Connect with us
Wednesday,01-April-2026

(جنرل (عام

مذہبی رواداری ہندوستان کی بنیادی شناخت ہے: مولانا سید ارشد مدنی

Published

on

maluana

ہمارا ملک ہندوستان صدیوں سے امن واتحاد اور محبت کا گہوارہ رہا ہے، یہ ایک کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی ملک ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، مذہبی رواداری ہندوستان کی بنیادی شناخت ہے، ہمارے ملک کا آئین ہرشہری کو برابرکے حقوق دیتاہے اور مذہب زبان، علاقہ کی بنیادپر کسی شہری کے ساتھ بھیدبھاؤ کرنا ہندوستان کے آئین کے روح کے سراسرخلاف ہے،مگر افسوس ادھر چندبرسوں سے جس طرح ملک کی موجودہ حکومت صرف سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے مذہبی بنیادپر نفرت کا بازارگرم کئے ہوئے ہے اور جس طرح اقلیت واکثریت کے درمیان اختلافات کی دیوارکھڑی کرکے ووٹ بینک کی سیاست کررہی ہے،اس سے ملک کے حالات انتہائی دھماکہ خیز ہوچکے ہیں، ان خیالات کا اظہار جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے ممبئی میں شروع ہورہے جمعیۃعلماء ہندکے چارروزہ مجلس عاملہ اور مجلس منتظمہ کے اجلاس سے قبل ممبئی کے مراٹھی پتر کار سنگھ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ حکومت سی اے اے، این پی آراور این آرسی کی آڑمیں فرقہ ورانہ ایجنڈے کے تحت ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے اپنے ناپاک عزائم کی طرف عملی طورپر قدم بڑھارہی ہے جس میں مذہبی اقلیتیں اپنے مذہبی تشخص سے محروم ہوکر اکثریت میں ضم ہوکر رہ جائیں گی، جو یقینا ملک کی سالمیت ویکجہتی کے لئے خطرناک بات ہوگی،صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ سی اے اے کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ جن لوگوں کو شہریت دینا چاہتے ہیں دیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جس طرح مذہب کی بنیادپر ایک مخصوص طبقہ کو اس قانون کے دائرہ سے الگ کردیا گیا ہے ہمیں اس پر اعتراض ہے کیونکہ یہ ملک کے سیکولردستورکے سراسرخلاف ہے، آپ مذہب کی بنیادپر کسی شہری کے ساتھ امتیاز نہیں برت سکتے اس کی کھلی وضاحت آئین میں موجود ہے ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم این پی آرکی موجودہ شکل کے خلاف ہیں اس کے خلاف جمعیۃعلماء ہند نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ این پی آرکی موجودہ شکل اس لئے انتہائی خطرناک ہے کہ اس میں جو نئی نکات جوڑی گئی ہیں وہ غیر ضروری ہیں مولانا مدنی نے کہا کہ جب این پی آر شروع ہوگا تو سرکل افسرکو یہ اختیاربھی حاصل ہوگا کہ وہ جس شخص کو بھی چاہے ڈی ووٹر قراردیدے ہم نے آسام میں اس کا خطرناک تجربہ دیکھاہے اس صورت میں مشکوک قراردیئے گئے شخص کو ووٹ دینے کا اختیارنہیں ہوگا انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی زدمیں مسلمان ہی نہیں ہندوبھی بڑی تعدادمیں آجائیں گے ان سے جب پوچھاگیا کہ حکومت نے ابھی این پی آرکا کوئی فارمیٹ جاری نہیں کیا ہے تو آپ اس طرح کے خدشات کا اظہارکیوں کررہے ہیں اس پر مولانا مدنی نے کہا کہ یہ بات سامنے آگئی ہے کہ 1951سے لیکر 2010خطوط پر این پی آریا مردم شماری ہوتی رہی ہے اس باران خطوط پرنہیں ہوگی بلکہ اس میں بعض ایسی معلومات بھی طلب کی جائیں گی جن کی تفصیل فراہم کرنا ہر شہری کیلئے ایک مشکل امر ہوگا انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اندیشے کا شکار اس لئے بھی ہیں کہ پچھلے چھ برس سے موجودہ حکومت فرقہ ورانہ ایجنڈے پر عمل پیراہے، سی اے اے جیسے قانون کو لانا اس کا بین ثبوت ہے اور اب این پی آرکو لیکر جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ حکومت کے ایجنڈے کو ظاہر کردیتاہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ این پی آرہی این آرسی کی اولین شکل ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون، قومی رجسٹربرائے شہریت (این آرسی)اور این پی آر کے علاوہ ملک کی موجودہ صورت حال مسلمانوں کو درپیش مسائل سمیت کئی دیگر اہم مسائل پر ملک کی قدیم ترین ملی جماعت جمعیۃعلماء ہند کا ممبئی میں جو چارروزہ اجلاس ہورہا ہے، اس کا اختتام 23/فروری کو آزادمیدان میں کل ہند تحفظ جمہوریت کانفرنس پر ہوگا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اترپردیش حکومت کی جانب سے دیوبند میں اجلاس عام منعقد کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد اب جمعیۃعلماء ہند اسی اجلاس کو ممبئی میں منعقدکررہی ہے، واضح رہے کہ گزشتہ سال 19-18-17/اکتوبر کو اجلاس مجلس منتظمہ دیوبند میں منعقد ہونا تھا مگر اجازت ملنے کے بعدبھی انتظامیہ کے ذریعہ اچانک اجلاس کو روک دیا گیا اور یہ کہاگیا تھا کہ ضمنی انتخاب ہورہا ہے اس لئے اجلاس نہیں ہوسکتا، یہ پہلاموقع تھا کہ جب جمعیۃعلماء ہند کے اجلاس کو روکا گیا اس کے بعد دہلی میں انہی تاریخوں میں اجلاس کرنے کی کوشش کی گئی مگر یہاں بھی کامیابی نہیں مل سکی، لیکن ہمیں پروگرام کرنا تھا کیونکہ ہم ملک کے موجودہ حالات سے غفلت نہیں برت سکتے تھے،ہمیں اپنے لوگوں کو ایک لائحہ عمل اور پیغام دینا تھا اسی لئے یہ اہم اجلاس یہاں ہورہا ہے۔مولانا مدنی نے ایک بارپھرکہا کہ ہم نہ تو کسی خاص پارٹی کے حامی ہیں اور نہ ہی مخالف، ہم ملک کے اتحاد اور سالمیت کے حامی ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں مگر یہ سچ نہیں ہے ہم تو صرف اس ذہنیت یا نظریہ کی مخالف ہیں جو ملک کے اتحاداور یکجہتی کی بنیادکو اکھاڑدینے کی سازشوں میں مصروف ہیں ملک میں ایک اور تقسیم کے حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ یہ حکومت اچھے دن لانے کا وعدہ کرکے اقتدارمیں آئی تھی لیکن اب اس نے اپنی تمام ترتوجہ فرقہ وارانہ ایجنڈے پر مرکوزکردی ہے، جو ایک سیکولرملک کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں۔، سی اے اے جیسے سیاہ قانون کے خلاف پرامن احتجاج کو جگہ جگہ ڈنڈے کے زورسے کچلنے کی کوشش ہورہی ہے، مولانا مدنی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ 15/دسمبر کو اترپردیش میں آئین کے ذریعہ دیئے گئے احتجاج کے حق کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین جب پرامن طورپر سڑکوں پر اترے تو پولس نے نہ صرف اپنی وحشیانہ کارروائی کا نشانہ بنایا بلکہ مظاہرین کے سینوں پر سیدھے سیدھے گولیاں ماری گئیں، بعد میں دلیل دی گئی کہ خودمظاہرین نے پولس پر حملہ کیا جس کے جواب میں لاٹھی چارج ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ کتنی حیر ت انگیز بات ہے کہ مظاہروں کے دوران ہوئے مالی نقصان کی بھرپائی مظاہرین پر بھاری جرمانہ عائد کرکے کی جارہی ہے مگر پولس کے ہاتھوں جو جانی نقصان ہوا اس کی بھرپائی کے بارے میں نہ تو یوپی حکومت نے سوچااور نہ ہی مرکزی حکومت نے۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ ڈراور خوف کی سیاست ہورہی ہے اور غیر جمہوری وغیر آئینی فیصلوں کو عوام پر جبراتھوپنے کی سازش ہورہی ہے، چنانچہ جو لوگ جمہوری طریقہ سے ان فیصلوں کی مخالفت کررہے ہیں انہیں غداراور ملک دشمن قراردیا جارہا ہے، مولانا مدنی نے آخرمیں کہا کہ ہم سی اے اے اور این پی آرکے نفاذ کے خلاف سپریم کورٹ میں گئے ہیں اور عدالت نے اس پر حکومت ہند کو نوٹس بھی جاری کردیا ہے کیونکہ جمعیۃعلماء ہند ایسے تمام معاملوں میں جن کا سیاسی طورپر کوئی حل نہ نکل سکے قانونی جدوجہد کا راستہ اختیارکرتی ہے، متعدد اہم معاملوں میں عدلیہ سے ہمیں انصاف ملا ہے اس لئے ہم پرامید ہیں کہ سی اے اے اور این پی آر کے معاملوں میں بھی کوئی بہتر اور قابل قبول فیصلہ سامنے آئے گا انہوں نے کہا کہ منتظمہ کے اجلاس میں ان تمام امورپر بحث اور غوروخوض ہوگا اس کے بعد جو بھی لائحہ عمل تیارہوگا اس کا اعلان 23/فروری کو آزادمیدان کے اجلاس میں ہوگا انہوں نے کہا کہ یہ جو حالات پیداہوئے ہیں یا جو ایشوز ہمارے سامنے ہیں ان کا ہندوومسلمان سے کوئی تعلق نہیں ہے اسے مذہب کی عینک سے دیکھنا صحیح نہیں ہوگا بلکہ بڑاسوال آئین کی بالادستی اور ملک کے سیکولرکردارکو باقی رکھنے کا ہے اور اس کے لئے ملک کے ہر سچے شہری کو سوچناہوگا

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی تاریخ میں پہلی بار پراپرٹی ٹیکس نے بلند ترین سنگ میل عبور کیا ہے

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے امسال پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے معاملے میں ریکارڈ توڑ کارکردگی حاصل کی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے تمام سابقہ ​​ریکارڈ توڑتے ہوئے میونسپل کارپوریشن نے مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کردہ 7,341 کروڑ روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 7,610 کروڑ 90 لاکھ روپے کا پراپرٹی ٹیکس جمع کیا ہے۔ 31 مارچ 2026 کو ایک ہی دن میں 399 کروڑ 74 لاکھ روپے کا ریونیو جمع کرکے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے اس شاندار کامیابی پر ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین کی تہہ دل سے تعریف کی ہے اور ان کے کام کی تعریف کی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ممبئی کے شہریوں کو مختلف شہری خدمات اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ان خدمات کے معیار کو بڑھانے اور ان کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قابل مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں، پراپرٹی ٹیکس ایک بہت اہم، مستحکم اور قابل اعتماد آمدنی کا ذریعہ ہے۔ اس پس منظر میں، ایڈیشنل میونسپل کمشنرڈاکٹر اشونی جوشی کی رہنمائی میں، اور جوائنٹ کمشنر (ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) مسٹر وشواس شنکروار اور ٹیکس اسیسسر اور کلکٹر مسٹر گجانن بیلے کی نگرانی میں، ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کیں۔میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات کے وسیع اور ذمہ دارانہ کام کی کامیابی کے بعد بھی ٹیکسیشن اینڈ کلیکشن ڈیپارٹمنٹ کے تمام افسران اور ملازمین نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے غیر معمولی لگن، مستقل مزاجی اور توقعات سے بڑھ کر کام کیا۔ یہ یقیناً ایک خاص اور انتہائی قابل تعریف معاملہ ہے پراپرٹی ٹیکس کی بروقت ادائیگی کے لیے شہریوں میں وسیع پیمانے پر آگاہی پیدا کی گئی۔ ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے عام تعطیلات کے ساتھ ساتھ ہفتے کے آخر میں شہری سہولت مراکز کو کھلا رکھا گیا اور آن لائن ادائیگی کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ اس کے ساتھ بڑے نادہندگان پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ماضی کے واجبات کی وصولی کے لیے موثر فالو اپ کیا گیا۔ ان تمام اقدامات نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کو مزید موثر اور تیز تر بنایا ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا نظرثانی شدہ ہدف روپے مقرر کیا تھا۔ مالی سال 2025 – 26 کے لیے 7,341 کروڑ۔ ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین کی کوششوں اور ممبئی کے شہریوں کے تعاون سے میونسپل کارپوریشن نے مالی سال 2025 – 26 کے لیے یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ تک کے دوران 7,610 کروڑ 90 لاکھ روپے کا پراپرٹی ٹیکس جمع کیا، یہ کل ہدف کا 20163 فیصد ہے۔ اس کے ساتھ اضافی جرمانے کی مد میں 301 کروڑ 13 لاکھ روپے بھی وصول کیے گئے ہیں۔ انتظامی ڈویژن کی کارکردگی پر غور کرتے ہوئے، مالی سال 1 اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 کے دوران کے ایسٹ (719 کروڑ 23 لاکھ روپے)، جی ساؤتھ (670 کروڑ 64 لاکھ روپے)، کے ویسٹ (622 کروڑ 16 لاکھ روپے)، ایچ ایسٹ (577 کروڑ 16 لاکھ روپے) اور ویسٹ (577 کروڑ ایچ آر) نے 5 کروڑ 78 لاکھ روپے حاصل کیے ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس کی سب سے زیادہ وصولی ریکارڈ کی گئی۔

مالی سال 2025-26 میں انتظامی ڈویژن کی طرف سے جمع کردہ پراپرٹی ٹیکس
سٹی ڈویژن
1) اے ڈویژن – 270 کروڑ 7 لاکھ روپے
2) بی ڈویژن – 47 کروڑ 31 لاکھ روپے
3) سی ڈویژن – 90 کروڑ 14 لاکھ روپے
4) ڈی ڈویژن – 299 کروڑ 53 لاکھ روپے
5) ای ڈویژن – 150 کروڑ 8 لاکھ روپے
6) ایف ساؤتھ ڈویژن – 165 کروڑ 90 لاکھ روپے
7) ایف نارتھ ڈویژن – 157 کروڑ 76 لاکھ روپے
8) جی ساؤتھ ڈویژن – 670 کروڑ 64 لاکھ روپے
9) جی نارتھ ڈویژن – 251 کروڑ 17 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 2 ہزار 102 کروڑ 60 لاکھ روپے

مغربی مضافات
1) ایچ ایسٹ ڈویژن – 572 کروڑ 78 لاکھ روپے
2) ایچ ویسٹ ڈویژن – 536 کروڑ 55 لاکھ روپے
3) کے ایسٹ ڈویژن – 719 کروڑ 23 لاکھ روپے
4) کے ویسٹ ڈویژن – 622 کروڑ 16 لاکھ روپے
5) پی ساؤتھ ڈویژن – 372 کروڑ 23 لاکھ روپے
6) پی نارتھ ڈویژن – 277 کروڑ 22 لاکھ روپے
7) آر ساؤتھ ڈویژن – 288 کروڑ 81 لاکھ روپے
8) آر سینٹرل ڈویژن – 294 کروڑ 94 لاکھ روپے
9) آر نارتھ ڈویژن – 97 کروڑ 41 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 3,721 کروڑ 33 لاکھ روپے

مشرقی مضافات
1) ایل ڈویژن – 304 کروڑ 57 لاکھ روپے
2) ایم ایسٹ ڈویژن – 113 کروڑ 93 لاکھ روپے
3) ایم ویسٹ ڈویژن – 184 کروڑ 70 لاکھ روپے
4) این ڈویژن – 242 کروڑ 30 لاکھ روپے
5) ایس ڈویژن – 398 کروڑ 47 لاکھ روپے
6) ٹی ڈویژن – 213 کروڑ 44 لاکھ روپے
کل ٹیکس جمع شدہ رقم – 1,457 کروڑ 41 لاکھ روپے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر : ایس آئی آر سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، ابوعاصم کی عوام سے اپیل، ایس آئی آر کیلئے وقت درکار

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ور کن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس آئی آر سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے دستاویزات تیار رکھیں یکم اپریل سے ایس آئی آر کے نفاذ کا اعلان ضرور کیا گیا تھا لیکن ابھی تک ووٹرس میپنگ کا کام مکمل نہیں ہوا ہے اس لئے اس میں مزید وقت درکار ہے اس لئے عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کو لے کر عوام میں کافی تذبذ ب ہے اس لئے ہم نے اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن کے افسر ایس لنگم سے ملاقات کی انہوں نے بتایا کہ 50فیصد ووٹرس میپنگ اب تک مکمل ہوئی ہے کیونکہ یہاں مقامی بی ایم سی اور پریشد کے انتخابات تھے اس لئے الیکشن لسٹ پوری طرح سے مکمل نہیں ہوئی ہے اس کی وجہ سے ابھی ایس آئی آر کیلئے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یس آئی آر کے سروے کے دوران تین مرتبہ بی ایل او اور الیکشن کمیشن کے افسران گھر پر حاضری دیں گے 2000 کے ووٹنگ لسٹ سے متعلق نام تلاش کیا جائے گا اگر اس لسٹ میں نام کی شمولیت نہیں ہے تو آپ کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کے دستاویزات بھی ناموں کے اندراج کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ کی ان کے معرفت بھی نشاندہی نہیں ہوتی ہے تو آپ جس گاؤں یعنی بنگال یا یوپی سے ہیں تو وہاں آپ کے آبادی وطن میں ووٹرس لسٹ میں آ پ کا نام تلاش کیا جائے گا اور آپ کے رشتہ داروں کی گواہی اور دستاویزات کی بنیاد پرایس آئی آر میں شامل کیا جاسکتا ہے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ تمام مرحلہ میں بھی آپ کے نام کی نشاندہی نہیں ہوتی ہے تو 11دستاویزات درکار ہے جس میں جائیداد سے لے کر دیگر دستاویزات شامل ہے اگر یہ دستاویزات پیش کئے جاتے ہیں تو ایس آئی آر میں شمولیت ممکن ہوگی اس کے ساتھ ہی تین مرتبہ جب بی ایل او آپ کے مکان پر حاضری دیتا ہے تو آپ ایک مرتبہ بھی اسے میسر نہیں آتے تو تین مرتبہ کے بعد آپ کے گھر پر نوٹس بھی دی جائے گی اس کے ساتھ ہی آپ کے پڑوسیوں سے متعلق بھی اس سے متعلق باز پرس کی جائے گی اور پھر کوئی کارروائی میں پیش رفت ہوگی اس لئے بی ایل او سے ملاقات کرنا ضروری ہے انہیں جو دستاویز ات کی ضرورت ہے وہ دستاویزات تیار رکھیں اس کام کی تکمیل کیلئے کئی تنظیمیں کوشاں ہے اسی طرح مانخورد شیواجی نگر میں عوام کی رہنمائی کیلئے ہم نے بھی نظم کیا ہے اور یہاں بھی ووٹرلسٹ سے ناموں کی تلاش اور ایس آئی آر سے متعلق دستاویزات کی تیاری میں مدد کی جارہی ہے سماجوادی کارکنان کے دفاتر میں بھی یہ کام تیزی سے جاری ہے انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایس آئی آر کا عمل جاری نہیں ہوگا جیسے ہی یہ عمل شروع ہوگا مطلع کیا جائے گا لیکن عوام کو بیداری رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے دستاویزات سے متعلق وہ مستعد رہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اے ٹی ایم سینٹر پر بزرگوں کو ہدف بنانے والا دھوکہ باز گرفتار، ۲۵ اے ٹی ایم کارڈ اور نقدی بھی برآمد

Published

on

ممبئی : ممبئی اڑیسہ سے ممبئی آکر اے ٹی ایم مشین سے بزرگوں کوپیسہ نکالنے کے نام پر دھوکہ دینے والے ملزم کو ممبئی پولس نے بے نقاب کیا ہے یہ گزشتہ چار سال سے مطلوب تھا ڈنڈوشی پولس نے اسے گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ وشواس سدانند ۵۱ سالہ نے شکایت درج کروائی کہ وہ جب ملاڈ میں واقع اے ٹی ایم سینٹر سے پیسہ نکالنے گئے تو ایک مشتبہ شخص نے ان کی مرضی کے برخلاف اے ٹی ایم سے چالیس ہزار روپے نکال لئے اس معاملہ میں پولس نے شکایت کنندہ کی شکایت پر کیس درج کر لیا پولس نے اس معاملہ میں ۶۰ سے ۷۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور پھر اس فوٹیج اور مخبر کی اطلاع پر پولس نے نائیگاؤں سے کرشن چندر آچاریہ کو زیر حراست لیا اور اس کی تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے ۲۵ اے ٹی ایم کارڈ، نقدی برآمد ہوئی پولس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اسے ریمانڈ پر رکھنے کا حکم عدالت نے صادر کیا ہے اس مقدمہ میں گرفتاری کے بعد اس کے خلاف مزید چار معاملات کا انکشاف ہوا ہے پولس کے مطابق ڈنڈوشی اور کستوربا مارگ میں بھی اس پر کل چار معاملات درج ہے اور وہ اس میں بھی مطلوب ہے یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر کی گئی اور ڈی سی پی مہیش چمٹے کی اس ملزم کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے تھے یہ ملزم ممبئی، تھانہ، اڑیسہ میں اس قسم کی جرائم کی وارداتیں انجام دیا کرتا تھا پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کرُرہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان