Connect with us
Wednesday,04-November-2026

جرم

شرجیل امام : میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں

Published

on

جنوری کی پانچ تاریخ کو جے این یو میں نقاب پوش بدمعاشوں کے ذریعہ تشدد اور دہلی پولس کی شرمناک خاموشی سے ناراض ممبئی اور مہاراشٹر کے نوجوانوں اور طلبہ نے اسی رات گیٹ وے پر جمع ہونے کی اپیل کی وہ جے این یو کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتے تھے۔ اسی احتجاج میں ایک لڑکی جس کا نام مہک پربھو تھا فری کشمیر کا پوسٹر اٹھائے ہوئے نظر آئی۔ یہ کسی کو نظر آئے یا نہیں آئے مگر بی جے پی کیلئے یہ موقعہ غنیمت تھا چنانچہ سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ اس کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اس پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی اور تفتیش شروع ہوگئی مگر اس سے پہلے ہی اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس کے پیچھے اس کا مقصد کشمیر میں عوام کو ہورہی دشواری پر احتجاج کرنا تھا جسے سب نے تسلیم کرلیا۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ شرجیل امام پر ملک سے غداری کے مقدمہ کے بعد گرفتاری کا ہے۔ واضح ہو کہ اس نوجوان نے علی گڑھ میں احتجاج کے دوران یہ کہا تھا کہ احتجاج کو موثر بنانے کیلئے ہمیں پورے ملک میں چکہ جام جیسی صورتحال پیدا کرنی ہوگی جس میں اس نے شمال مشرق کی ریاست کو باقی ہندوستان سے کاٹ دینے یعنی رابطہ ایک لمبے عرصہ تک منقطع کرنے کی بات کی تھی تاکہ حکومت مجبور ہو کر مسلمانوں کی بات سنے۔ اس تقریر میں جو کاٹ دینے کی بات تھی اس کو علیحدگی پسندی سے تعبیر دی گئی اور اس کی یا اس کے والدین کی جانب سے دی گئی وضاحت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ وجہ بالکل صاف ہے کہ فری کشمیر کا پوسٹر اٹھانے والی ہندو لڑکی تھی اس لئے وہ قابل معافی ہے یا قابل گرفت نہیں ہے مگر شرجیل امام ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان ہے اس لئے اس کی جانب سے کسی وضاحت کو تسلیم نہیں کرنے کا رجحان ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی ہے۔اس کے ثبوت کے طور پرکشمیر کے معاملہ میں جواہر لال نہرو کی حکومت میں ہی شیخ عبد اللہ کی گرفتاری کوپیش کیا جاسکتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ شرجیل امام کی حمایت میں آزاد میدان میں نعرہ لگانے والوں پر ایف آئی آر ہوجاتی ہے اور اس میں شامل ایک طالبہ کی گرفتاری کیخلاف پولس کوشاں ہوجاتی ہے مگر وہ نظروں سے بچ کر ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
کچھ دن قبل شرجیل امام کی حمایت میں کچھ نوجوانوں کی جانب سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلایا گیا جس میں شرجیل سے اظہار یکجہتی اور اس کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ اس میں ایک ٹوئٹر پر شرجیل کی ایک تصویر نظر آئی جس میں وہ ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے ہے جس پر ہاتھ سے انگریزی میں ایک تحریرہے جس کا اردوترجمہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘ہے۔ بہت مختصر جملہ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے تناظر میں جامع ہے۔ یہ آج کے ہر مسلم نوجوان کی آواز ہے۔ خواہ کسی سازش کے تحت اسے کچھ بھی سمجھ لیا جائے۔ شرجیل کا شمال مشرق کی ریاستوں کو بقیہ ہندوستان سے کاٹ دینے کا مطلب مہک پربھو کے فری کشمیر سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔ مگر اس کو کیا کیجئے کہ شرجیل امام ایک آمادہ زوال قوم کا نوجوان ہے جو قوم کے حالات سے رنجیدہ ہے۔ وہ جسقدر ہندوانتہا پسندوں سے نالاں ہے اس سے کہیں زیادہ وہ نام نہاد سیکولر لبرل طبقہ سے بے اعتمادی کا اظہار کرتاہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نے اسی تقریر میں یہ کہا کہ یہ لوگ اپنی مارکیٹنگ کریں گے اور چلے جائیں گے ۔ ہمیں اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہوگی۔ اجیت ساہی بھی نام نہاد سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس ملک میں مسلمان، مسلمان بن کر ہی رہے گا یہی اس کی پہچان ہے‘۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کا زور اس بات پر ہے کہ مسلمان اس ملک کی تہذیب و ثقافت میں اپنی پہچان ختم کرلیں۔ اسی لئے ششی تھرور کو موجودہ احتجاج میں مسلم شناخت اور اسلامی نعرے شدت پسندی یا مذہبی بنیاد پرستی نظر آتے ہیں۔
ہمیں شرجیل امام کے معاملہ میں سیکولر اور لبرل طبقہ سے شکایت ہے کہ اس نے شرجیل کو تنہا چھوڑ دیا۔ مگر ہم نے کون سا اس کا ساتھ دیا؟ ہم نے آخر کیوں اس کا ساتھ نہیں دیا؟ اس کے پیچھے محض خوف کی نفسیات اور مجرم ضمیری کے سوا کیا ہے کہ اگر ہم نے اس کی حمایت میں کچھ بولا تو ملک کے غدار ٹھہرائے جائیں گے اور مقدموں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ آخر آپ کب تک خود کو مشکلات سے بچا پائیں گے؟ جب تک آپ پورے طور سے یہاں کی تہذیب و ثقافت میں شامل ہو کر اپنی شناخت ختم نہ کرلیں۔ شرجیل امام کا مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا وہ بیدار مسلم نوجوان ہے جو اپنی شناخت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اور چاہتا ہے کہ اس کی قوم بھی ایک غیور قوم کی طرح ہندوستان میں سر اٹھاکے رہے۔ شرجیل کے سامنے اس کے قوم کی شاندار روایتیں ہیں جسے قوم اور قوم کے جبہ و دستار سے سجی قیادت بھلا چکی ہے۔ شرجیل کے سامنے اسلام کی وہ اعلیٰ و ارفع تعلیمات ہیں جو حقوق انسانی کی پوری ضمانت دیتا ہے۔ وہ اس اسلام کو مانتا ہے جس نے موجودہ دنیا کو حقوق انسانی اور انسانی قدریں کیا ہوتی ہیں اس سے روسناش کرایا جبکہ شرجیل امام پر تنقید کرنے والے افراد کا یہ نظریہ کمزور ہو چکاہے۔
ہمیں سازشوں کی باتیں اتنی بتائی گئی ہیں کہ ہم زمینی حقائق اور فطری جذبہ کو بھی دشمن کی سازش قرار دینے لگے ہیں۔ بعض افراد کا ماننا ہے کہ شرجیل امام کا موجودہ تحریک کے دوران اس قسم کی تقریر کرنا دراصل ایک سازش ہے اور اسے دشمن نے ہمارے درمیان پلانٹ کیا ہے۔ یقین جانئے یہ صرف خوف کی انتہا ہے جس کا اظہار ہماری زبان سے اس انداز سے ہوتا ہے۔ شرجیل کا یہ جملہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘وضاحت کیلئے کافی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں ہوا اور اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر کے سوا کیا کیا۔اس کے صبر کی انتہا تو سپریم کورٹ کے ذریعہ اس کی مسجد کو مندر کے حوالہ کرنے کے فیصلہ پر اشتعال میں نہیں آنا ہے ۔مگر جب اس کی شہریت کو ختم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تو وہ بے چین ہوگیا۔ دنیا میں کون ہے جو بے زمین ہونے کی کیفیت کا احساس کرکے بے چین نہیں ہوگا۔ حکومت کے اس منصوبہ کیخلاف بھی مسلمانوں کو ہی میدان میں آنا پڑا اور پھر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس کے گھر کی زینت اور صنف نازک کو بھی باہر آکر موسم کی سختی اور متعصب دنیا کی بدزبانی کو سہنا پڑا۔ اس سے ہمدردی اور بڑی بڑی باتیں تو بہت کی گئیں مگر میدان میں صرف مسلمانوں کو ہی نکلنا پڑا اور بیس سے زیادہ جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ آج بھی حالات یہ ہے کہ میدان میں وہی نظر آرہا ہے۔ ٹھیک ہی کہا تھا شرجیل نے کہ مسلمانوں کو ان کی جنگ خود ہی لڑنی ہوگی۔شرجیل امام کے تعلق سے ابھی مزید کئی باتیں عرض کرنا باقی ہیں جو آئندہ کسی مضمون میں پیش کی جائے گی۔ یہاں سیکولر اور لبرل طبقہ کی ایک مثال دے کر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ بہار کے سید شہاب الدین برسوں سے جیل میں ہیں تقریبا دو سال قبل انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت ملی تو پرشانت بھوشن جو کہ ایک سیکولر شخص مانے جاتے ہیں نے سپریم کورٹ میں مداخلت کرکے سید شہاب الدین کی ضمانت منسوخ کرواکر انہیں دوبارہ جیل بھجوادیا۔ مگر یہی پرشانت بھوشن اس وقت خاموش رہے جب دہشت گردی کے بدترین الزام کے باوجود سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ضمانت مل جاتی ہےاور وہ رہا بھی ہوجاتی ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ سیکولر یا روادار طبقہ کو ساتھ نہ لیا جائے یا ان کے ساتھ نہ جایا جائے۔ صرف اتنا کیا جائے کہ ان پر پوری طرح سےتکیہ نہ کیا جائے، ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے اور اسی تناظر میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور پالیسی بنائی جائے۔ ایک صدی قبل خلافت تحریک کو گاندھی جی کے کاندھوں پر ڈال کر جو نقصان ہم کو ہو چکا ہے اس کا اعادہ نہ ہو۔

جرم

اوڈیشہ : بھوبنیشور میں خاتون کا قتل، گھریلو ملازمہ پر شبہ

Published

on

Death

بھونیشور : ایک چونکا دینے والے واقعہ میں، منگل کی دیر رات بھونیشور کے لکشمی ساگر تھانے کے دائرہ اختیار میں بدھ نگر علاقے میں ایک 76 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر اس کے گھر کے اندر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ متوفی کی شناخت کنجلتا نندا کے طور پر ہوئی ہے، جو ایک گھریلو ملازمہ تھی جو اپنے شوہر کی موت کے بعد پچھلے دو مہینوں سے گھر میں اکیلی رہ رہی تھی۔ پولیس ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کھوردھا ضلع کے تنگی علاقے کی رہنے والی گھریلو ملازمہ بلبھدرا مہارانا اپنے شوہر کی موت کے بعد بزرگ خاتون کی دیکھ بھال کے لیے اسی گھر میں رہ رہی تھی۔

بدھ کے روز جب متوفی نے کافی دیر تک اپنا کمرہ نہیں کھولا تو کرایہ داروں نے اس کے رشتہ داروں کو اطلاع دی، جنہوں نے بدعنوانی کا شبہ کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کی موجودگی میں جب دروازہ کھولا گیا تو بزرگ مقتول کی لاش خون میں لت پت ملی۔ پولیس کو تفتیش کے دوران متوفی کے پہننے والے سونے کے زیورات سمیت دیگر سامان بھی غائب ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولس کمشنر ایس دیو دتا سنگھ، بھونیشور کے ڈی سی پی ڈاکٹر سروانا وویک ایم، دیگر سینئر افسران، سائنسی اور فارنسک ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچی اور معاملے کی تحقیقات شروع کی۔

“ہماری ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ایک گھریلو ملازمہ گزشتہ چھ ماہ سے متوفی کے گھر پر مقیم تھی اور اس کی مدد کر رہی تھی، وہ واقعے کے بعد سے مفرور ہے، اور اس کے ٹھکانے کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ چونکہ وہ شک کے دائرے میں ہے اور گھر کے اندر سے کئی چیزیں خراب پائی گئی ہیں، ہمیں شبہ ہے کہ یہ قتل کا معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی پوری ٹیم پہلے ہی کیس پر کام کر رہی ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ڈی سی پی نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ متوفی خاتون کے سر پر شدید چوٹ کے نشانات ہیں۔ تاہم موت کی اصل وجہ لاش کے پوسٹ مارٹم کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی مزید تفصیلات تفتیش کے آگے بڑھنے اور ملزم کی گرفتاری کے بعد سامنے آئیں گی۔ متوفی کے داماد کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر اس سلسلے میں لکشمی ساگر پولس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (777/26) درج کیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

دہلی پولیس نے بینک اکاؤنٹ کی نقالی کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کیا، دو ملزمان گرفتار اور ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط

Published

on

نئی دہلی : دہلی پولیس کے سنٹرل ڈسٹرکٹ نے بینک کھاتہ داروں کی نقالی کرنے میں ملوث ایک سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے اور دو ملزمین کو 22.56 لاکھ روپے کے بینک حکام کو دھوکہ دہی والے ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (آر ٹی جی ایس) ہدایات کے ذریعے گرفتار کیا ہے، حکام نے جمعرات کو بتایا۔ تقریباً 2.50 کروڑ روپے کے اثاثے بشمول سونے کے زیورات، سونے کے 101 سکے، نقدی اور ایک ایس یو وی، موجودہ اور منسلک معاملات میں ضبط کیے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک اشتہاری مجرم بھی پایا گیا جو جعلی کرنسی کے کیس میں سات سال سے زیادہ عرصے سے مفرور تھا۔ یہ معاملہ بینک آف انڈیا کے برانچ منیجر راجیندر پلیس، نئی دہلی کی طرف سے دائر کی گئی شکایت سے شروع ہوا ہے۔ 5 اگست کو، دیپک ملہوترا کی نقالی کرنے والے ایک شخص نے، برانچ میں اکاؤنٹس رکھنے والی متعدد کارپوریٹ اداروں سے منسلک ایک ڈائریکٹر، بینک حکام سے رابطہ کیا۔

پولیس کے مطابق، کال کرنے والے نے ابتدائی طور پر حکام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ رسید (ایف ڈی آر) بنانے پر بات کی۔ بعد میں اس نے ان سے رابطہ کیا، یہ دعویٰ کیا کہ کمپنی کو ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کی چیک بک ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ای میل کے ذریعے لین دین پر کارروائی کی جائے۔ ملزم نے کمپنی کے رجسٹرڈ ایڈریس سے ملتے جلتے ای میل آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی ادائیگی کی درخواست بھیجی۔ ای میل، جس میں کمپنی کا جعلی لیٹر ہیڈ تھا، بینک کو 22,56,922 روپے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

جب بینک حکام نے لازمی معاوضے کی دستاویزات طلب کیں، تو کال کرنے والے نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالا کہ اسی طرح کے لین دین پر پہلے عمل کیا گیا تھا اور ادائیگی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ بعد میں بینک نے دھوکہ دہی والے آر ٹی جی ایس ٹرانسفر پر کارروائی کی۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت وسطی ضلع کے سائبر پولیس اسٹیشن میں ای ایف آئی آر درج کی گئی۔ تفتیش کے دوران، پولیس نے دھوکہ دہی کی رقم کو مغربی بنگال میں بندھن بینک کے ساتھ رکھے ہوئے ایک خچر بینک اکاؤنٹ سے ٹریس کیا۔ ٹیلی کام ریکارڈز، ڈیجیٹل شواہد اور مواصلاتی تفصیلات کے تکنیکی تجزیہ نے تفتیش کاروں کو مشتبہ افراد کی شناخت میں مدد کی۔ سب انسپکٹر کملیش کمار کی قیادت میں ایک پولیس ٹیم نے ملزم کو گرفتار کیا، جن کی شناخت غازی آباد، اتر پردیش کے لونی کے رہنے والے 36 سالہ ونے کمار یادو اور نوئیڈا کے رہنے والے 65 سالہ انیل کمار سہگل کے طور پر ہوئی ہے۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ ملزمان نے کارپوریٹ بینک ٹرانزیکشنز کو نشانہ بنانے کے لیے جعلی کمپنی کے لیٹر ہیڈز، دھوکہ دہی والی ای میل آئی ڈی، سوشل انجینئرنگ اور خچر اکاؤنٹس کا استعمال کیا۔ بعد میں اس رقم کو مغربی بنگال کے ایک جیولر سے خریدا گیا سونا سمیت دیگر اثاثوں میں موڑ دیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ دونوں ملزمین غازی آباد، سہارنپور، ایودھیا اور فرید آباد سمیت کئی مقامات پر مالی فراڈ کے مقدمات میں سابقہ ​​مجرمانہ ملوث تھے۔ وہ مبینہ طور پر جیل میں رہتے ہوئے واقف ہوئے تھے اور اس سے قبل وہ چیک سے متعلق فراڈ سے منسلک رہے تھے جس میں نام نہاد جادوئی قلم شامل تھے۔ گرفتاریوں نے پولیس کو گروگرام، پلوال اور دہلی میں درج کیے گئے اسی طرح کے چھ کیسوں پر کام کرنے میں بھی مدد کی ہے، جس میں 16.65 لاکھ روپے سے لے کر 2.98 کروڑ روپے تک کی دھوکہ دہی کی رقم کے ساتھ ساتھ 88 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کی کوشش بھی شامل ہے۔

Continue Reading

جرم

بنگال میں زمین چوری کیس : ابھیشیک بنرجی کے معاون کو اب گرفتار ظاہر کیا گیا

Published

on

کولکاتہ : ترنمول کانگریس کے لوک سبھا ممبر ابھیشیک بنرجی کے ایگزیکٹیو اسسٹنٹ سمیت رائے کو بدھ کے روز ڈائمنڈ ڈسٹرکٹ پولیس نے مٹی چوری کے معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ رائے اس سال 10 ستمبر کو مغربی بنگال کے مغربی مدنا پور ضلع کے سالبونی میں کروڑوں روپے کے غیر قانونی زمین پر قبضے کے معاملے میں مغربی بنگال پولیس کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے اہلکاروں کے ذریعہ گرفتار کیے جانے کے بعد پہلے ہی عدالتی تحویل میں ہے۔ ڈائمنڈ ہاربر پولیس نے اسے ایک نئے کیس میں گرفتار ظاہر کرنے کے بعد، سیاسی مبصرین محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی باس دونوں پر اضافی دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ رائے کو ڈائمنڈ ہاربر ڈسٹرکٹ پولیس نے اسی پولس ضلع کے تحت کالیتلا-آشوتی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف درج ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار دکھایا گیا تھا، جہاں اس پر 400 کروڑ روپے کی مٹی کی چوری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

“رائے کو بدھ کے روز کولکتہ کی ایک نچلی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جس میں اسے تحویل میں لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ وہ پہلے سے ہی سالبونی اراضی بدعنوانی کے معاملے میں عدالتی تحویل میں ہے۔ اس کی تفتیش جاری ہے۔ اس لیے ڈائمنڈ ہاربر پولیس ڈسٹرکٹ نے اسے قواعد کے مطابق مٹی کی چوری کے معاملے میں گرفتار ظاہر کیا ہے اور اس کی تحویل کی درخواست کی ہے،” ایک ضلعی پولیس افسر نے بتایا۔ سالبونی غیر قانونی زمین پر قبضہ کیس میں پولیس نے سب سے پہلے ترنمول کانگریس کے سابق رکن اسمبلی سوجے ہزارا کو گرفتار کیا تھا۔ ہزارہ سے تفتیش کے دوران اس کیس کے سلسلے میں رائے کا نام سامنے آیا، جس کے بعد سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے اسے متعدد بار پوچھ گچھ کے بعد 10 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں سی آئی ڈی کی طرف سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں جانچ ایجنسی نے اس بات کی تفصیلات دی تھیں کہ سالبونی غیر قانونی زمین پر قبضہ کیس میں رقم رائے کے دفتر تک کیسے پہنچی۔ اس تفتیش کے درمیان، اسے ڈائمنڈ ہاربر ڈسٹرکٹ پولیس نے ایک اور کیس میں گرفتار ظاہر کیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان