سیاست
کیجریوال کو تشدد زدہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے تشدد کی سخت مذمت اوراس پر زبردست غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دہلی جل رہی تھی تو وزیر اعلی اروند کیجریوال کہیں سو رہے تھے۔
عام آدی پارٹی کے کنوینر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کے تئیں سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جب عوام پر مصیبت کا وقت آیا تو وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ حالات سنیچر کی رات سے خراب ہورہے تھے جب بی جے پی کے ایک لیڈر نے دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہاکہ دہلی کے عوام نے نفرت کو مسترد کرتے ہوئے امن کو منتخب کیا تھا لیکن تشدد کے دوران امن کے پیامبر کہیں نظر نہیں آئے اور دہلی جلتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنما یہ کہکر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے کہ دہلی پولیس ان کے پاس نہیں ہے،دہلی کے ایک وزیر اعلی کی حیثیت سے یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ذمہ داری ہے اوریہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس کی بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہاکہ مسٹر کیجریوال اور ان کے اراکین اسمبلی اگر سڑکوں پر اترتے تو پولیس اور انتظامیہ پر حالات کو کنٹرول کرنے کے کئے دباؤ پڑتا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اب جب کہ متعدد افراد اس تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، سیکڑوں زخمی ہیں۔ان سب کو بچایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اتوار کے روزسے ہی شرپسند عناصر سڑکوں پر ننگا ناچ رہے تھے اگر اس وقت حالات پر قابو کرلیا گیا ہوتا تو دہلی کی یہ حالت نہیں ہوتی۔
مظاہرین نے شاہین باغ مظاہرہ کو پرامن رکھنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پورے ملک میں جاری مظاہرہ پرامن ہے اور ہر حال میں اسے پرامن رکھا جانا چاہئے کیوں کہ اس طرح کے حالات اس لئے پیدا کئے جارہے ہیں تاکہ اس کو بدنام کیا جاسکے اور حکومت اپنے مقصدمیں کامیاب ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین پرامن طریقے سے اپنا مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ تحمل اور صبر کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول جاری رکھیں گی۔
جعفر آبادمیں خاتو ن مظاہرین نے تشدد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ شرپسند اور فسطائی طاقتیں کچھ بھی کرلیں ہم لوگ اس وقت تک احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔کل تشدد اور پتھراؤ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ظلم و تشدد ہمیں اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹاسکتا۔ ان میں سے کئی زخمی خاتون نے کہاکہ اپنے عزم کے تئیں اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوگ سڑکوں پراس قانون کوواپس لینے کے لئے بیٹھی ہیں۔ اس کی واپسی کے بغیر ہم لوگ نہیں اٹھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح پولیس اور فسطائی طاقتوں نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے وہ نہایت ہی افسوسناک اور ملک کی شبیہہ کو داغدار کرنے والا ہے۔
دریں اثنا ء دہلی کے حالات پر قابو پانے کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ نے آج اعلی سطحی میٹنگ بلائی جس میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، پولیس کمشنر امولیہ پٹائک، کانگریس کے لیڈر رسبھا ش چوپڑا اور بی جے پی کے لیڈر منوج تیواری اور رام ویر سنگھ ودھوڑی شامل تھے۔ مسٹر کیجریوال نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں مسٹر شاہ کی میٹنگ کو اچھا قدم بتاتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دارالحکومت میں تشدد رکے۔میٹنگ میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں دہلی میں امن بحال کرنے میں تعاون کریں ۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
خوریجی میں خاتون مظاہرین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں،کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ کل مشہورسماجی کارکن شبنم ہاشمی سمیت متعدد لوگوں نے شرکت کرکے اظہار خیال کیا تھا۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،آرام پارک خوریجی،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی،سیلم پور فروٹ مارکیٹ، موج پوری،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، شاشتری پارک، کردم پوری، مصطفی آباد، کھجوری، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
طلاق ثلاثہ اور یکساں سول کوڈ پر مہاراشٹر اسمبلی میں ہنگامہ، قرآن و شریعت کے نفاذ کا ثنا ملک کا مطالبہ

ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب طلاق ثلاثہ اور یکساں سول کوڈ مساوی قانون یو سی سی پر بحث شروع تھی اس دوران این سی پی اجیت پوار گروپ کی لیڈر اور رکن اسمبلی ثنا ملک نے جارحانہ انداز میں کہا کہ تعداد ازدواج صرف مسلمانوں میں ہی عام نہیں ہے دیگر مذاہب میں بھی یہ عام ہے صرف مسلمان کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس پر بی جے پی ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک آئین دستور سے چلے گا قرآن یا شریعت سے نہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن، ‘تین طلاق’، تعدد ازدواج اور ‘یکساں سول کوڈ’ (یو سی سی) جیسے انتہائی حساس مسائل پر حکمراں اور حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے درمیان نوک جھونک ہوئی ۔بی جے پی ایم ایل اے دیویانی فراندے نےیکساں سول کوڈ پر سوال اٹھایا اس دوران این سی پی (اجیت پوار گروپ) کی ایم ایل اے ثنا ملک نے جارحانہ ر یہ اختیار کیا دیونانی نے یہاں یو سی سی کے نفاذ کا مطالبہ کیا توجہ طلب نوٹس کے،عرفت۔
بی جے پی ایم ایل اے دیویانی نے طلاق ثلاثہ کا مسئلہ پیش کیا”تین طلاق اور تعدد ازدواج کی وجہ سے مسلم خواتین کے ساتھ بڑی ناانصافی ہو رہی ہے۔ صرف پاکستان ہی تعدد ازدواج کا پابند ہے، لیکن ہندوستان میں ایسا نہیں ہے۔ ریاستی حکومت یکساں سول کوڈ کو کب نافذ کرے گی؟” یہ سوال کیا جس پر وزیر مملکت داخلہ یوگیش کدم نے یو سی سی کے لیے کمیٹی تشکیل سے متعلق تفصیل بتائی اور کہا کہ سرکار کا موقف اس میں واضح ہے، ریاستی حکومت یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ سے متعلق مثبت طریقے پر کام کر رہی ہے وزیر اعلیٰ نے قانونی مسودہ بھی تیار کر لیا ہے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی رپورٹ آنے کے بعد، یو سی سی کے نفاذ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ایک بار جب یو سی سی نافذ ہو جائے گا، تو یہ ملک کے ہر شہری پر یکساں طور پر قانون نافذ ہو گا۔ اس لیے کثرت ازدواج اور تعداد ازدواج پر پابندی ہو گی ، مسلمان قرآن و سنت پر عمل کرتا ہے وہ شریعت کا پابند ہے۔
ایم ایل اے ثنا ملک، نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان قرآن سنت اور شریعت پر عمل پیرا ہےاور بی جے پی کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور اراکین کہتے ہیں کہ پاکستان میں فلاں قانون نافذ ہے تو پاکستان کوئی منفرد کام نہیں کرتا وہ قرآن و حدیث پر کاربند ہےقرآنی تعلیمات کو ہی وہ نافذ کرتا ہے اس لئے میں مطالبہ کرتی ہوں کہ یہاں بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کیا جائے کیا صرف مسلمان مرد ہی ایک سے زیادہ شادی کرتے ہیں؟ تعددادازدواج دوسرے مذاہب میں موجود ہے۔ فرق یہ ہے کہ صرف مسلم مذہب میں ہی تعدد ازدواج کے لیے یکساں اصول و ضوابط ہیں۔ثناء ملک نے کہا، “طلاق حسن اور ‘طلاق احسن’ وہ اقسام ہیں جن کی ہم پیروی کرتے ہیں۔ لیکن ‘طلاق بدعت’ بذات خود ایک الگ ثقافتی عمل ہے، اس کا قرآن میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ اسی لیے ہندوستان میں اس کا وجود نہیں تھا، اس لیے حکومت نے اسے منسوخ کر دیا۔جس پر مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ طلاق بدعت کو مسلمان نہیں مانتے ۔ بی جے پی اراکین قرآن کے نفاذ کے ثنا ملک کے بیان پر آگ بگولہ ہو گئے اور کئی اراکین نے اس پر اعتراض بھی کیاکئی اراکین نے ثنا ملک سے کہا کہ “ہمیں قرآن پر لیکچر مت دو۔ یہ ملک قرآن پر نہیں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے آئین پر چلے گا۔ اس دوران، جب ثنا ملک کی ایوان میں مخالفت کی گئی اور ان کی لب کشائی پر بی جے پی نے ہنگامہ برپا کیا تو نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار گروپ) کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے ثنا کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ ایوان کی روایت ہے کہ اگر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے اظہار رائے کی آزادی دی جائے ثنا ملک کا مشورہ پسند آئے یا نہ آئے ان کی زبان بندی قطعی درست نہیں ہےمیں ثنا ملک کے موقف کا حامی ہوں
مانسون اجلاس میں ‘یکساں سول کوڈ’ (یو سی سی) اور ‘تین طلاق’ کے مسئلہ پر حکمراں عظیم اتحاد کے درمیان نظریاتی تنازعہ اور اختلاف سامنے آیا ہے ایک طرف بی جے پی اور شندے گروپ ہندو اور آئین کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں تو دوسری طرف مسلم رکن اسمبلی ثنا ملک شریعت اور اسلام سے متعلق ایوان میں بے باکی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انہوں پوری شدت کے ساتھ مسلم مسائل پر بی جے پی کو جواب دیاہےاس پر تنازع مزید شدید ہونے کا امکان اب روشن ہو گیا ہے ۔ دوسری طرف یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نتیش رانے بھی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے دستور پر چلے گا انہوں نے کہا کہ ایوان میں جب اس مسئلہ پر بحث ہو رہی تھی تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہم کراچی یا پاکستان کے ایوان میں بیٹھے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ہندوتوا کی سرکار ہے یہ دریافت کرنے پر کہ آیا مہایوتی کی رکن اسمبلی ثنا ملک نے ایوان میں یکساں سول کوڈ اور مسلم خواتین سے متعلق سوال پر اعتراض کیا اور کہا کہ مہاراشٹر میں کیا صرف مسلم خواتین پر ہی ظلم ہوتا ہے تو اس پر نتیش رانے نے کہا کہ جو بھی ہندوتوا کامسئلہ اٹھائیں گا ہم اس کی حمایت کریں گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر اسمبلی میں ڈرگس کے خلاف مختلف سوالات پر وزیر اعلیٰ کا دعوی، اپوزیشن کا ایوان سے واک آؤٹ

ممبئی مہاراشٹر اسمبلی کے دوسرے روز اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آوٹ کر کے کام کاج میں عدم موجودگی درج کروائی دوسری جانب عوامی مسائل پر سوال اور جواب کے دوران وزیر اعلی نے ڈرگس سے پاک ممبئی اور مہاراشٹر کےاپنے عزم مصمم کو دہرایا ۔ آج وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے ڈرگ مافیا کے خلاف پوچھے گئے مختلف سوالات پر تفصیلات پیش کیں ۔ فڈنویس نے واضح کیا کہ حکومت ممبئی اور مہاراشٹر کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے آج ایوان میں اعدادوشمار کے ساتھ یہ معلومات پیش کیں۔ اپوزیشن نے اعتراض کیا۔ پولیس پر سنگین الزامات لگائے گئے۔وزیراعلی فڑنویس نے اس کا تفصیلی جواب دیا۔ ریاست میں چار مہینوں میں 254 کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ حکومت نے اسمبلی کو بتایا کہ ریاست میں چار مہینوں میں 254 کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ جنوری سے اپریل 2026 تک ریاست میں منشیات رکھنے کے 1,142 کیس درج کیے گئے۔ حکومت نے اسمبلی کو بتایا کہ اس آپریشن میں 1,626 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور 254.53 کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ منشیات کے استعمال کے خلاف 3,199 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) کے تمام سات یونٹ ممبئی سمیت ریاست بھر میں انسداد منشیات کی کارروائیوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سال 2025 میں، اے این ٹی ایف اور پولیس نے مل کر 523.17 کروڑ روپے کی منشیات کو تباہ کیا۔ فڑنویس نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کے سلسلے میں حکومت کی ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی ہے اور قصوروار پائے جانے والے پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ ‘منشیات سے پاک ممبئی’ مہم، پولیس بڑے پیمانے پر ہفتہ وصولی میں ملوث پائی گئی ہے۔ ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف براہ راست کارروائی کی جائے۔ شرد پوار این سی پی لیڈر جینت پاٹل نے الزام لگایا کہ ہمیں آن لائن منشیات فراہم کی جارہی ہے ۔ اس دوران لیڈر جتیندر اوہاد نے الزام لگایا کہ منشیات کا ریکیٹ پولیس کی ملی بھگت سے چل رہا ہے۔ ہم ہمیشہ ایوان میں منشیات پر بحث کرتے ہیں۔ منشیات فروخت ہونے والی جگہوں کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینے پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ سنیل پربھو نے الزام لگایا کہ آج گلیوں میں منشیات فروخت ہو رہی ہیں۔ ریاست میں یہ ایک سنگین جرم ہے۔ محکمہ نارکوٹکد کیا کر رہا ہے؟ جینت پاٹل نے مطالبہ کیا کہ ہماری پولیس کو ان جگہوں پر بھیجا جائے جہاں ریاست سے باہر کی بندرگاہوں پر منشیات پائی جاتی ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ مہم اور منشیات سے پاک آگاہی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ایسے معاملات میں قصوروار پائے جانے والے تمام پولیس والوں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ہم نے نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کو توسیع دی ہے۔ ہم ہر تھانے میں ایک محکمہ قائم کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اچھے افسران کو اینٹی نارکوٹکس فورس میں تفویض کیا جائے۔ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے بتایا کہ میں اب ہر روز نارکوٹکس پرتفصیل طلب کی جائے گی ۔منشیات کے سرغنہ سلیم ڈولا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ستارہ میں بھی ایک فیکٹری ملی ہے اور وہ ان کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ممبئی پولیس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی پولیس نے مختلف ریاستوں میں جا کر منشیات کو تباہ کیا ہے۔ ہم نے ممبئی کے 3000 اسکولوں اور کالجوں میں پروگرام شروع کیے ہیں۔ ہم منشیات سے پاک زندگی گزارنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ منشیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو ہم انعامات دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس شخص کی شناخت ظاہر نہ ہو۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
منشیات، مساجد و مدارس کے تحفظ اور مسلمانوں پر مظالم کے خلاف آل انڈیا سنی جمعیت العلماء کی ہنگامی میٹنگ

ممبئی آل انڈیا سنی جمعیت العلماء کے زیر اہتمام دو ٹانکی واقع جامعہ قادریہ اشرفیہ سنی مسجد بلال میں منشیات کے بڑھتے رجحان، مساجد و مدارس کے تحفظ اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ایک پر ہونے والے مظالم کے۔ اجلاس کی صدارت پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا الشاہ سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی، صدر آل انڈیا سنی جمعیت العلماء نے فرمائی جبکہ سرپرستی بانی رضا اکیڈمی و نائب صدر آل انڈیا سنی جمعیت العلماء، اسیرِ مفتی اعظم محافظِ ناموسِ رسالت الحاج محمد سعید نوری نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں حضرت علامہ سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی نے نوجوانوں میں منشیات کی بڑھتی لعنت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اچھے اور معزز خاندانوں کے نوجوان بھی اس بری لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک فرد کی نشہ کی عادت پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے، اس لیے معاشرے کو اس ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مساجد و مدارس کے ذمہ داران کو ہدایت دی کہ اپنے تمام قانونی دستاویزات اور کاغذات مکمل اور درست رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قانونی سطح پر مؤثر جدوجہد کی جا سکے۔
الحاج محمد سعید نوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے موجودہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ مساجد، مدارس اور دینی اداروں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور ناموسِ رسالت ﷺ پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور جلد ہی مساجد و مدارس کے تحفظ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ ہالینڈ سے تشریف لائے ہوئے ممتاز عالم دین مفتی شفیق الرحمن نے میدانِ کربلا کے پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے انسانیت کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، برائیوں کے خاتمے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کا درس دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا امام حسینؓ کی تعلیمات کو اپنالے تو عالمی امن و اخوت کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔
ہانڈی والی مسجد کے خطیب و امام علامہ اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ پر حملے ایک منظم سازش کا حصہ ہیں جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں ایک مرتدہ کی جانب سے گستاخانہ حرکت پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی گئی اور آئندہ بھی ایسے عناصر کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔اجلاس میں قاری مشتاق احمد تیغی، قاری قطب الدین، مولانا عرفان علیمی، مولانا شاہ نواز، مولانا عبدالرحیم، قاری محفوظ احمد، مولانا ثناء اللہ، قاری نقیب، قاری احمد رضا، قاری الیاس، قاری اشفاق اور دیگر علماء و ائمہ مساجد نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر منشیات کے خاتمے، مساجد و مدارس کے تحفظ اور مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
