Connect with us
Sunday,10-May-2026

(جنرل (عام

شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر چلنے آئی آٹھ ریاستوں سے خواتین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے آٹھ ریاستوں سے آنے والی خواتین نے کہا کہ ہم سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف آپ کی تحریک کی حمایت کرنے اور آپ کے ساتھ کاندھا سے کاندھا ملاکر چلنے آئی ہیں۔
ان آٹھ ریاستوں کی خواتین کے گروپ میں کرناٹک، کیرالہ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، مدھیہ پردیش اور پڈوچیری کی خواتین شامل تھیں، نے کہاکہ شاہین باغ کی خاتون مظاہرین نے پورے ملک کی خواتین کو اپنے حق کے تئیں، اپنے ملک اور اپنے دستور کے تئیں جگادیا ہے، ان خواتین کو سلام کرنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم ان ریاستوں میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مسلسل مظاہرہ کررہی ہیں اور اس قانون کی واپسی تک ہمارا مظاہرہ جاری رہے گا۔
شاہین باغ آنے کے مقصد کے بارے میں پوچھے جانے ان خواتین نے یو این آئی کو بتایا کہ مظاہرہ تو ہم لوگ اپنے یہاں بھی کر رہی تھیں لیکن شاہین باغ ایک علامت بن چکا ہے اور ہم لوگ شاہین باغ خواتین سے اظہار یکجہتی اور ان کے ساتھ کاندھا سے کاندھا ملاکر چلنے آئی ہیں۔انہیں یہ بتانے آئی ہیں وہ لوگ خود اکیلا نہ سمجھیں پورے ملک کی خواتین ان کے ساتھ ہے اور ان کے کاز کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس قانون سے صرف مسلمان متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ہر کمزور طبقہ متاثر ہوگا۔ اسی لئے ہر طبقہ کو اس قانون کے خلاف میدان میں آنا چاہئے۔ اس کے کانگریس کی لیڈر راگنی نائک نے بھی خطاب کیا۔
شاہین باغ مظاہرہ شروع کرانے میں اہم رول ادا کرنے والی سماجی کارکن شیاہین کوثر نے یو این آئی کے ساتھ خاص بات میں کہا کہ ہم لوگوں کو یہاں مظاہرہ کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا، ملک کے حالات، حکومت کے رویے، آئین کے خلاف سازش، دستور کی حفاظت نے ہمیں سڑکوں پر اترنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم خواتین بلاضرورت تو گھر سے بھی نہیں نکلتیں لیکن ملک کی خاطر، آئین کو بچانے کی خاطر اور فسطائی طاقتوں کے سماج کو باٹنے کی سازش کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم لوگ، تین طلاق، دفعہ 370کے خاتمے، بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ کے خلاف مسلم خواتین سڑکوں پر نہیں اتریں،حالانکہ تین طلاق مسلم عورتوں کے گھربرباد کرنے کے جیسا قانون ہے، لیکن جب معاملہ ملک کاہے، ہندوستانی آئین کی حفاظت کا ہے، سماجی ہم آہنگی کا ہے تو مسلم خواتین سڑکوں پر اتری ہیں اور اپنے حق لیکر رہیں گی۔ انہوں نے موجودہ حکومت کی مطلق العنانیت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کوئی حکومت کبھی مستقل نہیں رہتی اور اگر یہ حکومت مستقبل رہنے کا خواب دیکھ رہی ہے تو سخت مغالطہ میں ہے۔ اس کو بھی جانا ہوگا، ہندوستانی عوام جاگ چکے ہیں۔
محترمہ شاہین کوثر نے شاہین باغ میں یوم جمہوریہ کی تقریب کی مناسبت سے کہا کہ یہاں کے لاکھوں لوگوں نے شریک ہوکر یہ پیغام دے دیا ہے کہ انہیں ہندوستانی جمہوریت، آئین اور یوم جمہوریہ میں کتنا اعتماد ہے۔ یہاں کے یوم جمہوریہ کی تقریب ایک یادگار تقریب کے طور پر تاریخ میں اپنا نام درج کرائیگی۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کو بدنام کرنے کے بجائے حکومت ہوش کے ناخن لے۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ مظاہرہ کو سبوتاژ کرنے کے تعلق سے حکومت جو سوچھ رہی ہے شاہین باغ کی خواتین کبھی پورا نہیں ہونے دیں گی۔
انہوں نے مرکزی حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہاکہ یہاں خواتین بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں لیکن حکومت کا کوئی نمائندہ اس کی کھوج خبر لینے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی حادثہ پیش آجائے تو پھر کس کی ذمہ داری ہوگی۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں مظاہرہ ہورہا ہو، یا بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوں اور حکومت اپنا نمائندہ نہ بھیجے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے درمیان تال میل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ پہلے مودی امت شاہ ایک رائے قائم کرلیں، انہوں نے ملک کو مذاق کا موضوع بنادیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جس طرح یوگی اترپردیش کو تباہ کر رہا ہے اسی طرح مودی ملک کو تباہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس وقت ثابت قدم ہوکر اس کا مقابلہ نہیں کیا تو پھر یہ موقع کبھی نہیں ملے گا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس بربریت کے بعد سے 15دسمبر سے احتجاج جاری ہے اور یہاں بھی 24 گھنٹے کا دھرنا جاری ہے۔ یہاں انقلابی چائے بھی ملتی ہے جو شام سے رات سے تین چار بجے بنتی رہتی ہے۔ چائے بنانے والوں نے کہاکہ یہ ہم لوگ ایک ٹیم بناکر کر رہے ہیں اور مظاہرین میں گرمی لانے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ دہلی میں درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں نظام الدین میں خواتین کامظاہرہ شامل ہوگیا ہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہرہ کی تعداد میں ضافہ ہوتا جارہاہے اور اب یہ مظاہرہ دہلی کے بیشتر علاقوں میں پھیل چکا ہے اور یوپی کے سنبھل سے خواتین کے بڑے مظاہرے کی خبر آرہی ہے جہاں ہزاروں خواتین رات دن مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ خوریجی خواتین کا مظاہرہ ہر روز خاص ہورہا ہے اور اہم مقرر اور سماجی سروکار سے منسلک افراد یہاں تشریف لارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آج کے اہم مقررین میں جاوید ندیم صدر اقلیتی سیل،محترمہ ویدھی سنہا (سنگر)شاہد صدیقی ایڈووکیٹ حبا احمد جے این ایو نے خطاب کیا۔ محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ ان مقررین نے سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ان کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کیا۔دہلی میں اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مالویہ نگر کے حوض رانی، مصطفی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک، نور الہی،اوربیری والا باغ، نظام الدین جامع مسجدسمت ملک تقریباً سو سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے باوجود خواتین نے گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ پولیس نے یہاں کی لائٹ کاٹ دی تھی، کمبل اور کھانے کا سامان چھین کر لے گئے تھے لیکن پولیس کی ہٹلر شاہی رویہ بھی ان خواتین کا جوش و خروش کم نہ کرسکا اب یہ مظاہرہ اور بڑا ہوگیا ہے۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے۔خواتین کا یہ مظاہرہ اترپردیش کے کئی شہروں میں پھیل رہا ہے۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے اور یہاں شدت سے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہارکی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں اور بہت سے ہندو نوجوان نہ صرف اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے جس میں اہم لوگ خطاب کرنے پہنچ رہے ہیں۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شاہی عیدگاہ قریش نگر،حضرت نظام الدین،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار‘۔سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،۔مغلا خار انصارنگر نوادہ بہار،۔مدھوبنی بہار،۔سیتامڑھی بہار،۔سیوان بہار،۔گوپالگنج بہار،۔کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔سرکس پارک کلکتہ،۔قاضی نذرل باغ مغربی بنگال،۔اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،35۔روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،۔کوٹہ راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔اجمیر میں بھی خواتین کا احتجاج شروع ہوچکا ہے کوٹہ میں احتجاج جاری ہے اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے گھر باہر بھی مظاہرہ ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، لوہر دگا، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں سال 2026-27 کا بجٹ منظور ہوتے ہی ایس اے پی سسٹم کے ذریعے فوری طور پر فنڈز دستیاب ہوں گے

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کے ذریعہ پیش کردہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کو کل (8 مئی 2026) میونسپل کارپوریشن ہاؤس میں تجویز کردہ ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا۔ اس منظور شدہ بجٹ (موڈیفائیڈ بجٹ تخمینہ 2026-27) کے مطابق میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے فوری طور پر میونسپل کارپوریشن اراکین کو ترقیاتی کاموں کے لیے دیے جانے والے فنڈز کو ایس اے پی سسٹم پر دستیاب کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے سٹینڈنگ کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں معزز کارپوریٹروں کی طرف سے تجویز کردہ شہری خدمات‘ سہولیات اور مقامی ترقیاتی کاموں کو رفتار ملے گی اس فوری کارروائی پر ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے، ڈپٹی میئر سنجے گاڈی، قائد ایوان گنیش کھنکر، اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین پربھاکر شندے، شیوسینا کے گروپ لیڈر امے گھولے نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اس سال میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات جنوری 2026 میں ہوئے جس کے بعد میئر، ڈپٹی میئر اور اس کے بعد مختلف قانونی، خصوصی اور کمیٹیوں کے عہدوں کے لیے انتخاب کا عمل مکمل ہوا۔ اس دوران میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے مالی سال 2026-2027 کا بجٹ تخمینہ 25 فروری 2026 کو پیش کیا، مقررہ طریقہ کار کے مطابق بجٹ پر اسٹینڈنگ کمیٹی میں بحث ہوئی اور ضروری ترامیم کے بعد اسٹیڈنگ کمیٹی نے نظرثانی شدہ بجٹ میونسپل کارپوریشن کے اجلاس کے سامنے رکھا۔میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں 12 دن کی بحث کے بعد 30 اپریل 2026 کو بجٹ کے انکم سائیڈ کو منظور کیا گیا تھا۔ اس طرح میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں ترامیم کے ساتھ پورا بجٹ منظور کر لیا گیا ہے۔

اب تک کے باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق مالی سال کے آغاز سے قبل بجٹ کی منظوری متوقع ہے۔ تاہم اس سال بجٹ کی منظوری میں انتخابات اور اس کے بعد کے عمل کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور میونسپل کارپوریشن کے ممبران کے تجویز کردہ مقامی ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی شدہ بجٹ کو فوری طور پر نافذ کرنا انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایت دی تھی کہ ترامیم کے لیے بجٹ کو فوری طور پر ایس اے پی سسٹم پر دستیاب کرایا جائے، تاکہ متعلقہ محکمے فوری طور پر انتظامی منظوری، ٹینڈر کا عمل مکمل کر سکیں اور مقامی ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد شروع کر سکیں۔

اس کے مطابق، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی کی رہنمائی میں، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر، جوائنٹ کمشنر (فنانس) دیوی داس کشیرساگر، ڈپٹی کمشنر (میونسپل کمشنر کا دفتر) پرشانت گائیکواڑ، اور چیف اکاؤنٹنٹ (فائنانس ڈیپارٹمنٹ) پرشانت گائکواڑ کی نگرانی میں کام کرنے والے میونسپل کارپوریشن کے محکمہ خزانہ تک۔ کل رات دیر گئے، 8 مئی 2026، نے ایس اے پی سسٹم میں ترامیم کے لیے بجٹ اپ لوڈ کیا۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی اس فوری کارروائی سے ممبئی میں مختلف مقامی ترقیاتی کاموں کو تقویت ملے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹرا ندا خان کیس, امتیاز جلیل نے ناسک میں ندا سے کی ملاقات؟ وزیر سرشاٹ نے ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کیا

Published

on

ندا خان کیس میں اب نیا موڑ آیا ہے۔ وزیر سنجے شرسات نے ایم آئی ایم لیڈر امتیاز جلیل پر سنگین الزام لگایا ہے کہ جلیل نے ناسک جا کر ندا خان سے ملاقات کی تھی۔ اس نے ایم آئی ایم کارپوریٹر کو ندا کو مکان دینے کے لیے مجبور کیا۔ ‘لو جہاد، تبدیلی’ کا الزام لگاتے ہوئے وزیر سنجے شرسات نے معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ شرسات نے پورے معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے جانچ کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ شیرسات نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ندا خان کیس میں جو نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں وہ بہت حیرت انگیز ہے۔ یہ سامنے آنا چاہیے کہ ندا کو وہاں کس نے بھیجا تھا۔ ندا ممبرا کیوں نہیں گئی؟ وہ ایم آئی ایم کے رابطے میں تھیں۔ امتیاز جلیل ان سے ملنے ناسک گئے تھے۔ امتیاز جلیل نے کارپوریٹر کو گھر دینے پر مجبور کیا، سنجے شرسات نے الزام لگایا۔ یہ نظام تین مراحل پر کام کر رہا ہے۔ اسے اسلام قبول کرنا، لو جہاد کرنا، اور اسے عادی بنانا۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ندا خان نے احمد نگر میں بھی قیام کیا اس کا نگر سے کیا تعلق ہے وہ نگر میں ڈیڑھ ماہ تک مقیم تھی ایک بزرگ گھر سے باہر نکلتے تھے بقیہ گھر پر ہی مقیم رہتے تھے۔ کارپوریٹر کو گھر دینے پر مجبور کیا گیا۔ وزیر نے الزام عائد کیا کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیا جائے, کیونکہ یہ معاملہ کشمیر فائل کے تناظر میں انجام دیا گیا ہے۔ سنبھاجی نگر سے ندا کی گرفتاری سے خوف و ہراس کا ماحو ل ہے, اس لئے اس کی ایس آئی ٹی تحقیقات ہو۔ سنجے سرشاٹ نے اس متعلق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کو مکتوب بھی ارسال کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کے لوک مانیا تلک میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال اور کے ای ایم اسپتال میں جدید ترین آلات کے ساتھ وقف مختلف طبی سہولیات کا افتتاح

Published

on

ممبئی: مجھے بہت خوشی ہے کہ ممبئی کے شہریوں کو جدید ترین آلات اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف خدمات کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ان سہولیات کے ذریعے شہریوں کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ممبئی کی میئر ریتوتاوڑے نے کہا کہ اہلیان ممبئی کی متوقع زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ترین آلات کی دستیابی اہم ہے۔ ریتو تاوڑے (آج، 8 مئی 2026) سیٹھ گوردھنداس سندرداس میڈیکل کالج اور راجے ایڈورڈ میموریل ہسپتال (پریل) میں منعقدہ ایک پروگرام میں۔کے ۔ای ۔ایم اسپتال کے نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) کے ساتھ ساتھ میموگرافی مشین، سرجیکل پیتھالوجی سیمینار ہال اور فزیالوجی سیمینار ہال کا افتتاح کیا۔ تاوڑے قبل ازیں، لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل ہسپتال سے منسلک، دھاراوی کے لوک نیتے ایکناتھ راؤ گائیکواڑ اربن ہیلتھ سنٹر میں پیڈیاٹرکس، بلڈ ڈس آرڈر، کینسر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کا بھی افتتاح کیا گیا۔
پبلک ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین مسٹر ہریش بھنڈیرگے، مقامی کارپوریٹرکرن تاوڑے، مقامی کارپوریٹرارچنا شندے، ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) مسٹر شرد اُدے، ڈائرکٹر (میڈیکل ایجوکیشن اینڈ میجر ہاسپٹل) ڈاکٹر شیلیندر موہتے، ڈین ڈاکٹر پرمود انگلے، ڈین ڈاکٹر ہریش پاٹھک، وہا فاؤنڈیشن کی رومانہ حمید اور دیگر معززین موجود تھے۔
اس موقع پر میئر ریتو تاوڑے نے کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سے ممبئی والوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ مجھے فخر ہے کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن ہسپتال کے ذریعے جدید ترین اور معیاری خدمات دستیاب ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے میموگرافی پلانٹ کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جو خواتین کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ چھاتی کا کینسر خواتین کی صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ لیکن بروقت اسکریننگ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہسپتال میں میموگرافی کے آلات کی دستیابی سے خواتین کو اسکریننگ کے لیے کہیں اور نہیں جانے کی ضرورت نہیں یہ سامان خواتین میں باقاعدہ اسکریننگ کی عادت کو تقویت دےگا۔ میئرنے کہا کہ تشخیص میں تاخیر کم ہوگی اور خاندان کی صحت کی حفاظت کو مضبوط کیا جائے گا۔ نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ کو بااختیار بنانے کے مقصد سے، ایک صاف، محفوظ اور تکنیکی طور پر قابل انتہائی نگہداشت یونٹ کی خدمت آج دستیاب کرائی گئی۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے، کم وزن یا پیدائش کے بعد فوری طبی امداد کی ضرورت والے نوزائیدہ بچے اس شعبہ سے علاج کروا سکیں گے۔ یہ سہولت نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کو مزید موثر بنائے گی اور انفیکشن کنٹرول کو ممکن بنائے گی، میئر شریمتی۔ ریتو تاوڑے نے بھی ذکر کیا۔
‘ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے’ (8 مئی) کے موقع پر پیڈیاٹرکس، بلڈ ڈس آرڈر، کینسر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کا افتتاح میئر محترمہ نے کیا۔ ریتو تاوڑے نے آج (8 مئی 2026) لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل ہسپتال، لوک نیتے ایکناتھ راؤ گائیکواڑ اربن ہیلتھ سینٹر (دھاروی) میں۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور ’ویہا فاؤنڈیشن‘ کی مشترکہ کوششوں سے سنگین بیماری میں مبتلا ضرورت مند مریضوں کو خدمات فراہم کی گئی ہیں۔ اس سنٹر کے ذریعے ہسپتال کے 6 بستر، ڈے کیئر کیموتھراپی روم، داخل مریضوں کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سہولت خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے دستیاب کرائی گئی ہے۔ قابل فخر میئر محترمہ ریتو تاوڑے نے کہا کہ لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل ہسپتال کو بون میرو ٹرانسپلانٹ علاج فراہم کرنے والا پہلا ہسپتال ہونے پر فخر ہے۔ تھیلیسیمیا ڈے کے موقع پر لوک مانیا تلک میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال اور میڈیکل کالج کے ملازمین اور افسران کے لیے اس اسپتال کے بائیو کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کے ذریعے تھیلیسیمیا اسکریننگ کی پہل شروع کی گئی۔ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سماج کے معاشی طور پر کمزور طبقات بھی ان سہولیات سے مستفید ہوں گے۔ پبلک ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش بھنڈیرگے نے کہا کہ ممبئی والوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے یہ ایک بہت اہم قدم ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان