Connect with us
Thursday,10-September-2026

(جنرل (عام

کشمیری پنڈتوں کی شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی

Published

on

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں نے کہاکہ آپ کے درد کو دیکھ ہمیں اپنا درد یاد آگیا اور آپ کے درد میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ یہ کشمیری پنڈت ایک افواہ’جشن شاہین‘کی وجہ سے آئے تھے لیکن جیسے ہی یہاں کا نظارہ دیکھا ان کا ارادہ بدل اور نظریہ بدل گیا۔
انہوں نے کہاکہ آج ہی کے دن (19جنوری 1990)میں کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکالا گیا تھا۔ آج تک کسی حکومت نے ہمارے مسئلہ کو حل نہیں کیا ہے ہم لوگ جس تکلیف سے گزر رہے ہیں وہی تکلیف میں آپ کو دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم لوگ آپ کے غم میں شریک اور آپ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں وہاں اجڑے ہوئے 30برس ہوگئے لیکن آج تک ہمیں کسی حکومت نے وہاں بسانے کی کوشش نہیں کی۔
شاہین باغ میں اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پنجاب سے سکھوں کا دستہ جس میں پنجاب کے سابق کابینی وزراء ڈپٹی اسپیکر، سابق رکن پارلیمنٹ اور سماج کے دیگر شعبہ سے اہم لوگ شامل تھے آکر شاہین باغ خواتین کی نہ صرف حمایت کی بلکہ مکمل ساتھ دینے اور کاندھا سے کاندھا ملاکر کھڑا ہونے کا یقین دلایا۔ اتوار ہونے کی وجہ سے شاہین باغ میں بھیڑ کافی تھی۔کئی فنکاروں، سماجی کارکنوں نے اس میں حًصہ لیا۔جامعہ نگر سے کئی جلوس، جس میں کینڈل مارچ بھی شامل تھا، آکر شاہین باغ میں شامل ہوئے۔
شاہین باغ مظاہرین کی حمایت کرنے کے لئے پوری دہلی سے سماج کے ہر طبقے کے لوگ آرہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات آکر اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ شاہین باغ خواتین مظاہرہ گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ اقدار و تہذیب کا سنگم نظر آتا ہے۔ کیا، ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ، کیا عیسائی سب لوگوں کی موجودگی نظر آتی ہے اور سبھی طبقے کے لوگ یہاں اپنا تعاون پیش کرتے نظر آرہے ہیں، سڑکوں پر پینٹنگ، تختی بنانے، رخساروں پر ترنگا بنانے، مختلف نعرے لکھنے میں سب لوگ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں۔ یہاں انڈیا گیٹ بھی ہیں اور ہندوستان کا نقشہ بھی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین جنگ آزادی کا منظر پیش کر ر ہے ہیں،ایک طرف قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تقریریں ہورہی ہوتی ہیں تو دوسرے اس کے آس پاس ذاکر حسین لائبریری کے سامنے روڈپر قومی یکجہتی کا نظارہ ہوتا ہے۔ ہندو،سکھ، مسلم، عیسائی کے علامت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہیں میٹرو کے مختلف کھمبے کے سامنے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے کالج کے گروپ، بچوں کے گروپ نظر آتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اہم شخصیات، سماجی کارکنوں اور سیاسی و تعلیمی شخصیات کا آنا جاری ہے اور وہ لوگ یہاں آکر نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہیں بلکہ فسطائی طاقتوں کے خلاف لڑنے کی اپیل کرتے ہیں۔
شاہین باغ کے بعد خاتون مظاہرین کی تعداد سب سے بڑی تعداد خوریجی میں ہے۔ سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ شاہین باغ کی طرف سے شروع کیا گیا مظاہرہ اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل رات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے سابق سکریٹری نبیل عثمانی اور اسٹوڈینٹ لیڈر یاسین غازی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس کالا قانون کے خلاف آپ لوگ گھروں سے نکلی ہے۔ انہوں نے حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ اس قانون کے ذریعہ حکومت نے سماج کو بانٹنے کا کام کیا ہے اس کے خلاف باہر نکل آپ نے ثابت کردیا ہے کہ حکومت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔
محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ آج رات خوریج میں اہم خطاب کرنے والوں میں مشہور مصنف، سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی ایشن (اینڈوا) کی صہبا‘ جے این یو اسٹوڈینٹس یونین کی سابق صدر سوچیتا دیو، محمد ابو ذر چودھری،ہائی منچ کے رویش عالم وغیرہ شامل ہیں۔
اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد،، ترکمان گیٹ،کھجوری، مصفطی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک، اورجامع مسجدسمت ملک تقریباً پچاس سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں۔یہاں کی خواتین کی جانفشانی کا یہ عالم ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی کے عالم بغیر کمبل اور روشنی کے مظاہرہ کررہی ہیں۔پولیس نے یہاں کی لائٹ کاٹ دی تھی، کمبل اور کھانے کا سامان چھین کر لے گئے تھے لیکن پولیس کی ہٹلر شاہی رویہ بھی ان خواتین کا جوش و خروش کم نہ کرسکا۔ پولیس نے یہاں ٹینٹ لگانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ خواتین موبائل کی روشنی سے احتجاج کی روشنی پوری دنیا میں پہنچارہی ہیں۔
اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے اور عام لوگ ضرورت چیزیں خواتین کو پہنچاتے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اندھیری : کمپنی کے ڈرائیور نے انکم ٹیکس چھاپہ کی سازش کی تیار، ایک کروڑ روپے ہفتہ طلب کر افسر ظاہر کرنے والے گینگ کے تمام ۱۰ ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : پولس نے فلمی انداز میں انکم ٹیکس کا چھاپہ مار کر ہفتہ طلب کرنے والے فرضی افسر و گروہ کو بےنقاب کیا جو اسپشل ۲۶ فلم کے طرز پر ممبئی کے اندھیری میں انکم ٹیکس کا چھاپہ مار کر مالک وملازمین کو یرغمال بنا کر ان کے موبائل بھی چھین لئے تھےاور اسٹاف کو یرغمال بنایا تھا۔ انکم ٹیکس اور کرائم برانچ کے افسر بتاکر جعلی چھاپہ مار کر 1 کروڑ روپے کا ہفتہ طلب کرنے والی گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کے ساتھ مفرور ملزمین کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مذکورہ مقدمے کی مختصر تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ راجکمار کنڈاسامی، عمر 49 سال کے پاس پہلے ڈرائیور کے طور پر ملازم شخص سنتوش ادئے کھوپٹکر اور شکایت کنندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اس وجہ سے شکایت کنندہ نے 06 مہینے کی تنخواہ نہ دیتے ہوئے سنتوش کھوپٹکر کو نوکری سے نکال دیا۔ اس بات سے ناراض سنتوش ادئے کھوپٹکر نے اس کے پاس موجود شکایت کنندہ کے متعلق معلومات کا استعمال کرکے اس کے شناسائی 06 مرد اور 3 خواتین کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش رچ کر انکم ٹیکس اور کرائم برانچ محکمہ کے سرکاری افسر و ملازم ہونے کا جھوٹا دعوی کرکے شکایت کنندہ کی ملکیت کے آفس میں زبردستی غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔ نیز جعلی سرکاری شناختی کارڈ دکھا کر شکایت کنندہ اور اس کی بیوی کا اغوا کرکے نیز شکایت کنندہ اور اس کی بیوی اور دفتر کے دیگر 10 ملازمین کے موبائل چھین کر انہیں دفتر کے باہر جانے سے غیر قانونی طور پر روک کر انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دے کر گالی گلوچ کی۔ نیز کارروائی ٹالنے کے لیے 1 کروڑ روپے کا ہفتہ طلب کیااس لیے شکایت کنندہ نے مذکورہ نامعلوم اشخاص کے خلاف قانونی شکایت دینے پر ان کا تفصیلی بیان نوٹ کرکے 892/2026 دفعہ 61(2), 204, 205, 233, 140(2), 127(1), 351(2), 308(4) بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔مذکورہ مقدمے کے سلسلے میں ملزمان کو تکنیکی جانچ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار کیے گئے ملزمین میں 1) سنتوش ادئے کھوپٹکر عمر 37 سال، 2) ونئے رمیش مورے عمر 37 سال، 3) پریم کسن سبنانی عمر 50 سال، 4) پرگیہ ہریش مائن عمر 27 سال، 5) ریشمہ شامراؤ وارنگ عمر 41 سال، 6) شبنیہ حفیظ شیخ عمر 48 سال, مذکورہ گرفتار ملزمان سے کی گئی پوچھ تاچھ میں مذکورہ ملزمین میں سے ملزم نمبر 7 اور 8 یہ انکم ٹیکس محکمہ میں بالترتیب انکم ٹیکس انسپکٹر اور ٹیکس اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کر رہے ہیں اور مذکورہ ملزم یہ مذکورہ ملزم نمبر 02 سے 06 اور ملزم نمبر 09 اور 10 کے ساتھ شکایت کنندہ کے آفس میں جاکر مذکورہ مجرمانہ سازش میں شامل ہونے کی معلومات حاصل ہونے پر مذکورہ ملزمین کی تلاش لے کر انہیں موجودہ مقدمے میں تاریخ ۱۰ ستمبر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمین میں7) سریش مہاویر پرساد مشرا عمر 57 سال (انکم ٹیکس انسپکٹر)، 8) سنیل منوہر گورے عمر 59 سال (ٹیکس اسسٹنٹ)، 9) جتو عرف جتیندر نامدیو مورے عمر 52 سال 10) اشوک وٹھوبا شندے عمر 57 سال شامل ہے، یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے اور ملزمین کو گرفتار کر کے اس گینگ کو بے نقاب کیا ہے۔ ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے بتایا کہ اس سے قبل بھی معاملہ میں ۶ ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا, لیکن اس میں انکم ٹیکس انسپکٹر اور اسسٹنٹ کی بھی شمولیت تھی جس کے بعد آج مزید مفرور ملزمین کو بھی گرفتار کر کے اس پورے گینگ پر ہی کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی جرائم پیشہ موبائل چور گرفتار ، تین چوری کا معمہ حل

Published

on

ممبئی ؛ ممبئی پولس نے جرائم پیشہ ملزم کو گرفتار کرکے موبائل چوری کے 03 مقدمات کا انکشاف کے بعد اس سے کل 1,48,000/- روپے قیمت کے 09 موبائل برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔ پارک سائیٹ پولیس اسٹیشن میں تاریخ ۸ ستمبر کو شکایت کنندہ کی دی گئی شکایت پر دفعہ 305(a) بی این ایس 2023 کے تحت گھر میں داخل ہو کر موبائل چوری کرنے کے متعلق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے مذکورہ مقدمہ درج کرکے جانچ شروع کی تھی۔ممبئی پولس کے نتین جھاڈے اور ٹیم نے مقدمے کی جائے وقوعہ اور اس کے احاطے کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی معلومات کی بنیاد پر مقدمے میں مطلوبہ ملزم کا سراغ لگا کر 05 گھنٹے میں پولیس ریکارڈ پر موجود ملزم فیروز محمد شکیل شیخ عرف چوہا عمر 25 سال، رہنے والا امبیکا نگر چال، اجوا ہوٹل کے پیچھے، اپر ڈپو پاڑہ، پارک سائیٹ، وکرولی (مغرب)، ممبئی 79 کو گرفتار کرکےدفعہ 305(a) بی این ایس جرم نمبر ۲ 879/2026 دفعہ 305(a) بی این ایس 3) جرم نمبر 880/2026 دفعہ 305(a) بی این ایس کے 03 مقدمات کا انکشاف ہوا۔ اسی طرح مذکورہ ملزم سے مہارت سے پوچھ تاچھ کرکے روپے 1,48,000/- قیمت کے 09 موبائل برآمد کیے گئے۔

*گرفتار ملزم فیروز محمد شکیل شیخ عرف چوہا، عمر 25 سال، کے پر پارک سائیٹ، گھاٹکوپر، پنت نگر اور نرمل نگر پولیس اسٹیشن میں چوری، ڈکیتی، غیر قانونی ہتھیار رکھنے ایسے کل 20 مقدمات پہلے درج ہیں۔مذکورہ کارروائی دیوین بھارتی، پولیس کمشنر پولیس کمشنر، ممبئی، منوج شرما، پولیس جوائنٹ کمشنر (لا اینڈ آرڈر)، دھننجےکلکرنی، ایڈیشنل پولیس کمشنرمشرقی علاقائی ڈیپارٹمنٹ، چیمبور، ممبئی، جناب ابھے سنگھ دیشمکھ، پولیس ڈپٹی کمشنر، مشرقی کی رہنمائی میں انچارج سینئر پولیس انسپکٹر، پارک سائیٹ پولیس اسٹیشن، ممبئی،اشوک لانگے، اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر نتین جھاڈے، پولیس سب انسپکٹر اکشے واگھ، پولیس حوالدار وشال گوآرے، پولیس حوالدار راہل نوالے، پولیس سپاہی منوج سرواڈے، پولیس سپاہی روہیداس بھوسارے، پولیس سپاہی دیپک تاڈے نے مذکورہ کارروائی کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گھاٹکوپر نیو لائف اسپتال کے ڈاکٹر دیپک بید کے خلاف اسسٹنٹ نرس کے ساتھ چھیڑخانی کا مقدمہ درج

Published

on

FIR

ممبئی گھاٹکوپر پولس نے دیپک بیدکے خلاف اسسٹنٹ نرس سے دست درازی اور جنسی استحصال کا کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ گھاٹکوپر پولس نے ڈاکٹر کے خلاف ۲ ستمبر کو کیس درج کر لیا ہے متاثرہ ۱۹ سالہ اسسٹنٹ نرس جو گھاٹکوپر نیو لائف اسپتال میں زیر ملازمت تھی اس کی صبح کی شفت تھی اس دوران وہ استقبالیہ پر بیٹھی تھی تو دوپہر ساڑھے تین بجے اسے ایک عملہ نے یہ کہہ کر بلایا ہے کہ انہیں اسپتال کے ڈاکٹر بید نے طلب کیا ہے, جس پر جب وہ ڈاکٹر کی کیبن میں داخل ہوئی تھی وہاں خالہ نے ڈاکٹر کا ڈبہ رکھا اور پھر وہ وہاں سے رخصت ہو گئی پھر ڈاکٹر نے دروازے کو اندر سے بند کر کے متاثرہ کے ساتھ نازیبا حرکتیں شروع کر دی, جس سے متاثرہ کو پریشانی ہوئی اور اس نے اس معاملہ میں گھاٹکوپر پولس اسٹیشن میں بیان درج کروایا اور پھر پولس نے متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر ملزم ڈاکٹر کے خلاف ۷۴ اور ۷۹ بی این ایس کی دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان