Connect with us
Tuesday,13-October-2026

قومی خبریں

شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو آخری سہارا قرار دیا

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ میں زیر التوا سی اے اے کے خلاف150 سے زائد عرضیوں کی سماعت جلد نہ کرنے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ لوگوں کا اخری سہارا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 22 جنوری کو سپریم کورٹ نے سماعت کو ٹالتے ہوئے مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے کا وقت دیا تھا امید تھی کہ فروری میں ہی اس پر سماعت ہوجائے گی لیکن افسوس ہے کہ عدالت عظمی نے اس حساس مسئلہ کو جلد سماعت کے قابل نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہاکہ ہندو، کیا مسلمان، دلت کیا، قبائلی کیا، کمزور کیا سب طبقے سی اے اے کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے سڑکوں پر ہیں اور اس میں اب تک درجنوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس پر جلد سماعت نہیں کرتا تو صرف مایوسی کاہی اظہار کیا جاسکتا ہے۔
مظاہرین خواتین میں شامل ملکہ خاں، نصرت آراء سیما اور ثمینہ نے کہاکہ ہم لوگوں کو سپریم کورٹ سے بہت ہی امید وابستہ ہیں اور امید ہے کہ سپریم کورٹ ہمارے درد کو سمجھے گا اور ہماری سڑکوں پر بیٹھنے کو محسوس کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ کوئی عوامی جذبات کا نہیں ہے بلکہ آئین کا ہے،ہم لوگ قطعی یہ نہیں کہتے کہ ہمارے جذبات کے مطابق فیصلہ کریں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں، آئین میں جس چیز کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، اس کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ بہت سے معاملے کو ترجیحی بنیاد پر سنتا ہے لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ پورا ملک اس وقت سڑکوں پر ہے، دہلی میں اس کے بہانے فساد ہوچکا ہے جس میں پچاس سے زائد لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ اس کے باوجود اگر سپریم کورٹ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر نہیں سنتا ہے تو اس پر مایوسی کا اظہار اور افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کے اس معاملے پر توجہ نہ دینے اور سپریم کورٹ کے بھی نظر انداز کرنے پراقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن نے اس قانون کو امتیاز پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سپریم کور ٹ میں انٹرویشن عرضی دائر کی ہے۔ اس سے معاملہ کے حساس ہونے کا پتہ چلتا ہے، اس کے علاوہ پوری دنیا میں اس قانون کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں مظاہرے کئے جارہے ہیں، اگر اس معاملے میں سپریم کورٹ جلد سماعت کرکے معاملہ کا نپٹارہ کردے گا تو اس ہندوستان کے تئیں بہترین پیغام جائے گا۔
سپریم کورٹ کے وکیل اور سی اے اے کے خلاف عرضی کرنے والوں میں سے ایک سماجی کارکن انتخاب عالم نے سپریم کورٹ کے ہولی کے بعد سماعت کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس حساس معاملہ پر سپریم کورٹ جلد سماعت نہیں کرے گا تو پھر کس پر سماعت کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کو گزشتہ 22جنوری کو ہی کوئی نہ کوئی آرڈر جاری کردینا چاہئے تھا لیکن اس نے ایک تکنک کا سہارا لیتے ہوئے حکومت کو جواب داخل کرنے کا چار ہفتے تک وقت دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ سپریم کورٹ فروری میں ہی سماعت کرکے اس حساس مسئلہ کو نپٹارہ کردے گا۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں مسلم خواتین سمیت تمام طبقے سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ سے تمام لوگ امید رکھتے ہیں کہ ان کی بات یہاں سنی جائے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت جلد کرنے کا مطالبہ جمعرات کے رو ز مسترد کر دیا۔ کچھ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کَپل سبل نے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملے کا خصوصی ذکر کیا اور جلدی سماعت کے لئے تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کی۔”عدالت نے کہا”سبری مالا معاملے میں خواتین کے حقوق بنام مذہبی روایت معاملے کی سماعت کے بعد اسے سنا جائے گا۔ آپ ہولی کی چھٹی کے بعد پھر تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کریں“۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت اگلے ہفتے اپنا جواب داخل کر دے گی۔ واضح رہے کہ سی اے اے کو چیلنج کرنے والی 150 سے زائد عرضیاں سماعت کے لئے زیر التوا ہیں۔ تمام عرضیوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین ریلیف کا سامان جمع کرکے فساد زدہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے جو ابند ہے۔ اس کے منتظمین کو پولیس نے دنگا بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

(جنرل (عام

دہلی : تمام میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور باہر نکلنے کے دروازے اب کھول دیے گئے ہیں

Published

on

نئی دہلی : وسطی دہلی میں مظاہروں کے درمیان، دہلی میٹرو نے پیر کی شام کہا کہ اس نے تمام اسٹیشنوں کا کام بحال کر دیا ہے۔ شام 5 بجے کے قریب ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں، دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے اعلان کیا، “دہلی میٹرو نیٹ ورک کے تمام میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے اب کھلے ہیں۔ تمام متعلقہ میٹرو اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت بھی دستیاب ہے۔” صبح سویرے، دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے وسطی دہلی کے چھ میٹرو اسٹیشنوں پر شام 4 بجے تک داخلہ اور باہر نکلنے کی سہولیات کو معطل کر دیا۔ ان چھ اسٹیشنوں میں راجیو چوک، مرکزی سیکرٹریٹ، پٹیل چوک، جن پتھ، منڈی ہاؤس اور براکھمبا روڈ شامل تھے۔ دن کے دوران، دہلی میٹرو نے ایک ایڈوائزری جاری کی، “سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے، دہلی میٹرو نیٹ ورک پر میٹرو اسٹیشنوں کو وقفے وقفے سے بند کیا جا رہا ہے۔ ان بندشوں کے ساتھ ساتھ دوبارہ کھلنے کے بارے میں باقاعدہ اپ ڈیٹ ڈی ایم آر سی کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز اور آفیشل ویب سائٹ پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔”

دہلی میٹرو نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، مرکزی دہلی کے چھ میٹرو اسٹیشنوں پر صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک داخلے اور باہر نکلنے کی سہولیات کو معطل کر دیا تھا، کیونکہ کانگریس کی قیادت والے انڈیا بلاک نے سپریم کورٹ کی طرف احتجاجی مارچ کرنے کی تیاری کی تھی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، ڈی ایم آر سی نے کہا، “سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر، درج ذیل میٹرو اسٹیشنوں پر 12 اکتوبر 2026 کو صبح 06:00 بجے سے شام 04:00 بجے تک داخلہ اور اخراج بند رہے گا۔ اس کے علاوہ، سیکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، اور ضروری اپ ڈیٹس کا اشتراک کیا جائے گا، تاہم تمام اسٹیشنوں پر دستیاب سہولتوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ کارپوریشن نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔ تاہم، تمام چھ متاثرہ اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولیات کام کرتی رہیں گی۔ پیر کو یہ پابندیاں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیر اہتمام احتجاج کے پیش نظر حکام نے 45 میٹرو اسٹیشنوں کو عارضی طور پر بند کرنے کے دو دن بعد لگائی۔

Continue Reading

سیاست

ہندوستان کا مقصد طاقتور ہونا ہے تاکہ کوئی ملک ہم پر شرائط نہ لگائے : نائب صدر رادھا کرشنن

Published

on

نئی دہلی : نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے پیر کے روز کہا کہ ہندوستان کا مقصد دنیا کا سب سے طاقتور ملک بننا ہے، دوسروں پر غلبہ حاصل کرنا یا دوسروں پر شرائط طے کرنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی ملک ہم پر شرائط نہ لگائے۔ نیشنل ڈیفنس کالج (این ڈی سی)، نئی دہلی کے 66ویں کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، “ہندوستان کی بنیادی اقدار، قومی مفادات اور قومی مقاصد” کے موضوع پر، نائب صدر نے کہا، “قومی حکمت عملی کو قومی مقصد کو عمل میں اور قومی ارادے کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ “ہر قوم کے اپنے اہداف ہوتے ہیں، لیکن آخر تک کے ذرائع کی رہنمائی اس قوم سے ہوتی ہے جس کا مطلب ہے”۔

ایک متعین قومی مقصد کے طور پر وکست بھارت @ 2047 کا حوالہ دیتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے دستیاب وسائل، صحیح پالیسی کے انتخاب اور قومی ترجیحات کے ساتھ طویل مدتی وژن کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر خود مختار قوم، بڑی ہو یا چھوٹی، یکساں احترام کی مستحق ہے اور کسی بھی ملک کو کسی دوسرے کی علاقائی حدود پر تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ نائب صدر جمہوریہ نے مشاہدہ کیا کہ ہندوستان کے قومی مفادات خودمختاری، جمہوریت، سیکولرازم، انصاف، آزادی، مساوات، بھائی چارے اور ملک کے اتحاد اور سالمیت کی آئینی اقدار سے نکلتے ہیں۔ انہوں نے پانچ وسیع ترجیحات پر زور دیا: ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حفاظت؛ اس کے جمہوری، سیکولر اور وفاقی کردار کا تحفظ؛ اس کے اسٹریٹجک، سیاسی، اقتصادی اور فوجی مقاصد کو آگے بڑھانا؛ ترقی اور انسانی ترقی کے لیے ایک مستحکم اور محفوظ ماحول کو یقینی بنانا؛ اور بین الاقوامی امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنا۔

قومی سلامتی کی بڑھتی ہوئی باہم مربوط نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے، رادھا کرشنن نے دہشت گردی، سائبر خطرات، وبائی امراض، موسمیاتی تبدیلی اور بین الاقوامی جرائم جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وسیع تر بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کا تحفظ اور مشترکہ عالمی مفادات کو آگے بڑھانا اکثر مقاصد کو تقویت دیتا ہے، جس کے لیے مربوط کارروائی، معلومات کے تبادلے اور اقوام کے درمیان باہمی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ “اسٹریٹجک قیادت کا مطلب بالآخر وسیع تر قومی مفاد کو اپنے دائرہ کار کی حدود سے اوپر رکھنا ہے،” انہوں نے کہا۔ کورس کے 122 شرکاء میں ہندوستانی مسلح افواج، سول سروسز، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے افسران کے ساتھ ساتھ دوست بیرونی ممالک کے 41 افسران شامل ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ نے عصری سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک سوچ، مربوط پالیسی سازی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر کے سی ایم کا الزام : راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد احتجاج کے ذریعے عدلیہ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے پیر کے روز لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی اور ہندوستانی بلاک پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ہندوستان کے آئینی اداروں بشمول سپریم کورٹ، کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) پر دباؤ ڈالنے اور ان کو قانونی حیثیت دینے کے لئے جان بوجھ کر حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ چیف منسٹر کا سخت ردعمل اس وقت آیا جب راہول گاندھی کی قیادت میں ہندوستانی بلاک کے لیڈروں نے نئی دہلی میں سپریم کورٹ کی طرف ہائی وولٹیج مارچ کیا۔ اپوزیشن لیڈران چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ان پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر انتخابی سالمیت کو پامال کرنے اور “قوم کو لوٹنے” کا الزام لگا رہے ہیں۔ سی ایم فڑنویس نے آئین کی کاپیوں کو داغدار کرنے کے لیے اپوزیشن پر تنقید کی جبکہ منظم طریقے سے آئینی اداروں کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ مظاہرے انتہائی بائیں بازو کی سازش کا حصہ ہیں جو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے آئین کو مسترد کرنے اور جمہوری نظام کے خلاف عوام میں عدم اعتماد پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے ساتھ میٹنگ پر مجبور کرنے کے لئے سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کے پیچھے دلیل پر سوال اٹھاتے ہوئے، سی ایم فڈنویس نے پوچھا، “آئین کی کون سی دفعہ سیاسی مارچ کو چیف جسٹس آف انڈیا کے ساتھ سامعین کا مطالبہ کرنے کا اختیار دیتی ہے؟ سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ڈاکٹر امبیڈکر کی سیدھی توہین ہے۔” اس کے برعکس، انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی طرف سے 1975 میں لگائی گئی ایمرجنسی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح کانگریس کے دور حکومت نے بنیادی حقوق کو معطل کیا اور شہریوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سے روک دیا۔ “ہم نے 1975 میں آئینی چھیڑ چھاڑ کے خلاف جنگ لڑی تھی، اور ہم آج پھر لڑیں گے۔ ہم کسی کو بھی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے آئین میں ردوبدل یا چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دیں گے،” انہوں نے اعلان کیا۔ سی ایم فڈنویس نے زور دے کر کہا کہ کانگریس کی بار بار انتخابی ناکامیوں نے اسے انتشار کی طرف راغب کیا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر ماضی کی تحریکوں کے دوران ہونے والے واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا، جہاں افراتفری پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کے الگورتھم سے ہیرا پھیری کی گئی تھی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ میٹا جیسے پلیٹ فارم نے بعد میں اشتھاراتی مواد اور وزیر اعظم مودی کی پوسٹس میں شامل غلطیوں پر معافی مانگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اپنی سیاسی ناکامیوں کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کو مورد الزام ٹھہرانا بند کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بجائے اپنی ناکام قیادت کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ “کانگریس کو اپنی ناکامی کی وجوہات ای وی ایم میں نہیں بلکہ اپنی قیادت میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک مسترد شدہ قیادت ہے جسے بار بار دوبارہ شروع کیا جاتا ہے، صرف ہر بار ناکام ہونے کے لیے،” انہوں نے نوٹ کیا۔ کانگریس کے زوال پذیر قدموں پر زور دیتے ہوئے، سی ایم فڑنویس نے نوٹ کیا کہ ملک بھر کی اہم ریاستوں نے کئی دہائیوں سے پارٹی کو مسترد کیا ہے، بشمول تمل ناڈو: 59 سال، مغربی بنگال: 50 سال، اتر پردیش: 46 سال، سکم: 42 سال، بہار: 36 سال، تریپورہ: 33 سال، گجرات اور 31 سال، گجرات اور 31 سال۔ اڈیشہ: 23+ سال۔ انہوں نے مزید کہا کہ 18 ریاستوں میں رائے دہندگان نے کئی دہائیوں سے خود کو کانگریس سے دور رکھا ہے، جس کی وجہ سے پارٹی کو ڈی ایم کے، آر جے ڈی اور بی ایس پی جیسے علاقائی شراکت داروں پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ منظم طریقے سے جمہوری اداروں اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان