہ بہانہ کرکے ماں زیبا کو بے یار و مددگار چھوڑگئے. اگر یہ چند مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران چاہتے تو بنا ہلاکانی کے یہ کام یہی ہوجاتا مگر بہانا کرکے لوٹا دیا گیا تقریباً رات تین بجے تک بجے جب مالیگاوں کے ان بے ضمیر مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے امید ختم ہوگئی تو اسے ناسک سول ہاسپٹل میں داخل کیا گیا مگر وہاں سے بھی اس کو نکال دیا گیا پھر ناسک آڑ گاؤں میڈیکل کالج میں داخل کیا گیا مگر جب تک بہت دیر ہوچکی تھی. ایک ماں اپنی کوکھ میں جڑواں بچوں کے ساتھ دم توڑ گئی. ادھر ان دونوں جڑواں بچوں کو آکسیجن نہیں ملا ادھر ماں کو فوراً طبی مدد نہیں ملی کچھ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہا سپٹل کے جارحانہ قہر کی وجہ سے ماں زیبا نے اپنی اور اپنے دونوں بچوں کی جان گنوا دی. مگر وقت کے ان درندوں کو رحم نہیں آیا.
ضیاء الرحمن مسکان کے مطابق اس سلگتے ہوئے دور میں ایک ماں کو اس طرح تڑپتے دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے. دل کانپ اٹھا کہ سابق ایم ایل اے شیخ آصف اور موجودہ ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی کی بھی فریاد ان آئی سی یو وارڈ والے مسلم ہا سپٹلس نے ٹھکرا دی زیبا کی موت کے ذمہ دار یہی ہیں اگر چاہتے تو زیبا بچ سکتی تھی اسباب کے درجے میں میں تھی مگر آئی سی یو اسٹاف کا جھوٹا بہانا بنایا گیا اور بالآخر ایک ماں نے تڑپتے تڑپتے اپنی زندگی کو الوداع کہہ دیا اور ہی اس کے کوکھ میں پلنے والی ننھی جانیں بھی تلف ہوگئیں.
تفریح
سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں اللو ارجن کو طلب، 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

نامپلی فوجداری عدالت نے سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں معروف ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
یہ پورا واقعہ 4 دسمبر 2024 کا ہے، جب فلم “پشپا 2: دی رول” کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ اس واقعہ نے ریاست بھر میں صدمے کی لہر دوڑادی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کردیئے۔
اس معاملے میں کل 23 لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں اللو ارجن کو ملزم نمبر 11 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
تفتیش کے دوران پولیس نے ابتدائی طور پر تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ 10 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ کیس میں اداکار کی سیکیورٹی کے لیے تعینات آٹھ باؤنسر بھی شامل تھے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔
4 دسمبر 2024 کو، اللو ارجن پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی موجودگی کی خبر پھیلی، تھیٹر کے باہر اور اندر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے کے دوران ایک خاتون، جس کی شناخت ایم ریوتی کے نام سے ہوئی، کی موت ہوگئی، جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔
پولیس نے اس معاملے میں سنگین الزامات درج کیے ہیں جن میں قصوروار قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں لاپرواہی کے باعث حادثہ پیش آیا، اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔
اس واقعے کے بعد، اللو ارجن کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، اسے نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تاہم، ان کے وکلاء نے اسی دن ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انہیں عبوری ضمانت دے دی گئی۔ اگلے دن اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی گئی۔
تفتیش کے دوران، 24 دسمبر کو اللو ارجن سے پولس نے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تیار کردہ ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔
پولیس نے اس معاملے میں کل 23 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
تفریح
دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر سماعت ملتوی، ‘بلیک ہرن’ کیس میں اگلی تاریخ یکم جولائی مقرر کی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی طرف سے فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے۔
فلم پروڈیوسرز نے عدالت میں کہا کہ انہیں ابھی تک سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی مکمل پٹیشن کی کاپی نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک درخواست کی کاپی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس مدھو جین نے سلمان خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست کی مکمل کاپی دوسرے فریق کو فراہم کی جائے۔
اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔
یہ سارا تنازعہ فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلمان خان کے بہت زیر بحث کالے ہرن کے شکار کے کیس پر مبنی ہے۔ سلمان خان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کا نام، تصویر اور شخصیت کو بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں ایسے عناصر ہیں جو براہ راست سلمان خان کی عوامی شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز، تشہیر اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
سلمان خان نے یہ پٹیشن پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ڈائریکٹر بھارت شرینے، اکشے پانڈے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔
’بلیک بک: بیٹل فار لیگیسی‘ کی پہلی جھلک اور ٹیزر میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار کا نام آیان خان ہے۔ ایان خان کا کردار اداکار کاشف اقبال خان نے ادا کیا ہے۔ سامعین نے اس کی ظاہری شکل، چلنے کا انداز، اور ہر اشارہ سلمان سے ایک حیرت انگیز مشابہت پایا۔ کاشف اقبال خان کو سلمان خان جیسا بریسلٹ پہنے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں
جرم
مولوی کو زبردستی تبدیلی مذہب کیس میں گرفتار کیا گیا جس میں فضائیہ کے افسر کی بیوی شامل تھی۔

ناگپور، ناگپور (اے پی پی) – ناگپور پولیس نے ہندوستانی فضائیہ کے ایک افسر کی 24 سالہ بیوی کی مبینہ طور پر جبری تبدیلی مذہب کے سلسلے میں ایک مولوی کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کی شناخت حضرت مولانا کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے اسے مدھیہ پردیش سے حراست میں لیا اور مزید پوچھ گچھ کے لیے ناگپور لایا۔
اپنی شکایت میں، خاتون نے اپنے سابق ہم جماعت اور اس کے کئی ساتھیوں کے خلاف سنگین الزامات لگائے ہیں، جن میں عصمت دری، بلیک میل، جبری تبدیلی مذہب اور کالے جادو سے متعلق مبینہ رسومات شامل ہیں۔
اس ہفتے منظر عام پر آنے والے اس کیس نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مزید کرشن حاصل کیا۔ ویڈیو میں ایک شخص کو مبینہ طور پر خاتون کا ہاتھ پکڑ کر مذہبی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو نے عوام میں غم و غصے کو جنم دیا اور پولیس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی ملزم 26 سالہ ایاز مدارے اور اس کا ساتھی امین شیخ پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ گرفتار مولوی نے مبینہ طور پر تبدیلی مذہب اور شادی کی تقریب میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق، خاتون نے الزام لگایا ہے کہ 8 فروری 2025 کو ایاز اسے ایک ہوٹل میں لے گیا، جہاں اس کے مشروب میں اضافہ ہوا۔ بے ہوش ہونے کے بعد قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں۔ بعد ازاں اسے ان تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے بلیک میل کیا گیا اور متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، انہیں دھمکی دی گئی کہ وہ اسے اس کے شوہر کے پاس بھیج دیں گے اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گے۔ خاتون کا یہ بھی الزام ہے کہ اس سے تقریباً چار لاکھ روپے بھتہ لیے گئے۔
خاتون نے اپنی شکایت میں کہا کہ وائرل ویڈیو میں وہ رو رہی تھی اور التجا کر رہی تھی کہ ملزم مذہبی آیات کی تلاوت کر رہا تھا۔ اس کے بعد اسے بتایا گیا کہ وہ تبدیل ہو چکی ہے اور پھر اس کے ساتھ دوبارہ جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی۔
شکایت کنندہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایاز اسے باقاعدگی سے پلاسٹک کی بوتل سے مائع پینے پر مجبور کرتا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے پینے کے بعد، وہ اردو میں منتر پڑھے گا، اس کے چہرے پر پھونک مارے گا، اور اس عمل کو سموہن یا کالے جادو کے طور پر بیان کرے گا۔
ایف آئی آر کے مطابق 31 مئی کو ملزم اپنے ساتھی کے ساتھ اسے قلمیشور لے گیا جہاں حضرت مولانا نے ایک مذہبی تقریب کے دوران اسے اپنی مرضی کے خلاف ’’کبل ہے‘‘ کہنے پر مجبور کیا۔ خاتون کا الزام ہے کہ پھر مولوی نے اسے مذہب تبدیل کرنے کا اعلان کیا اور ایاز کے ساتھ اس کا نکاح کرایا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مولوی سے پوچھ گچھ کے دوران کیس میں مزید اہم معلومات سامنے آسکتی ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
