سیاست
شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں بلکہ راستہ دکھایا ہے:انجینئر محمد سلیم
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہاکہ شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں ہے بلکہ ملک کو راستہ دکھایا ہے جس پر لوگوں کو چلنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم کچھ لوگ بند راستے کا ہوا کھڑا کرکے شاہین باغ مظاہرہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے شاہین باغ مظاہرین نے کسی کا راستہ روکا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو راستہ دکھایا ہے اور آج پورا اس راستہ پر چل رہا ہے اور شاہین باغ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کا آئین سیکولر ازم پر مبنی ہے جس میں سب کو یکساں اختیار دیتا ہے اور کسی کے ساتھ تفریق کی اجازت نہیں دیتا اور یہ قانون مذہبی تفریق پر مبنی ہے اس لئے ہمارے ملک کی خواتین سڑکوں پر نکل کر مخالفت کر رہی ہیں۔
انہوں نے خاتون مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ یہ لڑائی آپ جیت چکی ہیں اور حاکم نے اپنی ہار مان لی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے مظاہرے پر طرح طرح کے الزام لگاکر آپ کے مظاہرے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ نے دکھادیا کہ کس طرح پرامن طریقے سے مظاہرہ کرکے دنیا کی توجہ مبذول کرائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپ پر حملے کئے گئے لیکن آپ نے اس کا جواب اخلاق سے دیا، نفرت کا جواب محبت سے دیا۔جس کی پوری دنیا میں تعریف ہورہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں طلبہ پر حملہ کیا گیا لیکن ان لوگوں نے اس کا جواب پرامن طریقے سے دیا۔انہوں نے کہاکہ اس سیاہ قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران شہیدہونے والوں کی قربانی ضائع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ آپ کی یہ قربانی ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔
شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں شروع سے شامل اور انتظام میں ہاتھ بٹانے والی نصرت آراء نے بتایا کہ چننئی سے خواتین اور مردوں کا ایک گروپ شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایک بس میں بھر کر آیا ہے جس میں پچاس کے آس پاس لوگ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ قانون ملک اور سماج کو باٹنے والا ہے اور اس لئے ہم لوگ یہاں شاہین باغ خواتین کی حمایت کے لئے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ہم چننئی سے اس لئے آئے ہیں تاکہ یہ بتاسکیں گے ہم لوگ اس قانون کے خلاف ہیں اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ کندھا سے کندھا ملاکر چلنے آئے ہیں۔
شاہین باغ مظاہرہ میں پنجاب سے سکھوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی ایک گروپ موجودہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف سکھ کس بیدار ہیں اس کا اندازہ ان کی ذہنی اور جسمانی شمولیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ صرف دھرنے میں شریک نہیں ہورہے ہیں بلکہ وہاں کے انتظام و انصرا م میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کا جتھ لنگر کے ساتھ آتا ہے۔ اس وقت ایک سکھ ایڈووکیٹ ڈی ایس بندرا مستقل لنگر چلا رہے ہیں۔ سکھوں کا احساس ہے کہ حکومت اس قانون کے سلسلے میں عوام کو گمراہ کررہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گزشتہ چار دنوں کے دوران دو بار فائرنگ کا واقعہ کے باوجود پوری شدت سے احتجاج جاری ہے۔ پولیس رکاوٹیں کھڑی کرکے تلاشی کے ساتھ آنے جانے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔طلبہ کے پڑھنے کے مظاہرین نے لائبریری بھی بنائی ہے۔ آج مظاہرین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں ہولی فیملی اسپتال کے پاس ہی روک لیا۔ دونوں فریق میں گفت و شنید جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ گزشتہ رات خوریجی خواتین مظاہرہ سے متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے اور وہاں خواتین نے ایک نیا شاہین باغ بناکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔اسی طرح راجستھان کے کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کا جذبہ قابل دید ہے اوراندور سمیت پورے مدھیہ پردیش میں خواتین سڑکوں پر نکل رہی ہیں۔ یہاں پر بھی اہم لوگوں کا آنا جانا جاری ہے اور مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا تھا اور مولانا طاہر مدنی سمیت 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔اترپردیش میں سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف احتجاج اب دوبارہ منظم ہورہا ہے۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
سیاست
اروند کیجریوال ای-20 پیٹرول کے خلاف 4 اگست کو پی ایم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ ای-20 پیٹرول پالیسی کے خلاف احتجاج کے لیے پارٹی کے 100 کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ منگل کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کے دوران وہ وزیراعظم کو عوام کی طرف سے آن لائن پٹیشن اور خطوط پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیجریوال نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم ان سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلہ پر لوگوں کے خدشات کو سنیں گے۔
اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ای-20 پیٹرول کے خلاف شروع کی گئی آن لائن مہم کو صرف چند دنوں میں 233,238 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پٹیشن پر دستخط کرنے والے لوگوں کی تعداد اس پالیسی کے بارے میں عوام کی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو دوپہر 12 بجے عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لئے روانہ ہوں گے۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ انھوں نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر وزیراعظم کی رہائش گاہ جا کر عوام کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن اور خطوط پیش کریں گے اور اس مسئلے پر بات کریں گے۔ کیجریوال نے مرکزی حکومت کی ای-20 پالیسی پر کئی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مناسب سائنسی اور تکنیکی مدد فراہم کیے بغیر پورے ملک میں ای-20 پیٹرول کے نفاذ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ایندھن کے استعمال سے لوگوں کی گاڑیوں کا مائلیج متاثر ہو رہا ہے اور کئی گاڑیوں کے مالکان کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اس پالیسی کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو وہ انہیں عوامی سطح پر پیش کریں۔ کیجریوال نے یہ بھی الزام لگایا کہ ای-20 کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے، مواد تخلیق کرنے والوں اور اس معاملے پر سوالات اٹھانے والے عام شہریوں کو ٹرول کیا گیا، اور کچھ معاملات میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ ان کے مطابق اس سے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اینٹی ای-20 ٹاؤن ہال ایونٹ کو بڑی تعداد میں حمایت ملی۔ کیجریوال کے مطابق اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جب کہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن بھی دیکھا۔ انہوں نے اسے ای-20 کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کی علامت قرار دیا۔ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت پر ای-20 پالیسی کے پیچھے “چھپا ہوا ایجنڈا” ہونے کا الزام بھی لگایا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیرونی دباؤ کے تحت ہندوستان پر ایتھنول پالیسی مسلط کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند سالوں میں بڑے پیمانے پر ایتھنول کی درآمد کا امکان ہے اور مرکزی حکومت کو ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ منگل کا مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا واحد مقصد عوام کے تحفظات اور مطالبات کو وزیر اعظم تک پہنچانا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹا کر رکاوٹوں سے فٹ پاتھ پاک کرے، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی سخت ہدایات

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) ممبئی کے شہریوں کے لیے محفوظ، آسان اور رکاوٹوں سے پاک سفر کو یقینی بنانے کے مقصد کے ساتھ ‘پیڈسٹرین فرسٹ راہگیر سب سے پہلے ‘ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے۔ اس اقدام کے پہلے مرحلے کے تحت 320 کلومیٹر پر محیط فٹ پاتھوں پر سے تجاوزات ہٹا دی جائیں گی۔ چونکہ ممبئی میں روزانہ کا تقریباً 50 فیصد سفر پیدل ہوتا ہے، اس لیے پیدل چلنے والوں کی حفاظت کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے تمام غیر مجاز ہاکروں، تجاوزات اور دیگر رکاوٹوں کے فٹ پاتھوں کو فوری طور پر صاف و پاک کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک ہیں۔ مزید برآں، فٹ پاتھوں کی بہتری، خوبصورتی اور حفاظت سے متعلق ضروری اقدامات کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ تمام انتظامی وارڈز کے اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ وارڈ کی سطح پر اس کام کا جائزہ لینا ہوگا، جبکہ ڈپٹی کمشنرز کو ہفتے میں ایک بار زونل سطح کا جائزہ لینا ہوگا اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر کو رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر کو ہر 15 دن بعد جائزہ لینا ہوگا۔ اس مہم میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمشنر بھیڈے نے انتباہ دیا ہے کہ ان احکامات کی تعمیل کرنے میں ناکام پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس طرح کی کوتاہی کے لیے جوابدہی طے کی جائے گی۔ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں پر مشتمل ایک جائزہ میٹنگ حال ہی میں میونسپل کمشنر کی رہنمائی میں میونسپل ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی۔
تمام اسسٹنٹ کمشنرز روزانہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں فٹ پاتھوں کا ذاتی طور پر معائنہ کریں اور انسداد تجاوزات کے اقدامات کے موثر نفاذ کو یقینی بنائیں۔ یہ عمل محض ایکشن لینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ تجاوزات کی تکرار کے ازالہ کے لیے مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ ‘پہلے’ اور ‘بعد میں’ تصاویر کے ساتھ روزانہ کی پیشرفت کی رپورٹوں کا جائزہ لینا لازمی ہے, بھیڈے نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی اہلکار اس کام میں تاخیر، لاپرواہی یا لاپرواہی کا مرتکب پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ فٹ پاتھ کو تجاوزات سے پاک رکھنا محض ایک بار کی مہم نہیں ہے بلکہ ایک جاری انتظامی ذمہ داری ہے۔ تعمیراتی مواد، ملبہ، لاوارث یا غلط طریقے سے پارک کی گئی گاڑیاں، جمع کچرے کے ڈھیر، اور ناہموار سطحیں پیدل چلنے والوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ اس لیے، عوامی علاقوں میں فٹ پاتھوں پر ہر قسم کی تجاوزات خاص طور پر اسکولوں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں، میٹرو اسٹیشنوں، بس ڈپوز، بازاروں اور اونچی فٹ فال زونز کے قریب کو فوری طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فٹ پاتھ محفوظ اور پیدل چلنے والوں کے لیے قابل رسائی ہیں۔
غیر مجاز اشتہاری بورڈز، ہورڈنگز، عمارتوں سے باہر کی طرف کھلنے والے دروازے، اونچے ریمپ اور فٹ پاتھ پر موجود دیگر جسمانی رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ اشونی بھیڈے نے مزید واضح کیا کہ متعلقہ عہدیداروں کو باقاعدگی سے اس بات کی تصدیق کرنی چاہئے کہ لائسنس یافتہ دکاندار اپنی فروخت کی سرگرمیوں، مواد کی ذخیرہ اندوزی، اسٹالز اور اشارے کو سختی سے اپنی مخصوص جگہوں تک محدود رکھیں۔ مزید برآں، غیر موافق یا ناہموار ریمپ کو ہٹا دیا جانا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عمارت کے داخلی راستے اور دروازے جائیداد کی حدود کے اندر اندر کی طرف کھلے ہوں۔ فٹ پاتھ میں رکاوٹ ڈالنے والی درختوں کی شاخوں کو ضرورت کے مطابق سائنسی طور پر کاٹنا چاہیے۔ فٹ پاتھ کے ڈیزائن کو مروجہ معیارات کے مطابق تیار کیا جانا چاہیے۔ نئے فٹ پاتھوں کو سختی سے مقرر کردہ معیاری ڈیزائن کے مطابق اور M-40 گریڈ کنکریٹ کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا جانا چاہیے۔ پیور بلاکس یا سٹیمپڈ کنکریٹ کا استعمال کسی بھی حالت میں سختی سے منع ہے۔ مزید برآں، فٹ پاتھوں کو خالی جگہوں، ناہموار سطحوں اور دیگر تمام جسمانی رکاوٹوں کو ختم کرکے محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ بھیڈے نے متعلقہ عہدیداروں کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ اس سلسلے میں قطعی طور پر کوئی غفلت نہ برتی جائےبھیڈے نے کہا کہ تجاوزات کو ہٹانے اور فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ اور چلنے کے قابل بنانے سے طلباء، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور عام لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ اس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت میں اضافہ ہوگا، سڑک حادثات کے واقعات میں کمی آئے گی، اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو فٹ پاتھ استعمال کرنے کی ترغیب ملے گی۔ نتیجتاً، اس سے سڑک ٹریفک کی کارکردگی اور رفتار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، اس طرح ٹریفک کی بھیڑ میں کمی آئے گی۔ بھیڑ کم ہونے سے ہوا کے معیار میں بہتری آئے گی اور صحت عامہ پر مثبت اثر پڑے گا۔ تمام متعلقہ حکام کو فٹ پاتھوں کی ترجیحی بنیاد پر فہرست تیار کرنی چاہیے۔ تجاوزات کی تکرار کو روکنے کے لیے مسلسل فالو اپ کے ذریعے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ افسران اپنے فرائض میں غفلت نہ برتیں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح کیا ہے کہ فٹ پاتھوں پر رکاوٹیں پائی جانے پر کسی اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ایم آئی ڈی سی کے حدود میں بیسٹ بسوں میں مسافروں کے موبائل اچکنے والا گروہ بے نقاب 7 گرفتار، ڈی سی پی دتہ نلاوڑے

ممبئی : ممبئی شہر میں بیسٹ کی بسوں مسافروں کے موبائل چوری کرنے والے گروہ کو ممبئی پولیس نے بے نقاب کیا ہے, ممبئی کے ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی حدود میں مقیم جگت جیوتی مہنت 49 سالہ اندھری میں 6 جون دو پہر سپز بس اسٹاپ ایم آئی ڈی سی سے اندھیری جانے کیلئے بس روٹ نمبر 415 میں سوار ہوئے, اس دوران ان کا موبائل فون غائب ہوگیا۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے پینٹ کے جیب میں موبائل رکھا تھا اور نامعلوم شخص نے اسے چوری کیا ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے چوری کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ ایم آئی ڈی پولیس نے تفتیش کے دوران 40 سے 45 سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور ممبرا شیواجی نگر میں مقیم بیسٹ بس میں سفر کرنے والے مسافروں کے موبائل فون چھیننے والے گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 7 ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے قبضے سے 12 لاکھ سے زائد کے اسباب اور 135 موبائل فون ضبط کئے ہیں۔ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
