سیاست
کیجریوال کو تشدد زدہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے تشدد کی سخت مذمت اوراس پر زبردست غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دہلی جل رہی تھی تو وزیر اعلی اروند کیجریوال کہیں سو رہے تھے۔
عام آدی پارٹی کے کنوینر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کے تئیں سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جب عوام پر مصیبت کا وقت آیا تو وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ حالات سنیچر کی رات سے خراب ہورہے تھے جب بی جے پی کے ایک لیڈر نے دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہاکہ دہلی کے عوام نے نفرت کو مسترد کرتے ہوئے امن کو منتخب کیا تھا لیکن تشدد کے دوران امن کے پیامبر کہیں نظر نہیں آئے اور دہلی جلتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنما یہ کہکر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے کہ دہلی پولیس ان کے پاس نہیں ہے،دہلی کے ایک وزیر اعلی کی حیثیت سے یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ذمہ داری ہے اوریہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس کی بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہاکہ مسٹر کیجریوال اور ان کے اراکین اسمبلی اگر سڑکوں پر اترتے تو پولیس اور انتظامیہ پر حالات کو کنٹرول کرنے کے کئے دباؤ پڑتا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اب جب کہ متعدد افراد اس تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، سیکڑوں زخمی ہیں۔ان سب کو بچایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اتوار کے روزسے ہی شرپسند عناصر سڑکوں پر ننگا ناچ رہے تھے اگر اس وقت حالات پر قابو کرلیا گیا ہوتا تو دہلی کی یہ حالت نہیں ہوتی۔
مظاہرین نے شاہین باغ مظاہرہ کو پرامن رکھنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پورے ملک میں جاری مظاہرہ پرامن ہے اور ہر حال میں اسے پرامن رکھا جانا چاہئے کیوں کہ اس طرح کے حالات اس لئے پیدا کئے جارہے ہیں تاکہ اس کو بدنام کیا جاسکے اور حکومت اپنے مقصدمیں کامیاب ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین پرامن طریقے سے اپنا مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ تحمل اور صبر کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول جاری رکھیں گی۔
جعفر آبادمیں خاتو ن مظاہرین نے تشدد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ شرپسند اور فسطائی طاقتیں کچھ بھی کرلیں ہم لوگ اس وقت تک احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔کل تشدد اور پتھراؤ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ظلم و تشدد ہمیں اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹاسکتا۔ ان میں سے کئی زخمی خاتون نے کہاکہ اپنے عزم کے تئیں اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوگ سڑکوں پراس قانون کوواپس لینے کے لئے بیٹھی ہیں۔ اس کی واپسی کے بغیر ہم لوگ نہیں اٹھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح پولیس اور فسطائی طاقتوں نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے وہ نہایت ہی افسوسناک اور ملک کی شبیہہ کو داغدار کرنے والا ہے۔
دریں اثنا ء دہلی کے حالات پر قابو پانے کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ نے آج اعلی سطحی میٹنگ بلائی جس میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، پولیس کمشنر امولیہ پٹائک، کانگریس کے لیڈر رسبھا ش چوپڑا اور بی جے پی کے لیڈر منوج تیواری اور رام ویر سنگھ ودھوڑی شامل تھے۔ مسٹر کیجریوال نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں مسٹر شاہ کی میٹنگ کو اچھا قدم بتاتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دارالحکومت میں تشدد رکے۔میٹنگ میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں دہلی میں امن بحال کرنے میں تعاون کریں ۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
خوریجی میں خاتون مظاہرین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں،کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ23ویں دن میں داخل ہوگیا۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ کل مشہورسماجی کارکن شبنم ہاشمی سمیت متعدد لوگوں نے شرکت کرکے اظہار خیال کیا تھا۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،آرام پارک خوریجی،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی،سیلم پور فروٹ مارکیٹ، موج پوری،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، شاشتری پارک، کردم پوری، مصطفی آباد، کھجوری، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
بین القوامی
چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی توجہ جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ پر ہے۔

واشنگٹن: چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کا سامنا کرتے ہوئے، امریکی حکام نے سینیٹرز کو بتایا کہ جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ عالمی مقابلے کے اگلے مرحلے کی تشکیل کے لیے واشنگٹن کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھیں گے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی تصدیقی سماعتوں میں، اعلیٰ سفارتی عہدوں کے لیے نامزد افراد نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن (آسیان)، افریقی ترقیاتی بینک، اور عالمی تعلیم اور ثقافتی رسائی سے متعلق ترجیحات کا خاکہ پیش کیا، جو امریکی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کی وسیع تر کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) میں امریکی سفیر کے لیے نامزد کیون کم نے جنوب مشرقی ایشیا کو عالمی تجارت اور سلامتی کا ایک اسٹریٹجک مرکز قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنوب مشرقی ایشیا سمندری راستوں پر واقع ہے جہاں سے ہر سال عالمی جہاز رانی کا ایک تہائی گزرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہند-بحرالکاہل کا خطہ “آزاد اور کھلا” رہے۔ کم نے اس بات پر زور دیا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن (آسیان) کی معیشتیں، تقریباً چار ٹریلین ڈالر کی مشترکہ جی ڈی پی کے ساتھ، امریکی اشیاء کے لیے ایک بڑی برآمدی منڈی ہے۔ یہ ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہو گی کہ امریکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے لیے “پسند کا پہلا پارٹنر” رہے۔ اس میں تجارتی رسائی کو بڑھانا، سپلائی چین کو مضبوط کرنا اور علاقائی قوانین کی تشکیل شامل ہے۔ کم نے دلیل دی کہ امریکہ کو ساختی فوائد حاصل ہیں، بشمول براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا ایک بڑا ذریعہ۔ انہوں نے کہا، “ہم اب بھی جنوب مشرقی ایشیا میں ایف ڈی آئی کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہیں، اور اس سے خطے کی اقتصادی پالیسیوں کو متاثر کرنے میں مدد ملتی ہے۔” افریقہ کے بارے میں، افریقی ترقیاتی بینک میں امریکی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے نامزد اڈیمولا اڈویل-صادق نے کہا کہ واشنگٹن کو اقتصادی اور تزویراتی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بڑے شیئر ہولڈر کے طور پر اپنے کردار کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ اس نے کہا، “ہم دوسرے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں… اور اس کا مطلب کچھ ہونا چاہیے،” اور ترقیاتی منصوبوں میں امریکی کمپنیوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے افریقہ کو ایک طویل المدتی اسٹریٹجک سرحد کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کی ترقی عالمی جی ڈی پی میں توسیع کے واحد سب سے بڑے موقع کی نمائندگی کرتی ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ امریکہ کی مضبوط شمولیت سے امریکی اور افریقی معیشتوں دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
جرم
ممبئی: غیر ملکی شہری کو لوٹنے کے الزام میں دو پولیس اہلکار گرفتار، تین دیگر کی تلاش جاری ہے۔

ممبئی کے جوہو علاقے میں دو پولیس کانسٹیبلوں کو ایک فاریکس کمپنی کے ڈیلیوری ایگزیکٹیو کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور اس سے 10,000 امریکی ڈالر لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ چوری کی رقم ابھی تک برآمد نہیں ہو سکی۔ ممبئی پولیس حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں تین دیگر ملزمان ابھی تک فرار ہیں اور ان کی تلاش کی جا رہی ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت سندیپ شندے (33) اور گجیندر راجپوت (40) کے طور پر کی گئی ہے۔ انہیں بالترتیب باندرہ-کرلا کمپلیکس اور جوگیشوری پولیس اسٹیشنوں میں تعینات کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جرم کرنے کے لیے اپنی وردی اور عہدے کا غلط استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ دوپہر دو بجے کے قریب پیش آیا۔ 25 مارچ کو متاثرہ، باندرا کی ایک فاریکس کمپنی میں ڈیلیوری ایگزیکٹو ہے، غیر ملکی کرنسی کی ترسیل کے لیے جوہو کے علاقے میں پہنچا تھا۔ ملزمان نے اسے جوہو سرکل کے قریب ارٹیگا کار سے زبردستی اغوا کر لیا۔ کار کے اندر ملزمان نے اس پر حملہ کیا اور اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد ملزمان متاثرہ کو دہیسر لے گئے، جہاں انہوں نے 10,000 ڈالر پر مشتمل ایک بیگ چھین لیا۔ الزام ہے کہ اس دوران متاثرہ کو بار بار مارا پیٹا گیا۔ تاہم، متاثرہ نے خطرے کی گھنٹی بجائی، اور آس پاس کے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پورے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی گشتی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ہجوم کو قریب آتا دیکھ کر ملزمان فرار ہو گئے تاہم پولیس صرف ایک کو گرفتار کر سکی جبکہ دوسرا بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔ فاریکس کمپنی کے ڈیلیوری ایگزیکٹیو کی ڈکیتی کی اطلاع ملنے پر پولیس کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچے اور دوسرے ملزم گجیندر راجپوت کو تھانے میں اس کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں ملزمان کے خلاف اغوا، بھتہ خوری، ڈکیتی اور سرکاری ملازم کا روپ دھارنے سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس فی الحال سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور کئی ٹیمیں تین مفرور ملزمان کی تلاش میں ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
جرم
ممبئی: شادی کے بہانے خاتون سے زیادتی، ملزم نوجوان گرفتار

ممبئی کے نہرو نگر علاقے میں شادی کے بہانے نوجوان خاتون کی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے پہلے خاتون سے دوستی کی اور رفتہ رفتہ اس کے قریب ہونے لگا۔ اس نے اس سے شادی کرنے کا وعدہ کرکے اس کا اعتماد حاصل کیا۔ اس اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف متعدد بار جسمانی تعلقات بنائے۔ جب خاتون نے اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالا تو اس نے صاف انکار کر دیا اور خود کو اس سے دور کرنا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب خاتون نے اس پر شادی کے لیے بار بار دباؤ ڈالا تو ملزم نے اس سے بات کرنا چھوڑ دی اور وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد متاثرہ نے نہرو نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ شکایت ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا اور بعد میں اسے باقاعدہ گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی سنگینی کے پیش نظر ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے۔ متاثرہ کو ذہنی مدد فراہم کرنے کے لیے قانونی مدد اور مشاورت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم اس سے باہر ملا۔ آہستہ آہستہ ان کی دوستی ہوگئی اور ملزم اس سے شادی کا وعدہ کرکے اس کے گھر آنے جانے لگا۔ اس کے بعد کئی سال تک اس کی مرضی کے خلاف اس کے ساتھ جسمانی تعلقات بنائے اور شادی کی باتیں کرتا رہا۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ کئی سالوں سے لڑکی نے اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا جس کے بعد ملزم نے اس سے بات کرنا بند کر دی اور شادی سے انکار کر دیا۔ متاثرہ نے جب پولیس کو معاملے کی اطلاع دینے کی بات کی تو ملزم اسے دھمکیاں دینے لگا۔ اس کے بعد متاثرہ نے پورے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی۔ پولیس کے مطابق ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس نے شادی کا اعتراف کر لیا ہے۔ دونوں خاندانوں سے بات کی جا رہی ہے تاکہ معاملے کو جلد حل کیا جا سکے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
