قومی خبریں
آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر یہ لڑائی صبر و استقلال کے ساتھ لڑنی ہوگی : انوراگ کشیپ
قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مشہور فلم ہدایت کار انوراگ کشیپ نے کہا کہ یہ لڑائی بہت لمبی ہے اور آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر صبر واستقلال کے ساتھ یہ لڑائی لڑنی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی منشا ہے کہ اس لمبی لڑائی سے آپ تھک جائیں اور تھک کر دھرنا مظاہرہ کر نا چھوڑ دیں اور شاہین باغ کے اس دھرنے کو ختم کردیں لیکن آپ کو صبر واستقلال کے ساتھ اس لڑائی کو لڑنی ہے اور کسی بھی لمحے اسے کمزور نہیں ہونے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مظاہرین اپنے حق کے لئے سڑکوں پر ہیں اور اس لڑائی میں سب سے ضروری یہ ہے کہ اپنے حق کی لڑائی سچائی کے ساتھ لڑنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو آپ مظاہرین کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے اور جب تک بات چیت نہیں ہوگی اس مسئلہ کا حل کیسے نگلے گا۔
قبل ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے مسٹر کشیپ نے کہاکہ ہمیں اس وقت مظاہرہ جاری رکھنا ہے جب تک حکومت اس سیاہ قانون واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی آپ کو کسی اشتعال کے بغیر لڑنی ہے کیوں کہ بار بار آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ہے اور کوشش کی جائے گی لیکن آپ کو مشتعل نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرے سے دیگر مظاہرین کو طاقت ملتی ہے اور پورے ملک میں شاہین باغ اور جامعہ کے طرز پر مظاہرے ہورہے ہیں اس لئے کو صبر استقلال کے ساتھ جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت کی منشا اور رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پورے ملک کے لوگ اکٹھا ہوکر مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہاں پورا ملک نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے کہ اس سیاہ قانون کے تئیں لوگ بیدار ہیں۔ انہوں نے حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے باوجود اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور وہ مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کر رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے این یو کے طلبہ اور عام شہریوں نے شرجیل امام، ڈاکٹر کفیل احمد خاں اور اس قانون کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے والے دیگر گرفتار کی حمایت میں جامعہ ملیہ اسلامیلہ سے شاہین باغ تک مارچ نکالا۔ ان کے ہاتھوں مختلف طرح کے پوسٹر تھے جن پر لکھا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کرو، شرجیل امام کو رہا کرو اور دیگر گرفتار شدگان کو رہا کرو۔ واضح رہے کہ شرجیل امام اور ڈاکٹر کفیل احمد خاں علی گڑھ میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں جیل میں بند ہیں اور ڈاکٹر کفیل احمد کو ضمانت مل گئی تھی لیکن اترپردیش حکومت نے ان پر قومی سلامتی ایکٹ لگا کر پھر جیل میں ڈال دیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اورعام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش وخروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کااہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے پلوامہ حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر پلوامہ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسٹیج پر اس کے پران شہیدوں کے پوسٹر لگائے گئے۔ اس طرح خوریجی بھی شاہین باغ کی طرز پر کچھ نیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے خلاف آج چننئی میں مظاہرہ ہور ہا ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20 سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی، آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ، دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر، پٹنہ’ شانتی باغی گیا بہار، مظفرپور بہار، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار، سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔ گوپال گنج بہار، کلکٹریٹ بتیا‘ ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر، پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اپدے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور، سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنا نگر فتح آباد، فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
جرم
کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔
مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
سیاست
کے ٹی آر فارمولا ای کار ریس کیس میں عدالت میں پیش ہوئے۔

حیدرآباد، بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر کے ٹی۔ فارمولا ای کار ریس کیس میں راما راؤ جمعہ کو یہاں خصوصی اے سی بی کورٹ میں پیش ہوئے۔ سمن کے جواب میں راما راؤ اور کیس کے دیگر ملزمان ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر اروند کمار اور حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیف انجینئر بی ایل این۔ ریڈی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب سابق وزیر راما راؤ فارمولا ای کار ریس کیس میں عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ وہ اس سے قبل 31 جولائی کو پیش ہوئے تھے لیکن 25 اگست کو ذاتی حاضری سے استثنیٰ طلب کیا تھا۔ حیدرآباد میں 2023 فارمولا ای کار ریس کے دوران اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مبینہ طور پر 55 کروڑ روپے ایک غیر ملکی فرم کو منتقل کیے گئے۔
کے ٹی آر، جیسا کہ راما راؤ کا نام مشہور ہے، کو بی آر ایس کے دور حکومت میں حیدرآباد میں فارمولا ای ریس کے انعقاد کے لیے عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق کیس میں ملزم نمبر ایک نامزد کیا گیا ہے۔ اے سی بی نے کے ٹی آر، اروند کمار، اور بی ایل این سے پوچھ گچھ کی۔ کیس میں کئی بار ریڈی۔ کے ٹی آر، جن سے اے سی بی نے چار بار پوچھ گچھ کی تھی، پہلے ہی فارمولا ای کیس کو “بوگس کیس” قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ عدالت سے باہر آنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، راما راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ان کے خلاف الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور حیدرآباد اور تلنگانہ کو پہچان دلانے کے لیے مقدمہ درج کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ انھوں نے مکمل ایمانداری سے تقریب کا انعقاد کیا۔ عدلیہ اور اس لیے دوسری بار عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت جب بھی طلب کرے گی میں پیش ہوں گا۔
کے ٹی آر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کئی بی آر ایس قائدین اور بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان بھی نامپلی کورٹ کمپلیکس پہنچے۔ گزشتہ سال نومبر میں تلنگانہ کے اس وقت کے گورنر جشنو دیو ورما نے فارمولا ای ریس کیس میں راما راؤ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی تھی۔ ستمبر میں اے سی بی نے اپنی رپورٹ پیش کی اور ریاستی حکومت کے ذریعے گورنر کے ٹی آر سے مطالبہ کیا۔ راما راؤ، اروند کمار، اور دیگر۔ حیدرآباد میں فارمولا ای ریس کی میزبانی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نو ماہ کی تحقیقات کے بعد، اے سی بی نے اپنی رپورٹ حکومت کو سونپی۔ بی آر ایس لیڈر پر ایک اسپانسر شپ کمپنی سے انتخابی بانڈ کی شکل میں 44 کروڑ روپے وصول کرنے یا ریس کا حق دینے کا الزام ہے۔
اے سی بی نے دسمبر 2024 میں کے ٹی آر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ سابق خصوصی چیف سکریٹری، میونسپل ایڈمنسٹریشن اور شہری ترقی، اروند کمار؛ اور حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیف انجینئر ریڈی پر فارمولا ای ڈیل میں 54.88 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں۔ گورنر کی جانب سے جانچ کی اجازت دینے کے بعد، پرنسپل سکریٹری میونسپل ایڈمنسٹریشن اینڈ اربن ڈیولپمنٹ، ایم دانا کشور کی شکایت پر ایک ایف آئی آر درج کی گئی، جس نے کہا کہ غیر ملکی ریمیٹنگ اتھارٹیز کے ذریعے غیر ملکی ریمیٹنگ کے ذریعے رقم بھیجی گئی۔ جس کے نتیجے میں حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی پر 8.06 کروڑ روپے کا اضافی ٹیکس کا بوجھ پڑے گا۔
قومی خبریں
ایم پی کے کنو میں ہندوستانی چیتے نے چار بچوں کو جنم دیا، آبادی 56 ہوگئی

شیوپور (مدھیہ پردیش)، ملک میں چیتا کو دوبارہ متعارف کروانے کے پرعزم پروگرام کو فروغ دینے کے لیے، ہندوستان میں پیدا ہونے والی ایک مادہ چیتا نے مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک میں چار بچوں کو جنم دیا ہے، جس سے ملک کی چیتا کی آبادی 56 ہو گئی ہے اور اس نسل کو بھارت میں واپس لانے کے بعد قائم ہونے والی آبادی میں ایک نئی نسل کا اضافہ ہوا ہے۔ جمعہ کو، پروجیکٹ چیتا کے چار سال مکمل ہونے کے ایک دن بعد، اس پروگرام کے لیے ترقی کو خاص طور پر اہم بناتا ہے جس کا مقصد ملک میں چیتا کی ایک قابل عمل اور خود کفیل آبادی قائم کرنا ہے۔ مرکزی ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپیندر یادو نے جمعہ کو پیدائش کا اعلان کیا اور پروجیکٹ چیتا اور کنو نیشنل پارک میں شامل ٹیموں کو مبارکباد دی۔
“چار سال، چار نئی زندگیاں — امید، لچک اور بھارت میں چیتا کے تحفظ کی بڑھتی ہوئی کامیابی کی ایک خوبصورت علامت،” یادیو نے ایکس .کے جی پی12 پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان میں پیدا ہوا تھا اور وہ ان چیتاوں میں شامل ہے جنہوں نے دوبارہ تعارف کے پروگرام کے بعد کامیابی کے ساتھ ملک کے حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ ان کے چار بچے بھارت کے لیے ایک اور طویل آبادی کے پروگرام کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ایک اور طویل عرصے سے چیتا پروگرام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ قدرتی افزائش اور آبادی میں اضافہ حاصل کرنا۔ تازہ ترین پیدائش کے ساتھ، ہندوستان میں چیتاوں کی کل تعداد 52 سے بڑھ کر 56 ہو گئی ہے۔ کنو چیتا کا بنیادی مسکن ہے، جس میں 49 جانور ہیں، جبکہ تین چیتے اس وقت مدھیہ پردیش کے گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچری میں رکھے گئے ہیں۔ تازہ ترین پیدائشوں سے پہلے، ہندوستان میں 32 چیتا پیدا ہو چکے تھے جب سے دوبارہ تعارف کا پروگرام شروع ہوا، جس نے ملک کے منظر نامے میں قیدیوں کے انتظام، افزائش نسل اور بعد میں موافقت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
مرکزی وزیر یادو نے بھی اس پروگرام کو لاگو کرنے میں مسلسل کوششوں کے لیے فیلڈ ٹیموں کی ستائش کی، کہا کہ تازہ ترین پیش رفت ہندوستان کی چیتا کے تحفظ کی کوششوں کے لیے ایک “واقعی تاریخی اور خوشی کا لمحہ” ہے۔ پروجیکٹ چیتا کا آغاز 17 ستمبر 2022 کو کیا گیا تھا، جب نمیبیا سے آٹھ چیتوں کو لایا گیا تھا اور اسے کنو نیشنل پارک میں سات نشانات کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ ملک میں۔ اس پروگرام کو بعد میں جنوبی افریقہ اور بوٹسوانا سے چیتاوں کی نقل مکانی کے ساتھ وسعت دی گئی۔ توجہ صرف جانوروں کو ملک میں لانے سے ان کی بقا، افزائش نسل اور ایک پائیدار آبادی کے قیام کو یقینی بنانے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
اس سفر کو چیلنجوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں متعدد نقل مکانی اور ہندوستان میں پیدا ہونے والے چیتاوں کی موت، قریبی نگرانی، ویٹرنری مداخلت اور انتظامی طریقوں میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ تازہ ترین کوڑا اس وقت سامنے آیا جب یہ پروگرام اپنے پانچویں سال میں داخل ہو رہا ہے اور کونو سے آگے چیتا کی آبادی کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، گاندھی ساگر پہلے ہی سے چار پردیش میں چیتا کی پیدائش کے دوسرے بڑے عادات کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس طرح اسے آبادی کے قیام کی طرف دوبارہ متعارف کرانے سے پروگرام کی منتقلی میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں ہندوستان میں پیدا ہونے والے چیتے اب ملک میں نسل کی اگلی نسل میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
