Connect with us
Sunday,25-October-2026

(جنرل (عام

شاہین باغ کی شیرنیاں اور بے شرم اور بزدل سیاسی و مذہبی قیادت

Published

on

(محفوظ الرحمن انصاری)
این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر جیسے کالے قانون کیخلاف ہماری مائیں بہنیں جو احتجاج کررہی ہیں اس پر ہمارے کچھ سیاسی رہنمائوں اور علما نے اعتراض کرنا شروع کردیا ہے کہ اس طرح شاہین باغ اور ممبئی باغ بناکر کیا حاصل ہو جائے گا ؟ عورتوں کا یوں سڑکوں پر بیٹھنا کہاں تک درست ہے ؟ عورتوں کے احتجاج کو لے کر حرام حلال کرنے والی یہ بزدل مذہبی اور سیاسی قیادت ذرا ان باتوں کا جواب دے گی ۔
(۱)بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لے کر کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس مسئلہ پر ہمارے مرد سیاسی رہنمائوں اور علما نے ہی قیادت کی تھی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور پوری طرح ہاتھ سے نکل گئی ، اور اس دوران انہی مرد رہنمائوں اور علما نے ایک دوسرے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں بابری مسجد کا سمجھوتہ کرنے کے الزامات تک لگائے۔
(۲)تین طلاق پر تو قیادت انہی مرد رہنمائوں اور علما کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہوں نے خواتین کو جلسوں میں بلایا وہ گئیں ، ان کے کہنے پر خواتین نے ریلی بھی نکالی ، فارموں پر دستخط کروائے ، یہ چیخ چیخ کر کہتے تھے ’ہم جان دے دیں گے مگر شریعت میں مداخلت کا بل پاس ہونے نہیں دیں‘ پھر جب بل پاس ہو ہی گیا تو جان دینا تو دور ان کے منھ سے اف تک نہیں نکلا ۔ کیا یہ بتائیں گے کہ خواتین کے دستخط ہوئے وہ کروڑوں فارم کا کیا ہوا ؟ اس وقت کہاں رکھے ہیں ؟ کیا کباڑی کو کلو کے حساب سے بیچ دیئے گئے ؟
3(۳)تمام خواتین اسلام متحد ہو کر بغیر مسلک بازی کے احتجاج کر رہی ہیں ؟ کیا ہمارے علما نے آج تک ایسا اتحاد دکھایا ہے ؟ یہ تو جہاں پہنچ گئے سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، اہل حدیث ، صحیح العقیدہ و بدعقیدہ کا ایسا تفرقہ پھیلایا کہ قوم کو فرقے ، فرقے کر کے لڑا کر برباد کر ڈالا ، اس کی پوری طاقت ختم کر دی ، سکھ عیسائی مسلمانوں سے کم ہیں مگر متحد ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا جبکہ ٹکڑوں میں بنٹے مسلمانوں کا ملک میں کیا حال ہے سب کو معلوم ہے ، اس لئے مسلمان ماب لنچنگ میں چن چن کر مارے جارہے ہیں ۔ ممبئی سمیت ملک کی بہت سی مساجد میں جو بورڈ ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے مسلک کا مسلمان نماز تک پڑھنے نہیں آسکتا ، کیا مسجدوں میں ایسے زہر بھرے مسلکی بورڈ ان خواتین نے لگوائے ہیں ؟ نہیں نا ، انہیں تو ہمارے معزز علمائے کرام نے لگوایا ہے ۔ سبھی سیاسی رہنما الگ الگ پارٹیوں میں بنٹے ہوئے اور صرف اپنی پارٹی کے ہی وفادار ہیں ، اسی طرح سارے علما مسلکی فرقوں میں نا صرف بنٹے ہوئے ہیں بلکہ قوم کو بھی فرقوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں خواتین اسلام کا اس طرح متحد ہونا کیا ان کے منھ پر طمانچہ نہیں ہے ؟
4(۴)کیا وقف کی اربوں روپئے کی جائداد پر سے یہ مرد و مذہبی قیادت غیر قانونی قبضہ ہٹوا پائی ؟
5(۵)خواتین اسلام کے احتجاج پر حلال حرام کرنے والے سبھی لوگوں خصوصا اپنے آپ کو عالم کہنے والے رمضان المبارک میں سیاسی لیڈروں کی یقینی طور پر حرام کے پیسوں سے افطار کی دعوت کھاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو حلال حرام یاد نہیں آتا ہے ۔ اس میں سبھی مسلک کے علما شامل رہے ہیں ، اس لئے کسی نے غلطی سے بھی دوسرے پر انگلی نہیں اٹھائی
(۶)تین طلاق کا بل پاس ہونے پر سب خاموش رہے ، بابری مسجد کے فیصلہ پر چپ رہے ، اس پر بھی سارے لوگ تھوڑا بہت بول کر چپ ہوجاتے ، وہ تو عورتوں نے دن رات اپنی قربانیاں پیش کرکے قوم کی ناک کٹنے سے بچالیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم ان کے جذبے اور قربانیوں پر ان کا شکرگزار ہونے کی بجائے ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور محمود مدنی اور ان جیسے بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار بالکل خاموش اور منظر نامہ سے غائب ہیں کیا انہیں اس کی قیمت مل گئی ہے ؟
(۷)دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کے شوہر ، باپ ، بھائی اور بیٹوں کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، گھر سے دھرنے والی جگہ لانے اور لے جانے کا کام خوشی خوشی کررہے ہیں ، پھر آخر سیاسی اور مذہبی قیادت کے ٹھیکیداروں اور دعویداروں کے ہی پیٹ میں اتنا درد کیوں ہو رہا ہے ؟
8(۸)ٹِک ٹاک کے گھٹیا الزام کا جواب یہ ہے کہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں نہیں بنا رہی ہیں بلکہ جو لڑکے لڑکیاں پہلے سے ہی اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے اب بھی وہ لوگ ہی اسے بنا رہے ہیں ۔ جبکہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعائیں مانگ رہی ہیں ، قربانی دے رہی ہیں ، یہاں تک کہ بیمار پڑ رہی ہیں تو کسی کی گود ہی اجڑ گئی ۔ وہ وہی نماز پڑھ رہی ہیں قرآن کی تلاوت کررہی ہیں۔
(۹)کیا یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ ہماری خواتین میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی ہے ، ورنہ کل تک انہیں نہ ملک کے حالات حاضرہ سے کچھ لینا دینا تھا نا ہی اس کی معمولی سی سمجھ ہی تھی ، یہ اپنے گھریلو اور رشتوں کے مسائل ، بازار زیور کپڑوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔ ہمیں اس سیاسی بیداری کا استقبال کرنا چاہئے نا کہ تنقید۔
(۱۰)دراصل ہماری خواتین نے اس طرح بیدار ہوکر آگے آکر مردانگی دکھانے سے مرد سیاسی اور مذہبی قیادت کی نامردی اور بزدلی سب پر ظاہر ہوگئی ہے ۔ ان کا بھائو گر گیا ہے ۔ خواتین یہاں تک کہ ہمارے کالج کے بچے بچیاں پولس اور غنڈوں کی لاٹھیاں و گولیاں کھاکر بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے گھروں میں آرام فرمارہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ بکے اور گرے ہوئے لوگ حکومت کی حمایت تک کررہے ہیں ۔ ان کی اسی بزدلی پر یو پی کے ایک شاہین باغ کی خاتون نے ان پر چوڑیاں برسائی تھی کیوں کہ یہ اسی لائق ہیں ۔ تاریخ ان خواتین اسلام کا شکریہ ادا کرے گی ۔ شاہین باغ ، ممبئی باغ ، سمیت ملک کے ہر شاہین باغ اور وہاں بیٹھی ہماری سبھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں (اصلی شیرنیوں) کو پورے ملک کی طرف سے عقیدت بھرا سلام ۔آخر میں عرض کردوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اگر جنگ کے وقت کا کسی کو حکم یاد نہیں تو نبی ﷺ یا قرون اولیٰ کے جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں کہ اس وقت جنگ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی تیمارداری ان کا علاج انہیں پانی پلانے کا کام خواتین اسلام ہی کیا کرتی تھیں ۔ آج حالات کی نزاکت کے سبب ہماری مائیں بہنیں خود مورچہ سنبھال چکی ہیں تو ان پر تنقید کرنے اور مسلکی تفرقہ میں وقت لگانے سے کچھ وقت بچ جائے تو ہماری شاندار تاریخ کے اوراق میں سے کچھ ورق گردانی کرلیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

لارنس بشنوئی گینگ کے شوٹروں نے ٹائیگر شراف فائرنگ سے قبل آر اے کالونی جنگل میں شوٹنگ پریکٹس کی تھی

Published

on

ممبئی : ٹائیگر شراف فائرنگ کے بعد تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ لارنس بشنوئی کے نشانے پر پونے میں ایک تاجر اور ممبئی میں ایک فلم اسٹارتھاگینگ کا مقصد فلم انڈسٹری اور تاجروں میں خوف پیدا کر کے ہفتہ وصولی یا تاوان وصولی کرنا ہے لارنس بشنوئی گینگ کا مقصد قتل نہیں بلکہ فلم انڈسٹری اور تاجروں میں خوف و دہشت پیدا کرنا ہے ۔ لارنس بشنوئی گینگ کے 56 کارندے ممبئی کی مختلف جیلوں میں بند ہیں اور انہوں نے گزشتہ 2-3 برسوں میں ممبئی پونے میں 10 سے زیادہ جرائم کی وارداتیں انجام دی ہیں ۔ بالی ووڈ کو نشانہ بنانا لارنس گینگ کا مقصد ہے اور تاجر برادری میں خو ف و دہشت پیدا کرنے کے لئے گینگ فلم اداکار کو نشانہ بنانے کی سازش میں ملوث ہے ۔

ٹائیگر شراف کیس میں آر اے کالونی جنگل میں شوٹروں نے فائرنگ کی تربیت حاصل کی تھی ایک چرواہے نے ان شوٹروں کو فائرنگ کرتے ہوتے دیکھا تھا وہ اس میں چشم دید گواہ کی حیثیت رکھتا ہے چرواہے کے مطابق تین سے چار افراد نے یہاں فائرنگ کی تربیت حاصل کی تھی اس نے ان شوٹروں کو گولی داغتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ٹائیگر شراف سے متعلق کیس میں نت نئے خلاصے ہو رہے ہیں کرائم برانچ کی تفتیش میں کئی اہم پیش رفت بھی ہوئی ہے اس معاملہ میں اسلحہ جات کی برآمدگی بھی ہوئی ہے اس کے علاوہ پولس نے اس معاملہ میں جن شوٹروں کو گرفتار کیا ہے ان سے تفتیش میں لارنس بشنوئی گینگ کے انیل پنڈت سے متعلق بھی انکشاف ہوا ہے شوٹر انیل پنڈت کے رابطے میں تھے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اے این سی کی بڑی کارروائی منشیات فروشوں کی گرفتاری

Published

on

ممبئی : ۲۵ اکتوبر کو انٹی نارکوٹکس سیل اے این سی نے قتل میں مطلوب ملزمین کو منشیات کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ممبئی گھاٹکوپر یونٹ ٹیم نے گشت کے دوران شری کرشنا کامپلیکس کے مین گیٹ قریب نیشنل پارک سامنے، مغربی بوریولی ممبئی یہاں ایم ڈی فروخت کرنے والے تین افراد کو حراست میں لے کران کی تلاشی لی اور ان کے قبضے سے ان کے قبضے سے 01 کلو 028 گرام وزنی ‘ایم ڈی میفیڈرون منشیات برآمد ہوئی پولس نے(کستوربا مارگ پولس 728/2026) دفعہ 8(ک) سہ 22(ک)، 29 این ڈی پی ایس قانون 1985 کے تحت جرم درج کرکے گرفتار کیا گیا۔ مذکورہ گرفتار ملزمان سے کی گئی تفتیش کے دوران یہ پایا گیا کہ وہ قتل میں بھی ملوث ہے ملزمین نے نالاسوپارہ سے منشیات لایا تھااور یہاں فروخت کرنے کی غرض سےآئے تھے

گرفتار ملزمین ایک 28 سالہ شخص ، 2) ایک شخص، 28 سالہ 3) ایک شخص، عمر 39 سال شامل ہے ۔ تینوں ملزمان سے 01 کلو 28 گرام وزنی ‘ایم ڈی میفیڈرون منشیات ضبط کی گئی۔مذکورہ کامیاب کارکردگی یہ پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر جرائم انل کنبھارے، ایڈیشنل کمشنر کانت اپادھیائے، ڈی سی پی پورنیما چوگلےشرینگی کی رہنمائی میں انجام دی ہے ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایران کے سپریم لیڈر کی عدلیہ کے سربراہ سے ملاقات، امریکی اور اسرائیلی ’جرائم‘ پر معاوضے کا مطالبہ

Published

on

تہران : ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے “سنجیدہ” کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے اور امریکہ اسرائیل حملوں کے دوران ملک کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رہنما کی ویب سائٹ پر ہفتہ کو شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، سپریم لیڈر اور ملک کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ان مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔ میٹنگ کے دوران جن امور پر روشنی ڈالی گئی ان میں انصاف کا فروغ، عوامی حقوق کا تحفظ، بدعنوانی اور اس کی بنیادی وجوہات سے مؤثر طریقے سے لڑنا، عدالتی مقدمات کو فوری، درست اور فیصلہ کن طریقے سے نمٹانا، عدالتی فیصلوں کو بروقت اور روک ٹوک طریقے سے نافذ کرنا، اور ملک میں ایک “جامع اور ٹھوس” تبدیلی کو لانا شامل تھے۔

دوسرے معاملات میں جرائم کے خلاف فیصلہ کن طریقے سے لڑنے کے لیے منصوبہ بندی کرنے اور کوششیں کرنے کی ضرورت شامل تھی نیز ایرانی عوام کے حقوق کی بحالی اور “امریکی اسرائیلی مجرموں کی طرف سے کیے جانے والے جرائم” کے نتیجے میں ہونے والے مادی اور غیر مادی نقصانات کے معاوضے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا، خبر رساں ایجنسی سنہوا کی رپورٹ کے مطابق۔ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے شروع کر دیئے۔ ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا اور آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کے امکانات کو بڑھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ ملک کے تمام تیل پر قبضہ کر سکتا ہے یا پورے ملک پر قبضہ کر سکتا ہے۔

فلوریڈا میں ایک ریلی کے لیے وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہوئے ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، “ایران ابھی زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اور اگر ہم چاہیں تو صرف سارا تیل لے سکتے ہیں۔” “ہم پورے ملک کو لے سکتے ہیں۔” اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کے کہنے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ ایران کے ساتھ تنازعہ مزید ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے، ٹرمپ نے کہا: “ہم اسے بہت جلد ختم کر سکتے ہیں… سوال یہ ہے کہ ‘کیا ہم اسے ختم کرنا چاہتے ہیں یا ہم اسے مرجھا جانا چاہتے ہیں؟'” بعد میں فلوریڈا کی ریلی میں ٹرمپ نے تجویز دی کہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن ممکن ہے۔ “ہم ایک اور چھوٹی ایپک فیوری کر سکتے ہیں،” انہوں نے ایک مربوط اسرائیلی جارحیت کے ساتھ ساتھ 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر امریکی فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے شرکاء کو بتایا۔ ٹرمپ کے تازہ ترین ریمارکس ان رپورٹس کے درمیان سامنے آئے ہیں کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی اور اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف نئے حملوں کا منصوبہ بنایا ہے۔ تاہم، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ بالآخر ایک اور فوجی آپریشن کی اجازت دیں گے یا نہیں، یہ غیر یقینی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان