Connect with us
Thursday,10-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

شاہین باغ کی شیرنیاں اور بے شرم اور بزدل سیاسی و مذہبی قیادت

Published

on

(محفوظ الرحمن انصاری)
این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر جیسے کالے قانون کیخلاف ہماری مائیں بہنیں جو احتجاج کررہی ہیں اس پر ہمارے کچھ سیاسی رہنمائوں اور علما نے اعتراض کرنا شروع کردیا ہے کہ اس طرح شاہین باغ اور ممبئی باغ بناکر کیا حاصل ہو جائے گا ؟ عورتوں کا یوں سڑکوں پر بیٹھنا کہاں تک درست ہے ؟ عورتوں کے احتجاج کو لے کر حرام حلال کرنے والی یہ بزدل مذہبی اور سیاسی قیادت ذرا ان باتوں کا جواب دے گی ۔
(۱)بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لے کر کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس مسئلہ پر ہمارے مرد سیاسی رہنمائوں اور علما نے ہی قیادت کی تھی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور پوری طرح ہاتھ سے نکل گئی ، اور اس دوران انہی مرد رہنمائوں اور علما نے ایک دوسرے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں بابری مسجد کا سمجھوتہ کرنے کے الزامات تک لگائے۔
(۲)تین طلاق پر تو قیادت انہی مرد رہنمائوں اور علما کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہوں نے خواتین کو جلسوں میں بلایا وہ گئیں ، ان کے کہنے پر خواتین نے ریلی بھی نکالی ، فارموں پر دستخط کروائے ، یہ چیخ چیخ کر کہتے تھے ’ہم جان دے دیں گے مگر شریعت میں مداخلت کا بل پاس ہونے نہیں دیں‘ پھر جب بل پاس ہو ہی گیا تو جان دینا تو دور ان کے منھ سے اف تک نہیں نکلا ۔ کیا یہ بتائیں گے کہ خواتین کے دستخط ہوئے وہ کروڑوں فارم کا کیا ہوا ؟ اس وقت کہاں رکھے ہیں ؟ کیا کباڑی کو کلو کے حساب سے بیچ دیئے گئے ؟
3(۳)تمام خواتین اسلام متحد ہو کر بغیر مسلک بازی کے احتجاج کر رہی ہیں ؟ کیا ہمارے علما نے آج تک ایسا اتحاد دکھایا ہے ؟ یہ تو جہاں پہنچ گئے سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، اہل حدیث ، صحیح العقیدہ و بدعقیدہ کا ایسا تفرقہ پھیلایا کہ قوم کو فرقے ، فرقے کر کے لڑا کر برباد کر ڈالا ، اس کی پوری طاقت ختم کر دی ، سکھ عیسائی مسلمانوں سے کم ہیں مگر متحد ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا جبکہ ٹکڑوں میں بنٹے مسلمانوں کا ملک میں کیا حال ہے سب کو معلوم ہے ، اس لئے مسلمان ماب لنچنگ میں چن چن کر مارے جارہے ہیں ۔ ممبئی سمیت ملک کی بہت سی مساجد میں جو بورڈ ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے مسلک کا مسلمان نماز تک پڑھنے نہیں آسکتا ، کیا مسجدوں میں ایسے زہر بھرے مسلکی بورڈ ان خواتین نے لگوائے ہیں ؟ نہیں نا ، انہیں تو ہمارے معزز علمائے کرام نے لگوایا ہے ۔ سبھی سیاسی رہنما الگ الگ پارٹیوں میں بنٹے ہوئے اور صرف اپنی پارٹی کے ہی وفادار ہیں ، اسی طرح سارے علما مسلکی فرقوں میں نا صرف بنٹے ہوئے ہیں بلکہ قوم کو بھی فرقوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں خواتین اسلام کا اس طرح متحد ہونا کیا ان کے منھ پر طمانچہ نہیں ہے ؟
4(۴)کیا وقف کی اربوں روپئے کی جائداد پر سے یہ مرد و مذہبی قیادت غیر قانونی قبضہ ہٹوا پائی ؟
5(۵)خواتین اسلام کے احتجاج پر حلال حرام کرنے والے سبھی لوگوں خصوصا اپنے آپ کو عالم کہنے والے رمضان المبارک میں سیاسی لیڈروں کی یقینی طور پر حرام کے پیسوں سے افطار کی دعوت کھاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو حلال حرام یاد نہیں آتا ہے ۔ اس میں سبھی مسلک کے علما شامل رہے ہیں ، اس لئے کسی نے غلطی سے بھی دوسرے پر انگلی نہیں اٹھائی
(۶)تین طلاق کا بل پاس ہونے پر سب خاموش رہے ، بابری مسجد کے فیصلہ پر چپ رہے ، اس پر بھی سارے لوگ تھوڑا بہت بول کر چپ ہوجاتے ، وہ تو عورتوں نے دن رات اپنی قربانیاں پیش کرکے قوم کی ناک کٹنے سے بچالیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم ان کے جذبے اور قربانیوں پر ان کا شکرگزار ہونے کی بجائے ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور محمود مدنی اور ان جیسے بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار بالکل خاموش اور منظر نامہ سے غائب ہیں کیا انہیں اس کی قیمت مل گئی ہے ؟
(۷)دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کے شوہر ، باپ ، بھائی اور بیٹوں کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، گھر سے دھرنے والی جگہ لانے اور لے جانے کا کام خوشی خوشی کررہے ہیں ، پھر آخر سیاسی اور مذہبی قیادت کے ٹھیکیداروں اور دعویداروں کے ہی پیٹ میں اتنا درد کیوں ہو رہا ہے ؟
8(۸)ٹِک ٹاک کے گھٹیا الزام کا جواب یہ ہے کہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں نہیں بنا رہی ہیں بلکہ جو لڑکے لڑکیاں پہلے سے ہی اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے اب بھی وہ لوگ ہی اسے بنا رہے ہیں ۔ جبکہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعائیں مانگ رہی ہیں ، قربانی دے رہی ہیں ، یہاں تک کہ بیمار پڑ رہی ہیں تو کسی کی گود ہی اجڑ گئی ۔ وہ وہی نماز پڑھ رہی ہیں قرآن کی تلاوت کررہی ہیں۔
(۹)کیا یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ ہماری خواتین میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی ہے ، ورنہ کل تک انہیں نہ ملک کے حالات حاضرہ سے کچھ لینا دینا تھا نا ہی اس کی معمولی سی سمجھ ہی تھی ، یہ اپنے گھریلو اور رشتوں کے مسائل ، بازار زیور کپڑوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔ ہمیں اس سیاسی بیداری کا استقبال کرنا چاہئے نا کہ تنقید۔
(۱۰)دراصل ہماری خواتین نے اس طرح بیدار ہوکر آگے آکر مردانگی دکھانے سے مرد سیاسی اور مذہبی قیادت کی نامردی اور بزدلی سب پر ظاہر ہوگئی ہے ۔ ان کا بھائو گر گیا ہے ۔ خواتین یہاں تک کہ ہمارے کالج کے بچے بچیاں پولس اور غنڈوں کی لاٹھیاں و گولیاں کھاکر بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے گھروں میں آرام فرمارہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ بکے اور گرے ہوئے لوگ حکومت کی حمایت تک کررہے ہیں ۔ ان کی اسی بزدلی پر یو پی کے ایک شاہین باغ کی خاتون نے ان پر چوڑیاں برسائی تھی کیوں کہ یہ اسی لائق ہیں ۔ تاریخ ان خواتین اسلام کا شکریہ ادا کرے گی ۔ شاہین باغ ، ممبئی باغ ، سمیت ملک کے ہر شاہین باغ اور وہاں بیٹھی ہماری سبھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں (اصلی شیرنیوں) کو پورے ملک کی طرف سے عقیدت بھرا سلام ۔آخر میں عرض کردوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اگر جنگ کے وقت کا کسی کو حکم یاد نہیں تو نبی ﷺ یا قرون اولیٰ کے جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں کہ اس وقت جنگ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی تیمارداری ان کا علاج انہیں پانی پلانے کا کام خواتین اسلام ہی کیا کرتی تھیں ۔ آج حالات کی نزاکت کے سبب ہماری مائیں بہنیں خود مورچہ سنبھال چکی ہیں تو ان پر تنقید کرنے اور مسلکی تفرقہ میں وقت لگانے سے کچھ وقت بچ جائے تو ہماری شاندار تاریخ کے اوراق میں سے کچھ ورق گردانی کرلیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی جرائم پیشہ موبائل چور گرفتار ، تین چوری کا معمہ حل

Published

on

ممبئی ؛ ممبئی پولس نے جرائم پیشہ ملزم کو گرفتار کرکے موبائل چوری کے 03 مقدمات کا انکشاف کے بعد اس سے کل 1,48,000/- روپے قیمت کے 09 موبائل برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔ پارک سائیٹ پولیس اسٹیشن میں تاریخ ۸ ستمبر کو شکایت کنندہ کی دی گئی شکایت پر دفعہ 305(a) بی این ایس 2023 کے تحت گھر میں داخل ہو کر موبائل چوری کرنے کے متعلق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے مذکورہ مقدمہ درج کرکے جانچ شروع کی تھی۔ممبئی پولس کے نتین جھاڈے اور ٹیم نے مقدمے کی جائے وقوعہ اور اس کے احاطے کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی معلومات کی بنیاد پر مقدمے میں مطلوبہ ملزم کا سراغ لگا کر 05 گھنٹے میں پولیس ریکارڈ پر موجود ملزم فیروز محمد شکیل شیخ عرف چوہا عمر 25 سال، رہنے والا امبیکا نگر چال، اجوا ہوٹل کے پیچھے، اپر ڈپو پاڑہ، پارک سائیٹ، وکرولی (مغرب)، ممبئی 79 کو گرفتار کرکےدفعہ 305(a) بی این ایس جرم نمبر ۲ 879/2026 دفعہ 305(a) بی این ایس 3) جرم نمبر 880/2026 دفعہ 305(a) بی این ایس کے 03 مقدمات کا انکشاف ہوا۔ اسی طرح مذکورہ ملزم سے مہارت سے پوچھ تاچھ کرکے روپے 1,48,000/- قیمت کے 09 موبائل برآمد کیے گئے۔

*گرفتار ملزم فیروز محمد شکیل شیخ عرف چوہا، عمر 25 سال، کے پر پارک سائیٹ، گھاٹکوپر، پنت نگر اور نرمل نگر پولیس اسٹیشن میں چوری، ڈکیتی، غیر قانونی ہتھیار رکھنے ایسے کل 20 مقدمات پہلے درج ہیں۔مذکورہ کارروائی دیوین بھارتی، پولیس کمشنر پولیس کمشنر، ممبئی، منوج شرما، پولیس جوائنٹ کمشنر (لا اینڈ آرڈر)، دھننجےکلکرنی، ایڈیشنل پولیس کمشنرمشرقی علاقائی ڈیپارٹمنٹ، چیمبور، ممبئی، جناب ابھے سنگھ دیشمکھ، پولیس ڈپٹی کمشنر، مشرقی کی رہنمائی میں انچارج سینئر پولیس انسپکٹر، پارک سائیٹ پولیس اسٹیشن، ممبئی،اشوک لانگے، اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر نتین جھاڈے، پولیس سب انسپکٹر اکشے واگھ، پولیس حوالدار وشال گوآرے، پولیس حوالدار راہل نوالے، پولیس سپاہی منوج سرواڈے، پولیس سپاہی روہیداس بھوسارے، پولیس سپاہی دیپک تاڈے نے مذکورہ کارروائی کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گھاٹکوپر نیو لائف اسپتال کے ڈاکٹر دیپک بید کے خلاف اسسٹنٹ نرس کے ساتھ چھیڑخانی کا مقدمہ درج

Published

on

FIR

ممبئی گھاٹکوپر پولس نے دیپک بیدکے خلاف اسسٹنٹ نرس سے دست درازی اور جنسی استحصال کا کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ گھاٹکوپر پولس نے ڈاکٹر کے خلاف ۲ ستمبر کو کیس درج کر لیا ہے متاثرہ ۱۹ سالہ اسسٹنٹ نرس جو گھاٹکوپر نیو لائف اسپتال میں زیر ملازمت تھی اس کی صبح کی شفت تھی اس دوران وہ استقبالیہ پر بیٹھی تھی تو دوپہر ساڑھے تین بجے اسے ایک عملہ نے یہ کہہ کر بلایا ہے کہ انہیں اسپتال کے ڈاکٹر بید نے طلب کیا ہے, جس پر جب وہ ڈاکٹر کی کیبن میں داخل ہوئی تھی وہاں خالہ نے ڈاکٹر کا ڈبہ رکھا اور پھر وہ وہاں سے رخصت ہو گئی پھر ڈاکٹر نے دروازے کو اندر سے بند کر کے متاثرہ کے ساتھ نازیبا حرکتیں شروع کر دی, جس سے متاثرہ کو پریشانی ہوئی اور اس نے اس معاملہ میں گھاٹکوپر پولس اسٹیشن میں بیان درج کروایا اور پھر پولس نے متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر ملزم ڈاکٹر کے خلاف ۷۴ اور ۷۹ بی این ایس کی دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ٹروم گلوبل ایگزیکٹو ایم بی اے کا آغاز ایل ایس ای داخلہ پر ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمے پر شری کانت شندے کا جذباتی خراج عقیدت

Published

on

ممبئی : لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس (ایل ایس ای) کا کیمپس اس وقت ایک خاص وجہ سے منظر عام پر ہے۔ وہ ادارہ جہاں بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے تقریباً ایک صدی قبل اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اب وہی مقام پرکلیان سے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) ڈاکٹر شریکانت شندے ایک طالب علم کے طور پر ایک نئے تعلیمی سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شری کانت شندے نے ایل ایس ای میں ٹروم گلوبل ایگزیکٹو ایم بی اے پروگرام کے پہلے ماڈیول کا آغاز کیا ہے۔ اس سے پہلے میڈیکل کے شعبے میں آرتھوپیڈکس میں ایم ایس مکمل کرنے کے بعد، اس نے اب اس بین الاقوامی کورس کا انتخاب کیا ہے تاکہ معاشیات، عوامی پالیسی اور قیادت جیسے مضامین میں بصیرت حاصل کی جا سکے۔ ایل ایس ای میں اپنے پہلے دن کے تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے، ڈاکٹر شندے نے تبصرہ کیا کہ جہاں افتتاحی لیکچر اہم تھا، وہ لمحہ جس نے انہیں حقیقی معنوں میں جذباتی کر دیا وہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ وہ کلیان، مہاراشٹر کے ایم پی کے طور پر وہاں موجود تھے، لیکن اس وقت ان کی بنیادی شناخت ایک طالب علم کی تھی۔ بابا صاحب کے تعلیمی سفر پر غور کرتے ہوئے، انہوں نے اظہار کیا کہ کس طرح اس لمحے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ تعلیم، نظریات اور عزم کے ذریعے ایک فرد ان عظیم بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے ایل ایس ای میں معاشیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کے مطالعے اور تحقیق نے بعد میں ہندوستان کی اقتصادی اور مالیاتی سوچ کو متاثر کیا۔ مالی مسائل ان کے اہم تحقیقی کاموں میں شامل ہے بابا صاحب نے آزاد ہندوستان کے آئین کے مسودے میں بھی تاریخی کردار ادا کیا۔ کیمپس پہنچنے پر، ڈاکٹر شندے نے بابا صاحب کے تعلیمی سفر اور ان کی جدوجہد پر غور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ محض ایک غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں تھا بلکہ ایک تاریخی ورثے سے جڑنے کا تجربہ بھی تھا۔

ڈاکٹر سے لے کر معاشیات اور پالیسی کے طالب علم تک ڈاکٹر شریکانت شندے کے لیے یہ دوسری ماسٹر ڈگری ہوگی۔ اس نے پہلے آرتھوپیڈکس میں ایم ایس مکمل کیا تھا۔ اب، عوامی زندگی میں اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ، وہ معیشت، پالیسی سازی اور قیادت کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شندے کے مطابق، ان کی طبی تعلیم نے انھیں مریضوں کا علاج کرنے کا طریقہ سکھایا، جب کہ اب وہ معاشی اور پالیسی کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے نئے مضامین کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ وہ نوٹ کرتا ہے کہ اگرچہ مضامین مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن سیکھنے کا ان کا تجسس بدستور برقرار ہے۔ نوجوانوں کے لیے پیغام عمر بھر طالب علم رہیں ایل ایس ای کے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے ڈاکٹر شری کانت شندے نے کہا کہ سیکھنے کا عمل ڈگری، نوکری، یا عہدہ حاصل کرنے پر ختم نہیں ہوتا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، مسلسل نئی چیزیں سیکھنا اور اپ ڈیٹ رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود وہ خود کو سب سے پہلے ایک طالب علم سمجھتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان