Connect with us
Thursday,13-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ہوپس انڈیا ممبئی کے توسط سے رضا اکیڈمی مالیگاؤں کو ملی بڑی کامیابی

Published

on

(خیال اثر)
شہر میں جیسے ہی کرونا وائرس کی خبر عام ہوئی، رضا اکیڈمی اراکین نے فوری طور پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا، جس میں ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے کہا کہ شہر کے حالات انتہائی نازک موڑ کی جانب جارہے ہیں، اگر کرونا وائرس سے متاثر کسی مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے تو قانون کے مطابق اس کی آخری رسومات فوری طور پر انجام دینا ضروری ہے، مالیگاؤں میں تو کرونا وائرس والی میت کی تجہیز و تدفین اور قبرستان میں استعمال کی جانے والی پروٹیکٹیو کٹیں موجود ہی نہیں ہیں، اور بغیر احتیاطی تدابیر کے ایسے اموات کی تجہیز و تدفین انتہا درجے کے خطرات سے پُر ہے. ممکن ہے تجہیز و تدفین میں شامل افراد کو بھی چودہ دنوں کے لئے کوارنٹائین کردیا جائے. لہذا اگر اس دوران کسی کرونا مریض کی موت واقع ہوتی ہے تو ایسی خطرناک صورت حال کا سامنا کرنے سے بہتر ہے کہ تجہیز و تدفین کرنے والے افراد کے لئے پروٹیکٹیو کٹس کا استعمال لازمی قرار دے دیا جائے. آپ نے مزید کہا کہ ہمارے شہر میں حفاظتی ماسک اور کٹس نہ ہونے کی وجہ سے دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس لیے اس تعلق سے اقدام ضروری ہے……،
رضا اکیڈمی کے رضوی سلیم شہزاد نے کہا کہ اب جب کہ ہمارے شہر کو کرونا وائرس نے گھیر لیا ہے تو ڈاکٹرز بھی اپنے تحفظ کو لے کر کافی فکر مند ہوچکے ہیں، پی پی ای کٹس کے نہیں ہونے کے سبب ان کا پریکٹس کرنا خطرات سے خالی بھی نہیں ہے، اگر شہر کے ڈاکٹرز نے پریکٹس بند کردی تو پھر کیا کچھ ہو سکتا ہے وہ ناقابل بیان ہے…..؟
ان تمام خدشات کے پیش نظر میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جتنی جلد ممکن ہو، ڈاکٹرز کے تحفظ کے لیے استعمال کی جانے والی پی پی ای کٹس اور کرونا وائرس سے ہونے والی میت کی تجہیز و تدفین کے لیے حفاظتی لباس، پروٹیکٹیو کٹس رضا اکیڈمی کی جانب سے مالیگاؤں منگوائی جائے، تاکہ کرونا وائرس کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے، اس تعلق سے فوری طور پر رضا اکیڈمی کے صدیقی شہزاد اور شکیل احمد سبحانی نے ہوپس انڈیا ممبئی کے سربراہ حاجی ریحان انور سے رابطہ قائم کیا، واضح رہے کہ ممبئی کے قبرستانوں کو پروٹیکٹیو کٹس اور گوونڈی، دھاراوی، کرلا اور ممبئی کے دیگر کرونا زدہ علاقوں میں ڈاکٹرز کو پی پی ای کٹس فراہم کرنے میں ہوپس انڈیا ممبئی نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے، جب ہوپس انڈیا کے فاؤنڈ ر حاجی ریحان انور کو شہر کی صورت حال سے واقف کروایا گیا تو موصوف نے کہا کہ بلا تاخیر جو یہ قدم آپ لوگوں نے اٹھایا وہ کرونا وائرس سے متاثر ہوجانے کے بعد مالیگاؤں شہر کی سب سے اہم ضرورت ہے، موصوف نے یہ بات بھی بتائی کہ یہ دونوں چیزیں آسانی سے ممبئی میں بھی دستیاب نہیں ہیں، بلکہ ضرورت کے مطابق ہم اسے تیار کرواکر لوگوں کو فراہم کر رہے ہیں، موصوف نے اس کے لیے کچھ وقت طلب کیا، اور بتایا کہ کم ازکم 24 گھنٹے کا وقت ہمیں دیجیے تاکہ کٹس بنوانے کے آرڈر دیے جا سکیں اور اس کے لیے درکار ضروری اشیاء فراہم کروائی جاسکیں،
اس تعلق سے تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے غلام فرید نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس کام میں کامیابی نصیب ہوئی، انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورت حال میں ممبئی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا بھی بہت مشکل ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود آج صبح آٹھ بجے ہوپس انڈیا ممبئی کی ایمبولینس سے یہ تمام ضروری سامان سائن پہنچائے گئے، جہاں سے فیس ماسک، ڈاکٹرز پروٹیکٹیو کٹس، اور قبرستان میں استعمال کی جانے والی پروٹیکٹیو کٹس پر مشتمل ایک بڑا پارسل مالیگاؤں کے لیے روانہ ہوچکا ہے، شام تک ان شاء اللہ یہ تمام چیزیں دفتر رضا اکیڈمی پر پہنچ جائیں گی، محمد ابراہیم راجو رضوی اور محمد افضل غازیانی نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ مالیگاؤں کے علاوہ اطراف و جوانب کے شہروں اور علاقوں تک بھی ضرورت کے مطابق یہ تمام چیزیں پہنچائی جائیں، ان دونوں حضرات نے شہر کے ڈاکٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ پی پی ای کٹ کے لیے رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی صاحب سے رابطہ قائم کریں تاکہ ضرورت کے مطابق ان کو درکار کٹس کے آرڈر دئے جاسکیں…اس کے علاوہ میت کی تجہیز و تدفین کے لئے شہر کے تمام قبرستانوں تک یہ کٹس رضا اکیڈمی مالیگاؤں اور ہوپس انڈیا ممبئی کی جانب سے فراہم کی جائیں گی.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گزشتہ 15 برسوں میں پہاڑی کھسکنے کے مسئلے کا کوئی حل نہیں، شہر و مضافات 22,483 خاندان خطرناک علاقوں میں مقیم

Published

on

landslide

ممبئی پہاڑی گرنے سے جان و مال کا نقصان، نیز معاشی نقصان ممبئی میں کوئی نئی بات نہیں، اس کے باوجود ریاستی حکومت گزشتہ 15 سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ 34 سالوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

ممبئی کے 36 اسمبلی حلقوں میں سے 25 میں، پہاڑی علاقوں میں 257 مقامات کو خطرناک کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے بتایا کہ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے ترجیحی بنیادوں پر 22,483 شناخت شدہ جھونپڑیوں میں سے 9,657 کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ باقی ماندہ جھونپڑیوں کو محفوظ بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی تاکہ پہاڑیوں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔ گلگلی نے پہلے مہاراشٹر حکومت کو مانسون کے موسم میں 327 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

1992 سے 2026 کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے نقل مکانی کی سفارش کی تھی۔ 2010 میں ایک جامع سروے کیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کارروائی کی جاتی تو ان پہاڑی علاقوں کے مکینوں کی ہلاکتوں کو روکا جا سکتا تھا۔ بورڈ کی رپورٹ اور انل گلگلی کی خط و کتابت کے بعد، اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے یکم ستمبر 2011 کو شہری ترقیات کے محکمے کو ایک ایکشن پلان بنانے کا حکم دیا۔ تاہم، اس کے بعد 15 سال گزر چکے ہیں، اور محکمہ شہری ترقی نے ابھی تک اس پر کام شروع نہیں کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی نے بھی چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق ‘ایکشن ٹیکن پلان’ (اے ٹی پی) تیار نہیں کیا،

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں چار دنوں کے اندر انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کو مکمل کرے : چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم

Published

on

SIR

ممبئی : 17 اگست، 2026، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے حصے کے طور پر گھر گھر جا کر وزٹ (حاضری) کرنے اور گنتی کے فارم بھرنے کا آخری دن ہے۔ نتیجتاً، مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے ممبئی میں تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) کو زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے اور بقیہ چار دن کی مدت کے اندر پورے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چوکلنگم نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ہیڈ کوارٹر میں آج (12 اگست 2026) کو منعقدہ میٹنگ کے دوران ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے (ممبئی سٹی اور مضافات) کے اندر خصوصی گہری نظرثانی پروگرام سے متعلق جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس میٹنگ کے دوران عہدیداروں سے خطاب کیا۔

ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نمایاں طور پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما-لاونگیرے بھی موجود تھیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگرایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ممبئی سٹی ڈسٹرکٹ) آنچل گوئل، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ضلع کلکٹر (ممبئی مضافاتی ضلع) سوربھ کٹیار کے ساتھ تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) اور ممبئی کے متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔

مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے کہا کہ ووٹرز کے سوالات کو فوری طور پر حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جو بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے ذریعے ‘بک اے کال’ کی سہولت کے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔ انتخابی حلقوں کے خصوصی گہرے نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم کے بارے میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیر التواء گنتی فارموں کی وصولی اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پورا طریقہ کار مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ‘نشان زدہ انتخاب کنندگان’ کے معاملات کو سنبھالنے میں زیادہ مستعدی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے کہ اہل نشان زد ووٹرز کے نام ڈرافٹ رول میں شامل ہوں جبکہ فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کو خارج کر دیا جائے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ گنتی کے فارموں کی وصولی، ڈیجیٹائزیشن اور گھر گھر دوروں میں صرف چند دن باقی ہیں، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ بقیہ مدت کے دوران اس پورے عمل کو تیزی سے اور مؤثر طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فرضی سرٹیفکیٹ و سرکاری دستاویزات تیار کرنے والا گروہ بے نقاب، دستاویزات اور دیگر اسباب بھی ضبط، 4 گرفتار ایک ملزم فرار

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ممبئی کے باندرہ میں کارروائی کرتے ہوئے ۹ کروڑ ۴۰ لاکھ کا ایم ڈی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عنبر ہوٹل باندرہ ایک ٹپری کے سامنے ایک مشتبہ شخص پایا گیا جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے قبضے سے ۲۰۵۰ گرام ایم ڈی میفیڈون برآمد ہوا, جس کے بعد کالا چوکی اے ٹی ایس نے کیس درج کر کے اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔ اس مشتبہ دو غیر ملکی خواتین کو بھی اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے اس آپریشن میں پیش رفت کے دوران گریٹر نوئیڈا اترپردیش سے ۲۶۸۸ گرام مفیڈون ضبط کیا گیا اور اس معاملہ میں دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا اس معاملہ میں یو پی پولس کی مدد سے جس فیکٹری سے ایم ڈی خریدی جاتی تھی اس پر بھی کریک ڈاؤن کر کے پانچ کروڑ کی ایم ڈی ضبط کی ہے پولس اس معاملہ میں مزید کارروائی کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان