(جنرل (عام
شاہین باغ کی شیرنیاں اور بے شرم اور بزدل سیاسی و مذہبی قیادت
(محفوظ الرحمن انصاری)
این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر جیسے کالے قانون کیخلاف ہماری مائیں بہنیں جو احتجاج کررہی ہیں اس پر ہمارے کچھ سیاسی رہنمائوں اور علما نے اعتراض کرنا شروع کردیا ہے کہ اس طرح شاہین باغ اور ممبئی باغ بناکر کیا حاصل ہو جائے گا ؟ عورتوں کا یوں سڑکوں پر بیٹھنا کہاں تک درست ہے ؟ عورتوں کے احتجاج کو لے کر حرام حلال کرنے والی یہ بزدل مذہبی اور سیاسی قیادت ذرا ان باتوں کا جواب دے گی ۔
(۱)بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لے کر کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس مسئلہ پر ہمارے مرد سیاسی رہنمائوں اور علما نے ہی قیادت کی تھی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور پوری طرح ہاتھ سے نکل گئی ، اور اس دوران انہی مرد رہنمائوں اور علما نے ایک دوسرے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں بابری مسجد کا سمجھوتہ کرنے کے الزامات تک لگائے۔
(۲)تین طلاق پر تو قیادت انہی مرد رہنمائوں اور علما کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہوں نے خواتین کو جلسوں میں بلایا وہ گئیں ، ان کے کہنے پر خواتین نے ریلی بھی نکالی ، فارموں پر دستخط کروائے ، یہ چیخ چیخ کر کہتے تھے ’ہم جان دے دیں گے مگر شریعت میں مداخلت کا بل پاس ہونے نہیں دیں‘ پھر جب بل پاس ہو ہی گیا تو جان دینا تو دور ان کے منھ سے اف تک نہیں نکلا ۔ کیا یہ بتائیں گے کہ خواتین کے دستخط ہوئے وہ کروڑوں فارم کا کیا ہوا ؟ اس وقت کہاں رکھے ہیں ؟ کیا کباڑی کو کلو کے حساب سے بیچ دیئے گئے ؟
3(۳)تمام خواتین اسلام متحد ہو کر بغیر مسلک بازی کے احتجاج کر رہی ہیں ؟ کیا ہمارے علما نے آج تک ایسا اتحاد دکھایا ہے ؟ یہ تو جہاں پہنچ گئے سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، اہل حدیث ، صحیح العقیدہ و بدعقیدہ کا ایسا تفرقہ پھیلایا کہ قوم کو فرقے ، فرقے کر کے لڑا کر برباد کر ڈالا ، اس کی پوری طاقت ختم کر دی ، سکھ عیسائی مسلمانوں سے کم ہیں مگر متحد ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا جبکہ ٹکڑوں میں بنٹے مسلمانوں کا ملک میں کیا حال ہے سب کو معلوم ہے ، اس لئے مسلمان ماب لنچنگ میں چن چن کر مارے جارہے ہیں ۔ ممبئی سمیت ملک کی بہت سی مساجد میں جو بورڈ ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے مسلک کا مسلمان نماز تک پڑھنے نہیں آسکتا ، کیا مسجدوں میں ایسے زہر بھرے مسلکی بورڈ ان خواتین نے لگوائے ہیں ؟ نہیں نا ، انہیں تو ہمارے معزز علمائے کرام نے لگوایا ہے ۔ سبھی سیاسی رہنما الگ الگ پارٹیوں میں بنٹے ہوئے اور صرف اپنی پارٹی کے ہی وفادار ہیں ، اسی طرح سارے علما مسلکی فرقوں میں نا صرف بنٹے ہوئے ہیں بلکہ قوم کو بھی فرقوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں خواتین اسلام کا اس طرح متحد ہونا کیا ان کے منھ پر طمانچہ نہیں ہے ؟
4(۴)کیا وقف کی اربوں روپئے کی جائداد پر سے یہ مرد و مذہبی قیادت غیر قانونی قبضہ ہٹوا پائی ؟
5(۵)خواتین اسلام کے احتجاج پر حلال حرام کرنے والے سبھی لوگوں خصوصا اپنے آپ کو عالم کہنے والے رمضان المبارک میں سیاسی لیڈروں کی یقینی طور پر حرام کے پیسوں سے افطار کی دعوت کھاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو حلال حرام یاد نہیں آتا ہے ۔ اس میں سبھی مسلک کے علما شامل رہے ہیں ، اس لئے کسی نے غلطی سے بھی دوسرے پر انگلی نہیں اٹھائی
(۶)تین طلاق کا بل پاس ہونے پر سب خاموش رہے ، بابری مسجد کے فیصلہ پر چپ رہے ، اس پر بھی سارے لوگ تھوڑا بہت بول کر چپ ہوجاتے ، وہ تو عورتوں نے دن رات اپنی قربانیاں پیش کرکے قوم کی ناک کٹنے سے بچالیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم ان کے جذبے اور قربانیوں پر ان کا شکرگزار ہونے کی بجائے ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور محمود مدنی اور ان جیسے بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار بالکل خاموش اور منظر نامہ سے غائب ہیں کیا انہیں اس کی قیمت مل گئی ہے ؟
(۷)دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کے شوہر ، باپ ، بھائی اور بیٹوں کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، گھر سے دھرنے والی جگہ لانے اور لے جانے کا کام خوشی خوشی کررہے ہیں ، پھر آخر سیاسی اور مذہبی قیادت کے ٹھیکیداروں اور دعویداروں کے ہی پیٹ میں اتنا درد کیوں ہو رہا ہے ؟
8(۸)ٹِک ٹاک کے گھٹیا الزام کا جواب یہ ہے کہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں نہیں بنا رہی ہیں بلکہ جو لڑکے لڑکیاں پہلے سے ہی اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے اب بھی وہ لوگ ہی اسے بنا رہے ہیں ۔ جبکہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعائیں مانگ رہی ہیں ، قربانی دے رہی ہیں ، یہاں تک کہ بیمار پڑ رہی ہیں تو کسی کی گود ہی اجڑ گئی ۔ وہ وہی نماز پڑھ رہی ہیں قرآن کی تلاوت کررہی ہیں۔
(۹)کیا یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ ہماری خواتین میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی ہے ، ورنہ کل تک انہیں نہ ملک کے حالات حاضرہ سے کچھ لینا دینا تھا نا ہی اس کی معمولی سی سمجھ ہی تھی ، یہ اپنے گھریلو اور رشتوں کے مسائل ، بازار زیور کپڑوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔ ہمیں اس سیاسی بیداری کا استقبال کرنا چاہئے نا کہ تنقید۔
(۱۰)دراصل ہماری خواتین نے اس طرح بیدار ہوکر آگے آکر مردانگی دکھانے سے مرد سیاسی اور مذہبی قیادت کی نامردی اور بزدلی سب پر ظاہر ہوگئی ہے ۔ ان کا بھائو گر گیا ہے ۔ خواتین یہاں تک کہ ہمارے کالج کے بچے بچیاں پولس اور غنڈوں کی لاٹھیاں و گولیاں کھاکر بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے گھروں میں آرام فرمارہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ بکے اور گرے ہوئے لوگ حکومت کی حمایت تک کررہے ہیں ۔ ان کی اسی بزدلی پر یو پی کے ایک شاہین باغ کی خاتون نے ان پر چوڑیاں برسائی تھی کیوں کہ یہ اسی لائق ہیں ۔ تاریخ ان خواتین اسلام کا شکریہ ادا کرے گی ۔ شاہین باغ ، ممبئی باغ ، سمیت ملک کے ہر شاہین باغ اور وہاں بیٹھی ہماری سبھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں (اصلی شیرنیوں) کو پورے ملک کی طرف سے عقیدت بھرا سلام ۔آخر میں عرض کردوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اگر جنگ کے وقت کا کسی کو حکم یاد نہیں تو نبی ﷺ یا قرون اولیٰ کے جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں کہ اس وقت جنگ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی تیمارداری ان کا علاج انہیں پانی پلانے کا کام خواتین اسلام ہی کیا کرتی تھیں ۔ آج حالات کی نزاکت کے سبب ہماری مائیں بہنیں خود مورچہ سنبھال چکی ہیں تو ان پر تنقید کرنے اور مسلکی تفرقہ میں وقت لگانے سے کچھ وقت بچ جائے تو ہماری شاندار تاریخ کے اوراق میں سے کچھ ورق گردانی کرلیں ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
جہاں طاقت ہے وہاں توجہ مرکوز رکھو، جیت ہماری ہوگی… انتخابات میں ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں کو جیت کا منتر دیا

ممبئی آئندہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات میں جہاں تنظیم مضبوط ہے وہیں پوری طاقت کے ساتھ توجہ مرکوز کریں۔ مائیکرو لیول پر منصوبہ بندی کریں، بوتھ کوآرڈینیٹر مقرر کریں اور انتخابی تیاریوں کو مضبوط بنائیں۔ اگر ہم منظم اور حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔ یہ پیغام شیوسینا پارلیمانی پارٹی لیڈر اور پارلیمنٹ رتن ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں اور عہدیداروں کو دیا۔ ایم پی ڈاکٹر شری کانت شندے کا دو روزہ شیو سمواد دورہ آج کھاندیش کے نندربار سے شروع ہوا۔ اس دوران انہوں نے نندربار اور تلودہ میں منعقدہ میٹنگوں میں ضلع کے مختلف اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ الیکشن کی تیاریوں اور تنظیم سازی کے حوالے سے کارکنوں کی رہنمائی کی۔ اس موقع پر وزیر دادا بھوسے، ایم ایل اے امشا پاڈوی، ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی، ایم ایل اے راجندر گاویت، شیو سینا کے ریاستی تنظیم کے سربراہ اور سابق ایم پی آنند پرانجاپے، شیو سینا کے سکریٹری بھاؤ صاحب چودھری، شیوسینا نندربار لوک سبھا رابطہ سربراہ اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری اور دیگر اہم عہدیدار موجود تھے۔
ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے آج صبح تلودہ میں شہادہ اور اکلکووا اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس میٹنگ میں انہوں نے عہدیداروں کو ووٹر لسٹ پر نظرثانی مہم کو مؤثر طریقے سے چلانے، بی ایل اے کی تقرری اور 20 پولنگ اسٹیشنوں میں سے ہر ایک پر ایک کوآرڈینیٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوآرڈینیٹروں کی تقرری سے ہر بوتھ کا باقاعدہ جائزہ ممکن ہو سکے گا۔ اگر بوتھ کی سطح پر منظم طریقے سے کام کیا جائے تو تنظیم مضبوط ہوگی اور الیکشن جیتنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ ایم پی ڈاکٹر شندے نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں جو کچھ ہوا اسے پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔ تمام کارکنوں اور عہدیداروں کو یہ سوچ کر متحد ہو کر کام کرنا چاہئے کہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی علاقوں میں شیوسینا کی طاقت کو کیسے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کوئی اتحاد نہیں ہوگا، اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی تاہم کارکنان ہر بوتھ پر توجہ دے کر کام کریں۔ اگر ہم پوری محنت اور لگن سے کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔
ڈاکٹر شندے نے کہا کہ نندوربار ضلع میں شیوسینا کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں ایک بڑا طبقہ بن چکا ہے جو شندے صاحب کی قیادت کا احترام کرتا ہے۔وزیر اعلی کی حیثیت سے شندے صاحب نے مفاد عامہ کی کئی فلاحی اسکیموں کو نافذ کیا، جن سے ووٹر واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نگر پریشد اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا کو اچھی عوامی حمایت اور کامیابی ملی ہے۔
نندوربار شہر میں منعقدہ دوسری میٹنگ میں ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے نندوربار اور نواپور اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شندے صاحب نے “شان آپ کے دروازہ” مہم کے ذریعے عام لوگوں کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ ان کی قیادت پر عوام کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی شیوسینا میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر شندے نے کارکنوں سے تنظیم کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ کام کریں اور پارٹی کی طاقت میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا کا انتخابی نشان ‘دھنوش بان’ ہر علاقے تک پہنچنا چاہیے۔ پارٹی قیادت کارکنوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی نے کہا کہ اکلکووا اور دھارگاؤں تعلقہ میں شیوسینا کی اچھی گرفت ہے، جب کہ تلودہ اور شہادہ تعلقہ میں تنظیم کو مزید مضبوط کرنے کے لیے خصوصی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نندربار ضلع پریشد انتخابات میں شیوسینا بھگوا پرچم لہرائے گی۔ ایم ایل اے رگھوونشی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارپوریٹروں کو مزید تنظیمی اختیارات اور ذمہ داریاں دی جائیں۔ ایم ایل اے امشا پاڈوی اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری نے بھی میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شندے صاحب کی ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر نظر :
شیو سینا کے سربراہ رہنما اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر خصوصی توجہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی رہنما 45 ڈگری درجہ حرارت جیسی شدید گرمی میں بھی مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ یہ بات شیوسینا پارلیمانی پارٹی کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سریکانت شندے نے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی الیکشن نہیں ہے، پھر بھی شیوسینا کے لیڈر گاؤں گاؤں جا کر کارکنوں سے مل رہے ہیں اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ شندے صاحب کی قیادت میں شیوسینا کے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے لیڈر دوروں پر جاتے، تقریریں کرتے اور چلے جاتے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف تقریر نہیں ہوتی بلکہ لیڈر خود میدان میں جا کر کام کرتا ہے اور کارکنوں سے براہ راست مکالمہ قائم کرتا ہے۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں وہ چار بار ضلع نندربار کا دورہ کر چکے ہیں، جس سے پارٹی قیادت کی تنظیم کے تئیں سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ۹ ڈی سی پی کے تبادلے اسمیتا پاٹل پورٹ زون میں منتقل

ممبئی : مہاراشٹر پولس میں بڑے پیمانے پر تبادلے کے بعد آج 9 ڈی سی پی کی وزارت داخلہ نے منتقلی حکمنامہ جاری کیا ہے ڈی سی پی اے ٹی ایس دنیش گری دھرباری کا پونہ کرائم برانچ ایس پی، یشونت سالونکے ایڈیشنل ایس پی کو ڈی سی پی امراؤتی، سندیپ جادھو ریاستی کنٹرول روم، ششی کانت دیوراج میرابھائندر ڈی سی پی، اسمیتا بھیشیک پاٹل سیکورٹی کارپوریشن سے ڈی سی پی پورٹ زون، متیش گھاٹی ممبئی فورس ون سے ممبئی شہر ڈی سی پی، ویشالی مانے بھائندر کا تبادلہ منسوخ کر کے انہیں اسے مقام پر بحال کیا گیا ممبئی میں بھی کئی ڈی سی پی کا تبادلہ منسوخ کر کے انہیں ممبئی میں ہی برقرار رکھا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی ریاست بھر میں آئی پی ایس افسران کے تبادلوں کا عمل جاری ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کو سرسبز وشاداب بنانے کی میئر ریتو تاوڑے کی شہریوں سے اپیل، شجرکاری کی پہل، مختلف مقامات پر شجرکاری میں لیا حصہ

ممبئی : ہر شہری کو مرکزی حکومت کی ‘ایک ورزش آئی چی نوے’ (ایک پیڑ ماں کے نام) مہم میں خود بخود حصہ لینا چاہیے۔ انہیں عوامی جگہ پر کم از کم ایک شجر لگانے اور اس کی افزائش کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ اس اقدام کے لیے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ضروری پودے، مٹی اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بڑھتی ہوئی شہری کاری کے پس منظر میں، ممبئی میں زیادہ سے زیادہ سرسبز وشاداب علاقے بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ درخت ماحولیاتی توازن کے ستون ہیں اور ہریالی سے مزین ممبئی آنے والی نسلوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہوگا۔ اس لیے ممبئی کی میئر محترمہ ریتو تاوڑے نے سبھی سے اپیل کی کہ وہ درختوں سے بھرے، صاف ستھرے اور خوبصورت ممبئی بنانے کے لیے پہل کریں۔ عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی سرپرستی میں آج (5 جون 2026) صبح تقریباً 17 ہزار 047 درختوں کی شجرکاری کی پہل شروع کی گئی۔ اس میں واشی زکات ناکہ، ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے پر مولنڈ (مشرق) میں موریہ جھیل کے قریب، ناہور (مشرق) میں بھنڈوپ اڑانچن کیندر کے قریب، کنجرمرگ لانچ پیڈ، گھاٹکوپر (مشرق) میں کیسورینا ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب اور گھاٹکوپر (مشرق) میں چترنجن میدان جیسی جگہیں شامل ہیں۔ میئر مسز تاوڑے نے روشنی ڈالی کہ یہ ممبئی کو سرسبز، زیادہ ماحول دوست اور پائیدار بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ شجر کاری مہم کا آغاز صبح میئر نے کیا۔ ریتو تاوڑے واشی ناکہُ کے علاقے میں، ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے اہم داخلی مقامات میں سے ایک۔ اس کے بعد میئر کے ذریعہ ملنڈ اور گھاٹ کوپر کے درمیان ایسٹرن ایکسپریس وے کے دونوں اطراف 1000 درخت لگانے کی ایک پرجوش پہل بھی شروع کی گئی۔ اس کے تحت پنت نگر اور ملنڈ کے درمیان ایسٹرن ایکسپریس وے کے ساتھ تینوں وارڈس این، ایس اور ٹی کی حدود میں پیلے بہاو کے درخت لگانے کی خصوصی پہل کی گئی۔ اس اقدام سے آنے والے دنوں میں ایسٹرن ایکسپریس وے کے علاقے کو مزید پرکشش، قدرتی اور ماحول دوست بنانے میں مدد ملے گی۔
اس کے علاوہ میئر نے کانجورمارگ بھومی پر 16,000 درخت لگانے کی ایک جامع مہم کا بھی آغاز کیا۔ تاوڑے میئر تاوڑے نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مختلف مقامات پر شجر کاری کی یہ سرگرمیاں ممبئی کے سبز احاطہ میں نمایاں اضافہ کریں گی اور ماحولیاتی تحفظ کو تقویت دیں گی۔ مختلف مقامات پر منعقد شجر کاری مہم میں ایم ایسٹ ڈویژن کی وارڈ کمیٹی کی صدر محترمہ نے شرکت کی۔ خیرالنسا اکبر حسین، مقامی کارپوریٹر ضمیر قریشی، مقامی کارپوریٹر دنیش پنچال، مقامی کارپوریٹر روشن شیخ، مقامی کارپوریٹر شبانہ قاضی، ایم ایسٹ ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر اور اسسٹنٹ کمشنر (اضافی چارج) مسٹر بھاسکر کاسگیکر، ٹی ڈی ویژن کے اسسٹنٹ کمشنر ایس ٹی ایم بھی موجود تھے۔ یوگیتا کولہے، ایس ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر (اضافی چارج) میور بھامرے، این ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر ماروتی پوار، باغات کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سنیل راٹھوڈ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ گارڈن ہرشیکیش ہینڈرے کے ساتھ متعلقہ افسران، شہری، این جی اوز، ماحولیات کے کارکنان موجود تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
