سیاست
شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں بلکہ راستہ دکھایا ہے:انجینئر محمد سلیم
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہاکہ شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں ہے بلکہ ملک کو راستہ دکھایا ہے جس پر لوگوں کو چلنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم کچھ لوگ بند راستے کا ہوا کھڑا کرکے شاہین باغ مظاہرہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے شاہین باغ مظاہرین نے کسی کا راستہ روکا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو راستہ دکھایا ہے اور آج پورا اس راستہ پر چل رہا ہے اور شاہین باغ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کا آئین سیکولر ازم پر مبنی ہے جس میں سب کو یکساں اختیار دیتا ہے اور کسی کے ساتھ تفریق کی اجازت نہیں دیتا اور یہ قانون مذہبی تفریق پر مبنی ہے اس لئے ہمارے ملک کی خواتین سڑکوں پر نکل کر مخالفت کر رہی ہیں۔
انہوں نے خاتون مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ یہ لڑائی آپ جیت چکی ہیں اور حاکم نے اپنی ہار مان لی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے مظاہرے پر طرح طرح کے الزام لگاکر آپ کے مظاہرے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ نے دکھادیا کہ کس طرح پرامن طریقے سے مظاہرہ کرکے دنیا کی توجہ مبذول کرائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپ پر حملے کئے گئے لیکن آپ نے اس کا جواب اخلاق سے دیا، نفرت کا جواب محبت سے دیا۔جس کی پوری دنیا میں تعریف ہورہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں طلبہ پر حملہ کیا گیا لیکن ان لوگوں نے اس کا جواب پرامن طریقے سے دیا۔انہوں نے کہاکہ اس سیاہ قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران شہیدہونے والوں کی قربانی ضائع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ آپ کی یہ قربانی ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔
شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں شروع سے شامل اور انتظام میں ہاتھ بٹانے والی نصرت آراء نے بتایا کہ چننئی سے خواتین اور مردوں کا ایک گروپ شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایک بس میں بھر کر آیا ہے جس میں پچاس کے آس پاس لوگ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ قانون ملک اور سماج کو باٹنے والا ہے اور اس لئے ہم لوگ یہاں شاہین باغ خواتین کی حمایت کے لئے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ہم چننئی سے اس لئے آئے ہیں تاکہ یہ بتاسکیں گے ہم لوگ اس قانون کے خلاف ہیں اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ کندھا سے کندھا ملاکر چلنے آئے ہیں۔
شاہین باغ مظاہرہ میں پنجاب سے سکھوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی ایک گروپ موجودہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف سکھ کس بیدار ہیں اس کا اندازہ ان کی ذہنی اور جسمانی شمولیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ صرف دھرنے میں شریک نہیں ہورہے ہیں بلکہ وہاں کے انتظام و انصرا م میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کا جتھ لنگر کے ساتھ آتا ہے۔ اس وقت ایک سکھ ایڈووکیٹ ڈی ایس بندرا مستقل لنگر چلا رہے ہیں۔ سکھوں کا احساس ہے کہ حکومت اس قانون کے سلسلے میں عوام کو گمراہ کررہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گزشتہ چار دنوں کے دوران دو بار فائرنگ کا واقعہ کے باوجود پوری شدت سے احتجاج جاری ہے۔ پولیس رکاوٹیں کھڑی کرکے تلاشی کے ساتھ آنے جانے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔طلبہ کے پڑھنے کے مظاہرین نے لائبریری بھی بنائی ہے۔ آج مظاہرین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں ہولی فیملی اسپتال کے پاس ہی روک لیا۔ دونوں فریق میں گفت و شنید جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ گزشتہ رات خوریجی خواتین مظاہرہ سے متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے اور وہاں خواتین نے ایک نیا شاہین باغ بناکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔اسی طرح راجستھان کے کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کا جذبہ قابل دید ہے اوراندور سمیت پورے مدھیہ پردیش میں خواتین سڑکوں پر نکل رہی ہیں۔ یہاں پر بھی اہم لوگوں کا آنا جانا جاری ہے اور مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا تھا اور مولانا طاہر مدنی سمیت 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔اترپردیش میں سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف احتجاج اب دوبارہ منظم ہورہا ہے۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : کریٹ سومیا کو اب مسلم بچوں کی پیدائش سے بھی اعتراض

ممبئی : ممبئی مسلم بچوں کی شرح ولادت پر بھی اب بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو اعتراض ہے انہوں نے یہاں شرح پیدائشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے ۲۰۵۱ تک مسلمانوں کی آبادی اکثریتی فرقہ یعنی ہندوؤں سے بھی زیادہ ہو گی۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس پر کہا ہے کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔
گزشتہ 5 سالوں میں 336,525 ہندو بچے کی پیدائش ہو ئی ۔ 220,754 مسلمان بچوں کی ولادت ہوئی ہے گزشتہ 5 سالوں میں، ممبئی میں: 336,625 ہندو بچے پیدا ہوئے۔ 220,754 مسلمان بچے پیدا ہوئے۔ کریٹ سومیا نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ‘ڈیموگرافک بیلنس کمیٹی’ (آبادیاتی توازن کمیٹی) تشکیل دیں، تاکہ ممبئی کو “مسلم ممبئی” بننے سے روکا جا سکے ممبئی کو مسلم ممبئی بنانے کی سازش کا الزام بھی کریٹ سومیا نے اپنے ٹویٹ میں عائد کیا ہے اور مسلم بچوں کی ولادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوتے آبادی پر کنٹرول کے لیے کمیٹی تشکیل کا مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے بھی کیا ہے۔
(جنرل (عام
دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔
ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
سیاست
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کو ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر بحث کی دعوت دی

چندی گڑھ : ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے بحث (ڈیبیٹ) کے چیلنج پر طنز کرتے ہوئے انہیں ریاست میں آنے اور پارٹی کے ’یوا مورچہ‘ (یوتھ ونگ) کے صدر کے سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ بحث کے مقام کا انتظام خود کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جھوٹے الزامات لگائیں اور بدلے میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جھوٹے دعوے کرے اور پھر وہاں سے چلا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس کو انتخابی عمل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے، تو اسے اپنا موقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ”الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔“
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس ان فورمز سے رجوع کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے، اور کہا کہ محض گھر بیٹھے عوامی سطح پر الزامات لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سینی یہاں سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے سرکاری اقدامات، فصلوں کی خریداری، کانگریس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دیگر کئی امور پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پارٹی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے، اس لیے وہ ”ووٹ چوری“ کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کو ووٹروں کے نام خارج ہونے یا غلط درج ہونے کے بارے میں کوئی شکایت ہے، تو الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھانے کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ انتخابی فہرستیں عوامی سطح پر دستیاب کرائی گئی تھیں، اور مقررہ فارموں کے ذریعے اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے باوجود کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان تمام پیش رفتوں کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اب وہ ایسے دعووں سے بہکنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ”کوئی ووٹ چوری نہیں ہوا ہے۔ کانگریس آج جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو اپنی پارٹی ہی بند کر دینی چاہیے۔“
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
