Connect with us
Thursday,08-October-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

کشمیر: طلبا رول نمبر سلپیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور

Published

on

Jammu-and-Kashmir

وادی کشمیر میں اگرچہ ٹوجی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال ہوئی ہیں تاہم سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس کی مسلسل معطلی کے باعث طلبا کو فارم جمع کرنے یا رول نمبر سلپیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے متعلقہ ضلع مجسٹریٹ دفاتر کے چکر برابر کاٹنے پڑرہے ہیں۔طلبا کا کہنا ہے کہ ٹوجی انٹرنیٹ سروس کی بحالی ان کے لئے نامراد ثابت ہورہی ہے جس کے باعث ان کے مشکلات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
طلبا کے ایک گروپ جو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نظامت فاصلاتی تعلیم میں مختلف پی جی، انڈر گریجویٹ، ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ کورسز میں زیر تعلیم ہیں، نے یو این آئی اردو کو بتایا: ’ہم 8 ہزار طلبا مانو میں مختلف مضامین بشمول پوسٹ گریجویشن اور گریجویشن کررہے ہیں، ہمارے امتحانات مارچ میں ہونے والے ہیں، لیکن ہمیں اپنی رول نمبر سلپیں ڈائون لوڈ کرنے کے لئے ضلع مجسٹریٹ کے دفاتر کا چکر کاٹنا پڑرہا ہے کیونکہ ایک تو ہماری یونیورسٹی کی ویب سائٹ وائٹ لسٹڈ یونیورسٹیوں کی ویب سائٹوں میں شامل ہی نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارے علاقائی مرکز میں بی ایس این ایل کا براڈ بینڈ انٹرنیٹ ہے جو سرکاری حکمنامے کے باوجود مسلسل معطل ہے‘۔
طلبا کا کہنا ہے کہ رول نمبر سلپ ڈائون لوڈ کرنے کے لئے ضلع مجسٹریٹ دفاتر کا چکر کاٹنا ان کے لئے درد سر ہی نہیں بلکہ سوہان روح بھی بن گیا ہے۔
دریں اثنا یونیورسٹی کے علاقائی ناظم ڈاکٹر اعجاز اشرف نے طلبا کو درپیش اس پریشانی پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا: ’میں بے بس و بے کس ہوں، میں نے کئی بار حکام کو لکھا کہ میرے سینٹر میں براڈ بینڈ سروس کو بحال کریں لیکن کسی نے کان دھرنے کی زحمت گورا نہیں کی، اگر سینٹر کا برڈ بینڈ انٹرنیٹ بحال ہوتا تو بچے وہیں رول نمبر سلپیں ڈائون لوڈ کرتے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ہماری براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس بند ہے دوسری طرف ہماری یونیورسٹی کی ویب سائٹ وائٹ لسٹڈ ویب سائیٹوں میں شامل بھی نہیں ہے۔
موصوف ناظم نے کہا کہ ایک طرف تعلیمی اداروں میں انٹرنیٹ سہولیت کی بحالی کے دعوے کئے جارہے ہیں اور دوسری طرف مانو جیسے مرکزی تعلیمی ادارے کے ریجنل سینٹر میں انٹرنیٹ بحال نہیں کیا جارہا ہے جو قابل افسوس ہی نہیں بلکہ افسردگی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی مرکز میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات لگاتار بند رہنے کے باعث وہ حیدرآباد میں واقع ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ضروری خط وکتابت و رابطہ فیکس یا پوسٹل محکمے کی وساطت سے کررہے ہیں جو نہ صرف کار طویل ہے بلکہ کارے دارد والا معاملہ بھی ہے۔ یونیورسٹی کی تمام تر سرگرمیاں آن لائن انجام پاتی ہیں اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی سے ہمارا مرکز عضو معطل بن کے رہ گیا ہے۔
ایک طلاب علم، جو اردو میں پی جی کررہا ہے، نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک تو ہم امتحان میں تاخیر ہونے کے باعث پریشان تھے ہی تو دوسری طرف اب ہم رول نمبر سلپس ڈاون لوڈ کرنے کے لئے پریشان ہیں، اس سے ہماری امتحان کے لئے تیاریوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ یوں تو ہرجگہ طلبا کے لئے ترجیحی بنیادوں پر سہولیات بہم رکھی جاتی ہیں لیکن یہاں معاملہ اس کے عین برعکس ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نظامت فاصلاتی تعلیم کے سالانہ امتحانات بمطابق شیڈول گزشتہ برس ستمبر تا اکتوبر میں ہونے والے تھے لیکن یہاں نامساعد حالات کے پیش نظر امتحانات کو موخر کیا گیا تھا جو اب 11 مارچ سے منعقد ہونے والے ہیں۔
کنٹرولر امتحانات مرزا فرحت اللہ بیگ کے مطابق سالانہ امتحانات ستمبر 2019 میں ہونے والے تھے لیکن جموں وکشمیر میں نامساعد حالات کے پیش نظر ان امتحانات کو وہاں ملتوی کرنا پڑا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گھاٹ کوپر سڑک توسیع سے متاثرہ 28 تعمیرات مسمار

Published

on

ممبئی ؛ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘این’ وارڈ (این وارڈ) دفتر کی جانب سے، گھاٹ کوپر (مغربی) میں جھنجھن والا کالج اور اندھیری گھاٹ کوپر لنک روڈ کے درمیان سڑک کی توسیع سے متاثرہ 28 تعمیرات کو مسمار کرنے کی کارروائی گزشتہ روز (7 اکتوبر 2026) عمل میں لائی گئی۔ مسماری کی یہ مہم اسسٹنٹ کمشنر (‘این’ وارڈ) جے دیپ مورے کی قیادت میں چلائی گئی۔ اس کارروائی کے دوران میونسپل افسران اور عملے کے ساتھ ساتھ پولیس کی مناسب سیکیورٹی بھی تعینات کی گئی تھی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

تلنگانہ سائبر سیکیورٹی بیورو کی جنوبی بھارت میں کارروائی، 101 افراد گرفتار۔

Published

on

حیدرآباد : پورے جنوبی ہندوستان میں ایک مربوط اور جامع کثیر ریاستی سائبر کرائم آپریشن میں، تلنگانہ سائبر سیکورٹی بیورو (ٹی جی سی ایس بی) نے 101 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں 18 خواتین بھی شامل ہیں، اور تقریباً 17 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے لین دین کا سراغ لگایا ہے۔ دو ہفتے کے آپریشن کا آغاز 23 ستمبر کو تامل پردیش، ناکارہ، ناکا اور پردیش، کرناٹا، اور ناناٹا میں ہوا۔ ٹی جی سی ایس بی کی ڈائریکٹر شیکھا گوئل نے بدھ کو کہا کہ تلنگانہ، اور پڈوچیری، سائبر سے چلنے والے مالیاتی جرائم کی مختلف شکلوں میں ملوث افراد اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ٹی جی سی ایس بی کی قیادت میں یہ دوسرا بیک وقت کثیر ریاستی آپریشن ہے، جس نے ریاست بھر میں سائبر کرائم کے متعدد نیٹ ورکس کی شناخت، ٹریس اور گرفتاری کی مسلسل کوششوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ جورِسڈکشنز۔گوئل نے ایک ریلیز میں کہا کہ 100 سے زیادہ ٹی جی سی ایس بی اہلکاروں پر مشتمل چھ وقف خصوصی ٹیمیں مربوط فیلڈ سطح کی کارروائی کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ گرفتار کیے گئے افراد میں سے 19 کی شناخت ایجنٹ کے طور پر اور 81 کی خچر کھاتہ دار کے طور پر کی گئی ہے۔

کیرالہ میں 35 گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ آندھرا پردیش سے 22 اور کرناٹک سے 17 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ تمل ناڈو سے 14، تلنگانہ سے 12، اور ایک پڈوچیری سے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں متعدد موبائل فون، سم کارڈ، بینک پاس بک، اور چیک بک بھی ضبط کی گئیں جو مبینہ طور پر مختلف دھوکہ دہی کے لین دین میں استعمال کی گئی تھیں۔ تقریباً 17 کروڑ روپے کی فراڈ ٹرانزیکشنز کا سراغ لگایا گیا، جن کی تفتیش سے پتہ چلا کہ ملزمان کے کھاتوں اور عمر کے مختلف گروہوں سے تعلق ہے۔ تعلیمی پس منظر ملزمان کی اکثریت، 82 فیصد، 20-50 سال کی عمر کے گروپ میں تھی، جب کہ 17 فیصد 50 سال سے اوپر کے تھے۔ کاروبار/خود روزگار 23 فیصد پر سب سے بڑا گروپ تشکیل دیا گیا، اس کے بعد نجی ملازمت (13 فیصد)، گھریلو خواتین/گھرنے والے (10 فیصد)، سیلز/آپریٹر (5 فیصد)، ڈرائیورز/7 فیصد فیصد)۔ تعلیمی لحاظ سے، 26 فیصد نے انٹرمیڈیٹ تعلیم حاصل کی، 24 فیصد نے گریجویٹ/ڈگری ہولڈرز، 16 فیصد نے ثانوی تعلیم حاصل کی، 11 فیصد غیر تعلیم یافتہ، 7 فیصد کے پاس ڈپلومہ/آئی ٹی آئی کی اہلیت، 4 فیصد کے پاس پرائمری تعلیم تھی، جبکہ 3 فیصد کے پاس پرو پوسٹ گریجویٹ اور اسی طرح کی بی ٹی کی اہلیت تھی۔ نرسنگ۔نرسنگ.آپریشن نے ملک بھر میں سائبر کرائم کے وسیع روابط رکھنے والے متعدد ملزمین کی نشاندہی کی، جن میں ایک سرکردہ فرم کا ملازم بھی شامل ہے جس نے مبینہ طور پر کمیشن کے لیے سائبر کرائم کے فراڈ کرنے والوں کے لیے خچر بینک اکاؤنٹس کی سہولت فراہم کر کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا، منی ایکسچینج کے کاروبار میں مصروف ایک گریجویٹ جس نے مبینہ طور پر سہولت فراہم کی، کمیشن کی بنیاد پر مبینہ طور پر ایک کھچرے کے اکاؤنٹس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ سرگرمیاں اور ملک بھر میں سائبر کرائم کے چھ کیسز سے منسلک ہیں۔

بیورو نے ملک بھر میں سائبر کرائم کے 26 کیسوں سے منسلک فلم ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ رکھنے والے ایک ملزم کو بھی گرفتار کیا، ایم کام کی اہلیت رکھنے والے ایک تاجر کو 34 سائبر کرائم لنکس سے منسلک کیا گیا، فلپ کارٹ کا ایک ملازم اور گریجویٹ جس کا بینک اکاؤنٹ مبینہ طور پر سائبر کرائم سے متعلق دھوکہ دہی کے معاملات کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور بھارت بھر میں کمیشن کے ساتھ لین دین کیا گیا تھا۔ ایم بی اے گریجویٹ کمپنیوں کے ایک گروپ کے مارکیٹنگ ہیڈ کے طور پر کام کر رہا ہے، جو ملک بھر میں سائبر کرائم کے 15 کیسز سے منسلک ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سائبر فراڈ کرنے والوں نے ایجنٹوں اور بیچوانوں کے ذریعے خچر کے بینک اکاؤنٹس حاصل کیے اور انہیں مختلف چینلز کے ذریعے فراڈ فنڈز وصول کرنے، ٹرانسفر کرنے اور نکالنے کے لیے استعمال کیا۔ اکاؤنٹ ہولڈرز اور بیچوانوں کو اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین کی گئی دھوکہ دہی کی رقم کا 5 فیصد تک کمیشن ادا کیا گیا۔ آپریشن کے دوران گرفتاریاں سات ٹی جی سی ایس بی سائبر کرائم پولیس اسٹیشنوں (سی سی پی ایس) میں درج 51 مقدمات سے منسلک ہیں۔ اب تک، ہندوستان بھر میں 1,172 جرائم کے لنکس کا پتہ لگایا گیا ہے، جن میں تلنگانہ سے منسلک 206 شامل ہیں۔ گوئل نے کہا کہ 101 گرفتار ملزمان میں سے 50 کے پورے ہندوستان میں پانچ سے زیادہ جرائم کے روابط ہیں، جو آپریشن کے دوران شناخت کیے گئے سائبر کرائم روابط کے وسیع نیٹ ورک کو اجاگر کرتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی ٹیراپوزم اور دیگر ادویات نشہ آور اشیاء سمیت ایک مشتبہ شخص گرفتار

Published

on

ممبئی نشہ آور اشیاء مخالف دستہ (دیونار پولیس تھانہ دفعہ 8 (ک) سہ 22(ک) این ڈی پی ایس ایکٹ 1985
۶ اکتوبر کو صبح 10.40 بجے سے 12.40 بجے کے دوران پولس نے ایک مشتبہ شخص کی تلاشی لی اور اس کے پاس سے نشہ آور ادویات برآمد کی گئی ہے جس میں قیمت تقریباً 1,98,00,000/- قیمت کا 02 کلو 475 گرام وزن کا کل 4500 ‘ این آئی ٹی کور-10 نام کی نائٹرازپام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاء 2) قیمت تقریباً 55,12,000/- قیمت کا 689 گرام وزن کا کل 5300 ‘ پروکالم-1 نام کی الپرازولام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاءکل قیمت تقریباً 2,53,12,000/- قیمت کی نشہ آور اشیاء نشہ آور اشیاء مخالف یونٹ ورلی یونٹ کی ٹیم ممبئی شہر میں نشہ آور اشیاء خرید و فروخت کرنے والے، فراہم کرنے والے، ذخیرہ کرنے والے افراد کی تلاش کر رہی تھی تب ٹیم کو قابل اعتماد مخبر سے خبر ملی کہ، ڈاکٹر ذاکر حسین نگر، گوونڈی، ممبئی اس جگہ پر ایک شخص نشہ کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی گولیوں کی نشہ آور اشیاء کی فروخت کر رہا ہے۔ مذکورہ خبر کی تصدیق کرکے ایک شخص کے گھر سے قیمت تقریباً 1,98,00,000/- قیمت کا 02 کلو 475 گرام وزن کا کل 4500 ‘ این آئی ٹی کور-10 نام کی نائٹرازپام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاء اور قیمت تقریباً 55,12,000/- قیمت کا 689 گرام وزن کا کل 5300 ‘ پروکالم-1 نام کی الپرازولام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاء ایسا کل قیمت تقریباً 2,53,12,000/- قیمت کی نشہ آور اشیاء ضبط کی گئی ہے۔مذکورہ کامیاب کارکردگی جناب ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، ممبئی جوائنٹ پولس کمشنر انل کنبھارے، (جرائم)کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی پورنیما چوگلےشرنگی، ورلی یونٹ کے انچارج سنتوش سالونکھے کی قیادت میں،روہت سالی اور ٹیم نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان