Connect with us
Sunday,04-October-2026

(جنرل (عام

ہوپس انڈیا ممبئی کے توسط سے رضا اکیڈمی مالیگاؤں کو ملی بڑی کامیابی

Published

on

(خیال اثر)
شہر میں جیسے ہی کرونا وائرس کی خبر عام ہوئی، رضا اکیڈمی اراکین نے فوری طور پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا، جس میں ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے کہا کہ شہر کے حالات انتہائی نازک موڑ کی جانب جارہے ہیں، اگر کرونا وائرس سے متاثر کسی مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے تو قانون کے مطابق اس کی آخری رسومات فوری طور پر انجام دینا ضروری ہے، مالیگاؤں میں تو کرونا وائرس والی میت کی تجہیز و تدفین اور قبرستان میں استعمال کی جانے والی پروٹیکٹیو کٹیں موجود ہی نہیں ہیں، اور بغیر احتیاطی تدابیر کے ایسے اموات کی تجہیز و تدفین انتہا درجے کے خطرات سے پُر ہے. ممکن ہے تجہیز و تدفین میں شامل افراد کو بھی چودہ دنوں کے لئے کوارنٹائین کردیا جائے. لہذا اگر اس دوران کسی کرونا مریض کی موت واقع ہوتی ہے تو ایسی خطرناک صورت حال کا سامنا کرنے سے بہتر ہے کہ تجہیز و تدفین کرنے والے افراد کے لئے پروٹیکٹیو کٹس کا استعمال لازمی قرار دے دیا جائے. آپ نے مزید کہا کہ ہمارے شہر میں حفاظتی ماسک اور کٹس نہ ہونے کی وجہ سے دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس لیے اس تعلق سے اقدام ضروری ہے……،
رضا اکیڈمی کے رضوی سلیم شہزاد نے کہا کہ اب جب کہ ہمارے شہر کو کرونا وائرس نے گھیر لیا ہے تو ڈاکٹرز بھی اپنے تحفظ کو لے کر کافی فکر مند ہوچکے ہیں، پی پی ای کٹس کے نہیں ہونے کے سبب ان کا پریکٹس کرنا خطرات سے خالی بھی نہیں ہے، اگر شہر کے ڈاکٹرز نے پریکٹس بند کردی تو پھر کیا کچھ ہو سکتا ہے وہ ناقابل بیان ہے…..؟
ان تمام خدشات کے پیش نظر میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جتنی جلد ممکن ہو، ڈاکٹرز کے تحفظ کے لیے استعمال کی جانے والی پی پی ای کٹس اور کرونا وائرس سے ہونے والی میت کی تجہیز و تدفین کے لیے حفاظتی لباس، پروٹیکٹیو کٹس رضا اکیڈمی کی جانب سے مالیگاؤں منگوائی جائے، تاکہ کرونا وائرس کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے، اس تعلق سے فوری طور پر رضا اکیڈمی کے صدیقی شہزاد اور شکیل احمد سبحانی نے ہوپس انڈیا ممبئی کے سربراہ حاجی ریحان انور سے رابطہ قائم کیا، واضح رہے کہ ممبئی کے قبرستانوں کو پروٹیکٹیو کٹس اور گوونڈی، دھاراوی، کرلا اور ممبئی کے دیگر کرونا زدہ علاقوں میں ڈاکٹرز کو پی پی ای کٹس فراہم کرنے میں ہوپس انڈیا ممبئی نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے، جب ہوپس انڈیا کے فاؤنڈ ر حاجی ریحان انور کو شہر کی صورت حال سے واقف کروایا گیا تو موصوف نے کہا کہ بلا تاخیر جو یہ قدم آپ لوگوں نے اٹھایا وہ کرونا وائرس سے متاثر ہوجانے کے بعد مالیگاؤں شہر کی سب سے اہم ضرورت ہے، موصوف نے یہ بات بھی بتائی کہ یہ دونوں چیزیں آسانی سے ممبئی میں بھی دستیاب نہیں ہیں، بلکہ ضرورت کے مطابق ہم اسے تیار کرواکر لوگوں کو فراہم کر رہے ہیں، موصوف نے اس کے لیے کچھ وقت طلب کیا، اور بتایا کہ کم ازکم 24 گھنٹے کا وقت ہمیں دیجیے تاکہ کٹس بنوانے کے آرڈر دیے جا سکیں اور اس کے لیے درکار ضروری اشیاء فراہم کروائی جاسکیں،
اس تعلق سے تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے غلام فرید نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس کام میں کامیابی نصیب ہوئی، انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورت حال میں ممبئی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا بھی بہت مشکل ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود آج صبح آٹھ بجے ہوپس انڈیا ممبئی کی ایمبولینس سے یہ تمام ضروری سامان سائن پہنچائے گئے، جہاں سے فیس ماسک، ڈاکٹرز پروٹیکٹیو کٹس، اور قبرستان میں استعمال کی جانے والی پروٹیکٹیو کٹس پر مشتمل ایک بڑا پارسل مالیگاؤں کے لیے روانہ ہوچکا ہے، شام تک ان شاء اللہ یہ تمام چیزیں دفتر رضا اکیڈمی پر پہنچ جائیں گی، محمد ابراہیم راجو رضوی اور محمد افضل غازیانی نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ مالیگاؤں کے علاوہ اطراف و جوانب کے شہروں اور علاقوں تک بھی ضرورت کے مطابق یہ تمام چیزیں پہنچائی جائیں، ان دونوں حضرات نے شہر کے ڈاکٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ پی پی ای کٹ کے لیے رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی صاحب سے رابطہ قائم کریں تاکہ ضرورت کے مطابق ان کو درکار کٹس کے آرڈر دئے جاسکیں…اس کے علاوہ میت کی تجہیز و تدفین کے لئے شہر کے تمام قبرستانوں تک یہ کٹس رضا اکیڈمی مالیگاؤں اور ہوپس انڈیا ممبئی کی جانب سے فراہم کی جائیں گی.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کستوربا مارگ پولس ۱۰۰چوری شدہ موبائل برآمد، اصل مالکان کے سپرد

Published

on

Mobile-Recovery

ممبئی کستوربا مارگ پولیس تھانہ کی حد سے چوری شدہ اور گمشدہ موبائل فون کے بارے میں موصول شکایتوں کے سلسلے میں سی ای آئی آر پورٹل کے ذریعے دستیاب معلومات کا تجزیہ کرکے اور موبائل فون کی تکنیکی تفتیش کی گئی۔مذکورہ تکنیکی تفتیش کے دوران موبائل فون کی معلومات، آئی ایم ای آئی نمبر اور اس کا استعمال کرنے والے شخص کی معلومات کی تصدیق کرکے کستوربا مارگ پولیس تھانے کے پولیس افسر اور اہلکاروں نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر ریاستوں میں تلاش کرکے کل 100 موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ برآمد کیے گئے 100 موبائل فون کی اندازاً کل قیمت 22,70,658/- روپے اتنی ہے۔ مذکورہ برآمد 100 موبائل میں سے 18 موبائل شکایت کنندہ / مالکان کو ان کے فون واپس کیے گئے ہیں جن میں 1) راجندر پوری 2) خوش ساو 3) کرپا لودھیا 4) شریا ساٹم 5) اتل ساٹھے 6) پریانکا مستری 7) بنو ترنگ 8) پریم گپتا 9) آدیا شیخ 10) شویتا شاہ 11) سندھیا پنڈت 12) دیپک ساوڈیکر 13) سوربھ جھانگڑ 14) کیتن شیٹے 15) اونکار راؤت 16) جیالال یادو 17) لکشمی اپا کرپا گری 18) پروین دوبے اور باقی شہریوں کو ان کے موبائل فون واپس کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ مذکورہ کارکردگی ڈی سی پی شمالی پری منڈل 3، ممبئی-راجانے کستوربا مارگ پولیس تھانہ، بالاصاحب بنکرانجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر سے مونسون کی مزید واپسی، کونکن علاقے کے لیے گرم اور مرطوب موسم کی الرٹ جاری

Published

on

ممبئی : محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے ہفتہ، 3 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا ہے کہ جنوب مغربی مونسون مہاراشٹر کے بعض حصوں کے ساتھ ساتھ شمالی ہند کے بقایا علاقوں، پورے گجرات اور مدھیہ پردیش سے مکمل طور پر رخصت ہو چکا ہے۔مونسون کی واپسی کی موجودہ لائن مہاراشٹر میں ہرنائی، بارامتی، پربھنی اور برہماپوری سے گزر رہی ہے، جو آگے بڑھتے ہوئے رائے پور، رانچی اور سپول تک پھیلی ہوئی ہے۔ موسمیاتی حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 2 سے 3 دنوں کے دوران مراٹھواڑہ، ودربھ اور مدھیہ مہاراشٹر کے مزید علاقوں سے مونسون کی رخصتی کے لیے حالات سازگار ہیں۔ ساحلی مہاراشٹر کے لیے گرم اور مرطوب موسم کا الرٹ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو اس ویک اینڈ پر بڑھتی ہوئی گرمی اور حبس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ڈی نے 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک کونکن اور گوا کے خطے کے لیے گرم اور مرطوب (ہاٹ اینڈ ہیومیڈ) موسم کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس خشک اور حبس زدہ دور کے بعد علاقے میں معمولی بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ 6 سے 9 اکتوبر کے درمیان کونکن و گوا اور مدھیہ مہاراشٹر میں کچھ مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کی صورتحال ایک طرف جہاں ملک کے مرکزی اور شمالی حصوں سے مونسون رخصت ہو رہا ہے، وہیں جنوبی ریاستوں میں شدید بارش کی تنبیہ کی گئی ہے۔ کیرالہ، ماہے، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل میں 4 سے 6 اکتوبر کے دوران، جبکہ جنوبی اندرونی کرناٹک میں 5 اور 6 اکتوبر کو بعض مقامات پر بھاری بارش کا امکان ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں میں، آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش میں 3 اکتوبر کو متفرق مقامات پر تیز بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ ماہی گیروں اور کسانوں کے لیے ہدایت بحر عرب میں چکراتی ہوائی نظام (سائیکلونک سرکولیشن) کے پیش نظر، آئی ایم ڈی نے ماہی گیروں کو 3 اکتوبر کو ساحل کیرالہ، لکشدیپ، مالدیپ اور کومورین کے علاقوں سے ملحقہ سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ نیز، بھاری بارش والے علاقوں کے کسانوں کو فصلوں کے نقصان کو روکنے کے لیے کھیتوں سے پانی کے نکاس کا مناسب انتظام کرنے اور کٹی ہوئی فصلوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کرائم برانچ نے طالب علم کی خودکشی کے معاملے میں آئی آئی ٹی کے پروفیسر کا بیان ریکارڈ کر لیا، دولا نے تمام الزامات سے انکار کر دیا۔

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ، جو آئی آئی ٹی بمبئی کے طالب علم ساحل وکوڈے کے خودکشی کے لیے مبینہ طور پر اکسانے کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، نے پروفیسر سوری نارائن ڈولا کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ پروفیسر سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی جس کے دوران ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اس نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔ وکوڑے کے والدین نے اپنی پولیس شکایت میں کہا تھا کہ پروفیسر ڈولا نے ان کے بیٹے کو ہراساں کیا تھا۔ الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے، کرائم برانچ نے پروفیسر سے وکوڈ کی موت تک پیش آنے والے واقعات اور طالب علم کے ساتھ ان کی بات چیت کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران پروفیسر دولا نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا، ذرائع کے مطابق۔ ممبئی کرائم برانچ جلد ہی آئی آئی ٹی بمبئی کے ڈائریکٹر شیشے کو بھی طلب کرے گی۔ تفتیش۔ دریں اثنا، پولس وکوڈے کی موت سے پہلے کے واقعات اور سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات اکٹھا کرنے کے لیے امتحانی ہال کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ کرائم برانچ نے اب تک تقریباً 50 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں وکوڈے کے والدین اور ہم جماعت کے ساتھی شامل ہیں۔

18 ستمبر کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر پروفیسر ڈولا کو ایک امتحان کے دوران موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر پکڑنے کے بعد وکوڈے کو ایک طرف کھینچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وکوڈ کی موت کے بعد، آئی آئی ٹی بمبئی نے کہا تھا کہ طالب علم نے جوابات حاصل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر سوالنامہ اپ لوڈ کیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعے کے سلسلے میں اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ وکوڑے کے والد رویندر وکوڑے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بیٹے نے انھیں پروفیسر دولہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا۔ “میرے بیٹے نے مجھے اس امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا، لیکن میں نے اسے بتایا کہ اس کا داخلہ حاصل کرنا مشکل ہے،” اس نے پولیس کو بتایا کہ آئی آئی ٹی ایم میں اس کا داخلہ لینا مشکل ہے۔ بعد ازاں وکوڈے کے والد کی شکایت کی بنیاد پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم آئی آئی ٹی بمبئی کی فیکلٹی پروفیسر دولہ کی حمایت میں سامنے آئی، اور یہ کہتے ہوئے کہ انھیں محض اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صرف اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے، پھر یہ ملک کی پوری تدریسی برادری کے لیے ایک مسئلہ ہے،‘‘ پروفیسر راجکمار پنت، آئی آئی ٹی-بمبئی فیکلٹی فورم کے سربراہ نے کہا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان