Connect with us
Wednesday,16-September-2026

جرم

عزیز قریشی کا الزام کہا کہ مودی حکومت ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے پر آمادہ ہے

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اتراکھنڈ اوراترپردیش کے سابق گورنر عزیز قریشی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے پر آمادہ نظر آرہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پر ہر قدم پر پاکستان کا اور عمران خاں کا نام لیتی ہے اور ہر لمحہ وہ بات کرتی ہے جس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہاکہ آٹھ سو سال سے زائد برسوں تک مسلمانوں نے حکومت کی لیکن اس طرح کے حالات کبھی پیش نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں مسلمانوں نے ہندوستان کواپنا وطن بنایا جس کے ن کے پاس کئی ملک کو وطن منتخب کرنے کا متبادل موجود تھا جب کہ ہندوؤں کے پاس صرف ایک ملک نیپال تھا جو ہندو راشٹر تھا۔
انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں رہنما ہماری پسند تھی کیوں کہ ہمیں ہندوستان سے اور ہندوستانی تہذیب سے محبت تھی اور ہے اور اس ملک میں اپنی روایت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جنگ آزادی میں مسلمانوں کی بے مثال قربانی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ 1857میں ہزاروں مسلمانوں نے قربانی دی اوریہاں تک کے انگریزی حکومت میں نوکری کرنے کوحرام سمجھا۔اس کے باوجود مسلمانوں پر انگلیاں اٹھایا جانا افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم اس ملک کی تقسیم کے حصہ دار نہیں ہیں۔ ہمیں تو اس ملک میں ہماری آبادی کے تناسب حصہ داری چاہئے۔انہوں نے قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرے کے حوالے سے کہاکہ یہ آئین کا معاملہ ہے اور آپ لوگ دستور کو بچانے کے لئے سڑکوں پر نکلی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کا مقصد اس طرح کا معاملہ سامنے لاکر لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔
انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے حوالے سے مہارانا پرتاپ کے کمانڈر حکیم خاں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ اکبر کی فوج میں جسونت سنگھ سپہ سالار تھے جب کہ مہارانا پرتاپ کی فوج کمان حکیم خاں کے ہاتھ میں تھی۔ دونوں طرف سے ہندو اور مسلمان لڑنے والے تھے۔ اس وقت نفرت اور انتشار کی کوئی ایسی بات نہیں تھی تو اس وقت کیوں ہے۔
کڈزی اسکول جمشیدپور کی ڈائرکٹر اور سماجی کارکن زیباخاں نے دہلی میں فسادات کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ کو دہلی کے حالات نہ سنبھالنے کے لئے استعفی دے دینا چاہئے۔ انہوں نے دہلی فسادات کو شرمناک قراردیتے ہوئے کہاکہ آج جب قومی دارالحکومت محفوظ نہیں ہے تو ملک کے دوسرے شہروں کو کیسے محفوظ قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت فسادیوں سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہی۔
انہوں نے جسٹس ایس مرلی دھر کے تبادلہ پر کہا کہ اس حکومت میں جج بھی محفوظ نہیں ہیں اور جو جج صحیح فیصلہ کرنے کی ہمت کرتے ہیں ان کا تبادلہ کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے بی جے پی لیڈروں پر ایف آئی آر درج نہ کرنے کے حوالے سے الزام لگایا کہ یہاں صرف بے قصور لوگوں پر کارروائی کی جاتی ہے اور مجرم کھلے عام گھومتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس حکومت میں جمہوریت کی آواز کچلی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ دیگر مقررین میں ڈاکٹر ارچنا ٹریڈ یونین، سماجی کارکن شیبا جارج،پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمیدشامل ہیں۔
واضح رہے کہ کل خوریجی میں پولیس نے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کرکے مظاہرین کو ہٹادیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں لیا اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کوپھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ سماجی کارکنوں نے ان کی رہائی کی اپیل کی ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے اس کے باوجود میں وہاں خواتین ڈتی ہوئی ہیں۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، سلیم پور، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کردیا ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔

جرم

ایم پی کے جبل پور کالج ہاسٹل میں انجینئرنگ کے طالب علم کی خودکشی، تحقیقات جاری

Published

on

Death

جبل پور، 16 ستمبر، جبل پور انجینئرنگ کالج (جے ای سی) کے مکینیکل انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم نے مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے جبل پور کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش بھر میں خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور اداروں میں انجینئرز ڈے منائے جانے کے ایک دن بعد بدھ کو سامنے آیا۔ متوفی کی شناخت ساتویں جماعت کے طالب علم کے طور پر ہوئی ہے۔ رانجھی تھانہ علاقے میں گاندھی ویام شالا کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں اس کا کمرہ۔ پولیس کے مطابق پانڈے کمرے میں اکیلا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ اس کے دو روم میٹ باہر گئے ہوئے تھے۔

واپس آنے پر انہوں نے کمرہ بند پایا اور اسے کھولنے کے بعد پانڈے کو چھت سے لٹکا ہوا پایا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ رانجھی پولس اسٹیشن کے انچارج امیش گولہانی نے بتایا کہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنی قمیض کو پھندا لگانے کے لیے استعمال کیا تھا۔” اوم کمرے میں اکیلا تھا جب اس کے روم میٹ باہر گئے تھے۔ جب وہ کمرے میں واپس آئے تو انہیں خودکشی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ گولہانی نے مزید کہا۔پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش اور خاندان کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پانڈے ایک ہونہار طالب علم تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل بیمار ہونے کے بعد اس نے کچھ مضامین میں بیک لاگ تیار کیا تھا۔

مبینہ طور پر زیر التوا مضامین نے اسے ذہنی تناؤ کا سبب بنایا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے میں تعلیمی دباؤ کا سبب تھا، لیکن موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔” ہم اس کے دوستوں، کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات کی وجہ سے ہوا۔ صحیح وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔” جبل پور سٹیشن ہاؤس آفیسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے حصے کے طور پر اس کے حالیہ تعلیمی اور ذاتی حالات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔

Continue Reading

جرم

’جب تک ہم قانون کا خوف پیدا نہیں کریں گے، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘: گروگرام ہٹ اینڈ رن کی شکار سیا

Published

on

نئی دہلی، 15 ستمبر گروگرام کے گولف کورس روڈ کی زد میں آکر متاثرہ سیا نے منگل کو سڑکوں پر لوگوں کو ہراساں کرنے اور خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ قانون کا سخت خوف نہ ہو۔ زندگی۔”جیسا کہ میں نے ویڈیو میں دکھایا، وہ میری طرف سے گاڑی چلا رہا تھا۔ میں نے پولیس کو سب کچھ بتایا کہ کس طرح وہ مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مجھے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کس طرح میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے،” اس نے کہا، “میں نے اسے ایک اشارہ بھی دیا کہ وہ مجھ سے بہت دور چلا جائے۔ پیچھے،” اس نے آئی اے این ایس کو بتایا۔

سیا نے کہا کہ کار کے اندر چار لوگ تھے اور اس نے تمام متعلقہ معلومات پولیس کو فراہم کر دی ہیں، “ظاہر ہے، ان کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج ہونا چاہیے، میں نے سب کچھ بیان کیا اور اپنا بیان دیا، میں چاہتی ہوں کہ ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے اور سخت کارروائی کی جائے،” انہوں نے کہا، “جب تک ہم سخت کارروائی نہیں کرتے، ایسے بہت سے لوگ ہیں جو سڑکوں پر گھومتے پھریں گے، خواتین کو ماریں گے یا دوڑیں گے۔ جب تک ہم قانون کا خوف پیدا نہیں کریں گے، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ خواتین بائیک چلانے والوں کو سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے اکثر ہراساں کیا جاتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا معاملہ الگ تھلگ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ “خواتین بائیک چلانے والوں کو سڑکوں پر اس طرح کی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہراساں کرنے اور پیچھا کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ میں واحد خاتون نہیں ہوں جس نے ایسی چیزوں کا سامنا کیا ہو،” انہوں نے کہا، “جب آپ خواتین بائیک چلانے والوں سے پوچھتے ہیں تو وہ ایسی چیزوں کا سامنا کرتی ہیں، لوگ ان کا پیچھا کرتے ہیں اور ان کا پیچھا کرتے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم واقعہ ہے جس میں ایک خاتون بائیکر شامل ہوتی ہے۔ اگر ہم مستقبل میں ایسے واقعات کا سامنا نہیں کریں گے تو اور کتنے لوگ ایسے واقعات کا سامنا کریں گے؟” اس نے مزید کہا۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والی سیا نے کہا کہ اس کے ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی سامان نے اسے مزید سنگین چوٹوں سے بچانے میں مدد کی ہے۔”میرے پاس ایک ہیلمٹ اور کچھ دوسری چیزیں تھیں جنہوں نے مجھے ایک بڑے حادثے سے بچا لیا۔ لیکن مجھے اپنے گھٹنوں اور ہاتھوں پر کئی چوٹیں آئیں،” اس نے کہا۔

انہوں نے ساتھی خواتین بائیک چلانے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور اس طرح کے واقعات کا شکار ہونے والوں سے آگے آنے اور ان کی اطلاع دینے کی اپیل کی، “یہ واحد واقعہ نہیں ہے جو ہوا ہے، میں نے ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھے ہیں، اگر کسی کو ایسی صورت حال یا واقعہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ آگے آئے،” انہوں نے کہا۔ دریں اثنا، گروگرام پولیس نے منگل کو ملزم ڈرائیور کلیان بینسلا کو راجستھان سے گرفتار کر لیا۔ اس کیس کے سلسلے میں ایک اور ملزم لاونیش گرجر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر، پولیس نے ملزم ڈرائیور کے خلاف قتل کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ اس جرم میں 10 سال تک قید کی سزا ہے۔ اتوار کے روز، ایک سفید پالکی کو گالف کورس روڈ پر تیزی سے دائیں طرف مڑتے ہوئے اور ہیلمٹ پہنے ہوئے سیا سے ٹکراتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسے سڑک پر پھینک دیا گیا، جب کہ اس کی اپریلیا آر ایس ۴۵۷ اسپورٹس بائیک پھسل گئی۔

Continue Reading

جرم

گروگرام ہٹ اینڈ رن: خاتون بائیکر کے پولیس سے رجوع کرنے کے بعد ایف آئی آر میں قتل کی کوشش کا الزام شامل

Published

on

نئی دہلی، 15 ستمبر گروگرام کی پولیس نے منگل کو خاتون بائیکر سیا کے ساتھ ٹکر مارنے کے سلسلے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل کی کوشش کا الزام شامل کیا جب وہ اور اس کے اہل خانہ نے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کے لئے پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے گالف کورس روڈ پر ایک خاتون بائیکر کو ٹکر مارنے والی کار کی ویڈیو کا از خود نوٹس لیا اور سیکٹر 56 تھانے میں مقدمہ درج کیا۔ مکمل تحقیقات کرنے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کرنے کے بعد، انہوں نے بی این ایس کی دفعہ 109 کو قتل کی کوشش کے لیے شامل کیا، جس میں 10 سال تک کی سزا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ملزم کار ڈرائیور کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ گروگرام پولیس نے خبردار کیا کہ لاقانونیت کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے کہا کہ وہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے پابند ہیں۔

سیا کے اہل خانہ کی جانب سے سیکٹر 56 پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو اپنا تحریری بیان جمع کرانے کے بعد یہ پیشرفت ہوئی ہے۔ پولیس تفتیش کے ایک حصے کے طور پر اس کا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کر رہی ہے۔ دن کے اوائل میں، آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے، دیپانکر نے کہا، “کل، ہم نے سیا کا تحریری بیان سیکٹر 56، گروگرام کے ایس ایچ او کو جمع کرایا، آج، ایس ایچ او خود اس کا زبانی بیان ریکارڈ کرنے کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔ سیا کو شدید درد کا سامنا ہے، اس کے پٹھوں میں بھی دباؤ ہے اور اس کے پٹھوں میں تناؤ بھی ہے۔ ہم نے ایس ایچ او سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کا بیان ریکارڈ کرائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان اپنی وضاحت دے سکتے ہیں، “وہ اپنی وضاحت دے سکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہاں کیمرے نہیں تھے، لیکن آپ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی لین بدلتا ہے، وہ آہستہ آہستہ ایسا کرتا ہے،” انہوں نے کہا، “اگر کوئی غلطی سے کسی کو ٹکر مارتا ہے، تو وہ رک جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔ دیپنکر نے کہا کہ سیا نے تصدیق کی ہے کہ کار کے اندر چار لوگ تھے اور ان کے دو چہرے واضح طور پر دیکھے گئے تھے۔

“سیا نے تصدیق کی کہ کار کے اندر چار لوگ موجود تھے۔ اس نے دو لوگوں کو بہت واضح طور پر دیکھا۔ اب اس نے میڈیا کو اپنا بیان دیا ہے۔ وہ ون آن ون انٹرویو بھی دے گی،” انہوں نے کہا۔ اس نے مزید کہا کہ سیا اس واقعے کے بعد جسمانی درد کا سامنا کر رہی تھی، “اس کے جسم میں درد ہے،” انہوں نے کہا۔ دریں اثنا، ہریانہ کے وزیر گورو گوتم نے یقین دلایا کہ جو بھی پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مجرم کو پکڑا جائے گا، چاہے وہ میرے ہی خاندان کا ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی پکڑے جائیں گے۔” تاہم، ملزم کلیان بیسلا کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نوین بیسلا نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ تھا اور انہوں نے اس الزام سے انکار کیا کہ وہ ان کے مؤکل کے خلاف ہیں۔ میرے دوست نے اس طرح اشارہ کیا کہ جب اس نے گاڑی کی رفتار کو تھوڑا سا بڑھایا تو اس نے گاڑی کا کنٹرول کھو دیا، اور اس سے زیادہ کوئی بات نہیں ہے۔

ہریانہ کے پلوال سے بات کرتے ہوئے، بیسلا نے مزید کہا، “یہ سب باتیں جھوٹی ہیں، وہ ایسا کچھ نہیں کر رہا تھا، بلکہ وہ انہیں سست کرنے کے لیے کہہ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا، ‘آپ بائک کو اچھی طرح سے چلائیں، لیکن رفتار کم کریں۔’

Continue Reading
Advertisement

رجحان