قومی خبریں
آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر یہ لڑائی صبر و استقلال کے ساتھ لڑنی ہوگی : انوراگ کشیپ
قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مشہور فلم ہدایت کار انوراگ کشیپ نے کہا کہ یہ لڑائی بہت لمبی ہے اور آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر صبر واستقلال کے ساتھ یہ لڑائی لڑنی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی منشا ہے کہ اس لمبی لڑائی سے آپ تھک جائیں اور تھک کر دھرنا مظاہرہ کر نا چھوڑ دیں اور شاہین باغ کے اس دھرنے کو ختم کردیں لیکن آپ کو صبر واستقلال کے ساتھ اس لڑائی کو لڑنی ہے اور کسی بھی لمحے اسے کمزور نہیں ہونے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مظاہرین اپنے حق کے لئے سڑکوں پر ہیں اور اس لڑائی میں سب سے ضروری یہ ہے کہ اپنے حق کی لڑائی سچائی کے ساتھ لڑنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو آپ مظاہرین کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے اور جب تک بات چیت نہیں ہوگی اس مسئلہ کا حل کیسے نگلے گا۔
قبل ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے مسٹر کشیپ نے کہاکہ ہمیں اس وقت مظاہرہ جاری رکھنا ہے جب تک حکومت اس سیاہ قانون واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی آپ کو کسی اشتعال کے بغیر لڑنی ہے کیوں کہ بار بار آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ہے اور کوشش کی جائے گی لیکن آپ کو مشتعل نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرے سے دیگر مظاہرین کو طاقت ملتی ہے اور پورے ملک میں شاہین باغ اور جامعہ کے طرز پر مظاہرے ہورہے ہیں اس لئے کو صبر استقلال کے ساتھ جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت کی منشا اور رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پورے ملک کے لوگ اکٹھا ہوکر مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہاں پورا ملک نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے کہ اس سیاہ قانون کے تئیں لوگ بیدار ہیں۔ انہوں نے حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے باوجود اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور وہ مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کر رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے این یو کے طلبہ اور عام شہریوں نے شرجیل امام، ڈاکٹر کفیل احمد خاں اور اس قانون کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے والے دیگر گرفتار کی حمایت میں جامعہ ملیہ اسلامیلہ سے شاہین باغ تک مارچ نکالا۔ ان کے ہاتھوں مختلف طرح کے پوسٹر تھے جن پر لکھا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کرو، شرجیل امام کو رہا کرو اور دیگر گرفتار شدگان کو رہا کرو۔ واضح رہے کہ شرجیل امام اور ڈاکٹر کفیل احمد خاں علی گڑھ میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں جیل میں بند ہیں اور ڈاکٹر کفیل احمد کو ضمانت مل گئی تھی لیکن اترپردیش حکومت نے ان پر قومی سلامتی ایکٹ لگا کر پھر جیل میں ڈال دیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اورعام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش وخروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کااہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے پلوامہ حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر پلوامہ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسٹیج پر اس کے پران شہیدوں کے پوسٹر لگائے گئے۔ اس طرح خوریجی بھی شاہین باغ کی طرز پر کچھ نیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے خلاف آج چننئی میں مظاہرہ ہور ہا ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20 سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی، آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ، دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر، پٹنہ’ شانتی باغی گیا بہار، مظفرپور بہار، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار، سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔ گوپال گنج بہار، کلکٹریٹ بتیا‘ ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر، پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اپدے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور، سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنا نگر فتح آباد، فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
(جنرل (عام
مغربی ایشیا تنازع میں 23 بھارتی شہری ہلاک، بحیرہ اسود کے حملوں میں بھی پانچ افراد جان سے گئے : ایم ای اے

نئی دہلی : مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ میں 15 ہندوستانی بحری جہازوں سمیت 23 ہندوستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ بحیرہ اسود کے علاقے میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں میں پانچ ہندوستانی شہری مارے گئے، وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے منگل کو کہا۔ منگل کو نئی دہلی میں دو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے، ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ پیر کے روز ایک بحری جہاز جس میں عملے کے 14 ارکان سوار تھے، حملے میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے 2 نومبر کو جب جہاز پر حملہ کیا تو 13 ہندوستانی شہریوں کو بچانے کے لیے عمانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔
مغربی ایشیا کے تنازعہ میں اپنی جانیں گنوانے والے ہندوستانی شہریوں کی تعداد کے بارے میں جیسوال نے کہا، “اب تک مرنے والوں کی تعداد، ہندوستانی شہری جو مر چکے ہیں، پچھلی بار میں نے آپ کو بتایا تھا کہ 22 ہندوستانی شہری تھے جنہیں ہم مغربی ایشیا کے تنازعہ میں کھو چکے ہیں۔ ان 22 ہندوستانی شہریوں میں سے، ہمارے پاس 14 ہندوستانی بحری جہاز ہیں اور آج ہم نے ایک اور کھویا ہے، جس کا مطلب ہے کہ مغربی ایشیا میں ہم نے 23 ہندوستانی شہری کھوئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مغربی ایشیا میں تنازعات میں ہم نے اپنی جان گنوائی ہے۔” ان میں سے 15 ہندوستانی سمندری ہیں۔ جیسوال نے کہا کہ ہندوستان اس بات کو یقینی بنانے کے عمل میں مصروف ہے کہ بچائے گئے 13 ہندوستانی شہریوں کو جلد ہی ہندوستان واپس بھیج دیا جائے۔ پیر کو عمان کے ساحل پر جہاز پر حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی شہری کی لاشوں کو واپس لانے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
“کل ہم نے ایک ہندوستانی جہاز پر حملہ کیا تھا، ہم نے ایک بیان جاری کیا ہے؛ آپ نے تفصیلات دیکھی ہوں گی، اس جہاز پر ہمارے 14 ہندوستانی عملے کے ارکان تھے، افسوسناک طور پر، بدقسمتی سے، ان میں سے ایک کی موت ہوگئی۔ اب ہم اس بات کو یقینی بنانے کے عمل میں ہیں کہ 13 ہندوستانی شہری جو وہاں موجود ہیں، انہیں ہندوستان واپس بھیج دیا جائے گا۔ جو مر چکے ہیں، ان کی باقیات کو ہندوستان واپس لایا جانا ہے،” ایم ای اے کے ترجمان نے بتایا۔ انہوں نے خطے میں امن کی جلد واپسی کے لیے بھارت کے مذاکرات اور سفارت کاری کے مطالبے کو دہرایا۔
“مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ ہم عمانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کی تیز رفتار کارروائی میں وہ 13 ہندوستانی شہریوں کو بچانے میں کامیاب ہوئے جب جہاز پر حملہ ہوا۔ ہم ایک بار پھر فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بات چیت اور سفارت کاری کو آگے بڑھایا جائے تاکہ خطے میں جلد امن کی واپسی ہو، اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جانا چاہیے اور اس کی ضمانت دی جانی چاہیے۔” بحیرہ اسود کے علاقے میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں میں جان گنوانے والے ہندوستانی شہریوں کی تعداد کے بارے میں، جیسوال نے کہا، “ہمارے پاس پانچ ہندوستانی شہری ہیں جو گم ہوچکے ہیں، اور دو لاپتہ ہیں۔”
اس سے پہلے دن میں، ہندوستان نے عمان کے لیمہ کے قریب ایک تجارتی جہاز ایم ایس وی الجوسفی پر حملے کی مذمت کی، جس میں ایک ہندوستانی شہری کی جان گئی، اور تناؤ کو کم کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ “ہم کل شام لیمہ، عمان کے قریب ایک تجارتی جہاز ایم ایس وی الجوسفی پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ جہاز میں سوار 14 ہندوستانی شہریوں میں سے 13 کو بچا لیا گیا ہے جب کہ ایک ہندوستانی شہری زخمی ہونے کے بعد المناک طور پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ ہم قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔ اومان میں ہمارا سفارت خانہ حالات کی جلد نگرانی کر رہا ہے اور اومان کے حکام کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔” بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی وطن واپسی اور مرنے والوں کی باقیات، “وزارت نے ایک بیان میں ذکر کیا۔
ایم ای اے نے خطے میں تجارتی جہاز رانی پر مسلسل حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور تناؤ کو فوری طور پر کم کرنے اور سفارتی حل کے لیے جاری مذاکرات کے اختتام پر زور دیا۔ “خطے میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے مسلسل واقعات گہری تشویش کا باعث ہیں۔ ہم کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے اور سفارتی حل کے لیے جاری مذاکرات کے اختتام کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں تاکہ خطے میں امن و استحکام واپس آسکے۔ خطے میں تجارتی جہاز رانی اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی سطح پر آزادانہ اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس کا خاتمہ ضروری ہے۔” بین الاقوامی قانون کے مطابق خطے میں آبی گزرگاہوں کو جلد از جلد بحال کیا جانا چاہیے،” ایم ای اے نے کہا۔
(جنرل (عام
گجرات : ادائیگی کے تنازع پر گاڑی میں آگ لگنے سے دو مزدور زندہ جل کر ہلاک

امریلی : گجرات کے امریلی ضلع میں ایک مسافر گاڑی جس میں وہ سو رہے تھے، کو مبینہ طور پر مالی تنازعہ پر آگ لگانے کے بعد مدھیہ پردیش کے دو مزدور، بشمول ایک 16 سالہ لڑکے کو زندہ جلا دیا گیا، پولیس نے منگل کو بتایا۔ حملہ کرنے والے دو بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ آدھی رات کے قریب للیہ تعلقہ کے گاونڈاران گاؤں کے مضافات میں پیش آیا، جہاں دونوں افراد ایک کھیت میں کھڑی تفان مسافر گاڑی کے اندر سو رہے تھے۔ مرنے والوں کی شناخت روی بگھیل (16) اور نتن پچایا (21) کے طور پر کی گئی ہے، جو شکایت کنندہ کملیش بگھیل کے بالترتیب بیٹے اور بھتیجے تھے۔
حکام کے مطابق ملزم جن کی شناخت ونود دودیار اور اس کے بھائی راجو کے نام سے ہوئی، نے مبینہ طور پر گاڑی پر آتش گیر مادہ ڈالا اور اسے آگ لگا دی۔ آگ لگنے سے دونوں مکین اندر پھنس گئے اور دم توڑ گئے۔ پولیس نے کہا کہ یہ واقعہ گاڑی کے لیے 60,000 روپے کی بقایا ادائیگی پر تنازعہ کی وجہ سے ہوا، جسے ونود نے شکایت کنندہ سے قسط کی بنیاد پر خریدا تھا۔ چونکہ ونود مبینہ طور پر قسطیں ادا کرنے میں ناکام رہا تھا، اصل بیچنے والے نے کملیش بگھیل کو گاڑی کا قبضہ لینے کی ہدایت کی۔ شکایت کنندہ نے واقعہ سے تقریباً 10 دن پہلے اسے دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جس سے مبینہ طور پر ملزم ناراض تھا۔
“شکایت کنندہ نے 10 دن پہلے ملزم سے ایم یو وی کا قبضہ لیا تھا۔ اس کی رنجش میں ونود ڈوڈیار نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر گاڑی کو آگ لگانے کی سازش کی۔ شکایت کنندہ کا بیٹا اور بھتیجا، جو اس وقت گاڑی کے اندر سو رہے تھے، جل کر ہلاک ہو گئے،” حکام نے بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 60,000 روپے کی بقایا رقم ادا نہیں کی گئی اور ملزمان نے مبینہ طور پر گاڑی کو واپس لینے کے بدلے میں آگ لگانے کا فیصلہ کیا۔ واقعہ کے بعد للیہ پولیس، اعلیٰ افسران اور فرانزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا، جب کہ مزید تفتیش جاری ہے کہ واقعات کی ترتیب اور کوئی اور ملوث ہے یا نہیں۔ قتل کی دفعہ 103(1) سمیت بھارتیہ نیا سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت اموات کے سلسلے میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔
سیاست
’پی ڈی اے کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے!‘ اعظم خان کو 14 روزہ عدالتی تحویل میں بھیجنے پر ابو اعظمی کا بیان

ممبئی : سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے صدر ابو عاصم اعظمی نے منگل کے روز الزام لگایا کہ اتر پردیش کے سابق وزیر اعظم خان کو حکومت کی طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ دعویٰ کیا کہ جب بھی ان کی ضمانت ہوتی ہے تو ان کے خلاف نئے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ اعظمی کا یہ تبصرہ منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کے بعد اعظم خان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد آیا ہے۔ خان کو پیر کو ضمانت پر رہا ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اسے غازی آباد کی ڈاسنا جیل میں رکھا جائے گا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعظمی نے کہا: “اعظم خان کئی سالوں سے جیل میں ہیں، اگر ای ڈی کے پاس ان کے خلاف کچھ ہوتا تو وہ جیل کے اندر ہی ان سے پوچھ گچھ کر سکتی تھی اور کارروائی کر سکتی تھی۔ لیکن جیسے ہی ان کی ضمانت ہوتی ہے، ایک نیا مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ یہ سب حکومت کے کہنے پر ہو رہا ہے۔”
“یہ سراسر غلط ہے، اعظم خان نے غلط کام کے ذریعے کچھ نہیں کمایا، اس نے پیسہ لا کر یونیورسٹی قائم کی، وہ 10 سے زائد بار ایم ایل اے منتخب ہوئے اور وزیر اور ایم پی بھی رہ چکے ہیں، تاہم ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ پی ڈی اے (پچھڑا، دلت اور الپسانخیاک) کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔” لیکن اب اس آدمی کو عوام میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعظمی نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس حکم کا بھی خیر مقدم کیا جس میں برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو اداکار دیا مرزا کی دیوالی ویڈیو کو دوبارہ اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جس میں لوگوں سے ماحول دوست اور پٹاخے سے پاک تہوار منانے کی اپیل کی گئی تھی۔ ترقی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے رہنما نے کہا، “میں بہت خوش ہوں اور عدالت کو یہ دکھانے کے لیے مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انصاف ابھی بھی زندہ ہے۔ میں تمام عدالتوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور مہاتما گاندھی کی جدوجہد کو نہ بھولیں۔”
انہوں نے عدلیہ پر مزید زور دیا کہ جب بھی ملک میں کوئی بھی غیر آئینی یا زبردستی اور غنڈہ گردی کے ذریعے مسلط کیا جائے تو اس کا از خود نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا، “جب بھی ملک میں کچھ بھی غیر آئینی ہوتا ہے، عدالتوں کو سوموٹو ایکشن لینا چاہیے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ بی جے پی لیڈر جو ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں، ہوش میں آجائیں گے۔” بامبے ہائی کورٹ نے منگل کے روز دیا مرزا کے خلاف سیاست دانوں کی طرف سے استعمال کی گئی بیان بازی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور شہری ادارے کو ہدایت دی کہ وہ حذف شدہ ویڈیو کو دوبارہ اپ لوڈ کرے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، عدالت نے لوگوں کو ماحول کے لحاظ سے ذمہ دارانہ طریقے سے تہوار منانے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اجازت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
