Connect with us
Sunday,26-July-2026

(جنرل (عام

شاہین باغ کی شیرنیاں اور بے شرم اور بزدل سیاسی و مذہبی قیادت

Published

on

(محفوظ الرحمن انصاری)
این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر جیسے کالے قانون کیخلاف ہماری مائیں بہنیں جو احتجاج کررہی ہیں اس پر ہمارے کچھ سیاسی رہنمائوں اور علما نے اعتراض کرنا شروع کردیا ہے کہ اس طرح شاہین باغ اور ممبئی باغ بناکر کیا حاصل ہو جائے گا ؟ عورتوں کا یوں سڑکوں پر بیٹھنا کہاں تک درست ہے ؟ عورتوں کے احتجاج کو لے کر حرام حلال کرنے والی یہ بزدل مذہبی اور سیاسی قیادت ذرا ان باتوں کا جواب دے گی ۔
(۱)بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لے کر کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس مسئلہ پر ہمارے مرد سیاسی رہنمائوں اور علما نے ہی قیادت کی تھی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور پوری طرح ہاتھ سے نکل گئی ، اور اس دوران انہی مرد رہنمائوں اور علما نے ایک دوسرے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں بابری مسجد کا سمجھوتہ کرنے کے الزامات تک لگائے۔
(۲)تین طلاق پر تو قیادت انہی مرد رہنمائوں اور علما کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہوں نے خواتین کو جلسوں میں بلایا وہ گئیں ، ان کے کہنے پر خواتین نے ریلی بھی نکالی ، فارموں پر دستخط کروائے ، یہ چیخ چیخ کر کہتے تھے ’ہم جان دے دیں گے مگر شریعت میں مداخلت کا بل پاس ہونے نہیں دیں‘ پھر جب بل پاس ہو ہی گیا تو جان دینا تو دور ان کے منھ سے اف تک نہیں نکلا ۔ کیا یہ بتائیں گے کہ خواتین کے دستخط ہوئے وہ کروڑوں فارم کا کیا ہوا ؟ اس وقت کہاں رکھے ہیں ؟ کیا کباڑی کو کلو کے حساب سے بیچ دیئے گئے ؟
3(۳)تمام خواتین اسلام متحد ہو کر بغیر مسلک بازی کے احتجاج کر رہی ہیں ؟ کیا ہمارے علما نے آج تک ایسا اتحاد دکھایا ہے ؟ یہ تو جہاں پہنچ گئے سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، اہل حدیث ، صحیح العقیدہ و بدعقیدہ کا ایسا تفرقہ پھیلایا کہ قوم کو فرقے ، فرقے کر کے لڑا کر برباد کر ڈالا ، اس کی پوری طاقت ختم کر دی ، سکھ عیسائی مسلمانوں سے کم ہیں مگر متحد ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا جبکہ ٹکڑوں میں بنٹے مسلمانوں کا ملک میں کیا حال ہے سب کو معلوم ہے ، اس لئے مسلمان ماب لنچنگ میں چن چن کر مارے جارہے ہیں ۔ ممبئی سمیت ملک کی بہت سی مساجد میں جو بورڈ ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے مسلک کا مسلمان نماز تک پڑھنے نہیں آسکتا ، کیا مسجدوں میں ایسے زہر بھرے مسلکی بورڈ ان خواتین نے لگوائے ہیں ؟ نہیں نا ، انہیں تو ہمارے معزز علمائے کرام نے لگوایا ہے ۔ سبھی سیاسی رہنما الگ الگ پارٹیوں میں بنٹے ہوئے اور صرف اپنی پارٹی کے ہی وفادار ہیں ، اسی طرح سارے علما مسلکی فرقوں میں نا صرف بنٹے ہوئے ہیں بلکہ قوم کو بھی فرقوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں خواتین اسلام کا اس طرح متحد ہونا کیا ان کے منھ پر طمانچہ نہیں ہے ؟
4(۴)کیا وقف کی اربوں روپئے کی جائداد پر سے یہ مرد و مذہبی قیادت غیر قانونی قبضہ ہٹوا پائی ؟
5(۵)خواتین اسلام کے احتجاج پر حلال حرام کرنے والے سبھی لوگوں خصوصا اپنے آپ کو عالم کہنے والے رمضان المبارک میں سیاسی لیڈروں کی یقینی طور پر حرام کے پیسوں سے افطار کی دعوت کھاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو حلال حرام یاد نہیں آتا ہے ۔ اس میں سبھی مسلک کے علما شامل رہے ہیں ، اس لئے کسی نے غلطی سے بھی دوسرے پر انگلی نہیں اٹھائی
(۶)تین طلاق کا بل پاس ہونے پر سب خاموش رہے ، بابری مسجد کے فیصلہ پر چپ رہے ، اس پر بھی سارے لوگ تھوڑا بہت بول کر چپ ہوجاتے ، وہ تو عورتوں نے دن رات اپنی قربانیاں پیش کرکے قوم کی ناک کٹنے سے بچالیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم ان کے جذبے اور قربانیوں پر ان کا شکرگزار ہونے کی بجائے ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور محمود مدنی اور ان جیسے بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار بالکل خاموش اور منظر نامہ سے غائب ہیں کیا انہیں اس کی قیمت مل گئی ہے ؟
(۷)دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کے شوہر ، باپ ، بھائی اور بیٹوں کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، گھر سے دھرنے والی جگہ لانے اور لے جانے کا کام خوشی خوشی کررہے ہیں ، پھر آخر سیاسی اور مذہبی قیادت کے ٹھیکیداروں اور دعویداروں کے ہی پیٹ میں اتنا درد کیوں ہو رہا ہے ؟
8(۸)ٹِک ٹاک کے گھٹیا الزام کا جواب یہ ہے کہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں نہیں بنا رہی ہیں بلکہ جو لڑکے لڑکیاں پہلے سے ہی اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے اب بھی وہ لوگ ہی اسے بنا رہے ہیں ۔ جبکہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعائیں مانگ رہی ہیں ، قربانی دے رہی ہیں ، یہاں تک کہ بیمار پڑ رہی ہیں تو کسی کی گود ہی اجڑ گئی ۔ وہ وہی نماز پڑھ رہی ہیں قرآن کی تلاوت کررہی ہیں۔
(۹)کیا یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ ہماری خواتین میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی ہے ، ورنہ کل تک انہیں نہ ملک کے حالات حاضرہ سے کچھ لینا دینا تھا نا ہی اس کی معمولی سی سمجھ ہی تھی ، یہ اپنے گھریلو اور رشتوں کے مسائل ، بازار زیور کپڑوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔ ہمیں اس سیاسی بیداری کا استقبال کرنا چاہئے نا کہ تنقید۔
(۱۰)دراصل ہماری خواتین نے اس طرح بیدار ہوکر آگے آکر مردانگی دکھانے سے مرد سیاسی اور مذہبی قیادت کی نامردی اور بزدلی سب پر ظاہر ہوگئی ہے ۔ ان کا بھائو گر گیا ہے ۔ خواتین یہاں تک کہ ہمارے کالج کے بچے بچیاں پولس اور غنڈوں کی لاٹھیاں و گولیاں کھاکر بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے گھروں میں آرام فرمارہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ بکے اور گرے ہوئے لوگ حکومت کی حمایت تک کررہے ہیں ۔ ان کی اسی بزدلی پر یو پی کے ایک شاہین باغ کی خاتون نے ان پر چوڑیاں برسائی تھی کیوں کہ یہ اسی لائق ہیں ۔ تاریخ ان خواتین اسلام کا شکریہ ادا کرے گی ۔ شاہین باغ ، ممبئی باغ ، سمیت ملک کے ہر شاہین باغ اور وہاں بیٹھی ہماری سبھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں (اصلی شیرنیوں) کو پورے ملک کی طرف سے عقیدت بھرا سلام ۔آخر میں عرض کردوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اگر جنگ کے وقت کا کسی کو حکم یاد نہیں تو نبی ﷺ یا قرون اولیٰ کے جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں کہ اس وقت جنگ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی تیمارداری ان کا علاج انہیں پانی پلانے کا کام خواتین اسلام ہی کیا کرتی تھیں ۔ آج حالات کی نزاکت کے سبب ہماری مائیں بہنیں خود مورچہ سنبھال چکی ہیں تو ان پر تنقید کرنے اور مسلکی تفرقہ میں وقت لگانے سے کچھ وقت بچ جائے تو ہماری شاندار تاریخ کے اوراق میں سے کچھ ورق گردانی کرلیں ۔

(جنرل (عام

کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا، کہتے ہیں حکومت نے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔

Published

on

CJP

نئی دہلی : کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ہفتہ کو حکومت کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ ملاقات کے بعد چیف جسٹس نے بڑا اعلان کر دیا۔ چیف جسٹس نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جنتر منتر سے احتجاج واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے، اور وہ احتجاج کو واپس لے رہے ہیں۔ حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد، کاکروچ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رنکا نے کہا، “ہم نے حکومتی وفد کے ساتھ تین دور کی بات چیت کی۔ جنتر منتر پر ہمارے احتجاج کے تین اہم مطالبات تھے: مرکزی وزیر تعلیم کے طور پر دھرمیندر پردھان کا استعفی؛ مظاہرین اور منتظمین کے خلاف تمام قانونی مقدمات یا ایف آئی آر واپس لینے؛ احتجاج کرنے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ یا ایف آئی آر واپس نہ لیا جائے۔”

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا مطالبہ تھا کہ این ای ای ٹی امتحان ملتوی ہونے کے بعد اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کو 1 کروڑ کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔ دھرمیندر پردھان نے کچھ ہی دیر پہلے استعفیٰ دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارا پہلا مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ نہ صرف دہلی بلکہ بی جے پی کی حکومت والی اور بی جے پی کی اتحادی ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف درج کی گئی تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں۔ حکومت نے بھی اس مطالبے کو مان لیا ہے۔ ایف آئی آرز جلد واپس لی جائیں گی۔

سورو داس نے کہا کہ حکومت نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ درج کی گئی تمام ایف آئی آر کی کاپیاں شیئر کرے گی۔ ہماری پچھلی معلومات کے مطابق دہلی میں 15 سے 20 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ ہمیں وہ کاپیاں تین سے چار دنوں میں کسی بھی قیمت پر مل جائیں گی۔ حکومت نے بھی ہمیں یقین دلایا ہے کہ ایف آئی آر جلد واپس لے لی جائیں گی۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ منگل تک ہمارے ساتھ ان کا اشتراک کرے گی۔ ہمیں امید ہے کہ منگل تک ہمیں ان ایف آئی آرز اور آئندہ کی کارروائی کے حوالے سے حکومتی ضمانت مل جائے گی۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف ترجمان سورو داس نے کہا، “کاکروچ جنتا پارٹی اعلان کرتی ہے کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ ایجی ٹیشن واپس لے رہے ہیں، اس سمجھ کے ساتھ کہ طے شدہ شرائط کو مقررہ وقت کے اندر پورا کیا جائے گا۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت : ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورما لاونگیرے

Published

on

Prajakta-Verma

ممبئی : ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورمالاونگیرے نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے زون 5 کے تحت آنے والے علاقوں جیسے مانخورد، شیواجی نگر، کرلا اور چیمور میں پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کی فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ان درخواستوں کی منظوری کے لیے سٹیزن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے۔ آج (25 جولائی 2026)، لاونگرے نے چیمبور میں بی ایم سی کے ایم ویسٹ وارڈ آفس میں زون 5 کے انتظامی وارڈوں میں محکمہ صحت کی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ میٹنگ میں موجود ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون 5) سندھیا شامل تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ایسٹ) اجول انگولے، اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ویسٹ) شنکر بھوسلے، اور ایگزیکٹیو ہیلتھ آفیسر (محکمہ صحت عامہ) ڈاکٹر دکشا شاہ۔ای

ایم ایل وراڈ ایسٹ ویسٹ وارڈز میں پیدائشی سرٹیفکیٹ سے متعلق درخواستوں پر کارروائی کرنے کے لیے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔ ورمالاونگیرے نے ہدایت دی کہ شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک شہری سہولت مراکز پر درخواستیں قبول کی جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوام کی سہولت کے لیے یہ مراکز اتوار کو بھی کھلے رہیں۔ انتظامی وارڈ کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کو شہریوں کی درخواستوں کو نمٹانے کے لیے اضافی افرادی قوت کا تقرر کرنا چاہیے، اس طرح درخواستوں کی ایک بڑی تعداد کو نمٹانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ ورمالاونگرے نے ہدایت کی کہ درخواستوں کو جمع کرنے کے بعد کم سے کم وقت کے اندر اندر کارروائی اور حل کیا جائے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی طرف سے نئے برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے درخواستوں کو سنبھالنے اور موجودہ میں تصحیح کے لیے سافٹ ویئر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ سافٹ ویئر درخواست کی تفصیلات جمع کرانے اور متعلقہ دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے میں سہولت فراہم کرے گا، جبکہ اس میں ڈیش بورڈ بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ برتھ سرٹیفکیٹ کی درخواست کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سافٹ ویئر اور ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تعلیمی معاملات سے متعلق درخواستوں کو ترجیح دی جائے۔ بیرون ملک تعلیم اور ویزا پروسیسنگ کے لیے درکار کیو آر کوڈ پر مبنی برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

آج کی میٹنگ کے دوران، ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورمالاونگرے نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پروجیکٹوں، مانسون سے متعلق بیماریوں کے واقعات، اور میٹرنٹی ہومز اور مضافاتی اسپتالوں میں صلاحیت میں توسیع اور مرمت کے کاموں کی حالت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال (سائن)، گوونڈی شتابدی اسپتال، اور ما اسپتال (چیمبور) کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔پراجکتا ورما-لاونگیرے نے محکمہ کے سربراہوں کو ہدایت دی کہ وہ صحت کے انتظامیہ کے کاموں میں شفافیت اور شہری مسائل کے جلد حل کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جائزہ لیں۔ انہوں نے زون کے اندر اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ باقاعدہ سائٹ کا دورہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں طلبا کی فتح پر ‘جشن فتح’… طلبا پر تشدد برپا کرنے والے پولس والوں پر کارروائی کا مطالبہ ابھی نامکمل : ادھو ٹھاکرے

Published

on

Raj-&-Uddhav

ممبئی میں طلبا کی تاریخی فتح پر ‘جشن فتح’ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دلی جنتر منتر پر دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد بھی احتجاج جاری رہے گا۔ یہ موقف کاکروچ جنتا پارٹی لیڈر ابھجیت دیپکے نے جاری کیا ہے۔ ممبئی میں ترنگا مارچ کے ساتھ اب ‘جشن فتح’ منایا جائے گا یہ اعلان یہاں پریس کانفرنس میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب شیواجی پارک کے پاس ہی اسٹیج تیار کیا جائے گا اور وہاں پر ہی مجمع جمع ہو گا۔ سدھی ونائک تک مارچ نہیں ہو گا۔ راج ٹھاکرے نے بتایا کہ یہ طلبا کے لئے بڑی کامیابی ہے, اس کا جشن منانے کے لیے یہ مارچ منعقد کیا گیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیا گیا ہے۔ ان کا استعفی لینے کے بعد ان کا محکمہ تو تبدیل نہیں کیا گیا یہ اب تک واضح نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی استعفیٰ پر ہی طلبا مطمئن نہیں ہے۔ جن پولس اہلکاروں و افسران نے طلبا پر تشدد کیا ان پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کا مطالبہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے, جس طرح سے طلبا پر بربریت کی گئی وہ سراسر غلط ہے, لیکن طلبا ثابت قدم تھے اتنا ہی نہیں انہوں نے احتجاج کے دوران تکالیف برداشت کی اور یہی وجہ کہ سرکار کو ان طلبا کے سامنے جھکنا پڑا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے سرکار نے یہ سمجھا تھا کہ وہ کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی, لیکن طلبا نے اسے مجبور کر دیا۔ ممبئی میں طلبا کے ساتھ اظہار ہمددردی کے لیے ‘جشن فتح’ منایا جائے گا اور روایتی طریقے سے ترنگا ریلی منعقد ہو گی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ابھیجیت دپیکے سے بات کر کے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان