Connect with us
Saturday,13-June-2026

(جنرل (عام

شاہین باغ کی شیرنیاں اور بے شرم اور بزدل سیاسی و مذہبی قیادت

Published

on

(محفوظ الرحمن انصاری)
این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر جیسے کالے قانون کیخلاف ہماری مائیں بہنیں جو احتجاج کررہی ہیں اس پر ہمارے کچھ سیاسی رہنمائوں اور علما نے اعتراض کرنا شروع کردیا ہے کہ اس طرح شاہین باغ اور ممبئی باغ بناکر کیا حاصل ہو جائے گا ؟ عورتوں کا یوں سڑکوں پر بیٹھنا کہاں تک درست ہے ؟ عورتوں کے احتجاج کو لے کر حرام حلال کرنے والی یہ بزدل مذہبی اور سیاسی قیادت ذرا ان باتوں کا جواب دے گی ۔
(۱)بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لے کر کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس مسئلہ پر ہمارے مرد سیاسی رہنمائوں اور علما نے ہی قیادت کی تھی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور پوری طرح ہاتھ سے نکل گئی ، اور اس دوران انہی مرد رہنمائوں اور علما نے ایک دوسرے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں بابری مسجد کا سمجھوتہ کرنے کے الزامات تک لگائے۔
(۲)تین طلاق پر تو قیادت انہی مرد رہنمائوں اور علما کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہوں نے خواتین کو جلسوں میں بلایا وہ گئیں ، ان کے کہنے پر خواتین نے ریلی بھی نکالی ، فارموں پر دستخط کروائے ، یہ چیخ چیخ کر کہتے تھے ’ہم جان دے دیں گے مگر شریعت میں مداخلت کا بل پاس ہونے نہیں دیں‘ پھر جب بل پاس ہو ہی گیا تو جان دینا تو دور ان کے منھ سے اف تک نہیں نکلا ۔ کیا یہ بتائیں گے کہ خواتین کے دستخط ہوئے وہ کروڑوں فارم کا کیا ہوا ؟ اس وقت کہاں رکھے ہیں ؟ کیا کباڑی کو کلو کے حساب سے بیچ دیئے گئے ؟
3(۳)تمام خواتین اسلام متحد ہو کر بغیر مسلک بازی کے احتجاج کر رہی ہیں ؟ کیا ہمارے علما نے آج تک ایسا اتحاد دکھایا ہے ؟ یہ تو جہاں پہنچ گئے سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، اہل حدیث ، صحیح العقیدہ و بدعقیدہ کا ایسا تفرقہ پھیلایا کہ قوم کو فرقے ، فرقے کر کے لڑا کر برباد کر ڈالا ، اس کی پوری طاقت ختم کر دی ، سکھ عیسائی مسلمانوں سے کم ہیں مگر متحد ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا جبکہ ٹکڑوں میں بنٹے مسلمانوں کا ملک میں کیا حال ہے سب کو معلوم ہے ، اس لئے مسلمان ماب لنچنگ میں چن چن کر مارے جارہے ہیں ۔ ممبئی سمیت ملک کی بہت سی مساجد میں جو بورڈ ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے مسلک کا مسلمان نماز تک پڑھنے نہیں آسکتا ، کیا مسجدوں میں ایسے زہر بھرے مسلکی بورڈ ان خواتین نے لگوائے ہیں ؟ نہیں نا ، انہیں تو ہمارے معزز علمائے کرام نے لگوایا ہے ۔ سبھی سیاسی رہنما الگ الگ پارٹیوں میں بنٹے ہوئے اور صرف اپنی پارٹی کے ہی وفادار ہیں ، اسی طرح سارے علما مسلکی فرقوں میں نا صرف بنٹے ہوئے ہیں بلکہ قوم کو بھی فرقوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں خواتین اسلام کا اس طرح متحد ہونا کیا ان کے منھ پر طمانچہ نہیں ہے ؟
4(۴)کیا وقف کی اربوں روپئے کی جائداد پر سے یہ مرد و مذہبی قیادت غیر قانونی قبضہ ہٹوا پائی ؟
5(۵)خواتین اسلام کے احتجاج پر حلال حرام کرنے والے سبھی لوگوں خصوصا اپنے آپ کو عالم کہنے والے رمضان المبارک میں سیاسی لیڈروں کی یقینی طور پر حرام کے پیسوں سے افطار کی دعوت کھاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو حلال حرام یاد نہیں آتا ہے ۔ اس میں سبھی مسلک کے علما شامل رہے ہیں ، اس لئے کسی نے غلطی سے بھی دوسرے پر انگلی نہیں اٹھائی
(۶)تین طلاق کا بل پاس ہونے پر سب خاموش رہے ، بابری مسجد کے فیصلہ پر چپ رہے ، اس پر بھی سارے لوگ تھوڑا بہت بول کر چپ ہوجاتے ، وہ تو عورتوں نے دن رات اپنی قربانیاں پیش کرکے قوم کی ناک کٹنے سے بچالیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم ان کے جذبے اور قربانیوں پر ان کا شکرگزار ہونے کی بجائے ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور محمود مدنی اور ان جیسے بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار بالکل خاموش اور منظر نامہ سے غائب ہیں کیا انہیں اس کی قیمت مل گئی ہے ؟
(۷)دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کے شوہر ، باپ ، بھائی اور بیٹوں کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، گھر سے دھرنے والی جگہ لانے اور لے جانے کا کام خوشی خوشی کررہے ہیں ، پھر آخر سیاسی اور مذہبی قیادت کے ٹھیکیداروں اور دعویداروں کے ہی پیٹ میں اتنا درد کیوں ہو رہا ہے ؟
8(۸)ٹِک ٹاک کے گھٹیا الزام کا جواب یہ ہے کہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں نہیں بنا رہی ہیں بلکہ جو لڑکے لڑکیاں پہلے سے ہی اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے اب بھی وہ لوگ ہی اسے بنا رہے ہیں ۔ جبکہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعائیں مانگ رہی ہیں ، قربانی دے رہی ہیں ، یہاں تک کہ بیمار پڑ رہی ہیں تو کسی کی گود ہی اجڑ گئی ۔ وہ وہی نماز پڑھ رہی ہیں قرآن کی تلاوت کررہی ہیں۔
(۹)کیا یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ ہماری خواتین میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی ہے ، ورنہ کل تک انہیں نہ ملک کے حالات حاضرہ سے کچھ لینا دینا تھا نا ہی اس کی معمولی سی سمجھ ہی تھی ، یہ اپنے گھریلو اور رشتوں کے مسائل ، بازار زیور کپڑوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔ ہمیں اس سیاسی بیداری کا استقبال کرنا چاہئے نا کہ تنقید۔
(۱۰)دراصل ہماری خواتین نے اس طرح بیدار ہوکر آگے آکر مردانگی دکھانے سے مرد سیاسی اور مذہبی قیادت کی نامردی اور بزدلی سب پر ظاہر ہوگئی ہے ۔ ان کا بھائو گر گیا ہے ۔ خواتین یہاں تک کہ ہمارے کالج کے بچے بچیاں پولس اور غنڈوں کی لاٹھیاں و گولیاں کھاکر بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے گھروں میں آرام فرمارہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ بکے اور گرے ہوئے لوگ حکومت کی حمایت تک کررہے ہیں ۔ ان کی اسی بزدلی پر یو پی کے ایک شاہین باغ کی خاتون نے ان پر چوڑیاں برسائی تھی کیوں کہ یہ اسی لائق ہیں ۔ تاریخ ان خواتین اسلام کا شکریہ ادا کرے گی ۔ شاہین باغ ، ممبئی باغ ، سمیت ملک کے ہر شاہین باغ اور وہاں بیٹھی ہماری سبھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں (اصلی شیرنیوں) کو پورے ملک کی طرف سے عقیدت بھرا سلام ۔آخر میں عرض کردوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اگر جنگ کے وقت کا کسی کو حکم یاد نہیں تو نبی ﷺ یا قرون اولیٰ کے جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں کہ اس وقت جنگ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی تیمارداری ان کا علاج انہیں پانی پلانے کا کام خواتین اسلام ہی کیا کرتی تھیں ۔ آج حالات کی نزاکت کے سبب ہماری مائیں بہنیں خود مورچہ سنبھال چکی ہیں تو ان پر تنقید کرنے اور مسلکی تفرقہ میں وقت لگانے سے کچھ وقت بچ جائے تو ہماری شاندار تاریخ کے اوراق میں سے کچھ ورق گردانی کرلیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میئر ریتو تاوڑے کا اندھیری اور ملن سب وے کے ساتھ ساتھ گاندھی مارکیٹ اور ہندماتا میں چھوٹے نالوں کا دور

Published

on

ممبئی مانسون سے پہلے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے ایک حصے کے طور پر، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے کل (12 جون، 2026) اندھیری سب وے، ملن سب وے، گاندھی مارکیٹ اور ہندماتا چھوٹے ریلیف مراکز اور جگہ کا معائنہ اور چاروں مقامات کا دورہ کیا اس موقع پر ایم ایل اے مرجی پٹیل، کے نارتھ اور کے ساؤتھ وارڈ کمیٹی کے صدر پرکاش مسالے، ایف ساؤتھ اور ایف نارتھ وارڈ کمیٹی کی صدرمانسی ستمکر، کارپوریٹر ممتا یادو، کارپوریٹردیشا یادو اور ڈپٹی چیف انجینئر (بارش کے پانی کے چینلز) (مغربی مضافات) اسسٹنٹ کمشنر رامک موڑ بھی موجود تھے۔ چکرپانی آلے، اسسٹنٹ کمشنر دنیش پلاواد، اسسٹنٹ کمشنر ارون کشر ساگر، اسسٹنٹ کمشنر وروشالی انگولے کے ساتھ دیگر عوامی نمائندے اور متعلقہ افسران اس دورے پر موجود تھے۔

اندھیری بھواری مارگ پر معائنہ کے دوران ایم ایل اے مرجی پاٹل نے کہا کہ چونکہ یہ علاقہ انتہائی نشیبی علاقہ ہے، اس لیے مانسون کے دوران پانی بھر جانے کا مسئلہ معمول کی بات ہے۔ اس کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ پٹیل نے ذکر کیا کہ اسمبلی اجلاس میں بھی یہ مسئلہ لگاتار اٹھایا گیا ہے۔ متعلقہ افسران نے بتایا کہ اندھیری بھواری مارگ پر مانسون کے دوران سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مستقل اقدامات کرنے کے لیے کچھ اقدامات زیر غور ہیں۔ قابل عمل اور ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔

میئر ریتو تاوڑے نے کہا کہ اندھیری بھواری مارگ پر بارش کے پانی کے جمع ہونے کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے جلد ہی میئر کے دفتر میں ایک مشترکہ میٹنگ کا انعقاد کیا جائے گا۔ میئر نے کہا کہ مانسون کے موسم میں یہاں اضافی پمپنگ سیٹ لگائے جائیں تاکہ بارش کے پانی کو تیزی سے پمپ کیا جا سکے۔ میئر نے ملن سب وے، گاندھی مارکیٹ، اور ہندماتا میں چھوٹے پمپنگ اسٹیشن اور بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک پروجیکٹ کا معائنہ کیا اور تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ میئر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ پورے مانسون سیزن میں سسٹم اچھی حالت میں رہے۔

اس دوران میئر نے ان تینوں مقامات پر مقامی شہریوں سے بھی بات چیت کی اور ان کی تجاویز اور مسائل جانے۔ دورے کے اختتام پر میئر ریتو تاوڑے نے ہندماتا فلائی اوور کے نیچے اسکیٹ پارک کی مکمل صفائی، مرمت اور پینٹنگ کے کام کا معائنہ کیا۔ میئر نے تجویز دی کہ ان کاموں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اسکیٹ پارک کو جلد از جلد بحال کرکے کھلاڑیوں کے لیے دستیاب کرایا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

نفرت انگیز بیانات، تفریح ​​کے نام پر فحاشی برداشت نہیں کی جائے گی، سخت ایکشن لیا جائے گا : میئر ریتو تاوڑے

Published

on

ritu

ممبئی : اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے لائیو شو میں کے ای ایم اسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار کے نفرت انگیز بیان کے معاملے میں اسپتال انتظامیہ نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تفریح ​​کے نام پر نفرت انگیزبیانات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے۔

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے اس پورے واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فنکاروں اور مواد تخلیق کرنے والوں سے سماجی ذمہ داری سے آگاہ رہنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے شو کے دو کلپس جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں شہریوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ پہلے کلپ میں ہمانشو جگڈا نامی شخص ایک خاتون کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کا واقعہ بیان کیا، جب کہ دوسرے کلپ میں کے ای ایم ہسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار نے ان مردوں کی لاشوں کے بارے میں انتہائی نفرت انگیز، فحش اور جارحانہ تبصرے کیے جنہوں نے اپنی لاشیں طبی تعلیم کے لیے عطیہ کی تھیں۔ ان دونوں صورتوں میں کامیڈین پرنیت نے اعتراض کرنے کے بجائے ہنسی اور تالیاں بجائیں۔ ان دونوں کلپس میں غیر حساسیت کا نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر سائبر پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے پر میونسپل کارپوریشن کا موقف واضح کرتے ہوئے اور قانونی کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے کہ مہاراشٹر سائبر ڈپارٹمنٹ نے کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ کے ای ایم ہسپتال انتظامیہ نے سیجل پوار کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی مقرر کی ہے۔ میئر نے واضح کیا کہ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

میئر تاوڑے نے مزید کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا ایک بہت اہم حصہ ہے، لیکن اس آزادی کے نام پر خواتین کی توہین کرنے والا مواد، فحاشی، نفرت انگیز بیانات، نفرت انگیز قسم کے مواد یا سماج میں غلط پیغام بھیجنے والے مواد کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی فورم میں خواتین، رضامندی اور طبی شعبے سے متعلق حساس مسائل پر بات کرتے ہوئے ہر ایک کو حدود کی پابندی کرنی چاہیے۔ ممبئی ثقافت، فن اور سوچ کی آزادی کا شہر ہے۔ تاہم یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تفریح ​​کے نام پر کسی کی عزت کو پامال نہ کیا جائے۔ چونکہ سوشل میڈیا کا نوجوانوں پر بڑا اثر ہے، اس لیے معاشرے پر اس طرح کے مواد کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے سب کو حساس ہونا چاہیے۔ تمام فنکاروں، ڈیجیٹل مواد کے تخلیق کاروں اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے سماجی دلچسپی، حساسیت اور اخلاقیات کا احساس برقرار رکھنا چاہیے۔ شہریوں کو بھی سوشل میڈیا پر ذمہ داری سے برتاؤ کرنا چاہیے اور نفرت، فحاشی اور خواتین مخالف ذہنیت کو فروغ دینے والی چیزوں کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے، اس موقع پر ریتو تاوڑے نے بھی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محرم الحرام وعظ و مجالس کو رات 9 بجے تک اجازت دی جائے، ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا وزیر داخلہ سے مطالبہ

Published

on

Abu-Asim-Fadnavis

ممبئی : محرم الحرام کے متبرک ایام کی اہمیت کے پیش نظر اس دوران منعقد ہونے والی عوامی مذہبی تقاریر وعظ و مجالس کا وقت ۱۰ بجے سے بڑھا کر ۱۲ بجے تک کیا جائے، ایسا پرزور مطالبہ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ریاست کے وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کو ایک میمورنڈم ارسال کیا۔ ایم ایل اے اعظمی نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ محرم کے دوران رات کے وقت مختلف علاقوں میں عوامی تقاریر وعظ مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں جانثاراں حسین شریک ہوتے ہیں۔ فی الحال شام کو تقریباً ۷ بجے مغرب کی نماز ہوتی ہے، جس کے بعد عشاء کی نماز مکمل ہونے تک کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے فی الحال صرف رات ۱۰ بجے تک کی ہی اجازت دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نماز کے بعد اصل پروگرام کے لیے بہت کم وقت درکار ہے۔ اس وقت کی قلت کی وجہ سے مسلمانوں میں بے چینی ہے اور وہ ان مذہبی تقاریر سے پوری طرح مستفیض نہیں ہو پا رہے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر، امن و امان کا پورا احترام کرتے ہوئے محرم کی طے شدہ تاریخوں کے لیے یہ وقت رات ۱۲ بجے تک بڑھایا جانا چاہیے۔ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ خود اس معاملے میں مداخلت کریں اور پولیس انتظامیہ کو فوری طور پر مثبت احکامات جاری کریں۔ اس میمورنڈم کی کاپیاں وزیر اعلیٰ اور ممبئی پولیس کے جوائنٹ کمشنر (لاء اینڈ آرڈر) دیوین بھارتی کو بھی ضروری کارروائی کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان