Connect with us
Saturday,07-November-2026

قومی خبریں

سنجے ہیگڑے اور سادھنا نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی

Published

on

2020_2$largeimg21_Feb_2020_202448503

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مذاکرات کار سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن نے کہا کہ آپ کے درد کو سمجھتے ہیں، اور سپریم کورٹ کے سامنے آپ کا مسئلہ کو اٹھائیں گے۔
انہوں نے شاہین باغ مظاہرین سے دل کا راستہ کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آپ راستہ کھولئے پھر دیکھئے کہ آپ کے لئے کتنے راستے کھلتے ہیں۔ انہوں نے اتفاق رائے سے مسئلہ کو حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ چاہتا ہے کہ آپ کا احتجاج بھی جاری رہے اور راستہ بھی کھل جائے۔ سپریم کورٹ نے آپ کے حق کو تسلیم کیا ہے اس لئے آئین نے آپ کو اس کا حق آئین نے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کار نے مظاہرین کے سیکورٹی کے خدشے پر دہلی پولیس نے تحریری یقین دہانی کرانے کو کہا۔
مظاہرین نے تحفظ کی بات کرتے ہوئے کہاکہ جب بریکیڈ ہٹاکردو بار گولی چلانے والے آسکتے ہیں تو راستہ کھل جانے پر کوئی بھی آسکتا ہے تو مظاہرین کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ اس پر مذاکرات کار نے کہاکہ آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سب پر ہے۔ آپ کی حفاظت کی جائے گی۔ انہوں نے دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا جو درد ہے اس کا درد ہے اور جو اس کا درد ہے وہ ہمارا درد ہے۔ ہمیں کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہئے۔
آج بھی مظاہرین کو تین بجے سے مذاکرات کار کے آنے کا انتظار تھا لیکن سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر ن چھ شام کے بعد پہنچے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کی بار بار سڑک کھولنے کی اپیل اور سپریم کورٹ نے مذاکرات مقرر کرنے اور راستہ کھولنے کی عرضی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے والی خواتین محترمہ ثمینہ اور ملکہ خاں نے کہاکہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف سپریم کورٹ میں 144 سے زائد عرضی داخل ہیں، جب کہ روڈ کھلوانے کے سلسلے میں محض چھ عرضی داخل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سپریم کورٹ نے ان چھ عرضیوں پر جلدی کارروائی کی ہے اور مذاکرات کار مقرر کئے ہیں اسی طرح 144 عرضیوں پر جلد سماعت کرے گی اور مذاکرات کار مقرر کرے۔
آج زیادہ ٹریفک کی وجہ سے 45 منٹ کے لئے سریتا وہار کالندی کنج راستہ کھولا گیا تھا۔
قبل ازیں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مذاکرات کے عمل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی اس وقت تک مظاہرہ ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ ہم گروپ میں بات کریں یا کمیٹی تشکیل دیکر بات کریں لیکن مظاہرین اس کے حق میں نہیں ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو بھی بات چیت ہو اوپن فرنٹ پر ہو اور اسٹیج پر ہو تاکہ سب کو معلوم ہوسکے کہ کیا بات چیت ہورہی ہے۔ اسی لئے مظاہرین میڈیا کی موجودگی کے حق میں ہیں اور مظاہرین نے میڈیا کو آنے دیا تھا۔ جب کہ مذاکرات کار میڈیا کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے دونوں دن انہوں نے میڈیا کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرہ کی خاص بات یہی ہے کہ اس کا کوئی لیڈر نہیں ہیں اور خواتین ہی سب کچھ سنبھال رہی ہیں اور مرد حضرات تعاون کرتے ہیں۔ اسٹیج کا سارا کام کاج خواتین ہی سنبھالتی ہیں۔ اس لئے کسی گروپ یا کمیٹی کے طور پر بات کرنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف سڑک نہیں ہے بلکہ سڑک پر بیٹھی خواتین کا ہے۔ مذاکرات کار کو ہماری تکلیفوں کو سمجھنا ہوگا اور وہ سمجھ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم نے صرف 150 میٹر سڑک پربند کیا ہے جب کہ ساری سڑکوں کو پولیس نے بند کیا ہے۔
مذاکرات کار کے بار بار بند سڑک کا نام لئے جانے اور اس سے ہونے والی تکلیفوں کا ذکر کرنے پر مظاہرین کا احساس ہے کہ پہلے ہماری تکلیف ہے۔ سڑک بند ہونے سے ہونے والی تکلیف ایک دو گھنٹے کی ہے لیکن اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیاگیا تو ہماری پوری نسل تکلیف میں آجائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ سپریم کورٹ نے راستہ کھلوانے کے لئے مذاکرات تو بھیجے لیکن ہمارے مسئلے کے حل کے لئے انتظامیہ کو کوئی حکم نہیں دیا۔ مظاہرین نے کہاکہ مذاکرات کار نے ہمارے درد کا احساس کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کو ہماری تکلیفوں، پریشانیوں اور ہمارے احساسات سے آگاہ کریں گے۔
مظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ خاں، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے کہا کہ مسئلہ کا حل کئے بغیر ہم لوگ روڈ خالی کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگ روڈ پر بیٹھی ہیں تو اب تک انتظامیہ میں سے کوئی بھی ہماری بات سننے کے لئے نہیں آیا ہے تو روڈ خالی کر دینے اور مظاہرہ کو منتقل کر دینے سے پھر ہماری بات کون سنے گا۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کا ارادہ ہمیں تھکا دینے کا ہے تاکہ ہم تھک کر یہاں سے بھاگ جائیں۔ انہوں نے عزم کے ساتھ کہا کہ ہم تھکنے والے نہیں ہیں اور اس وقت تک مظاہرہ جاری رکھیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا تھا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین یہاں پر امن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے مظاہرہ میں تنوع اور حکومت کی توجہ مبذول کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا کر رہے ہیں اور پچاس سے زائد میٹر سیاہ کپڑا پر نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر لکھ کر احتجاج کیا اور اسی کے ساتھ 11 میٹر سیاہ کپڑے کا آنچل بناکر بھی احتجاج کیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر، اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندور میں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا اب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور، اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29 دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگو سرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، آرام پارک خوریجی، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ دہلی،۔جامع مسجد دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ، ہارون نگر، پٹنہ، شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگو سرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج بہار، مگلا کھار، انصار نگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سمستی پور، تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا، ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، پونہ، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں، جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار، اسلامیہ میدان الہ آباد یوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی، محمد علی پارک چمن گنج کانپور یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا، ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ، کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد، عادل آباد، آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم، اننت پور، سریکا کولم، کیرالہ میں کالی کٹ، ایرنا کولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر فتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

لارنس بشنوئی گینگ کا رکن ہری باکسر امریکہ میں حراست میں، اسے بھارت لانے کی کارروائی جاری

Published

on

جے پور : راجستھان پولیس کی جانب سے منظم جرائم اور مجرمانہ گروہوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لارنس بشنوئی گینگ کے سرگرم رکن اور مطلوب مفرور، بدنام زمانہ گینگسٹر ہری چند جاٹ عرف ’ہری باکسر‘ کو امریکہ میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کمار شرما کی ہدایت پر کی گئی، جو منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف ریاستی پولیس کی مسلسل مہم کا حصہ ہے۔ راجستھان کی ’اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس‘ (اے جی ٹی ایف) ​​نے، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) دنیش ایم این کی رہنمائی میں، اس گرفتاری کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس اور انٹرپول لائژن آفیسر یوگیش یادو کی نگرانی میں کام کرنے والی ایک خصوصی ٹیم نے اہم خفیہ معلومات اکٹھی کیں اور مفرور ملزم کا سراغ لگانے کے لیے مربوط کوششیں کیں۔

اس بین الاقوامی آپریشن کے حصے کے طور پر، راجستھان پولیس نے ہری باکسر کے خلاف ’ریڈ کارنر نوٹس‘ جاری کروانے میں مدد کی۔ پولیس نے اس کے ٹھکانے کا پتہ لگانے اور اس کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے پانچ مختلف ممالک میں انٹرپول کو 14 الگ الگ درخواستیں (ریفرنسز) بھیجیں۔ اس کی حراست کے قانونی جواز کو مضبوط بنانے کے لیے، پولیس نے متعلقہ حکام کو ’عارضی گرفتاری کی درخواست‘ (عارضی گرفتاری کی درخواست)، ملزم کی تفصیلات پر مشتمل ایک تازہ ترین اور جامع ڈوزیر (فائل)، اور اس کے انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) فراہم کیے۔ ہری باکسر کا تعلق راجستھان سے گہرا ہے۔ اس کی پیدائش، پرورش اور جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے کا ابتدائی سفر، سب اسی ریاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کا اصل نام ہری چند جاٹ ہے اور اس کا تعلق بنیادی طور پر راجستھان کے ضلع کوٹ پتلی-بہروڑ کے علاقے ’بانسور‘ سے ہے۔ اس کے والد، گردھاری جاٹ، اسی علاقے کے ایک عام کسان ہیں۔

جرائم کی دنیا میں آنے سے پہلے، ہری چند اپنے گاؤں میں ایک عام زندگی گزارتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ وہ ملک یا ریاست کی خدمت کرے۔ ہری باکسر کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہری چند جاٹ شروع میں بھارتی فوج یا راجستھان پولیس میں بھرتی ہونا چاہتا تھا۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کے دوران وہ ریاست کے دارالحکومت جے پور منتقل ہو گیا۔ جے پور میں قیام کے دوران، اس نے باکسنگ کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی اور بعد میں نوجوانوں کو اس کھیل کی کوچنگ دینا شروع کر دی۔ جے پور میں باکسنگ رنگ سے وابستگی اور بعد ازاں باکسنگ کوچ کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے انہیں ‘ہری باکسر’ کا عرفی نام ملا۔ یہ نام رفتہ رفتہ ان کے دوستوں اور سوشل میڈیا پر مقبول ہو گیا، اور پھر مجرمانہ حلقوں میں بھی پہچانا جانے لگا۔ ہری باکسر کو واپس بھارت لانے کا عمل اب جاری ہے۔ ان کی گرفتاری راجستھان پولیس کی جانب سے منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور بھارت کی سرحدوں سے باہر سرگرم گینگسٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی ہے۔

Continue Reading

سیاست

راہل گاندھی اور اکھلیش یادو پر نتن نبین کے بیان سے سیاسی تنازع، بی جے پی اور اپوزیشن آمنے سامنے

Published

on

نئی دہلی : ہفتے کے روز بی جے پی، کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے ایک انٹرویو میں دیے گئے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ اس انٹرویو میں نبین نے کانگریس رہنما راہول گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو خاندانی سیاست، بدامنی پھیلانے کی مبینہ کوششوں اور ان کے سیاسی طرزِ عمل کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ نبین کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان آر پی سنگھ نے کہا کہ پارٹی صدر کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ راہول گاندھی اور اکھلیش یادو ایسے رہنما ہیں جن کی دلچسپیاں صرف اپنے اپنے خاندانوں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان دونوں رہنماؤں نے کبھی بھی اپنے خاندانی مفادات سے آگے بڑھ کر نہیں سوچا۔ مغربی بنگال کے وزیر تاپس رائے نے بھی نبین کے تبصروں کی تائید کی اور بات کا رخ ریاست میں ترقی اور حکمرانی کی جانب موڑ دیا۔

کمیونسٹ اور ترنمول کانگریس کی سابقہ ​​حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے، تاپس رائے نے الزام لگایا کہ گزشتہ 50 سالوں میں روزگار پیدا کرنے یا مناسب صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات قائم کرنے کے لیے بہت کم کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اب عوامی بہبود پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ تاہم، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بلونت وانکھڈے نے راہول گاندھی اور گاندھی خاندان کے خلاف نبین کی تنقید کو مسترد کر دیا۔ مہاراشٹر کے شہر امراوتی میں گفتگو کرتے ہوئے، وانکھڈے نے کہا کہ اس خاندان نے ہمیشہ ذاتی مفادات پر ملک کو ترجیح دی ہے۔ سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، اور مزید کہا کہ راہول گاندھی بھی ملک کے مفادات کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام شنکر راج بھر نے بھی ‘سنتن’ (سناتن) اور ‘ٹوپی’ سے متعلق سیاست پر دیے گئے نبین کے بیانات کا سخت جواب دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، اکھلیش یادو کی ‘پی ڈی اے’ (پچھڑے، دلت، اقلیت) سیاست، مذہبی رسومات اور ایٹاوہ میں تعمیر کیے جا رہے مندر کی وجہ سے پریشان ہے۔ دریں اثنا، ایس بی ایس پی (ایس بی ایس پی) کے رکن اسمبلی بیدی رام نے ترقی کے حوالے سے نبین کے خیالات کا خیرمقدم کیا اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو اجاگر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ سڑکوں کی تعمیر، ایکسپریس ویز، مواصلاتی رابطوں اور دیہی سڑکوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست اور ملک کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیادی ڈھانچہ ناگزیر ہے۔ نبین کے ریمارکس میں راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کو اس کی غیر ملکی فنڈنگ ​​کے حوالے سے ہدف بنایا گیا، راہول گاندھی پر الزام لگایا گیا کہ انہیں بدامنی پھیلانے کے لیے ایک ’غیر ملکی ٹول کٹ‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور کانگریس رہنما کے جمہوری اداروں اور پارلیمانی روایات کے تئیں رویے پر سوال اٹھایا گیا۔

Continue Reading

سیاست

’اگلی زندگی کی تیاری کرو‘، راج بھر کا اکھلیش یادو پر طنز، کہا اس زندگی میں وزیرِ اعلیٰ نہیں بن پائیں گے

Published

on

لکھنؤ : اتر پردیش کے کابینہ وزیر اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر نے ہفتے کے روز سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو پر طنز کیا۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا تھا کہ اتر پردیش میں ان کی پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور وہ خود دوبارہ وزیراعلیٰ بنیں گے۔ اس دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راج بھر نے کہا کہ اگر اکھلیش یادو وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی ’اگلی زندگی‘ کی تیاری کرنی چاہیے، کیونکہ موجودہ زندگی میں انہیں یہ موقع نہیں ملنے والا۔ سابق وزیراعلیٰ پر طنز کرتے ہوئے راج بھر نے میڈیا سے کہا، ”اپنی اگلی زندگی کی تیاری کر لیں۔ آپ اس زندگی میں وزیراعلیٰ نہیں بن سکتے۔“ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب اکھلیش یادو نے اعتماد ظاہر کیا کہ 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور وہ ایک بار پھر وزیراعلیٰ بنیں گے۔

اس سے قبل، وارانسی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے اشارہ دیا تھا کہ وہ خود 2027 کے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس کے بجائے، انہوں نے کہا کہ اگر سماج وادی پارٹی حکومت بناتی ہے، تو وہ لوک سبھا کے رکن کے طور پر اپنی موجودہ حیثیت سے ہی براہِ راست وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ ایس پی سربراہ نے وارانسی کے لیے کئی وعدے بھی کیے، جن میں یہ کہنا بھی شامل تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں واپس آتی ہے تو وہ اس مقدس شہر میں میٹرو ریل منصوبہ لائیں گے۔ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ ’ورونا‘ دریا کی صفائی کی جائے گی اور ان کی حکومت میں کسانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ راج بھر نے ایودھیا میں ’دیپوتسو‘ (دیوں کے تہوار) کی تقریبات کے بڑھتے ہوئے پیمانے پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ اس تہوار میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے اور یہ ہر گزرتے سال کے ساتھ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ”دیپوتسو کا پروگرام دن بہ دن مقبول ہو رہا ہے اور اس کی جانب لوگوں کی کشش بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر منایا جا رہا ہے۔“ وزیر موصوف نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر بھی ردعمل ظاہر کیا جس کے تحت دہلی سمیت سات ریاستوں میں ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) یعنی ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران جن لوگوں کے نام فہرستوں میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے، انہیں ایک اور موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اہل ووٹروں کو انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی مسلسل کوششوں کا دفاع کرتے ہوئے، راج بھر نے کہا کہ انتخابی ادارہ یہ نہیں چاہتا کہ کسی کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو۔ انہوں نے کہا، “الیکشن کمیشن نہیں چاہتا کہ کسی کا نام ووٹر لسٹ سے رہ جائے۔ اسی لیے وہ بار بار فہرستیں شائع کر رہا ہے اور لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ مطلوبہ فارم پُر کریں یا مدد کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔ اگر لوگ اس عمل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں، تو الیکشن کمیشن اس میں کیا کر سکتا ہے؟”

Continue Reading
Advertisement

رجحان