قومی خبریں
شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو آخری سہارا قرار دیا
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ میں زیر التوا سی اے اے کے خلاف150 سے زائد عرضیوں کی سماعت جلد نہ کرنے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ لوگوں کا اخری سہارا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 22 جنوری کو سپریم کورٹ نے سماعت کو ٹالتے ہوئے مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے کا وقت دیا تھا امید تھی کہ فروری میں ہی اس پر سماعت ہوجائے گی لیکن افسوس ہے کہ عدالت عظمی نے اس حساس مسئلہ کو جلد سماعت کے قابل نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہاکہ ہندو، کیا مسلمان، دلت کیا، قبائلی کیا، کمزور کیا سب طبقے سی اے اے کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے سڑکوں پر ہیں اور اس میں اب تک درجنوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس پر جلد سماعت نہیں کرتا تو صرف مایوسی کاہی اظہار کیا جاسکتا ہے۔
مظاہرین خواتین میں شامل ملکہ خاں، نصرت آراء سیما اور ثمینہ نے کہاکہ ہم لوگوں کو سپریم کورٹ سے بہت ہی امید وابستہ ہیں اور امید ہے کہ سپریم کورٹ ہمارے درد کو سمجھے گا اور ہماری سڑکوں پر بیٹھنے کو محسوس کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ کوئی عوامی جذبات کا نہیں ہے بلکہ آئین کا ہے،ہم لوگ قطعی یہ نہیں کہتے کہ ہمارے جذبات کے مطابق فیصلہ کریں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں، آئین میں جس چیز کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، اس کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ بہت سے معاملے کو ترجیحی بنیاد پر سنتا ہے لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ پورا ملک اس وقت سڑکوں پر ہے، دہلی میں اس کے بہانے فساد ہوچکا ہے جس میں پچاس سے زائد لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر نہیں سنتا ہے تو اس پر مایوسی کا اظہار اور افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کے اس معاملے پر توجہ نہ دینے اور سپریم کورٹ کے بھی نظر انداز کرنے پراقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن نے اس قانون کو امتیاز پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سپریم کور ٹ میں انٹرویشن عرضی دائر کی ہے۔ اس سے معاملہ کے حساس ہونے کا پتہ چلتا ہے، اس کے علاوہ پوری دنیا میں اس قانون کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں مظاہرے کئے جارہے ہیں، اگر اس معاملے میں سپریم کورٹ جلد سماعت کرکے معاملہ کا نپٹارہ کردے گا تو اس ہندوستان کے تئیں بہترین پیغام جائے گا۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور سی اے اے کے خلاف عرضی کرنے والوں میں سے ایک سماجی کارکن انتخاب عالم نے سپریم کورٹ کے ہولی کے بعد سماعت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس حساس معاملہ پر سپریم کورٹ جلد سماعت نہیں کرے گا تو پھر کس پر سماعت کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کو گزشتہ 22جنوری کو ہی کوئی نہ کوئی آرڈر جاری کردینا چاہئے تھا لیکن اس نے ایک تکنک کا سہارا لیتے ہوئے حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے تک وقت دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ سپریم کورٹ فروری میں ہی سماعت کرکے اس حساس مسئلہ کو نپٹارہ کردے گا۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں مسلم خواتین سمیت تمام طبقے سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ سے تمام لوگ امید رکھتے ہیں کہ ان کی بات یہاں سنی جائے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت جلد کرنے کا مطالبہ جمعرات کے رو ز مسترد کر دیا۔ کچھ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کَپل سبل نے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملے کا خصوصی ذکر کیا اور جلدی سماعت کے لئے تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کی۔”عدالت نے کہا”سبری مالا معاملے میں خواتین کے حقوق بنام مذہبی روایت معاملے کی سماعت کے بعد اسے سنا جائے گا۔ آپ ہولی کی چھٹی کے بعد پھر تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کریں“۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت اگلے ہفتے اپنا جواب داخل کر دے گی۔ واضح رہے کہ سی اے اے کو چیلنج کرنے والی 150 سے زائد عرضیاں سماعت کے لئے زیر التوا ہیں۔ تمام عرضیوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین ریلیف کا سامان جمع کرکے فساد زدہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے جو ابند ہے۔ اس کے منتظمین کو پولیس نے دنگا بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
جرم
ممبئی ایئرپورٹ کسٹمز نے مقابلہ حسن کی رنر اپ ہرشا سنی کو بنکاک سے واپس آنے پر منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کر لیا۔

ممبئی : مقابلہ حسن کی رنر اپ ہرشا سنی کو ممبئی ہوائی اڈے پر کسٹمز نے 12 کروڑ (تقریباً 1.2 بلین ڈالر) کی منشیات کے ساتھ گرفتار کیا۔ سنی بنکاک سے ممبئی پہنچے۔ 29 سالہ نوجوان ایک نجی بینک میں ریلیشن شپ منیجر ہے۔ وہ گزشتہ سال مئی میں مسز کیرالہ گلوبل 2025 مقابلے میں رنر اپ تھیں۔ کسٹمز نے بنکاک سے واپسی پر سنی سے تقریباً 12 کلو گرام ہائیڈروپونک گھاس (چرس کی ایک قسم) ضبط کی۔ کسٹم حکام کا الزام ہے کہ وہ چرس اسمگل کر رہی تھی، جس کی مالیت 11.8 کروڑ (تقریباً 1.8 بلین ڈالر) بتائی جاتی ہے۔ سنی نے وضاحت کی کہ ایک شخص نے اس کے سفر کے دوران اس سے دوستی کی اور اسے ہندوستان جانے کے لیے ایک بیگ لے جانے پر راضی کیا۔ بنکاک سے واپسی پر سنی کو صبح 4 بجے کے قریب ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ اہلکاروں کو ٹرالی بیگ کے اندر سے چرس کے 12 ویکیوم سیل بند پیکٹ ملے۔ اس کے بعد سنی کو گرفتار کر کے این ڈی پی ایس عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ہرشا سنی کو عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔ وکیل پربھاکر ترپاٹھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکل کو بیگ میں موجود مواد کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منظم اسمگلروں کا ایک غیر مشتبہ مسافر کا فائدہ اٹھانے کا ایک کلاسک کیس معلوم ہوتا ہے۔
کسٹم حکام کے مطابق وہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب ایئر انڈیا کی پرواز ٹی جی-351 سے ممبئی پہنچی تھی۔ شک ہونے پر اسے چیک کیا گیا تو اس کے ٹرالی بیگ سے 12 ویکیوم سیل بند پیکٹ برآمد ہوئے جن کی مالیت 11 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ گانجے کے ساتھ گرفتار کیا گیا، پیکٹ کھولنے پر ان میں سبز رنگ کی مشکوک چیز برآمد ہوئی۔ این ڈی پی ایس ٹیسٹ کٹ کے ساتھ جانچ کرنے پر، یہ مادہ بھنگ کے خشک پھول اور پھل کی کلیاں پایا گیا، جس کی شناخت ہائیڈروپونک گھاس کے طور پر کی گئی۔ جنوب مشرقی ایشیائی شہر بنکاک اس کے لیے ایک بڑا مرکز بن گیا ہے۔ یہاں سے یہ ہائیڈروپونک گانجہ ہندوستان سمیت دیگر ممالک کو اسمگل کیا جاتا ہے۔
سیاست
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے نئی دہلی میں ایک اہم میٹنگ کی صدارت کی، بی جے پی کی مہم، اپوزیشن اتحاد اور انحراف کے مسئلہ پر کیا تبادلہ خیال۔

نئی دہلی : پارٹی کے جنرل سکریٹریوں، انچارجوں اور پردیش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کے صدور کی ایک اہم میٹنگ جمعرات کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے صدر دفتر، اندرا بھون میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں راہل گاندھی، تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، جئے رام رمیش اور کئی دیگر لیڈران موجود تھے۔ کانگریس لیڈروں کی یہ اہم میٹنگ حالیہ اسمبلی انتخابات اور ترنمول کانگریس میں جاری پھوٹ کے درمیان ہوئی ہے۔ اس میٹنگ سے ایک دن پہلے کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پر اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہنگامی میٹنگ موجودہ سیاسی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے بلائی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، جمعرات کی میٹنگ میں موجودہ سیاسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ مرکز میں اقتدار میں 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر بی جے پی کی مہم کا جواب دینے کی حکمت عملیوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے جواہر لعل نہرو کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنے سے متعلق سیاسی بحث پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارٹی قیادت نے انحراف کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ریاستوں میں ممکنہ حلیفوں کے ساتھ تال میل بڑھانے اور حزب اختلاف کے اتحاد کو وسعت دینے پر بھی غور و خوض کا امکان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میٹنگ میں کانگریس کے اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اس قیاس کے درمیان کہ ترنمول کانگریس کے کچھ ممبران پارلیمنٹ لوک سبھا میں ایک الگ گروپ کے طور پر بیٹھ سکتے ہیں اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔
یہ میٹنگ پیر کو ہونے والی انڈیا الائنس کی میٹنگ کے بعد ہوئی۔ ملاقات کے بعد ملکارجن کھرگے نے کہا تھا کہ ہندوستانی اتحاد کی تمام پارٹیاں قومی مسائل پر بہتر تال میل کے لیے ہر دو ماہ بعد ملاقات کریں گی۔ اتحاد کا اگلا اجلاس اگست میں حیدرآباد میں ہوگا۔ کھرگے نے کہا کہ ہندوستانی اتحاد نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)، مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹ سے متعلق مسائل کے بارے میں چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی این ای ای ٹی اور سی بی ایس ای امتحانات سے متعلق تنازعات پر مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا ہے۔
سیاست
مرکزی وزارت داخلہ نے منشیات اور ہتھیاروں کی سرحد پار اسمگلنگ کو روکنے کے لیے ‘اسمارٹ بارڈر سیکیورٹی گرڈ’ متعارف کرانے کا کیا اعلان۔

نئی دہلی : مرکزی وزارت داخلہ نے ڈرون کے ذریعے منشیات، ہتھیاروں اور گولہ بارود کی سرحد پار اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ’’اسمارٹ بارڈر سیکیورٹی گرڈ‘‘ سسٹم کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں ڈرون مخالف شیلڈ شامل ہوگی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ آئی ایس آئی اور منشیات کے اسمگلر سرحدی علاقوں خصوصاً پنجاب میں ڈرون کے ذریعے ہتھیار اور منشیات کی سپلائی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ریاست میں منشیات کی تجارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں، امیت شاہ کے ذریعہ شروع کردہ لینڈ پورٹ مینجمنٹ سسٹم (ایل پی ایم ایس) کو سرحد پر شامل کیا جائے گا۔ سرحدی حفاظت اور نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے سینسر اور سمارٹ باڑ لگائی جائے گی۔ لینڈ پورٹ مینجمنٹ سسٹم ایک مربوط پلیٹ فارم ہے جو تمام زمینی بندرگاہوں پر کارگو پروسیسنگ اور مسافروں کی نقل و حرکت کے لیے اختتام سے آخر تک ڈیجیٹل ورک فلو کو قابل بنائے گا۔
ایل پی ایم ایس کا آغاز کرتے ہوئے، امیت شاہ نے کہا کہ ایل پی ایم ایس سسٹم، جو ہر اسٹیک ہولڈر اور ڈیٹا سسٹم کو مربوط کرتا ہے، مستقبل میں تصور کردہ “اسمارٹ سیکیورٹی گرڈ” کا کلیدی جزو بن جائے گا اور اقتصادی اور جسمانی دونوں طرح کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ امیت شاہ نے کہا کہ اس سے ایجنسیوں کے درمیان تال میل اور معلومات کا تبادلہ بڑھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ ‘اسمارٹ بارڈر’ کے تصور کو نافذ کرے گی اور ایل پی ایم ایس کے ساتھ مل کر سرحدوں کو ناقابل تسخیر بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی ایم ایس کاغذی کارروائی میں 90 فیصد، کارگو ٹرکوں کے انتظار کے اوقات میں 22 سے 35 فیصد اور گیٹس پر کارروائی کے اوقات میں 40 سے 60 فیصد تک کمی کرے گا۔ مزید برآں، اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
