Connect with us
Friday,24-July-2026

(جنرل (عام

اے ایم یو کے اساتذہ کے لئے آن لائن ٹیچنگ ٹریننگ پروگرام کا اہتمام

Published

on

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اے ایم یو کے اساتذہ کے لئے چار روزہ آن لائن ٹیچنگ ٹریننگ پروگرام کا افتتاح کیا۔ اسسٹنٹ پروفیسروں کے لئے دو ہفتہ کے سبجیکٹ ریفریشر کورس اور تین ہفتہ کے اورئنٹیشن پروگرام کے طور پر اس پروگرام کی توسیع کی جائے گی۔ اس کورس کا اہتمام اے ایم یو کے یوجی سی-ایچ آرڈی سنٹر نے ایم این ایف کمپیوٹر سنٹر، اے ایم یو کے اشتراک سے کیا ہے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہاکہ کووِڈ-19 کے پیش نظر ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن تدریس وقت کی اہم تین ضرورت ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ ویبیکس میٹ (Webex Meet) پلیٹ فارم کے توسط سے اپنی رہائش گاہ سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ یہ ایک تاریخی موقع ہے جس کا ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے اور طلبہ کو اس بات کی ترغیب دینی چاہئے کہ وہ اپنی تعلیم کے لئے ٹکنالوجی پر خرچ کریں اور لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کریں۔
یوجی سی-ایچ آرڈی سنٹر کے ڈائرکٹر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے بتایا کہ اس کورس کے لئے 820/اساتذہ نے رجسٹریشن کرایا ہے جن میں فیکلٹیوں کے ڈین، کالجوں کے پرنسپل، سنٹروں کے ڈائرکٹر، مختلف شعبوں کے سربراہان اور اساتذہ شامل ہیں۔

بالی ووڈ

راکھی ساونت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر بحث چھڑ گئی

Published

on

Rakhi-Sawant

ممبئی : اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت راکھی ساونت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ملک بھر میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پوسٹ حالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑ کر دیکھی جا رہی ہے۔ پوسٹ میں سرخ رنگ کے سینیٹری پیڈ کی علامتی تصویر شیئر کی گئی تھی، جسے متعدد صارفین نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ افراد نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اس علامتی انداز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب اور متنازع قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے سماجی اور عوامی معاملات پر اظہارِ خیال، آزادیِ اظہار اور عوامی ذمہ داری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاحال راکھی ساونت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے کسی بھی سرکاری قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور مختلف طبقات اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کی قیادت میں امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک پرامن ترنگا ریلی اختتام پذیر

Published

on

Mumbai-Protest

ممبئی بھیونڈی کے شہریوں نے جمعہ کے روز بے ساختہ ایک ‘ترنگا پیدل یاترا’ (ترنگا مارچ) کا اہتمام کیا تاکہ ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک اسکینڈل پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاسکے اور ملک گیر طلباء کے احتجاج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے (بھیونڈی ایسٹ) رئیس شیخ کی قیادت میں پیدل مارچ میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ مارچ بھیونڈی کے امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک کے راستے کا احاطہ کرتے ہوئے شام کو جلوس نکالا گئا جلسے کے دوران کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے نہیں لہرے گئے بلکہ ہاتھوں میں ترنگا تھام کر شہریوں نے یکجتی کا جذبہ کو سرشار کیا۔ پرامن جلوس کے ذریعے اتحاد کے جذبے ایک قوم، ایک جذبہ’ کا مظاہرہ کیا۔ “انقلاب زندہ باد” (انقلاب زندہ باد) جیسے نعرے سمیت دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبات کے نعرے لگائے گئے بہت سے شرکاء نے ہندوستانی قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ دیگر نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ مارچ کا اختتام بھیونڈی سب ڈویژنل افسر کو میمورنڈم پیش کرنے کے ساتھ ہوا۔

تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ ’ترنگا مارچ‘ کسی مخصوص سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھا بلکہ بھیونڈی کے شہریوں کی طرف سے ایک بے ساختہ اقدام تھا۔ انہوں نے ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک ہونے اور احتجاج کرنے والے طلباء پر وحشیانہ لاٹھی چارج کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے ملک گیر غم و غصے کو نوٹ کیا۔ مارچ کا مقصد طلبہ کی تحریک کی حمایت کرنا اور امتحانی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک کے واقعہ کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ ’ترنگا ریلی‘ کے ذریعہ جاری کردہ میمورنڈم میں چار مطالبات پیش کیے گئے ہیں: دہلی کے ’جنتر منتر‘ پر طلبہ کے مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج کی عدالتی تحقیقات؛ این ای ای ٹی پیپر لیک ہونے پر خودکشی کرنے والے طلباء کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد؛ اور دہلی کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں طلباء مظاہرین کے خلاف درج پولیس مقدمات کو واپس لے لیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک طلبا احتجاج : سوشل میڈیا پر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں غصہ چوطرفہ کارروائی کا مطالبہ

Published

on

Shiwaji-Park-Protest

ممبئی : ممبئی میں شیواجی پارک دادر میں احتجاج کے دوران ایک پولس اہلکار کی شرمناک حرکت سامنے آنے کے بعد ممبئی پولس نے اس کانسٹبل دیپک کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوا ہے, وہ ویڈیو غیر ذمہ دارانہ ہے اہلکار کی نیت خاتون سے بدسلوکی یا پھر اس سے چھیڑخانی نہیں تھی۔ جب ایک مرد کو مظاہرہ کے دوران پکڑنے اہلکار گیا تھا تو خاتون مظاہرین درمیان میں آگئی اور یہی وہ ویڈیو ہے اس معاملہ میں تفتیش کے بعد پولس محکمہ کے اعلیٰ افسران نے ویڈیو فوٹیج کا بغور معاملہ کے بعد مذکورہ بالا پولس اہلکار کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے شہریوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ پولس نے اپنے تردیدی بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین پر قابو کرنے والے کانسٹیبل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس نے قصدا خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا ہے, یہ بات ضرور ہے کہ وہ مظاہرین کو کنٹرول کر رہا تھا۔

اس معاملہ ایڈوکیٹ نتن ساتپوتے نے پولس کانسٹبل کو کلین چٹ دئیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ سے اپیل کی ہے وہ ازخود اس اہلکار کے خلاف کیس درج کروائیں اگر اس معاملہ میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا وہ مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اور دیگر میں طلبا پر تشدد برپا کرنے کے جو ویڈیوز وائرل ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ اس میں کئی ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے ہیں جو انتہائی درندگی پر مبنی ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک کانسٹبل دو طلبا کو جھوٹے ڈرگس کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے رہا ہے تو دوسرے ویڈیو میں پولس کانسٹبل کی یہ شرمناک حرکت سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو کے بعد کئی سیاسی لیڈران نے بھی اسے ٹوئٹ کیا ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, جبکہ اس معاملہ میں پولس نے کانسٹبل کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے پولس محکمہ کی شبیہ بھی متاثر ہے اس ویڈیو نے ممبئی پولس کو داغدار کر دیا ہے۔ پولس کے رویہ سے عوام میں ناراضگی ہے اور پولس کے تازہ موقف سے بھی عوام میں حیرت ہے کہ کانسٹبل بے قصور ہے اور اس کی کوئی خطا نہیں ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان