Connect with us
Friday,18-September-2026

قومی خبریں

سنجے ہیگڑے اور سادھنا نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی

Published

on

2020_2$largeimg21_Feb_2020_202448503

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مذاکرات کار سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن نے کہا کہ آپ کے درد کو سمجھتے ہیں، اور سپریم کورٹ کے سامنے آپ کا مسئلہ کو اٹھائیں گے۔
انہوں نے شاہین باغ مظاہرین سے دل کا راستہ کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آپ راستہ کھولئے پھر دیکھئے کہ آپ کے لئے کتنے راستے کھلتے ہیں۔ انہوں نے اتفاق رائے سے مسئلہ کو حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ چاہتا ہے کہ آپ کا احتجاج بھی جاری رہے اور راستہ بھی کھل جائے۔ سپریم کورٹ نے آپ کے حق کو تسلیم کیا ہے اس لئے آئین نے آپ کو اس کا حق آئین نے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کار نے مظاہرین کے سیکورٹی کے خدشے پر دہلی پولیس نے تحریری یقین دہانی کرانے کو کہا۔
مظاہرین نے تحفظ کی بات کرتے ہوئے کہاکہ جب بریکیڈ ہٹاکردو بار گولی چلانے والے آسکتے ہیں تو راستہ کھل جانے پر کوئی بھی آسکتا ہے تو مظاہرین کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ اس پر مذاکرات کار نے کہاکہ آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سب پر ہے۔ آپ کی حفاظت کی جائے گی۔ انہوں نے دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا جو درد ہے اس کا درد ہے اور جو اس کا درد ہے وہ ہمارا درد ہے۔ ہمیں کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہئے۔
آج بھی مظاہرین کو تین بجے سے مذاکرات کار کے آنے کا انتظار تھا لیکن سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر ن چھ شام کے بعد پہنچے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کی بار بار سڑک کھولنے کی اپیل اور سپریم کورٹ نے مذاکرات مقرر کرنے اور راستہ کھولنے کی عرضی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے والی خواتین محترمہ ثمینہ اور ملکہ خاں نے کہاکہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف سپریم کورٹ میں 144 سے زائد عرضی داخل ہیں، جب کہ روڈ کھلوانے کے سلسلے میں محض چھ عرضی داخل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سپریم کورٹ نے ان چھ عرضیوں پر جلدی کارروائی کی ہے اور مذاکرات کار مقرر کئے ہیں اسی طرح 144 عرضیوں پر جلد سماعت کرے گی اور مذاکرات کار مقرر کرے۔
آج زیادہ ٹریفک کی وجہ سے 45 منٹ کے لئے سریتا وہار کالندی کنج راستہ کھولا گیا تھا۔
قبل ازیں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مذاکرات کے عمل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی اس وقت تک مظاہرہ ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ ہم گروپ میں بات کریں یا کمیٹی تشکیل دیکر بات کریں لیکن مظاہرین اس کے حق میں نہیں ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو بھی بات چیت ہو اوپن فرنٹ پر ہو اور اسٹیج پر ہو تاکہ سب کو معلوم ہوسکے کہ کیا بات چیت ہورہی ہے۔ اسی لئے مظاہرین میڈیا کی موجودگی کے حق میں ہیں اور مظاہرین نے میڈیا کو آنے دیا تھا۔ جب کہ مذاکرات کار میڈیا کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے دونوں دن انہوں نے میڈیا کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرہ کی خاص بات یہی ہے کہ اس کا کوئی لیڈر نہیں ہیں اور خواتین ہی سب کچھ سنبھال رہی ہیں اور مرد حضرات تعاون کرتے ہیں۔ اسٹیج کا سارا کام کاج خواتین ہی سنبھالتی ہیں۔ اس لئے کسی گروپ یا کمیٹی کے طور پر بات کرنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف سڑک نہیں ہے بلکہ سڑک پر بیٹھی خواتین کا ہے۔ مذاکرات کار کو ہماری تکلیفوں کو سمجھنا ہوگا اور وہ سمجھ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم نے صرف 150 میٹر سڑک پربند کیا ہے جب کہ ساری سڑکوں کو پولیس نے بند کیا ہے۔
مذاکرات کار کے بار بار بند سڑک کا نام لئے جانے اور اس سے ہونے والی تکلیفوں کا ذکر کرنے پر مظاہرین کا احساس ہے کہ پہلے ہماری تکلیف ہے۔ سڑک بند ہونے سے ہونے والی تکلیف ایک دو گھنٹے کی ہے لیکن اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیاگیا تو ہماری پوری نسل تکلیف میں آجائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ سپریم کورٹ نے راستہ کھلوانے کے لئے مذاکرات تو بھیجے لیکن ہمارے مسئلے کے حل کے لئے انتظامیہ کو کوئی حکم نہیں دیا۔ مظاہرین نے کہاکہ مذاکرات کار نے ہمارے درد کا احساس کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کو ہماری تکلیفوں، پریشانیوں اور ہمارے احساسات سے آگاہ کریں گے۔
مظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ خاں، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے کہا کہ مسئلہ کا حل کئے بغیر ہم لوگ روڈ خالی کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگ روڈ پر بیٹھی ہیں تو اب تک انتظامیہ میں سے کوئی بھی ہماری بات سننے کے لئے نہیں آیا ہے تو روڈ خالی کر دینے اور مظاہرہ کو منتقل کر دینے سے پھر ہماری بات کون سنے گا۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کا ارادہ ہمیں تھکا دینے کا ہے تاکہ ہم تھک کر یہاں سے بھاگ جائیں۔ انہوں نے عزم کے ساتھ کہا کہ ہم تھکنے والے نہیں ہیں اور اس وقت تک مظاہرہ جاری رکھیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا تھا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین یہاں پر امن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے مظاہرہ میں تنوع اور حکومت کی توجہ مبذول کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا کر رہے ہیں اور پچاس سے زائد میٹر سیاہ کپڑا پر نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر لکھ کر احتجاج کیا اور اسی کے ساتھ 11 میٹر سیاہ کپڑے کا آنچل بناکر بھی احتجاج کیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر، اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندور میں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا اب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور، اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29 دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگو سرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، آرام پارک خوریجی، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ دہلی،۔جامع مسجد دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ، ہارون نگر، پٹنہ، شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگو سرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج بہار، مگلا کھار، انصار نگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سمستی پور، تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا، ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، پونہ، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں، جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار، اسلامیہ میدان الہ آباد یوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی، محمد علی پارک چمن گنج کانپور یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا، ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ، کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد، عادل آباد، آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم، اننت پور، سریکا کولم، کیرالہ میں کالی کٹ، ایرنا کولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر فتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

مہا حکومت قحط زدہ علاقوں میں کسانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی : ڈی وائی سی ایم شندے

Published

on

ستارہ : گنیشوتسو تہوار کے لیے ستارہ ضلع میں اپنے آبائی گاؤں درے کا دورہ کرتے ہوئے، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے جمعہ کو مہاراشٹر میں بارش کی صورتحال کا جائزہ لیا اور کسانوں کو یقین دلایا کہ خشک موسم کی وجہ سے فصلوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسان برادری کو ترک نہیں کرے گی اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ ریاستی حکومت خشک سالی کا اعلان کرتی ہے اور فوری امدادی امداد تقسیم کرتی ہے۔ ڈی سی ایم شندے نے تسلیم کیا کہ ودربھ اور مراٹھواڑہ کے کچھ حصوں میں خشک موسم نے کھڑی فصلوں کو جھلسایا ہے۔ اصل نقصانات کی بنیاد پر امداد کی تقسیم کے لیے فی الحال فصلوں کے نقصانات کا جائزہ (پنچنامے) جاری ہیں۔

اس نے بحران کا جائزہ لینے کے لیے عثمان آباد (دھراشیو) کے سرپرست وزیر پرتاپ سارنائک، ایم پی اومراجے نمبالکر اور ضلع کلکٹر کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ ضلع کے سرپرست وزراء فعال طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں، اور انہوں نے تصدیق کی کہ وہ کسانوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کے لیے جلد ہی خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا ذاتی طور پر معائنہ کریں گے۔ اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے، ڈی سی ایم شندے نے کہا کہ مہایوتی حکومت سیاسی زبانی جھگڑے میں شامل ہونے کے بجائے اپنے کام کو بولنے کو ترجیح دیتی ہے۔ بلوبیری جیسی فصلیں، کافور اور ہینگ (ہنگ) کے ساتھ، شندے نے ایتھنول، جدید انفراسٹرکچر، اور روزمرہ کے تجارتی سامان کی پیداوار میں بانس کے ورسٹائل استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تہوار کے موسم میں ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر بانس کی کاشت پر زور دیا۔

ڈی سی ایم شندے نے اپنے سیاسی حریفوں پر ان کے آبائی شہر، دہلی یا لندن کے دوروں پر مسلسل تنقید کرنے پر بھی سخت تنقید کی۔ “جب بھی میں اپنے آبائی گاؤں جاتا ہوں، سیاسی حریفوں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ اب مجھے ان کی بدہضمی کو دور کرنے کے لیے دواؤں کا پودا تلاش کرنا پڑے گا یا جمال گوٹا (روایتی جلاب) تجویز کرنا پڑے گا۔ میں ایک عملی آدمی ہوں اور تنقید کا جواب الفاظ سے نہیں، اپنے کام سے دوں گا۔” اس سے قبل، این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندرا کو ایک خط میں لکھا تھا۔ مانسون کی بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے ریاست کے شدید زرعی بحران اور نو اہم نکات پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ پوار کا خط وزیر اعلیٰ کے مراٹھواڑہ یوم آزادی کے موقع پر مراٹھواڑہ کو خشک سالی سے پاک بنانے کا عزم ظاہر کرنے کے فوراً بعد آیا ہے۔

واضح زمینی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے، پوار، جنہوں نے جمعہ کو ایکس پر خط اپ لوڈ کیا، اس بات پر زور دیا کہ بارش کی کمی نے مراٹھواڑہ اور ریاست کے دیگر حصوں میں فصلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے کسانوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپنے خط میں، پوار نے کھڑی فصلوں، پینے کے پانی کی قلت، اور چارے کی کمی کے بارے میں فوری تشویش کا اظہار کیا، اس سال ریاست بھر میں مویشیوں کے لیے بارش کی ناکامی کے زیادہ تر حصوں کے لیے چارے کی کمی۔ کاشتکار برادری کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے جیسا کہ سویا بین، کپاس، جوار (باجرا)، مکئی، مونگ (مونگ) اور کالا چنا سوکھ گیا ہے، نتیجتاً، زراعت اور پینے کے لیے پانی کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال ابتر ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

بحیرہ احمر میں کشیدگی، مکہ پر حملے کی کوشش علاقائی استحکام کو خطرہ : ایم ای اے

Published

on

نئی دہلی : بحیرہ احمر کے خطہ میں سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ پر حملے کی کوشش پر اپنی سنگین تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے ہندوستان نے جمعہ کو کہا کہ اس پیش رفت سے علاقائی استحکام کے ساتھ ساتھ آبنائے باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو بھی خطرہ ہے۔ نئی دہلی میں دو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے، وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے حملوں کو “ناقابل قبول” قرار دیا اور خطے میں امن اور استحکام کی جلد واپسی پر زور دیا۔” ہمیں بحیرہ احمر کے علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال میں اضافے پر گہری تشویش ہے۔ آپ نے ایک بیان بھی دیکھا ہوگا جو ہم نے مقدس شہر مکہ پر حملے کی کوشش کے بعد جاری کیا ہے جو کہ علاقائی امن و سلامتی کو متاثر کرتے ہیں یا انہیں نقصان پہنچاتے ہیں اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو بھی خطرہ ہے۔

“ظاہر ہے، مختلف وجوہات کی بناء پر، یہ ہمارے لیے مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ہمیں امید ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کی جلد بحالی ہوگی۔” انہوں نے مزید کہا۔ بدھ کو مکہ کے قریب ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ایم ای اےکے ترجمان نے سعودی عرب کے شہر کی مذہبی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس واقعے کو “خاص طور پر تشویشناک” قرار دیا۔ سعودی عرب کی خود مختار سرزمین پر حملوں اور شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے، مکہ مکرمہ کے قریب واقعہ خاص طور پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اس شہر کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر ہے،” جیسوال نے ایک بیان میں کہا، “ہم سعودی عرب کے دفاعی اور فضائی دفاع کے لیے سعودی عرب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی جلد بحالی کی امید ہے۔” منگل کو حوثیوں کی طرف سے ایک دشمن ڈرون کو مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔

اس ہفتے کے شروع میں، ایم ای اے نے یہ بھی کہا تھا کہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان تازہ ترین حملوں کے تبادلے کے درمیان، بحیرہ احمر کے علاقے میں بڑھتی ہوئی صورتحال پر ہندوستان گہری تشویش میں مبتلا ہے۔” ہمارے وزیر خارجہ (ایس جے شنکر) نے برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ میٹنگ کے دوران انہوں نے کئی بین الاقوامی مسائل سمیت خطے کی ترقی اور ترقی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ حوثیوں کی طرف سے حال ہی میں سعودی عرب پر بھی ایک حملہ ہوا، جس کی ہم نے بحیرہ احمر کے علاقے میں بڑھتی ہوئی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے باب المندب سے گزرنا ہمارے لیے واضح طور پر ناقابل قبول ہے۔

Continue Reading

سیاست

پاکستان یا اٹلی کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں : شہزاد پونا والا کا راہول گاندھی پر طنز

Published

on

نئی دہلی : سیاسی تجزیہ کار اور بی جے پی کے سابق ترجمان شہزاد پونا والا نے جمعہ کے روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ “پاکستان کے وزیر اعظم” یا ان ممالک میں سے کسی کے بھی بن سکتے ہیں جہاں وہ “چھٹیوں” پر جاتے ہیں۔ اٹلی، یا جس بھی ملک کا وہ اکثر دورہ کرتے ہیں، جیسے کہ بنکاک — اگر وہ وہاں کی شہریت لینا چاہے تو وہ اس ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے، کیونکہ وہ اپنا زیادہ تر وقت بیرون ملک گزارتا ہے، وہ صرف اپنی چھٹیوں کے درمیان ہی جاتا ہے۔”

“وہ (راہول گاندھی) یقیناً ان ممالک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں، لیکن یہاں، 2029 میں نریندر مودی اس سے بھی بڑے مارجن کے ساتھ دوبارہ ہندوستان کے وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔ 2034 میں، اگر وہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو وہ وزیر اعظم بھی بن جائیں گے۔ 2027 میں، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بی جے پی اسمبلی میں 2029 سے بھی بڑے مارجن سے واپس آئے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بی جے پی صدر نتن نبین کی قیادت میں پارٹی اتر پردیش، اتراکھنڈ، یہاں تک کہ پنجاب میں بھی حکومتیں بنائے گی اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں جیت کر سامنے آئے گی۔

شہزاد پونا والا نے بی جے پی سے مستعفی ہونے کے اپنے فیصلے پر بھی روشنی ڈالی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد پرائیویٹ سیکٹر میں منتقلی پر غور کر رہے تھے۔ پونا والا نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ 2024 کے انتخابات کے بعد پرائیویٹ سیکٹر میں واپس آنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال کی وجہ سے کچھ اور وقت کے لیے بی جے پی کے ساتھ کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا، “2024 کے انتخابات کے بعد، میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل ہو جاؤں، اس کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ جب میں 2021 میں سیاست میں آیا اور بی جے پی کا قومی ترجمان بنا، تو میں پہلے میڈیا میں رہا تھا۔ اس سے پہلے، میں نے باقاعدہ تنخواہ لی تھی۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان