Connect with us
Monday,04-May-2026

قومی خبریں

سنجے ہیگڑے اور سادھنا نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی

Published

on

2020_2$largeimg21_Feb_2020_202448503

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مذاکرات کار سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن نے کہا کہ آپ کے درد کو سمجھتے ہیں، اور سپریم کورٹ کے سامنے آپ کا مسئلہ کو اٹھائیں گے۔
انہوں نے شاہین باغ مظاہرین سے دل کا راستہ کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آپ راستہ کھولئے پھر دیکھئے کہ آپ کے لئے کتنے راستے کھلتے ہیں۔ انہوں نے اتفاق رائے سے مسئلہ کو حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ چاہتا ہے کہ آپ کا احتجاج بھی جاری رہے اور راستہ بھی کھل جائے۔ سپریم کورٹ نے آپ کے حق کو تسلیم کیا ہے اس لئے آئین نے آپ کو اس کا حق آئین نے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کار نے مظاہرین کے سیکورٹی کے خدشے پر دہلی پولیس نے تحریری یقین دہانی کرانے کو کہا۔
مظاہرین نے تحفظ کی بات کرتے ہوئے کہاکہ جب بریکیڈ ہٹاکردو بار گولی چلانے والے آسکتے ہیں تو راستہ کھل جانے پر کوئی بھی آسکتا ہے تو مظاہرین کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ اس پر مذاکرات کار نے کہاکہ آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سب پر ہے۔ آپ کی حفاظت کی جائے گی۔ انہوں نے دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا جو درد ہے اس کا درد ہے اور جو اس کا درد ہے وہ ہمارا درد ہے۔ ہمیں کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہئے۔
آج بھی مظاہرین کو تین بجے سے مذاکرات کار کے آنے کا انتظار تھا لیکن سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر ن چھ شام کے بعد پہنچے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کی بار بار سڑک کھولنے کی اپیل اور سپریم کورٹ نے مذاکرات مقرر کرنے اور راستہ کھولنے کی عرضی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے والی خواتین محترمہ ثمینہ اور ملکہ خاں نے کہاکہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف سپریم کورٹ میں 144 سے زائد عرضی داخل ہیں، جب کہ روڈ کھلوانے کے سلسلے میں محض چھ عرضی داخل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سپریم کورٹ نے ان چھ عرضیوں پر جلدی کارروائی کی ہے اور مذاکرات کار مقرر کئے ہیں اسی طرح 144 عرضیوں پر جلد سماعت کرے گی اور مذاکرات کار مقرر کرے۔
آج زیادہ ٹریفک کی وجہ سے 45 منٹ کے لئے سریتا وہار کالندی کنج راستہ کھولا گیا تھا۔
قبل ازیں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مذاکرات کے عمل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی اس وقت تک مظاہرہ ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ ہم گروپ میں بات کریں یا کمیٹی تشکیل دیکر بات کریں لیکن مظاہرین اس کے حق میں نہیں ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو بھی بات چیت ہو اوپن فرنٹ پر ہو اور اسٹیج پر ہو تاکہ سب کو معلوم ہوسکے کہ کیا بات چیت ہورہی ہے۔ اسی لئے مظاہرین میڈیا کی موجودگی کے حق میں ہیں اور مظاہرین نے میڈیا کو آنے دیا تھا۔ جب کہ مذاکرات کار میڈیا کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے دونوں دن انہوں نے میڈیا کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرہ کی خاص بات یہی ہے کہ اس کا کوئی لیڈر نہیں ہیں اور خواتین ہی سب کچھ سنبھال رہی ہیں اور مرد حضرات تعاون کرتے ہیں۔ اسٹیج کا سارا کام کاج خواتین ہی سنبھالتی ہیں۔ اس لئے کسی گروپ یا کمیٹی کے طور پر بات کرنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف سڑک نہیں ہے بلکہ سڑک پر بیٹھی خواتین کا ہے۔ مذاکرات کار کو ہماری تکلیفوں کو سمجھنا ہوگا اور وہ سمجھ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم نے صرف 150 میٹر سڑک پربند کیا ہے جب کہ ساری سڑکوں کو پولیس نے بند کیا ہے۔
مذاکرات کار کے بار بار بند سڑک کا نام لئے جانے اور اس سے ہونے والی تکلیفوں کا ذکر کرنے پر مظاہرین کا احساس ہے کہ پہلے ہماری تکلیف ہے۔ سڑک بند ہونے سے ہونے والی تکلیف ایک دو گھنٹے کی ہے لیکن اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیاگیا تو ہماری پوری نسل تکلیف میں آجائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ سپریم کورٹ نے راستہ کھلوانے کے لئے مذاکرات تو بھیجے لیکن ہمارے مسئلے کے حل کے لئے انتظامیہ کو کوئی حکم نہیں دیا۔ مظاہرین نے کہاکہ مذاکرات کار نے ہمارے درد کا احساس کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کو ہماری تکلیفوں، پریشانیوں اور ہمارے احساسات سے آگاہ کریں گے۔
مظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ خاں، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے کہا کہ مسئلہ کا حل کئے بغیر ہم لوگ روڈ خالی کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگ روڈ پر بیٹھی ہیں تو اب تک انتظامیہ میں سے کوئی بھی ہماری بات سننے کے لئے نہیں آیا ہے تو روڈ خالی کر دینے اور مظاہرہ کو منتقل کر دینے سے پھر ہماری بات کون سنے گا۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کا ارادہ ہمیں تھکا دینے کا ہے تاکہ ہم تھک کر یہاں سے بھاگ جائیں۔ انہوں نے عزم کے ساتھ کہا کہ ہم تھکنے والے نہیں ہیں اور اس وقت تک مظاہرہ جاری رکھیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا تھا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین یہاں پر امن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے مظاہرہ میں تنوع اور حکومت کی توجہ مبذول کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا کر رہے ہیں اور پچاس سے زائد میٹر سیاہ کپڑا پر نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر لکھ کر احتجاج کیا اور اسی کے ساتھ 11 میٹر سیاہ کپڑے کا آنچل بناکر بھی احتجاج کیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر، اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندور میں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا اب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور، اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29 دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگو سرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، آرام پارک خوریجی، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ دہلی،۔جامع مسجد دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ، ہارون نگر، پٹنہ، شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگو سرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج بہار، مگلا کھار، انصار نگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سمستی پور، تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا، ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، پونہ، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں، جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار، اسلامیہ میدان الہ آباد یوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی، محمد علی پارک چمن گنج کانپور یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا، ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ، کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد، عادل آباد، آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم، اننت پور، سریکا کولم، کیرالہ میں کالی کٹ، ایرنا کولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر فتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

آسام انتخابی نتائج : بی جے پی کے ہتیندر ناتھ گوسوامی نے جورہاٹ سے گورو گوگوئی کو شکست دی، چھٹی بار ایم ایل اے بنے

Published

on

آسام کے گوہاٹی میں جورہاٹ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار ہتیندر ناتھ گوسوامی نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار گورو گوگوئی کو 23,182 ووٹوں سے شکست دی۔ بی جے پی لیڈر ہتیندر ناتھ گوسوامی کو کل 69,439 ووٹ ملے، جب کہ گورو گوگوئی کو 46,257 ووٹ ملے۔ ہتیندر ناتھ گوسوامی چھٹی بار یہاں سے ایم ایل اے بنے ہیں۔ جورہاٹ، آسام کے سب سے اہم شہری مراکز میں سے ایک، نہ صرف اقتصادی اور ثقافتی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی اثر انداز ہے۔ اس کی انتخابی تاریخ قریبی مقابلہ جات، مینڈیٹ بدلنے اور ممتاز لیڈروں کے درمیان مقابلے کے لیے جانی جاتی ہے۔ جورہاٹ اسمبلی سیٹ ایک عام (غیر محفوظ) نشست ہے اور جورہاٹ ضلع میں آتی ہے۔ یہ جورہاٹ لوک سبھا حلقہ کے 10 اسمبلی حلقوں میں سے ایک ہے۔ جورہاٹ سیٹ 1951 میں بنی تھی۔ تب سے اب تک یہاں 16 اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران کانگریس نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے، سات جیت کے ساتھ۔ آسوم گنا پریشد (اے جی پی) نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ بی جے پی نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، اور آزاد امیدواروں نے دو بار کامیابی حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی ایک بار جیت چکی ہے۔ جورہاٹ سیٹ کی انتخابی تاریخ دو لیڈروں، ہتیندر ناتھ گوسوامی اور رانا گوسوامی کے درمیان دشمنی کے بغیر ادھوری ہے۔ ہتیندر گوسوامی تقریباً 25 سال تک اس سیٹ پر دبنگ شخصیت تھے۔ انہوں نے اے جی پی اور بی جے پی دونوں ٹکٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ رانا گوسوامی اور ہتیندر گوسوامی نے چار بار براہ راست مقابلہ کیا، دونوں نے دو بار کامیابی حاصل کی۔ اس بار ان کا مقابلہ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی سے ہوا، جس میں انہوں نے اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2006 میں، رانا گوسوامی نے کانگریس کے ٹکٹ پر 4,880 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں، انہوں نے ایک بار پھر ہتیندر گوسوامی کو 37,971 ووٹوں سے شکست دی۔ 2016 میں، مساوات بدل گئی، اور ہتیندر گوسوامی نے، بی جے پی کے امیدوار کے طور پر، رانا گوسوامی کو 13,638 ووٹوں سے شکست دی۔ دونوں کا 2021 میں دوبارہ مقابلہ ہوا، جہاں ہتیندر گوسوامی نے 6,488 ووٹوں کے فرق سے سیٹ برقرار رکھی۔ 10 فروری 2026 کو جاری حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق جورہاٹ اسمبلی حلقہ میں کل 148,280 اہل ووٹر ہیں۔ یہ 2024 میں 146,731 ووٹرز سے تھوڑا سا اضافہ ہے۔ تاہم، ووٹر ٹرن آؤٹ 2019 کے مقابلے میں کم ہوا، جب رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 175,267 تھی۔ جورہاٹ حلقے کے انتخابی نتائج میں سماجی حرکیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، درج فہرست ذات کے ووٹر 8.04 فیصد، درج فہرست قبائل کے ووٹر 1.95 فیصد، اور مسلم ووٹر 7 فیصد سے کم ہیں۔ حلقے میں شہری ووٹرز کا غلبہ ہے، 64.87 فیصد اور دیہی ووٹرز 35.13 فیصد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی، سڑکیں، تجارت، روزگار اور شہری سہولتیں بڑے انتخابی مسائل بنی ہوئی ہیں۔ جورہاٹ کو آسام کا ثقافتی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر ادب، موسیقی، تھیٹر اور روایتی آسامی ثقافت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ آسام ساہتیہ سبھا کے صدر دفتر، بیہو تہوار، ستریا رقص کی روایت، اور متعدد ثقافتی اداروں نے اسے ایک الگ پہچان دی ہے۔ برطانوی دور میں یہ چائے کی صنعت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ آج بھی چائے کے باغات، زراعت، تجارت، تعلیم اور چھوٹی صنعتیں شہر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

Continue Reading

سیاست

ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی ضرورت نہیں۔ رام مندر کی تعمیر ملک کی قیادت اور عوامی حمایت سے ہوئی : موہن بھاگوت

Published

on

mohan-bhagwat

نئی دہلی : آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر اقتدار میں رہنے والوں کے عزم اور ملک بھر کے لوگوں کی حمایت کی وجہ سے بنایا گیا تھا۔ ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی بات چیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی ایک حقیقت ہے۔ بھاگوت نے یہ بیان پیر کو ناگپور میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی قیادت کرنے والوں کے اعزاز میں ایک تقریب کے دوران دیا۔ آر ایس ایس کی طرف سے جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق اس تقریب کا اہتمام ناگپور کے ریشم باغ میں ڈاکٹر ہیڈگیوار میموریل کمیٹی نے کیا تھا۔ بھاگوت نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر بھگوان رام کی مرضی سے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے بھگوان کرشن کے گووردھن پہاڑ کو اٹھانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ اس نے کہا، “یہ بھگوان کی انگلیوں پر ٹکی ہوئی ہے، لیکن انگلیاں اس وقت تک حرکت نہیں کرتی جب تک کہ لوگ اپنی لاٹھی نہ جوڑ لیں۔ اس طرح ہیکل کی تعمیر ہوئی۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ رام مندر کی تعمیر اقتدار میں رہنے والوں کی پرعزم قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ بھاگوت نے کہا کہ یہ سیاسی مرضی کے بغیر ممکن ہے۔ انہوں نے کہا، “مندر کی تعمیر کا فیصلہ لیا گیا تھا، لیکن یہ مضبوط بنیاد کے بغیر کیسے کھڑا ہوسکتا ہے؟ ہندوستان کے ہر فرد نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔” ان کے مطابق بھگوان رام کی انگلی نے مندر کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ ہندو قوم کے بارے میں موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کے بطور ہندو قوم کے تصور کا کبھی مذاق اڑایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان ہندوؤں کی سرزمین ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ رام مندر کی تعمیر میں شامل لوگوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا ہے، اب ہمیں اپنا کرنا ہے، انہیں مندر بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، اور انہوں نے توقع سے زیادہ کام کیا ہے۔

Continue Reading

سیاست

پنڈت دھیریندر کرشنا شاستری ایک بار پھر خبروں میں! انہوں نے چار بچے پیدا کرنے کی اپیل کی اور ایک بچہ آر ایس ایس کو دینے کو کہا۔

Published

on

Dhirendra-Mohan

ناگپور : پنڈت دھیریندر کرشنا شاستری اپنے بیانات کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اس بار انہوں نے ایک بیان دیا جس کا ویڈیو اب تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ناگپور میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا، “ہم پورے ہندوستان کو ایک بات بتانا چاہتے ہیں۔ جب بھی ہندوستان میں کہیں بھی کوئی آفت آتی ہے، لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں، لیکن ہمارے آر ایس ایس کا ایک ایک کارکن اپنی جان کے لیے نہیں بھاگتا، وہ وہاں جا کر جان بچاتا ہے، یہ آر ایس ایس ہے۔ ہم پورے ہندوستان سے گزارش کرتے ہیں کہ چار بچے پیدا کریں، اور ایک آر ایس ایس کو دیں تاکہ وہ دوسروں کو بچانے میں مدد کر سکیں”۔ تقریب کے دوران انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی تعریف کی۔ اس کے بعد انہوں نے موہن بھاگوت کی طرف دیکھا اور کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ آپ اسی طرح مسکراتے رہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے پاس جلد ہی ایک متحد ہندوستان ہوگا اور ہم خوش ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ بالاجی آپ کو کچھ بڑا کرنے پر مجبور کریں گے۔” آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت خود اس تقریب میں موجود تھے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس، مرکزی وزیر نتن گڈکری، اور کئی دوسرے سنت بھی موجود تھے۔

اس دوران دھریندر شاستری نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں ایک اہم بیان بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج لڑتے لڑتے تھک چکے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ سمرتھ رام داس سوامی کے پاس گئے اور کہا کہ وہ اب لڑنا نہیں چاہتے اور تاج اور اقتدار سونپنا چاہتے ہیں۔ رام داس سوامی نے جواب دیا کہ ایک شاگرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے گرو کے حکم کی تعمیل کرے، اس لیے اسے اقتدار سنبھالنا چاہیے۔ اس سے پہلے، انہوں نے پریاگ راج، اتر پردیش میں کہا تھا کہ سناتن دھرم ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے اور تمام سناتن پرستوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ہندو قوم بنانے کا ہدف بہت مشکل تھا اور قربانی مانگتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان