Connect with us
Wednesday,27-May-2026
تازہ خبریں

جرم

پانچ میونسپل اسکولوں سے اساتذہ غیر حاضر پائے گئے، اسکول رجسٹر ضبط

Published

on

(نامہ نگار)
3 مارچ : آج بروز منگل 2020 صبح میں 10 بجے کارپوریشن کے میونسپل کمشنر کشور بروڈے، نائب کمشنر نتن کاپڑنیس، نائب کمشنر تشار آہیرے اور اکاؤنٹ آفیسر قمر الدین شیخ کے علاوہ اسکول بورڈ کے کرن سینگر عرف (کرن انا) کے سمیت کمشنر کے پی اے سچن مہالے، سٹی انجینئر کیلاش راجہ رام بچھاؤ نے اچانک میونسپل اسکول نمبر 69کی ہنگامی وزٹ کی۔ اس موقع پر کمشنر اور میونسپل انتظامیہ نے اسکول ہذا کے رجسٹر کو چیک کیا۔ اس میں عمبرین پروین محمدعثمان، شاہ شگفتہ پروین محمد شفیع شاہ نامی دونوں میونسپل ٹیچر اسکول سے غیر حاضر پائے گئے اس کے بعد میونسپل انتظامیہ آناً فاناً ناندیڑی اسکول (مولانا طاہر خان کیمپس) میں اسکول نمنر 88 کی آفس میں وزٹ کی تو آصفہ صغیر احمد، سعدیہ فرحت عبد الخالق بھی غیر حاضر پائے گئے اس اسکول کا بھی رجسٹر ضبط کر لیا گیا اس کے بعد قافلہ میونسپل اسکول نمبر 67 کی آفس کا رجسٹر چیک کیا گیا تو اس موقع پر اسکول کے ہیڈ ماسٹر جنید احمد سعید الظفر، تڑوی جاوید یعقوب، تڑوی نثار رباب، تڑوی رمضان خان, شاہ نہال احمد عبد الرؤف اسکول سے غیر حاصل پائے گئے۔ اس کے بعد مذکورہ قافلہ اسکول نمبر 15 میں وزٹ کیا تو شہادت حسین ناصر، انصاری عبد العرفان محمد ایوب، خلیل عمر محمد حنیف بھی اسکول سے غیرحاضر رہنے پر اسکول کا ماسٹر (رجسٹر ) کی ضبطی کر لی گئی اس کے ساتھ ہی فاروق احمد عبد الرحیم، تڑوی لقمان رشید بعد اذاں سید عمران سید یوسف, سید وسیم سید اسماعیل، محمد طارق شکیل احمد، حمدانی مصباح جمیل انیس احمد وغیرہ میونسپل ٹیچرس اسکولوں سے غائب رہنے پر میونسپل انتظامیہ نے تمام میونسپل اسکولوں کے رجسٹر کو ضبط کر کے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ واضح رہے کہ میونسپل اسکول نمبر 88 میں دو باہر کی لیڈیز ٹیچر 2 ہزار ماہانہ نقدی لیکر اسکولوں میں بچوں کی پڑھائی کا کام انجام دیتی تھیں۔ ان کا نام بھی کمشنر نے اندراج کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں اسکول بورڈ کے کلرک ( کرن انا ) نے بتایا کہ ان خاطی پائے گئے میونسپل ٹیچروں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی جائیگی۔ امید ہیکہ خاطی پائے گئے میونسپل اساتذہ اکرام کو معطل (سسپنڈ ) یا ایک دن کی تنخواہ کٹے گی۔ اس پر تعلیمی حلقوں میں نظر لگی ہوئی ہے۔ کمشنر و انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ روزآنہ شہر کی مونسپل اسکولوں میں اچانک ہنگامی وزٹ کریں تب انہیں معلوم ہوگا کہ میونسپل اسکولوں میں بنیادی تعلیمی معیار کیسا ہے.

جرم

ممبئی پوائی قتل کیس میں مفرور ملزم گرفتار، ہفتہ قبل تنازع پر غصہ قتل کا شاخسانہ، قتل کے بعد پولس تفتیش میں خلاصہ

Published

on

ARREST-1

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۱۰ نے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو سورت گجرات سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پوائی تنگا گاؤں ساکی وہار میں ۲۴ مئی کو ایک ۵۵ سالہ یوسف نامی شخص کی لاش ملی تھی, جسے کسی نے دھاردار ہتھیار سے وار کر کے سینے پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولس نے اس معاملہ میں قتل کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کر دیا اور پھر اس معاملہ میں تقریبا ۱۰۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور معلوم ہوا کہ گجرات میں قتل کے بعد ملزم فرار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو یہاں سے گرفتار کیا اور مزید کارروائی کے لئے پوائی پولس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم دیپک عرف دیپا نتھو پرساد ورما ۲۶ سالہ کی یوسف سے کسی بات پر تنازع ہوا, ایک ہفتہ قبل تنازع ہوا تھا جس کا غصہ اس کے دل میں تھا اور اسی نے طیش میں آکر یوسف کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا, پولس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

Published

on

ARRESTED

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان