Connect with us
Friday,24-April-2026

(جنرل (عام

شاہین باغ کی شیرنیاں اور بے شرم اور بزدل سیاسی و مذہبی قیادت

Published

on

(محفوظ الرحمن انصاری)
این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر جیسے کالے قانون کیخلاف ہماری مائیں بہنیں جو احتجاج کررہی ہیں اس پر ہمارے کچھ سیاسی رہنمائوں اور علما نے اعتراض کرنا شروع کردیا ہے کہ اس طرح شاہین باغ اور ممبئی باغ بناکر کیا حاصل ہو جائے گا ؟ عورتوں کا یوں سڑکوں پر بیٹھنا کہاں تک درست ہے ؟ عورتوں کے احتجاج کو لے کر حرام حلال کرنے والی یہ بزدل مذہبی اور سیاسی قیادت ذرا ان باتوں کا جواب دے گی ۔
(۱)بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لے کر کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس مسئلہ پر ہمارے مرد سیاسی رہنمائوں اور علما نے ہی قیادت کی تھی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور پوری طرح ہاتھ سے نکل گئی ، اور اس دوران انہی مرد رہنمائوں اور علما نے ایک دوسرے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں بابری مسجد کا سمجھوتہ کرنے کے الزامات تک لگائے۔
(۲)تین طلاق پر تو قیادت انہی مرد رہنمائوں اور علما کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہوں نے خواتین کو جلسوں میں بلایا وہ گئیں ، ان کے کہنے پر خواتین نے ریلی بھی نکالی ، فارموں پر دستخط کروائے ، یہ چیخ چیخ کر کہتے تھے ’ہم جان دے دیں گے مگر شریعت میں مداخلت کا بل پاس ہونے نہیں دیں‘ پھر جب بل پاس ہو ہی گیا تو جان دینا تو دور ان کے منھ سے اف تک نہیں نکلا ۔ کیا یہ بتائیں گے کہ خواتین کے دستخط ہوئے وہ کروڑوں فارم کا کیا ہوا ؟ اس وقت کہاں رکھے ہیں ؟ کیا کباڑی کو کلو کے حساب سے بیچ دیئے گئے ؟
3(۳)تمام خواتین اسلام متحد ہو کر بغیر مسلک بازی کے احتجاج کر رہی ہیں ؟ کیا ہمارے علما نے آج تک ایسا اتحاد دکھایا ہے ؟ یہ تو جہاں پہنچ گئے سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، اہل حدیث ، صحیح العقیدہ و بدعقیدہ کا ایسا تفرقہ پھیلایا کہ قوم کو فرقے ، فرقے کر کے لڑا کر برباد کر ڈالا ، اس کی پوری طاقت ختم کر دی ، سکھ عیسائی مسلمانوں سے کم ہیں مگر متحد ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا جبکہ ٹکڑوں میں بنٹے مسلمانوں کا ملک میں کیا حال ہے سب کو معلوم ہے ، اس لئے مسلمان ماب لنچنگ میں چن چن کر مارے جارہے ہیں ۔ ممبئی سمیت ملک کی بہت سی مساجد میں جو بورڈ ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے مسلک کا مسلمان نماز تک پڑھنے نہیں آسکتا ، کیا مسجدوں میں ایسے زہر بھرے مسلکی بورڈ ان خواتین نے لگوائے ہیں ؟ نہیں نا ، انہیں تو ہمارے معزز علمائے کرام نے لگوایا ہے ۔ سبھی سیاسی رہنما الگ الگ پارٹیوں میں بنٹے ہوئے اور صرف اپنی پارٹی کے ہی وفادار ہیں ، اسی طرح سارے علما مسلکی فرقوں میں نا صرف بنٹے ہوئے ہیں بلکہ قوم کو بھی فرقوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں خواتین اسلام کا اس طرح متحد ہونا کیا ان کے منھ پر طمانچہ نہیں ہے ؟
4(۴)کیا وقف کی اربوں روپئے کی جائداد پر سے یہ مرد و مذہبی قیادت غیر قانونی قبضہ ہٹوا پائی ؟
5(۵)خواتین اسلام کے احتجاج پر حلال حرام کرنے والے سبھی لوگوں خصوصا اپنے آپ کو عالم کہنے والے رمضان المبارک میں سیاسی لیڈروں کی یقینی طور پر حرام کے پیسوں سے افطار کی دعوت کھاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو حلال حرام یاد نہیں آتا ہے ۔ اس میں سبھی مسلک کے علما شامل رہے ہیں ، اس لئے کسی نے غلطی سے بھی دوسرے پر انگلی نہیں اٹھائی
(۶)تین طلاق کا بل پاس ہونے پر سب خاموش رہے ، بابری مسجد کے فیصلہ پر چپ رہے ، اس پر بھی سارے لوگ تھوڑا بہت بول کر چپ ہوجاتے ، وہ تو عورتوں نے دن رات اپنی قربانیاں پیش کرکے قوم کی ناک کٹنے سے بچالیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم ان کے جذبے اور قربانیوں پر ان کا شکرگزار ہونے کی بجائے ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور محمود مدنی اور ان جیسے بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار بالکل خاموش اور منظر نامہ سے غائب ہیں کیا انہیں اس کی قیمت مل گئی ہے ؟
(۷)دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کے شوہر ، باپ ، بھائی اور بیٹوں کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، گھر سے دھرنے والی جگہ لانے اور لے جانے کا کام خوشی خوشی کررہے ہیں ، پھر آخر سیاسی اور مذہبی قیادت کے ٹھیکیداروں اور دعویداروں کے ہی پیٹ میں اتنا درد کیوں ہو رہا ہے ؟
8(۸)ٹِک ٹاک کے گھٹیا الزام کا جواب یہ ہے کہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں نہیں بنا رہی ہیں بلکہ جو لڑکے لڑکیاں پہلے سے ہی اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے اب بھی وہ لوگ ہی اسے بنا رہے ہیں ۔ جبکہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعائیں مانگ رہی ہیں ، قربانی دے رہی ہیں ، یہاں تک کہ بیمار پڑ رہی ہیں تو کسی کی گود ہی اجڑ گئی ۔ وہ وہی نماز پڑھ رہی ہیں قرآن کی تلاوت کررہی ہیں۔
(۹)کیا یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ ہماری خواتین میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی ہے ، ورنہ کل تک انہیں نہ ملک کے حالات حاضرہ سے کچھ لینا دینا تھا نا ہی اس کی معمولی سی سمجھ ہی تھی ، یہ اپنے گھریلو اور رشتوں کے مسائل ، بازار زیور کپڑوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔ ہمیں اس سیاسی بیداری کا استقبال کرنا چاہئے نا کہ تنقید۔
(۱۰)دراصل ہماری خواتین نے اس طرح بیدار ہوکر آگے آکر مردانگی دکھانے سے مرد سیاسی اور مذہبی قیادت کی نامردی اور بزدلی سب پر ظاہر ہوگئی ہے ۔ ان کا بھائو گر گیا ہے ۔ خواتین یہاں تک کہ ہمارے کالج کے بچے بچیاں پولس اور غنڈوں کی لاٹھیاں و گولیاں کھاکر بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے گھروں میں آرام فرمارہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ بکے اور گرے ہوئے لوگ حکومت کی حمایت تک کررہے ہیں ۔ ان کی اسی بزدلی پر یو پی کے ایک شاہین باغ کی خاتون نے ان پر چوڑیاں برسائی تھی کیوں کہ یہ اسی لائق ہیں ۔ تاریخ ان خواتین اسلام کا شکریہ ادا کرے گی ۔ شاہین باغ ، ممبئی باغ ، سمیت ملک کے ہر شاہین باغ اور وہاں بیٹھی ہماری سبھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں (اصلی شیرنیوں) کو پورے ملک کی طرف سے عقیدت بھرا سلام ۔آخر میں عرض کردوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اگر جنگ کے وقت کا کسی کو حکم یاد نہیں تو نبی ﷺ یا قرون اولیٰ کے جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں کہ اس وقت جنگ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی تیمارداری ان کا علاج انہیں پانی پلانے کا کام خواتین اسلام ہی کیا کرتی تھیں ۔ آج حالات کی نزاکت کے سبب ہماری مائیں بہنیں خود مورچہ سنبھال چکی ہیں تو ان پر تنقید کرنے اور مسلکی تفرقہ میں وقت لگانے سے کچھ وقت بچ جائے تو ہماری شاندار تاریخ کے اوراق میں سے کچھ ورق گردانی کرلیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ناسک ٹی سی ایس کیس ندا خان کو نشانہ بنایا گیا, پولس اپنی شبیہ خراب کر رہی ہے : سماجی خادم نرنجن ٹکلے

Published

on

Press-Con.

ممبئی : ناسک ٹی سی ایس کیس میں تبدیلی مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کیس میں ندا خان کو نشانہ بنایا گیا ہے, جبکہ وہ ایچ آر ہیڈ نہیں تھی اس کے باوجود اس کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔ ناسک کا معاملہ میں مذہبی جذبات بھڑکانے اور مذہبی منافرت لوجہاد یا پھر کارپوریٹ جہاد کا معاملہ بھی نہیں ہے, صرف یہ جنسی استحصال کا معاملہ ہے لیکن اس میں ندا خان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس قسم کا سنگین الزام آج یہاں مراٹھی پترکار سنگھ میں اے پی سی آر کی منعقدہ پریس کانفرنس میں سماجی خادم تیستا سیتلواڈ نے عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ایک خاتون کی شناخت کو عام کیا اور اگر پولس نے یہ افشا کیا ہے تو پولس کے حوالے سے خبر نشر کی جانی چاہئے تھی متاثرہ اور شکایت کنندہ سے بات کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے, ایسے کئی کیسز ہے جس میں کسی پر بھی کچھ بھی الزام عائد کئے جاسکتے ہیں, لیکن ناسک کے کیس میں ماحول تیار کیا گیا جو سراسر غلط ہے۔ ناسک کے سماجی خادم نرنجن ٹکلے نے کہا کہ اس کیس میں کسی کا سیاسی ایجنڈہ سیٹ کرنے کی کوشش پولس نے کی ہے, جبکہ پولس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پولس کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ بدلاپور میں کیا ہوا تھا اکشے شندے کو انکاؤنٹر کیا گیا اس کے بعد اس کے مناسبت سے بنیر لگا کر بدلاپور کا ایجنڈہ چلایا گیا اس کے بعد عدالت نے اسے قتل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے سومناتھ سوریہ ونشی کے کیس میں کس قدر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے سبب اس کی حراستی موت ہو گئی۔ اس بھی عدالت نے کیس درج کرنے کا حکم دیا ہے اس کے ساتھ ہی ناسک کے کیس میں بھی ایجنڈہ چلایا گیا ہے اور کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت اس کمپنی ٹی سی ایس کی ملازمہ ندا خان کو نشانہ بنایا گیا ندا خان ایک معمولی ملازمہ ہے, لیکن اسے ایچ آر ہیڈ بنا کر پیش کیا گیا۔ میڈیا نے اس کا ٹرائل چلایا ہے, والمک کراڈ خودسپردگی تک پولس کے ہاتھ نہیں لگا۔ ایک سال قبل ہی اشوک کھرات کے خلاف کیس درج کیا تھا لیکن اسے اجیت پوار کی موت کے بعد گرفتار کیا گیا کسی کا پولیٹیکل ایجنڈہ سیٹ کرنے کے لیے پولس خود کو بدنام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سے ناسک کے کیس میں ہو رہا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پولس نے جو تفتیش کی ہے اس کو میڈیا ٹرائل کے معرفت عام کیا جارہا ہے, جبکہ اس میں تبدیلی مذہب کا کوئی تذکرہ تک نہیں ہے۔ اس پریس کانفرنس میں اے پی سی آر نے ناسک کیس میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی پیش کی ہے۔ اس کانفرنس میں ڈولفی ڈیسوزا، شاکر شیخ سمیت دیگر موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

نیسکو میوزک کنسرٹ پارٹی میں منشیات سپلائی کرنے والی خاتون کا پردہ فاش، خاتون کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے جمع، اب تک ۱۱ ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ونرائی پولیس نے منشیات کیس کے ایک ملزم آیوش ساہتیہ سے 933 نشہ آور گولیاں ضبط کی ہیں، جن کی مالیت مبینہ طور پر 1.5 ملین روپے ہے۔ اپنی گرفتاری سے قبل آیوش ساہتیہ نے ان گولیوں کو کولہاپور کے ایک مقام پر پھینک دیا تھا، جسے پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ آیوش ساہتیہ سے پوچھ گچھ میں کئی اہم انکشافات ہوئے جن میں ایک خاتون ساتھی کا نام بھی شامل ہے۔ ونرائی پولیس نے میرا روڈ علاقے سے ملزم خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم جیا راچل جیکب کو میرا روڈ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جیا اس پورے ڈرگ سنڈیکیٹ کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرتی تھی۔ نیسکو میوزک کنسرٹ میں خریدی گئی ادویات بھی جیا کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئیں۔ جیا ایک اعلیٰ درجے کی خاتون ہیں۔ جس کے ایک بڑے ڈرگ سپلائیر سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ جیا سے بھاری مقدار میں منشیات بھی برآمد ہوئی ہے۔ فی الحال پولیس خاتون کے اکاؤنٹ اور اس کے رابطوں کو مزید جوڑنے میں مصروف ہے۔ ونرائی پولیس نے گوریگاؤں منشیات کیس میں اب تک 11 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی پولس ڈی سی پی زون ۱۲ مہیش چمٹے نے دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اہلیان بھیونڈی کا وعدہ وفا… ریاستی حکومت کا میٹرو روٹ 5 کے نظرثانی شدہ منصوبے کو منظوری، ایم ایل اے رئیس شیخ کا تبصرہ

Published

on

Raees-Sheikh

ممبئی : ممبئی میٹرو روٹ 5 کے نظرثانی شدہ منصوبے کو ریاستی حکومت کی حتمی منظوری مل گئی ہے۔ ہم نے تھانے-بھیونڈی کلیان میٹرو پروجیکٹ کو مسلسل آگے بڑھایا۔ ہم نے مقننہ میں آواز اٹھائی اور آخر کار 18,130 کروڑ روپے کے اس میگا پروجیکٹ کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ بھیونڈی مشرق سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ بھیونڈی کی ترقی اور مسافروں کی سہولت کے لیے ہماری جدوجہد رنگ لائی ہے۔اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ بھیونڈی ایک لاجسٹک ہب ہے، لیکن بھیونڈی جو کہ ریاست کا مانچسٹر ہے، ریلوے لائن پر نہیں ہے۔ یہاں کی سڑکوں پر بہت زیادہ دباؤ ہے اور سڑکوں کی حالت خراب ہے۔ یہ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاقے میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شہر ہے۔ بھیونڈی شہر میں ٹریفک کی موجودہ صورتحال اور موجودہ فلائی اوور کو منہدم کر کے میٹرو لائن کی تعمیر میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے ہم نے مسلسل اس پروجیکٹ کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ آخر کار، وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس کا نوٹس لیا اور شہری ترقیات کے محکمے نے بدھ کو ممبئی میٹرو لائن 5 (فیز 1، فیز 2 اور توسیعی فیز 3) کے نظرثانی شدہ پروجیکٹ پلان کو 18,130 کروڑ روپے کی منظوری دی، جو 34 کلومیٹر طویل ہے اور اس میں 19 اسٹیشن ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں سے تعطل کا شکار یہ منصوبہ اب تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔ بھیونڈی کی ترقی میں اب تیزی آئے گی۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقننہ اور حکومت سےہمارا مسلسل فالو اپ کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان