Connect with us
Friday,06-November-2026

قومی خبریں

امت شاہ اس سیاہ قانون کے سہارے ہمیں بانٹنے کی کوشش نہ کریں۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے وزیر داخلہ امت شاہ کی دعوت پر کہ کوئی بھی آکر مل سکتا ہے، اسے دعوت عام تصور کرتے ہوئے ان سے،ملاقات کرنے کے لئے جلوس کی شکل میں مارچ کرنے کی کوشش کی جس کی پولیس نے اجازت نہیں دی۔
پولیس نے کہاکہ ہم نے آپ کے مطالبہ کومتعلقہ حکام کو بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اجازت اور منظوری ملتی ہے ہم خاتون مظاہرین کو آگاہ کردیں گے اور پھر ملنے کے لئے جا سکتی ہیں۔ خاتون مظاہرین اور دبنگ دادیوں کی طرف سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اقبال فیروز خاں، ایڈووکیٹ محمد انور اور ایڈووکیٹ فرید خاں نے بتایا کہ پولیس کے سامنے ہم مارچ کرکے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کا مطالبہ پیش کیا جس پر انہوں نے کہاکہ ہم نے آپ کے مطالبے کو متعلقہ حکام کے پاس بھیج دیا ہے اور جیسے ہی اس پر کوئی بات ہوگی آپ کو اطلاع دی کردی جائے اور اس وقت تک آپ مارچ نہ کریں کیوں کہ اس سے امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مظاہرین کی طرف سے ان ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم امن و قانون سے کھیلواڑ کرنے والے لوگ نہیں ہیں اور ہم قانون کا احترام کرتے ہیں۔ہم انتظار کریں گے۔
دبنگ دادیوں سے مارچ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ ہم لوگ امت شاہ سے ملاقات کرکے یہ بتاناچاہتی ہیں کہ ہمیں الگ الگ نہ کریں اور اس قانون کے سہارے اس ملک میں ہمیں ناٹنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پرامن طریقے سے مارچ کرکے ان سے ملنے جاناچاہتی ہے آخر وہ بھی ہمارا بیٹا ہی ہے۔ ہم ان سے کہیں گی کہ آپ اس کالا قانون کو واپس لے لیں ہم دھرنا سے ہٹ جائیں گی اور اپنے گھر وں کو چلی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ 90سال کی دادیاں بیٹھی ہیں انہیں ان کی فکر ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مظاہرہ کرنا سب کا حق اور ہم لوگ اسی حق کا استعمال کر رہی ہیں۔
مظاہرین سے مارچ کی شکل ملاقات کرنے کی منشا کے بارے میں سوال کئے جانے پر محترمہ شاہین کوثر، محترمہ ملکہ خاں اور محترمہ نصرت آراء نے کہاکہ ہم لوگ دو ماہ سے جدوجہد کر رہی ہیں۔ مگر کسی نے ہماری سدھ لینے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ دیر سے ہی وزیر داخلہ ہم سے بات کرنے کے لئے راضی ہوئے ہیں۔ اسی کو دعوت سمجھ کر ہم ان سے ملنے جانا چاہتی تھیں اور ہم لوگوں نے جامعہ نگر تھانہ سے اسی ضمن میں مارچ کے ساتھ جانے کی اجازت مانگ کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ احساس تھا کہ ہوسکتا ہے کہ پولیس ہمیں اجازت نہ دے لیکن ہم لوگ اپنا کام کرنا چاہتی تھیں اور یہ پیغام دینا چاہتی تھیں کہ شاہین باغ خاتون مظاہرہین ضدی نہیں ہیں اوروہ بات کرنے پر آمادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم لوگ قانون کا احترام کرنے والوں میں سے ہیں پولیس نے اجازت نہیں دی ہم رک گئیں، پولیس نے کہاکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ملوانے کی کوشش کریں گے۔ البتہ خاتون مظاہرین کو اس بات پر ناراضگی تھی کہ جب وزیر داخلہ نے ملنے کے لئے کہا تو پھر ملنے کا وقت کیوں نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاجپت نگر آسکتے ہیں، ووٹ مانگنے کے لئے گھر گھر جاسکتے ہیں تو پھر ہم سے ملنے کے لئے کیوں نہیں آسکتے۔ کیا ہم لوگ دہشت گرد ہیں جو میڈیا کے ایک حلقے میں اس طرح کی بات کہی جارہی ہے۔
مارچ کی شکل میں ملنے پر بضد ہونے کے بارے میں جب یو این آئی نے سوال کیا تو ان خاتون مظاہرین جن میں ہندو خواتین بھی شامل تھیں،نے کہاکہ معاملہ کسی فرد یا ایک شاہین باغ کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے شاہین باغ کا ہے۔ اس شاہین باغ سے پورے ملک کا شاہین باغ منسلک ہے اس لئے صرف یہ شاہین باغ چند لوگوں کی شکل میں ملنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ وفد کی شکل میں پورے ملک کے شاہین باغ سے مشورہ کیا جائے گا اور پورے ملک کے شاہین باغ کے نمائندہ جمع ہوں گے اور پھرملاقات کے سلسلے میں لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ گزشتہ دو دنوں شاہین باغ میں خون کا عطیہ کیمپ لگاہوا ہے جسے اوم بلڈ بینک نے لگایا ہے جس میں اب تک سیکڑوں خواتین اور مرد حضرات نے خون کا عطیہ دیا ہے تاکہ ضرورت مندوں کو خون دیا جاسکے اور لوگوں کی جان بچائی جاسکے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے بتایا کہ یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے باوجود مظاہر ہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں جس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

(جنرل (عام

دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

Published

on

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔

ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

Continue Reading

سیاست

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کو ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر بحث کی دعوت دی

Published

on

چندی گڑھ : ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے بحث (ڈیبیٹ) کے چیلنج پر طنز کرتے ہوئے انہیں ریاست میں آنے اور پارٹی کے ’یوا مورچہ‘ (یوتھ ونگ) کے صدر کے سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ بحث کے مقام کا انتظام خود کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جھوٹے الزامات لگائیں اور بدلے میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جھوٹے دعوے کرے اور پھر وہاں سے چلا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس کو انتخابی عمل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے، تو اسے اپنا موقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ”الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔“

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس ان فورمز سے رجوع کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے، اور کہا کہ محض گھر بیٹھے عوامی سطح پر الزامات لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سینی یہاں سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے سرکاری اقدامات، فصلوں کی خریداری، کانگریس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دیگر کئی امور پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پارٹی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے، اس لیے وہ ”ووٹ چوری“ کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کو ووٹروں کے نام خارج ہونے یا غلط درج ہونے کے بارے میں کوئی شکایت ہے، تو الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھانے کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ انتخابی فہرستیں عوامی سطح پر دستیاب کرائی گئی تھیں، اور مقررہ فارموں کے ذریعے اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے باوجود کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان تمام پیش رفتوں کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اب وہ ایسے دعووں سے بہکنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ”کوئی ووٹ چوری نہیں ہوا ہے۔ کانگریس آج جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو اپنی پارٹی ہی بند کر دینی چاہیے۔“

Continue Reading

سیاست

یوگی کا سرکاری نوکریاں جاری رکھنے کا اعلان

Published

on

لکھنؤ : اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کے روز اشارہ دیا کہ ریاست میں سرکاری ملازمتوں کے لیے بھرتی کا عمل اس وقت بھی جاری رہے گا جب حکومت ایک لاکھ اضافی تقرریوں کا اپنا ہدف مکمل کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ پہلے ہی تقریباً ساڑھے نو لاکھ (9.5 لاکھ) سرکاری بھرتیاں مکمل کر چکی ہے اور مزید ایک لاکھ ملازمتوں کا وعدہ پورا کرنے کے قریب ہے۔ تاہم، بھرتی کا عمل یہیں ختم نہیں ہوگا، بلکہ کچھ تقرری ناموں کو روک کر رکھا جائے گا اور انہیں اس وقت تقسیم کیا جائے گا جب حکومت تیسری بار اقتدار میں واپس آئے گی۔ لکھنؤ میں ریزرو پولیس لائنز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں 4,543 نئے منتخب پولیس سب انسپکٹروں کو تقرری نامے دیے گئے، وزیراعلیٰ یوگی نے بھرتی ہونے والوں سے براہِ راست بات چیت کی اور انتخاب کے عمل میں شفافیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کسی امیدوار کو سیاسی سفارش کی ضرورت پڑی، کیا کسی نے پیسے کا مطالبہ کیا، کیا انہیں رشوت کی پیشکش ہوئی، یا کیا انہوں نے اثر و رسوخ کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے کی کوئی کوشش دیکھی؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے اتر پردیش میں اس طرح کے کام ممکن نہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2017 کے بعد سے ریاست کے بھرتی کے نظام میں مکمل تبدیلی آئی ہے، اور اب ملازمتیں سفارش، امتیاز یا بدعنوانی کے بجائے میرٹ (قابلیت) کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں۔

سابقہ ​​حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ 2003 سے 2017 کے درمیان بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں؛ یہاں تک کہ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جہاں درخواست کسی اور نے جمع کرائی تھی جبکہ تقرری نامہ کسی اور کو جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسے کئی معاملات ابھی بھی عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔ وزیراعلیٰ یوگی نے متنازعہ بھرتی کے عمل کے ذریعے ملازمت پانے والوں کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت ایسی تقرریوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیتی ہے تو اس سے بہت سے نوجوان متاثر ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی کا خیرمقدم کریں گے جو غلط طریقوں سے ملازمت کے متلاشی افراد کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ 2017 سے پہلے سرکاری بھرتیوں پر نام نہاد “صفائی سنڈیکیٹ” (سیفائی سنڈیکیٹ) کا غلبہ تھا، جس نے ریاست کے کئی خطوں کے امیدواروں کو منصفانہ مواقع سے محروم رکھا۔ ان کے مطابق، اب صورتحال بدل چکی ہے اور اتر پردیش کے تمام حصوں کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں تک مساوی رسائی حاصل ہے۔ اپنی انتظامیہ کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ جب 2017 میں ان کی حکومت نے اقتدار سنبھالا، تو ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی ایک چیلنج تھی، اور محکمہ پولیس کی حالت انتہائی خراب تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس بیرکیں خستہ حالی کا شکار تھیں اور اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، ان کی حکومت نے نظام میں مکمل اصلاحات کی ہیں اور اسے ایک نئی شناخت دی ہے، اگرچہ مزید بہتری کے لیے مسلسل لگن اور سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کی مہم بلا تعطل جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ “ایک لاکھ سے زائد تقرری نامے (اپائنٹمنٹ لیٹرز) تقسیم کیے جا چکے ہیں،” اور مزید بتایا کہ آنے والے وقت میں 25,000 اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر خزانہ و پارلیمانی امور سریش کھنہ نے نئے بھرتی ہونے والے سب انسپکٹروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ انہوں نے ایک ایسا موقع حاصل کیا ہے جس کا خواب تو بہت سے امیدوار دیکھتے ہیں، لیکن ہر کسی کو یہ نصیب نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا انتخاب سفارش یا جانبداری کی بنیاد پر نہیں، بلکہ میرٹ اور سخت محنت کے ذریعے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھرتی کا عمل ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ ثابت قدمی اور لگن کے ذریعے نوجوان اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان