Connect with us
Saturday,19-September-2026

جرم

اسپتال کی لاپرواہی کی وجہ سے مالیگاوں میں اپنی کوکھ میں دو جڑواں بچوں کو لیے ایک خاتون نے توڈا دم

Published

on

اسپشیل اسٹوری:
(خیال اثر)
انتہائی تیزی سے شہر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے تو صرف 4 اموات ہوئی ہیں مگر لاک ڈاؤن اور مسلمانوں سے تعصب اور خود مسلمانوں کی خودغرضی نے نجانے کتنی جانوں کی قربانی لی ہیں. اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے. ساری دنیا گھومنے کے بعد بھی کورونا کو کوئی لیبل نہیں ملا تھا مگر ہندوستان میں قدم رکھتے ہی اسے زبردستی مسلمان کردیا گیا. تعصب اور نفرت کے گہرے اندھیرے میں کورونا کا دم گھٹنے لگا. جبکہ وہ بغیر کسی لیبل یا مذہبی شناخت کے ایک اچھی زندگی گذار رہا تھا. اب مالیگاؤں میں کورونا کا جو قہر ہے وہ صرف مسلم علاقوں میں ہیں. کیونکہ غیر مسلم علاقے کورونا کے لئے بالکل بند ہیں. ارے بھئی کورونا کیا مسلمانوں کے لئے بھی بند ہیں. لاک ڈاؤن کے تین ہفتے مکمل ہوگئے. ساتھ ہی کرفیو, شٹ ڈاؤن اور اس کے بعد ہاٹ اسپاٹ ڈکلیئر کرکے تمام علاقوں کو سیل کردیا گیا ہے. مالیگاؤں شہر محنت کشوں کی بستی ہے. یہ مزدوروں کا شہر ہے. جہاں آہنی مشینوں سے نبزد آزما ہوکر خون پسینہ ایک کرکے روزی کمائی جاتی ہیں. اس شہر کے تعلق سے مشہور تھا کہ مالیگاؤں میں کوئی بھوکا نہیں سوتا. آج کورونا کا قہر اور لاک ڈاؤن میں پولس کا تعصب ہے کہ نہ جانے کتنے گھروں میں چولھا نہیں جل رہا ہے. مسلم اکثریتی شہر ہونے کی مار مالیگاؤں ہمیشہ ہی جھیلتا ہے. لاک ڈاؤن میں گیس ایجنسی مسلمانوں کے ساتھ جو تعصب کا گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو جونا بس اسٹینڈ سے سلینڈر حاصل کرنے کو کہا جارہا ہے جب صارفین وہاں پہنچ رہے ہیں تو پولس ڈنڈوں سے استقبال کررہی ہیں. شہر کے علاقوں کو پولس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے. 7 سے 12 بجے کا وقت کرفیو کھل جاتا ہے مگر کہیں 8 بجے تو کہیں 9 بجے سے ہی ہولس ڈنڈے لے کر میدان میں اتر جاتی ہیں اور طبیعت سے پٹائی کی جارہی ہیں- یہاں تک کہ ایک جگہ تو پولس نے اس قدر زور سے ڈنڈا مارا کہ وہ ڈنڈا ہی ٹوٹ گیا. اس کے علاوہ صرف اموات کورونا سے ہوئی ہے مگر ایسے کتنے کیس سامنے آرہے ہیں جہاں لاک ڈاؤن اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے عوام اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں- کورونا سے زیادہ لوگ طبعی موت سے مرررہے ہیں. آج ملکی اور شہری حالات میں کورونا نے ایک خوف کا ماحول پیدا کررکھاھے روز روز نت نئی خبریں موصول ہورہی ھے مگر یہ خبریں کہاں تک صحیح ہیں کچھ کہانہیں جاسکتا.
آج حالات ایسی ڈگر پر آگئے ہیں کہ نجی ہسپتال بھی لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے دمہ؛ شوگر؛ ہارٹ اٹیک اور خاص کر ڈیلیوری کیسیس میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی جانیں بھی تلف ہورہی ہیں کون ہے اس کا ذمہ دار؟ ؟؟؟؟
پولس انتظامیہ؟ نجی ہسپتالوں کے انچارج؟؟سیاسی لیڈران؟ ؟؟ یا عوام؟ ؟؟؟ آخر کب تک کورونا کا ڈر بتاکر عوامی زندگی سے کھلواڑ ہوتارہیگا. کمال پورہ کا ساکن نعیم احمد کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کتنے ہاسپٹل لے جایا گیا. مگر سب کے سب بند تھے. آخر نعیم احمد کو بھی بروقت طبی امداد نہ ملی اور وہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملے. ابھی گذشتہ دنوں ملت کی رہائشی ایک خاتون خانہ جو ڈیلیوری کے لئے پورے شہر میں لے کر گھومتے رہے ایک ڈاکٹر نے 30 ہزار روپئے لے کر سیزر کردیا مگر نوزائیدہ بچی کو عمل تنفس میں دشواری کی وجہ سے ویلنٹی لیٹر کی ضرورت تھی. اہل خانہ بچی کو لے کر پورے شہر میں گھومتے رہے. یہاں تک کہ ندی کے اس پار بھی گئے مگر دوارکا منی اور سمرتھ ہاسپٹل بند تھے. اس طرح 6 گھنٹے بیت گئے اور وہ نوزائیدہ بچی بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے زندگی کی جنگ ہار گئی. اس نوزائیدہ بچی کو ابھی شہریان بھولیں بھی نہیں تھے کہ مورخہ 17 اپریل 2020 بروز جمعہ صبح 11 بجے مچھلی بازار نوری ٹاور کے پاس کی رہائشی 22 سالہ زیبا وسیم احمد کو پیٹ میں درد ہونا شروع ہوا تو اس کے شوہر وسیم احمد نے زیبا کو ایک مسلم ڈاکٹر کے پاس لے گئے تمام چیک کے بعد اس ڈاکٹر نے کہا کہ اسے کسی بڑے ہاسپٹل لے جایا جائے کیونکہ اس کی کوکھ میں دو جڑواں بچے ہیں اس کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہے اور اس کا خون بھی بی نیگیٹو ہے تب شوہر وسیم احمد زیبا کو لیکر دوسرے ڈاکٹر کے پاس پہنچے وہاں بھی یہی جواب ملا شوہر وسیم احمد صبح 11 بجے سے اس ہاسپٹل سے اُس ہوسپٹل بھٹکتے بھٹکتے رہے. اس طرح رات ہوگئی مگر کوئی طبی امداد ان کی بیوی کو نہیں ملی خوف دہشت کے عالم میں شوہر وسیم احمد زیبا کو لیے آئی ایس پلازہ بھکو چوک میں واقع مریم ہاسپٹل لے کر پہنچے جہاں ڈاکٹر شمینہ نے چیک اپ کیا اور کہا کی میں بذریعہ سیزر (آپریشن) کرکے دونوں جڑواں بچوں کو اور ماں کو بچا سکتی ہوں مگر سیزر کے بعد ارجنٹ میں آئی سی یو وارڈ کی ضرورت پڑیگی آپ لوگ آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے رابطہ کرو اگر وہ ہاسپٹل مل جائے تو میں خود وہاں آکر سیزر کردونگی-
تب انصاری ضیاء الرحمن مسکان اور زیبا کے گھر والوں نے آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹلوں سے رابطہ کرنا شروع کیا ندی کے اس پار تو آپ بھی جانتے ہو کوئی ہوسپٹل میں مسلم پیسنٹ کو ایڈمیٹ نہیں کیا جارہا ہے مگر مسلم اکثریتی والے ندی کے اِس پار چند نامور آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل ہیں جہاں رابطہ کرنے پر صاف جواب ملا کہ ہمارے پاس آئی سی یو وارڈ میں کام کرنے والا اسٹاف نہیں ہے ادھر جڑواں بچوں کو اپنی کوکھ میں لیے تڑپتی ہوئی زیبا کبھی مریم ہاسپٹل تو کبھی سول ہاسپٹل تو کبھی یشفین ہاسپٹل میں گھومتی رہی. زندگی اور موت کے درمیان جنگ جاری تھی مگر کسی بھی مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹل میں زیبا کو نہیں لیا گیا. تب زندگی اور موت کی اس جنگ میں 3 زندگیاں ہار گئیں اور موت جیت گئی.
ہم لوگ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران سے گزارش کرتے رہیں ایک جڑواں بچوں کی والدین ایمان والے مسلم ڈاکٹروں سے مدد کی پکار لگاتے رہے مگر جن کے اختیارات میں تھا وہ بہانہ کرکے ماں زیبا کو بے یار و مددگار چھوڑگئے. اگر یہ چند مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران چاہتے تو بنا ہلاکانی کے یہ کام یہی ہوجاتا مگر بہانا کرکے لوٹا دیا گیا تقریباً رات تین بجے تک بجے جب مالیگاوں کے ان بے ضمیر مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے امید ختم ہوگئی تو اسے ناسک سول ہاسپٹل میں داخل کیا گیا مگر وہاں سے بھی اس کو نکال دیا گیا پھر ناسک آڑ گاؤں میڈیکل کالج میں داخل کیا گیا مگر جب تک بہت دیر ہوچکی تھی. ایک ماں اپنی کوکھ میں جڑواں بچوں کے ساتھ دم توڑ گئی. ادھر ان دونوں جڑواں بچوں کو آکسیجن نہیں ملا ادھر ماں کو فوراً طبی مدد نہیں ملی کچھ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہا سپٹل کے جارحانہ قہر کی وجہ سے ماں زیبا نے اپنی اور اپنے دونوں بچوں کی جان گنوا دی. مگر وقت کے ان درندوں کو رحم نہیں آیا.
ضیاء الرحمن مسکان کے مطابق اس سلگتے ہوئے دور میں ایک ماں کو اس طرح تڑپتے دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے. دل کانپ اٹھا کہ سابق ایم ایل اے شیخ آصف اور موجودہ ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی کی بھی فریاد ان آئی سی یو وارڈ والے مسلم ہا سپٹلس نے ٹھکرا دی زیبا کی موت کے ذمہ دار یہی ہیں اگر چاہتے تو زیبا بچ سکتی تھی اسباب کے درجے میں میں تھی مگر آئی سی یو اسٹاف کا جھوٹا بہانا بنایا گیا اور بالآخر ایک ماں نے تڑپتے تڑپتے اپنی زندگی کو الوداع کہہ دیا اور ہی اس کے کوکھ میں پلنے والی ننھی جانیں بھی تلف ہوگئیں.

بین الاقوامی خبریں

پاکستان : خیبر پختونخواہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور کا مسجد پر حملہ، 15 ہلاک اور 50 زخمی

Published

on

blast

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعے کو ایک زبردست بم دھماکے سے لرز اٹھا۔ ضلع کوہاٹ کے علاقے پولیس لائنز میں ایک مسجد کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ مسجد کے اندر اور باہر زیادہ ہجوم کی وجہ سے دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ایم ایس طاہر علی شاہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد 15 لاشیں اور 50 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس لائنز میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی۔ کوہاٹ میں ڈی ایچ کیو انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد حکام نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ پولیس اور متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے بتایا کہ آئی جی پی نے کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پاکستان کا صوبہ کے پی ایک طویل عرصے سے تشدد اور بدامنی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صوبے میں کئی مسلح گروہوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان گروہوں نے مسلسل پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کے پی نے حالیہ مہینوں میں کئی بڑے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے سخت کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اب تک وہ ان گروہوں کے خلاف بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

Published

on

death

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔

مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

جرم

کار موٹر سائیکل کو 500 میٹر تک گھسیٹنے کے بعد دہلی کا 73 سالہ شخص گرفتار

Published

on

نئی دہلی، ایک 73 سالہ شخص کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب اس کی کار ایک موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور اسے جنوب مغربی دہلی کے آر کے میں ایک سڑک پر تقریباً 500 میٹر تک گھسیٹ گئی۔ پورم کا علاقہ۔ جمعرات کی رات دیر گئے پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ فوٹیج میں ایک کار درختوں سے جڑی سڑک پر چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جس کے نیچے موٹرسائیکل پھنسی ہوئی ہے۔ گاڑی سے چنگاریاں اڑتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں جب کار چلتی رہتی ہے، جب کہ اسکوٹر پر سوار ایک شخص قریب سے پیچھے پیچھے آتا ہے اور بار بار ڈرائیور سے کہتا ہے کہ وہ رکنے کا کہہ رہا ہے۔ بوڑھا ڈرائیور کار کے نیچے موٹرسائیکل کے ساتھ گاڑی چلا رہا ہے۔

کار آخر کار رک جاتی ہے۔ سکوٹر پر سوار ایک خاتون نے واقعہ ریکارڈ کیا اور گاڑی کے قریب پہنچی۔ وہ کار کا دروازہ کھولتی ہے اور ڈرائیور سے باہر نکلنے کو کہتی ہے۔ “باہر آؤ۔ ہاتھ مت جوڑو، پہلے باہر آؤ،” وہ اس سے کہتی ہے۔ مجمع میں موجود ایک اور شخص کو ڈرائیور کو “بے شرم” کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ڈرائیور جس کی شناخت وینو گوپال کے نام سے ہوئی ہے، جو وسنت کنج کا رہنے والا ہے، معافی کے اشارے میں ہاتھ جوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ پھر ایک آدمی نے اسے کالر سے پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی۔ گاڑی گوپال جیسے ہی باہر نکلا، ہجوم کے ارکان نے اس کا سامنا کیا۔

موٹرسائیکل کا سوار جس کی شناخت تاپس کے نام سے ہوئی ہے، بزرگ ڈرائیور سے اس واقعے پر پوچھ گچھ کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ “اگر یہ غلطی ہوتی تو آپ روک سکتے تھے، میں مر سکتا تھا،” وہ اس سے کہتا ہے۔ ہجوم میں شامل ایک اور شخص نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ اگر کوئی موٹرسائیکل کے نیچے پھنس جاتا تو وہ کیا کرتا۔ دہلی پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث کار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش کے لیے۔پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ تاپس سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس کی موٹرسائیکل کو بزرگ شخص کی طرف سے چلائی گئی نیلی کار نے ٹکر مار دی۔ کار پھر چلتی رہی، بائیک کو تقریباً 500 میٹر تک اپنے نیچے گھسیٹتی رہی۔

واقعہ کی اطلاع آر کے سے ملی۔ پورم علاقہ، اور تفتیش کار ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی وجہ سے تصادم جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر ہوا۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کے بعد کار کے ڈرائیور کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ جانچ میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ وہ اس وقت شراب کے نشے میں تھا، حکام نے بتایا کہ واقعات کی صحیح ترتیب کو قائم کرنے اور تصادم اور اس کے بعد موٹرسائیکل کو گھسیٹنے کے حالات کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ واقعہ گروگرام میں ایک حالیہ کیس کے حوالے سے سامنے آیا ہے جہاں ایک کار ڈرائیور نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو گرفتار کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک خاتون کو زخمی کر دیا تھا، جس نے کلب کی رہنمائی کرنے والے شخص کو زخمی کر دیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان