Connect with us
Friday,19-June-2026
تازہ خبریں

قومی خبریں

سنجے ہیگڑے اور سادھنا نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی

Published

on

2020_2$largeimg21_Feb_2020_202448503

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے موقف کو سپریم کورٹ میں اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مذاکرات کار سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن نے کہا کہ آپ کے درد کو سمجھتے ہیں، اور سپریم کورٹ کے سامنے آپ کا مسئلہ کو اٹھائیں گے۔
انہوں نے شاہین باغ مظاہرین سے دل کا راستہ کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آپ راستہ کھولئے پھر دیکھئے کہ آپ کے لئے کتنے راستے کھلتے ہیں۔ انہوں نے اتفاق رائے سے مسئلہ کو حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ چاہتا ہے کہ آپ کا احتجاج بھی جاری رہے اور راستہ بھی کھل جائے۔ سپریم کورٹ نے آپ کے حق کو تسلیم کیا ہے اس لئے آئین نے آپ کو اس کا حق آئین نے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کار نے مظاہرین کے سیکورٹی کے خدشے پر دہلی پولیس نے تحریری یقین دہانی کرانے کو کہا۔
مظاہرین نے تحفظ کی بات کرتے ہوئے کہاکہ جب بریکیڈ ہٹاکردو بار گولی چلانے والے آسکتے ہیں تو راستہ کھل جانے پر کوئی بھی آسکتا ہے تو مظاہرین کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ اس پر مذاکرات کار نے کہاکہ آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سب پر ہے۔ آپ کی حفاظت کی جائے گی۔ انہوں نے دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا جو درد ہے اس کا درد ہے اور جو اس کا درد ہے وہ ہمارا درد ہے۔ ہمیں کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہئے۔
آج بھی مظاہرین کو تین بجے سے مذاکرات کار کے آنے کا انتظار تھا لیکن سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر ن چھ شام کے بعد پہنچے۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کی بار بار سڑک کھولنے کی اپیل اور سپریم کورٹ نے مذاکرات مقرر کرنے اور راستہ کھولنے کی عرضی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے والی خواتین محترمہ ثمینہ اور ملکہ خاں نے کہاکہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف سپریم کورٹ میں 144 سے زائد عرضی داخل ہیں، جب کہ روڈ کھلوانے کے سلسلے میں محض چھ عرضی داخل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سپریم کورٹ نے ان چھ عرضیوں پر جلدی کارروائی کی ہے اور مذاکرات کار مقرر کئے ہیں اسی طرح 144 عرضیوں پر جلد سماعت کرے گی اور مذاکرات کار مقرر کرے۔
آج زیادہ ٹریفک کی وجہ سے 45 منٹ کے لئے سریتا وہار کالندی کنج راستہ کھولا گیا تھا۔
قبل ازیں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے مذاکرات کے عمل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی اس وقت تک مظاہرہ ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ ہم گروپ میں بات کریں یا کمیٹی تشکیل دیکر بات کریں لیکن مظاہرین اس کے حق میں نہیں ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو بھی بات چیت ہو اوپن فرنٹ پر ہو اور اسٹیج پر ہو تاکہ سب کو معلوم ہوسکے کہ کیا بات چیت ہورہی ہے۔ اسی لئے مظاہرین میڈیا کی موجودگی کے حق میں ہیں اور مظاہرین نے میڈیا کو آنے دیا تھا۔ جب کہ مذاکرات کار میڈیا کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے دونوں دن انہوں نے میڈیا کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرہ کی خاص بات یہی ہے کہ اس کا کوئی لیڈر نہیں ہیں اور خواتین ہی سب کچھ سنبھال رہی ہیں اور مرد حضرات تعاون کرتے ہیں۔ اسٹیج کا سارا کام کاج خواتین ہی سنبھالتی ہیں۔ اس لئے کسی گروپ یا کمیٹی کے طور پر بات کرنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف سڑک نہیں ہے بلکہ سڑک پر بیٹھی خواتین کا ہے۔ مذاکرات کار کو ہماری تکلیفوں کو سمجھنا ہوگا اور وہ سمجھ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم نے صرف 150 میٹر سڑک پربند کیا ہے جب کہ ساری سڑکوں کو پولیس نے بند کیا ہے۔
مذاکرات کار کے بار بار بند سڑک کا نام لئے جانے اور اس سے ہونے والی تکلیفوں کا ذکر کرنے پر مظاہرین کا احساس ہے کہ پہلے ہماری تکلیف ہے۔ سڑک بند ہونے سے ہونے والی تکلیف ایک دو گھنٹے کی ہے لیکن اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیاگیا تو ہماری پوری نسل تکلیف میں آجائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ سپریم کورٹ نے راستہ کھلوانے کے لئے مذاکرات تو بھیجے لیکن ہمارے مسئلے کے حل کے لئے انتظامیہ کو کوئی حکم نہیں دیا۔ مظاہرین نے کہاکہ مذاکرات کار نے ہمارے درد کا احساس کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کو ہماری تکلیفوں، پریشانیوں اور ہمارے احساسات سے آگاہ کریں گے۔
مظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ خاں، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے کہا کہ مسئلہ کا حل کئے بغیر ہم لوگ روڈ خالی کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگ روڈ پر بیٹھی ہیں تو اب تک انتظامیہ میں سے کوئی بھی ہماری بات سننے کے لئے نہیں آیا ہے تو روڈ خالی کر دینے اور مظاہرہ کو منتقل کر دینے سے پھر ہماری بات کون سنے گا۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کا ارادہ ہمیں تھکا دینے کا ہے تاکہ ہم تھک کر یہاں سے بھاگ جائیں۔ انہوں نے عزم کے ساتھ کہا کہ ہم تھکنے والے نہیں ہیں اور اس وقت تک مظاہرہ جاری رکھیں گے جب تک اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیا جاتا۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا تھا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین یہاں پر امن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے مظاہرہ میں تنوع اور حکومت کی توجہ مبذول کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا کر رہے ہیں اور پچاس سے زائد میٹر سیاہ کپڑا پر نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر لکھ کر احتجاج کیا اور اسی کے ساتھ 11 میٹر سیاہ کپڑے کا آنچل بناکر بھی احتجاج کیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر، اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندور میں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا اب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور، اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29 دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگو سرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، آرام پارک خوریجی، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ دہلی،۔جامع مسجد دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ، ہارون نگر، پٹنہ، شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگو سرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج بہار، مگلا کھار، انصار نگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سمستی پور، تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا، ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، پونہ، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں، جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار، اسلامیہ میدان الہ آباد یوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی، محمد علی پارک چمن گنج کانپور یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا، ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ، کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد، عادل آباد، آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم، اننت پور، سریکا کولم، کیرالہ میں کالی کٹ، ایرنا کولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر فتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

قومی خبریں

دہلی ہائی کورٹ نے ٹیلی گرام پر پابندی پر فیصلہ محفوظ رکھا، کہا کہ طریقہ کار اور ہنگامی اختیارات کے استعمال کا جائزہ لیا جائے گا۔

Published

on

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے قومی اہلیت کے ساتھ داخلہ ٹیسٹ (این ای ای ٹی) سے پہلے میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر عائد عارضی پابندی کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس تیجس کریا کی سربراہی والی بنچ نے ٹیلی گرام کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ سکریٹری کی سربراہی میں نظرثانی کمیٹی نے ٹیلیگرام کے عہدیداروں کو سنا اور ان کے دلائل کو ریکارڈ پر لیا گیا۔

ٹیلیگرام کے فریق نے دلیل دی کہ قانون اس طرح کی تفریق فراہم نہیں کرتا ہے۔ عدالت نے جواب دیا، “ٹیلی گرام کی دلیل سیدھی ہے: اگر آدھار کو ہی ختم کر دیا جاتا ہے، تو اس کی بنیاد پر دیا گیا حکم برقرار نہیں رہ سکتا۔” ہم حتمی حکم پر بھی غور کریں گے، اس لیے دونوں پہلوؤں پر بحث کرنا بہتر ہوگا۔

ٹیلی گرام نے مرکزی حکومت کے حکم کو قانونی خامیوں سے بھرا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے متفقہ طور پر عبوری حکم کی تصدیق کی سفارش کی ہے۔

ٹیلیگرام کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل دھرو مہتا نے دلیل دی، “کیا یہ حکم ہندوستان کی سالمیت اور خودمختاری کے مفاد میں ہے؟ کیا این ای ای ٹی جیسے امتحانات ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کو متاثر کریں گے؟” انہوں نے مزید بتایا کہ کاروباری سرگرمیوں سمیت دیگر سینکڑوں سرگرمیاں جاری ہیں۔ لوگ واٹس ایپ پر مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔

عدالت نے پھر کہا، “ہم سب جانتے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔ بہت سے طلباء متاثر ہوئے تھے۔ دوسرا، کیا آپ اس ایک واقعے کو روکنے کے لیے پورے پلیٹ فارم کو بلاک کر سکتے ہیں؟ دفعہ 69A کے تحت طاقت ہے۔” وہ طاقت استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اسے کتنا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی نمائندگی کرنے والے تشار مہتا نے ٹیلی گرام کی پرائیویسی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “ٹیلیگرام کی پرائیویسی پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی اکاؤنٹ کو ڈیلیٹ کرنے سے اس میں محفوظ تمام ڈیٹا، پیغامات اور میڈیا حذف ہو جائیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے ایک پسندیدہ پلیٹ فارم ہے اور اس کا تعمیراتی ڈیزائن دیگر شعبوں میں بھی چیلنجز کا باعث ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ “ہم 150 ملین لوگوں کے حقوق کو صرف اس لیے کیسے محدود کر سکتے ہیں کہ کچھ شہری امتحان دے رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کسی اور کے حقوق کو کسی اور کے تحفظ کے لیے محدود کر سکتے ہیں؟”

اس پر تشار مہتا نے جواب دیا، ’’جب کسی ریاست یا ریاست کے کسی حصے میں انٹرنیٹ پر پابندی لگائی جاتی ہے تو صرف 10 فیصد لوگ ہی شرارتی ہوسکتے ہیں۔‘‘

عدالت نے مزید کہا، “اگر امن و امان کی صورتحال ہے تو اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہاں، یہ تناسب کا امتحان ہے (جب دو چیزیں اس طرح جڑی ہوں کہ اگر ایک بدل جائے تو دوسری بھی بدل جاتی ہے)”۔

تشار مہتا نے دلیل دی کہ اس پلیٹ فارم پر بہت سارے گروپس اور چینلز کام کر رہے ہیں کہ شاید انہوں نے دوسرے پلیٹ فارمز پر اس طرح کے چینلز کے بارے میں کبھی نہیں سنا ہوگا۔ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ ہم طلباء کے جذبات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ٹیلیگرام پر ایک فیچر کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، “ٹیلیگرام میں تاریخ اور وقت میں ترمیم کرنے کا فیچر ہے۔ فرض کریں، 21 جون کو امتحان ختم ہونے کے بعد، ہر کسی کے پاس پیپر ہے، کوئی اسے 22 جون کو ٹیلی گرام پر پوسٹ کر سکتا ہے اور، تاریخ اور وقت کو تبدیل کر کے، یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسے 18 جون کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ یہ 2024 میں ہوا جس سے آپ کو 2024 کے درمیان سٹرائیک کے توازن کو نقصان پہنچا۔ اور عوامی نقصان یہ ہے کہ اگر اس پلیٹ فارم پر کچھ ہوتا ہے تو ذمہ داری کون لے گا؟

سالیسٹر جنرل نے کہا، “طلبہ پریشان ہیں، اور یہ قابل فہم ہے۔ لیکن قومی سطح کے امتحان کی پوری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے، اور اسی لیے میں پوچھ رہا ہوں کہ عدالت اس مرحلے پر مداخلت نہ کرے۔ اس کا واحد مقصد لاکھوں طلبہ کو گمراہ ہونے سے بچانا ہے۔”

حکومت نے کہا کہ اس کا حکم خود ساختہ ہے۔ یہ پلیٹ فارم، اپنے فن تعمیر کی وجہ سے، ایک فرینکنسٹین (ٹکڑوں سے بنا، غیر منظم، اور عجیب) ہے۔ اگر ہمارا جیسا ملک احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر سکتا تو ہم کہاں جائیں؟ پیسے کے لیے بنایا گیا پلیٹ فارم تناسب کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ دلیل بالکل غلط ہے۔ ہم نے کسی دوسرے ثالث کو ہاتھ نہیں لگایا، اگرچہ وہ زیادہ طاقتور ہیں، لیکن ہم نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے کیونکہ ان کے اپنے فلٹریشن کے طریقے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ہم طریقہ کار کو دیکھیں گے لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا آپ کا فن تعمیر کافی نہیں تھا اور اسی لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔ طاقتوں کی ضرورت تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے این ای ای ٹی امتحان سے قبل ٹیلی گرام ایپ پلیٹ فارم پر عارضی طور پر پابندی عائد کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ٹیلیگرام کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

وزیر اعظم مودی نے ایوین میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی جھلک شیئر کی۔

Published

on

پیرس، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے شہر ایوین میں جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور مہمان رکن کی حیثیت سے اس عالمی پلیٹ فارم پر اپنے خیالات کو پرزور انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے ایوین میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت کے اقتباسات بھی شیئر کیے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل کے ذریعے اس دورے کی ایک جھلک شیئر کی۔ اس میں فرانسیسی صدر اور میزبان ایمانوئل میکرون، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر، اطالوی وزیر اعظم جارجیو میلونی، یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، اور یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین سمیت دنیا بھر کے ممتاز پولی حکام نے شرکت کی۔

اہم لمحات کو پوسٹ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے لکھا، “ایوین-لیس-بینس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے کامیاب اجلاس سے کچھ جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے، جہاں عالمی رہنما اپنے سیارے کو درپیش کلیدی مسائل اور چیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے اور تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔”

1 منٹ 52 سیکنڈ کے کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ وزیر اعظم سوئس ہوائی اڈے پر اترتے ہیں، صدر پارملین کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے، اور پھر ایوین میں جی 7 کے مقام پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچتے ہیں۔

پنڈال میں دنیا بھر کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات، اس کے بعد ان کے ساتھ فوٹو سیشن، ٹرمپ کے ساتھ کچھ اہم لمحات اور دو طرفہ بات چیت کے اقتباسات بھی شامل ہیں۔

مہمان رکن کے طور پر مدعو کیے گئے، پی ایم مودی نے اعلیٰ سطحی ورکنگ سیشن میں بھی شرکت کی، جس کا موضوع تھا “نئی شراکت داری اور بین الاقوامی یکجہتی کی تجدید”۔ سیشن میں جی 7 ممالک کے رہنماؤں، شراکت دار ممالک کے رہنماؤں اور عالمی بینک اور افریقی ترقیاتی بینک کے اہم نمائندوں نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے دنیا کے لیے مذاکرات اور امن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم مغربی ایشیا میں امن کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس تنازعے کے نتیجے میں خطے میں ہمارے دوست ممالک میں جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے سمندری تجارت میں خلل نے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔”

انہوں نے ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، “کئی ہندوستانی شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمی سمندری تجارت کے ذریعے ممالک کو جوڑنے والے سمندری جہازوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ سمندری سفر کرنے والے بلاخوف اپنا کام کر سکیں۔”

Continue Reading

سیاست

کرناٹک قانون ساز کونسل کے انتخابات: بی جے پی سے نکالے گئے ایم ایل ایز نے کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کی تصدیق کی۔

Published

on

بنگلورو، کرناٹک قانون ساز کونسل کی سات نشستوں کے لیے جمعرات کو پولنگ کے دوران کراس ووٹنگ کی قیاس آرائیوں کے درمیان، بی جے پی کے ایم ایل اے ایس ٹی۔ سوما شیکھر اور شیورام ہیبر نے کھل کر کانگریس امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی تصدیق کی۔ دونوں لیڈروں نے الزام لگایا کہ بی جے پی قیادت نے ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان سے باضابطہ رابطہ تک نہیں کیا۔

بنگلورو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایس ٹی۔ سوما شیکھر نے کہا کہ انہوں نے اپنے حلقہ کی ترقی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کانگریس کے حق میں ووٹ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کریں گے لیکن ان کے مطابق جو بھی پارٹی ان سے رابطہ کرتی ہے وہ سمجھتے ہیں۔

سوما شیکھر نے کہا کہ نہ تو بی جے پی اور نہ ہی جے ڈی (ایس) نے ان کی حمایت مانگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے۔ شیوکمار نے انہیں بلایا، میٹنگ میں مدعو کیا، اور حلقہ کی ترقی کے لیے تعاون کا یقین دلایا۔ اس اعتماد کی بنیاد پر انہوں نے اپنے ضمیر کی پیروی کی اور کانگریس کے حق میں ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ان جیسے لیڈروں کی حمایت سے اقتدار میں آئی ہے اور اب انہیں یقین ہے کہ کانگریس حکومت ان کے حلقہ کی ترقی کے لئے قدم بہ قدم کام کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس کے پانچوں امیدوار جیت جائیں گے۔

دوسری جانب بی جے پی سے نکالے گئے ایم ایل اے شیورام ہیبر نے بھی کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ ان کے حلقے کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی مسائل پر کانگریس قائدین کے ساتھ ان کی مثبت بات چیت ہوئی جس کے بعد انہوں نے کانگریس امیدواروں کی حمایت میں ووٹ دیا۔

ہیبر نے کہا کہ بی جے پی نے انہیں پارٹی سے نکال دیا، لیکن انہیں قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے کم از کم باضابطہ بات چیت کی توقع تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کا بنیادی مقصد جے ڈی (ایس) امیدوار کو شکست دینا ہے، اس لیے پارٹی قیادت نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ نے ان کی حمایت مانگی تھی، اور انہوں نے مثبت جواب دیا تھا۔

اس دوران وزیر صنعت ایم بی۔ پاٹل نے کانگریس کے اندر کراس ووٹنگ کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی مکمل طور پر متحد ہے اور تمام ایم ایل اے متفقہ حکمت عملی کے مطابق ووٹ دیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کراس ووٹنگ کا کوئی امکان ہے تو وہ بی جے پی یا جے ڈی (ایس) کیمپ میں ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے اروند بیلڈ نے یقین ظاہر کیا کہ پارٹی کے سبھی امیدوار جیت جائیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایس ٹی کے ووٹ سوما شیکھر اور شیورام ہیبر کانگریس میں جا سکتے ہیں، لیکن دیگر تمام بی جے پی ایم ایل اے پارٹی امیدواروں کے حق میں ووٹ دیں گے۔ انہوں نے بی جے پی امیدواروں لنگراج پاٹل اور راگھو کوٹیلیہ کی جیت پر بھی اعتماد ظاہر کیا۔

این ڈی اے کے حمایت یافتہ جے ڈی (ایس) امیدوار کے گووند راجو کے امکانات کے بارے میں بیلڈ نے کہا کہ ووٹوں کی کمی ہے، لیکن ان کی جیت کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

کانگریس ایم ایل اے کوناریڈی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارٹی کے پانچوں امیدوار جیت جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر امیدوار کو تقریباً 28 سے 29 ووٹ الاٹ کئے گئے ہیں اور تمام ایم ایل اے منصوبہ بندی کے مطابق ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو دیگر پارٹیوں سے بھی کچھ امیدواروں کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے ایس آر وشواناتھ نے دعویٰ کیا کہ این ڈی اے کے تینوں امیدوار جیت جائیں گے اور بی جے پی کے اندر کوئی کراس ووٹنگ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اندر عدم اطمینان موجود ہے، جہاں کابینہ کی توسیع اور دھڑے بندی کے مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے این ڈی اے امیدوار کے پاس تین ووٹوں کی کمی ہے، جب کہ کانگریس کو جیتنے کے لیے اپنے پانچویں امیدوار کے لیے پانچ اضافی ووٹوں کی ضرورت ہے۔

کانگریس ایم ایل اے اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی سکریٹری علامہ پربھو پاٹل نے کہا کہ تمام ایم ایل اے پارٹی ہائی کمان کی حکمت عملی کے مطابق ووٹ دیں گے۔

سابق وزیر این چیلوواریا سوامی نے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے پاس تقریباً 140 ووٹ ہیں، جو پانچوں امیدواروں کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پاس دوسری ترجیح کے ووٹ بھی کافی ہیں اور کانگریس کے اندر کوئی کراس ووٹنگ نہیں ہوگی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان