Connect with us
Wednesday,10-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

کشمیری پنڈتوں کی شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی

Published

on

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں نے کہاکہ آپ کے درد کو دیکھ ہمیں اپنا درد یاد آگیا اور آپ کے درد میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ یہ کشمیری پنڈت ایک افواہ’جشن شاہین‘کی وجہ سے آئے تھے لیکن جیسے ہی یہاں کا نظارہ دیکھا ان کا ارادہ بدل اور نظریہ بدل گیا۔
انہوں نے کہاکہ آج ہی کے دن (19جنوری 1990)میں کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکالا گیا تھا۔ آج تک کسی حکومت نے ہمارے مسئلہ کو حل نہیں کیا ہے ہم لوگ جس تکلیف سے گزر رہے ہیں وہی تکلیف میں آپ کو دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم لوگ آپ کے غم میں شریک اور آپ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں وہاں اجڑے ہوئے 30برس ہوگئے لیکن آج تک ہمیں کسی حکومت نے وہاں بسانے کی کوشش نہیں کی۔
شاہین باغ میں اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پنجاب سے سکھوں کا دستہ جس میں پنجاب کے سابق کابینی وزراء ڈپٹی اسپیکر، سابق رکن پارلیمنٹ اور سماج کے دیگر شعبہ سے اہم لوگ شامل تھے آکر شاہین باغ خواتین کی نہ صرف حمایت کی بلکہ مکمل ساتھ دینے اور کاندھا سے کاندھا ملاکر کھڑا ہونے کا یقین دلایا۔ اتوار ہونے کی وجہ سے شاہین باغ میں بھیڑ کافی تھی۔کئی فنکاروں، سماجی کارکنوں نے اس میں حًصہ لیا۔جامعہ نگر سے کئی جلوس، جس میں کینڈل مارچ بھی شامل تھا، آکر شاہین باغ میں شامل ہوئے۔
شاہین باغ مظاہرین کی حمایت کرنے کے لئے پوری دہلی سے سماج کے ہر طبقے کے لوگ آرہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات آکر اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ شاہین باغ خواتین مظاہرہ گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ اقدار و تہذیب کا سنگم نظر آتا ہے۔ کیا، ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ، کیا عیسائی سب لوگوں کی موجودگی نظر آتی ہے اور سبھی طبقے کے لوگ یہاں اپنا تعاون پیش کرتے نظر آرہے ہیں، سڑکوں پر پینٹنگ، تختی بنانے، رخساروں پر ترنگا بنانے، مختلف نعرے لکھنے میں سب لوگ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں۔ یہاں انڈیا گیٹ بھی ہیں اور ہندوستان کا نقشہ بھی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین جنگ آزادی کا منظر پیش کر ر ہے ہیں،ایک طرف قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تقریریں ہورہی ہوتی ہیں تو دوسرے اس کے آس پاس ذاکر حسین لائبریری کے سامنے روڈپر قومی یکجہتی کا نظارہ ہوتا ہے۔ ہندو،سکھ، مسلم، عیسائی کے علامت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہیں میٹرو کے مختلف کھمبے کے سامنے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے کالج کے گروپ، بچوں کے گروپ نظر آتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اہم شخصیات، سماجی کارکنوں اور سیاسی و تعلیمی شخصیات کا آنا جاری ہے اور وہ لوگ یہاں آکر نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہیں بلکہ فسطائی طاقتوں کے خلاف لڑنے کی اپیل کرتے ہیں۔
شاہین باغ کے بعد خاتون مظاہرین کی تعداد سب سے بڑی تعداد خوریجی میں ہے۔ سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ شاہین باغ کی طرف سے شروع کیا گیا مظاہرہ اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل رات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے سابق سکریٹری نبیل عثمانی اور اسٹوڈینٹ لیڈر یاسین غازی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس کالا قانون کے خلاف آپ لوگ گھروں سے نکلی ہے۔ انہوں نے حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ اس قانون کے ذریعہ حکومت نے سماج کو بانٹنے کا کام کیا ہے اس کے خلاف باہر نکل آپ نے ثابت کردیا ہے کہ حکومت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔
محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ آج رات خوریج میں اہم خطاب کرنے والوں میں مشہور مصنف، سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی ایشن (اینڈوا) کی صہبا‘ جے این یو اسٹوڈینٹس یونین کی سابق صدر سوچیتا دیو، محمد ابو ذر چودھری،ہائی منچ کے رویش عالم وغیرہ شامل ہیں۔
اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد،، ترکمان گیٹ،کھجوری، مصفطی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک، اورجامع مسجدسمت ملک تقریباً پچاس سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں۔یہاں کی خواتین کی جانفشانی کا یہ عالم ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی کے عالم بغیر کمبل اور روشنی کے مظاہرہ کررہی ہیں۔پولیس نے یہاں کی لائٹ کاٹ دی تھی، کمبل اور کھانے کا سامان چھین کر لے گئے تھے لیکن پولیس کی ہٹلر شاہی رویہ بھی ان خواتین کا جوش و خروش کم نہ کرسکا۔ پولیس نے یہاں ٹینٹ لگانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ خواتین موبائل کی روشنی سے احتجاج کی روشنی پوری دنیا میں پہنچارہی ہیں۔
اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے اور عام لوگ ضرورت چیزیں خواتین کو پہنچاتے ہیں۔

سیاست

وزیراعظم نریندر مودی کی کارگزاریوں کی ستائش، نائب وزیر اعلی شندے کی این ڈی اے میٹنگ میں وزیراعظم مودی کو مبارکباد

Published

on

Modi-Shinde

شیوسینا کے سربراہ اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے نئی دہلی میں منعقدہ این ڈی اے میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں ایک تہنیتی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 4398 دنوں تک ملک کی قیادت کرکے ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے اور ان کی قیادت میں ہندوستان تیزی سے سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی ملک کی خدمت کے 12 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ‘وکاسیت بھارت’ کی قرارداد کے ذریعے اگلے 21 سالوں کے لیے ملک کی ترقی کے لیے ایک واضح وژن پیش کیا ہے، جو ان کے وژن اور ملک کے لیے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔

نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیر اعظم رہنے کا ریکارڈ بنایا ہے اور سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے نہ صرف ایک ریکارڈ بنایا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گئی ہے اور ملک اقتصادی سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مودی نے دنیا کے مقبول ترین لیڈروں میں اپنی شناخت بنائی ہے اور کئی ممالک نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ شندے نے بھی وزیر اعظم مودی کی اچھی صحت، لمبی عمر اور ملک کی مسلسل خدمت کی خواہش کی۔ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مہاراشٹر اور ملک نے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کوسٹل روڈ، وادھوان بندرگاہ اور نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسے اہم پروجیکٹوں کے لیے بھاری مالی امداد دی ہے۔ شندے نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مہاراشٹر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری موصول ہوئی جس سے ریاست کی ترقی میں تیزی آئی۔ انہوں نے مراٹھی زبان کی کلاسیکی زبان کی حیثیت، جن دھن یوجنا، خواتین کو بااختیار بنانے اور غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو وزیر اعظم مودی کی اہم کامیابیاں قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، آرٹیکل 370 کو ہٹانے اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں نے وزیر اعظم مودی کی مضبوط قیادت کو ثابت کر دیا ہے۔ ثقافتی ورثے کی ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شندے نے غریبوں کی فلاح و بہبود اور قوم کی تعمیر میں ان کے تعاون کے لیے وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم مودی سے گھریلو مراسم – ایکناتھ شنڈے
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ شیوسینا این ڈی اے میں بی جے پی کی سب سے پرانی اور قابل اعتماد اتحادی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف سیاسی لیڈر بلکہ خاندان کے سربراہ کے طور پر کام کیا ہے۔ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ذاتی طور پر ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے کئی بار اپنی صحت اور آواز پر تشویش کا اظہار کیا۔ شندے نے کہا کہ جب ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے ‘آپریشن سندھور’ کے سلسلے میں بیرون ملک ہندوستانی وفد کی نمائندگی کی، تب بھی وزیر اعظم نے ان کے بارے میں گہری معلومات لی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو چھوٹےرودرانش سے خاص لگاؤ ​​ہے۔

شیو سینا نے خود کو خود غرض سیاست کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے این ڈی اے سے الگ کر لیا :
نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اقتدار اور خود غرضی کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا جسے ہندو دل کے شہنشاہ بالا صاحب ٹھاکرے نے کبھی قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شیوسینا نے کچھ وقت کے لیے خود کو این ڈی اے سے دور کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا نے بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات اور ہندوتوا کے نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے این ڈی اے میں دوبارہ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ عوام کی مرضی کے مطابق مہاراشٹر میں مخلوط حکومت قائم ہوئی اور آج شیوسینا اور این ڈی اے کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط اور اٹوٹ ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دادر میں عوامی پارکنگ لاٹس کو بااختیار بنانے کے لیے ممبئی میونسپل کارپوریشن کا خصوصی پائلٹ تجربہ، اسے ممبئی میں ہر جگہ نافذ کیا جائے گا

Published

on

Parking

ممبئی : عوامی پارکنگ لاٹوں کے استعمال کو بڑھانے اور ٹریفک کو ہموار بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے دادر ویسٹ میں جگن ناتھ ساونت مارگ پر پبلک پارکنگ لاٹ کو ‘ماڈل پارکنگ لاٹ’ کے طور پر تیار کرنے کی پہل کی ہے۔ اس پارکنگ میں صفائی مہم چلائی گئی ہے، اضافی لائٹنگ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ خواتین ڈرائیوروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کو ماہانہ پاس فیس میں 50 فیصد رعایت دی گئی ہے اور پہلے مرحلے میں 400 رعایتی پاس دئیے جائیں گے۔ اس کے بعد، ڈیمانڈ آنے کے بعد اس پر الگ سے غور کیا جائے گا۔ سڑکوں پر سرخ سیاہ پٹیاں پینٹ کی جا رہی ہیں تاکہ واضح طور پر ‘نو پارکنگ’ والے علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ نیز، یکساں تاریخوں کے مطابق پارکنگ کے انتظامات کے لیے سرخ اور سفید پٹیاں کھینچی جارہی ہیں۔ پارکنگ کی معلومات کو آسانی سے دستیاب کرنے کے لیے دشاتمک نشانیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر اس اقدام کو شہریوں کی طرف سے اچھا رسپانس ملتا ہے تو اس پائلٹ تجربہ کو شہر کے دیگر پبلک پارکنگ لاٹس پر بھی لاگو کیا جائے گا۔

ممبئی میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پس منظر میں، ممبئی میونسپل کارپوریشن پارکنگ کے انتظام کو مزید موثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کو نافذ کر رہی ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مجاز اور محفوظ پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پورے شہر میں پارکنگ کی سہولیات تیار کی ہیں۔ مختلف مقامات پر میونسپل کارپوریشن کو منتقل کیے گئے کل 37 پارکنگ لاٹس میں سے کل 30,135 گاڑیاں پارکنگ کے لیے دستیاب ہیں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں جگناتھ ساونت مارگ کی پارکنگ لاٹ میں ایک ’ماڈل پارکنگ‘ پہل کو لاگو کیا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹ) ابھیجیت بنگر نے کہا کہ موٹرسائیکلوں کی سہولت کے لیے جگناتھ ساونت مارگ پارکنگ لاٹ میں 1,000 تین پہیہ اور چار پہیہ اور 12 دو پہیہ گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا انتظام ہے۔ کوتوال گارڈن کے سامنے کا علاقہ، کبوترخانہ، گنیش پیٹھ گلی اور ٹی آر ساونت مارگ سے بال گووند داس مارگ تک کے علاقے کو پہلے ہی ‘نو پارکنگ’ ایریا قرار دیا جا چکا ہے۔ فی الحال، اس علاقے میں 200 سے زیادہ ‘نو پارکنگ’ کے بورڈ لگائے گئے ہیں اور مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ ‘ماڈل پارکنگ’ اقدام کے تحت، سڑکوں پر کرب پتھروں کو گہرے سرخ اور سیاہ پٹیوں سے پینٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ‘نو پارکنگ’ والے علاقوں کو زیادہ واضح طور پر ظاہر کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں طاق اور جفت تاریخوں کے مطابق پارکنگ کے لیے سرخ اور سفید پٹیوں کی پینٹنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پارکنگ کی جگہوں کی دستیابی کی نشاندہی کرنے والے دشاتمک نشانوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

پارکنگ کو مزید پرکشش اور محفوظ بنانے کے لیے صفائی مہم چلائی گئی ہے۔ اضافی ٹیوب لائٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں کو پارکنگ لاٹ استعمال کرنے کی ترغیب کے طور پر ماہانہ پاسز پر 50 فیصد رعایت دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اس طرح کی چھوٹ کے ساتھ کل 400 پاس دستیاب ہیں۔ اس کے بعد ڈیمانڈ آنے کے بعد الگ سے غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مسٹر بنگر نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن والیٹ پارکنگ کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) بنگر نے مزید کہا کہ ان تمام اقدامات کے ایک حصے کے طور پر، شہریوں کو نوٹ کرنا چاہیے کہ 1 جولائی 2026 سے ٹریفک پولیس کی جانب سے احتیاطی اور تعزیری کارروائی کی جائے گی، اگر گاڑیاں ‘نو پارکنگ’ ایریا یا جگن ناتھ ساونت مارگ کے آس پاس کے دیگر مقامات پر کھڑی پائی جاتی ہیں۔ اگر اس اقدام کو مقامی شہریوں کی طرف سے مثبت جواب ملتا ہے تو میونسپل کارپوریشن کو ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات کو نافذ کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ نیز، بنگر نے امید ظاہر کی کہ اس سے ٹریفک کی بھیڑ کے مسئلے میں کچھ راحت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بی ایم سی سمیت وزیر اعلی کا دفتر اڑانے کی دھمکی… ‘میں دھمکیوں سے نہیں ڈرتی یہ سازشی عمل کا حصہ’ : مئیر ریتو تاوڑے

Published

on

Mayor Ritu Tawde

ممبئی : ممبئی کی میئر کو ان کی کار اور دفتر کو پر بم سے اڑانے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد سنسنی پھیل گئی اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ ای میل میں سی ایم آفس، میئر آفس اور بی ایس ای آفس کا بھی ذکر تھا۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور دھمکی موصول ہونے کے بعد شناخت کے لیے پولس نے تفتیش شروع کردی ہے۔ دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے پر مئیر ریتو تاوڑے نے کہا کہ ممبئی آج (10 جون، 2026) صبح تقریباً نو بیس (9:20) پر، مجھے ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی۔ اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن کے ایمرجنسی مینجمنٹ سیل اور پھر پولیس انتظامیہ نے فوری طور پر مطلع کیا تاہم عوام کے کاموں اور اہم اجلاس میں تاخیر نہ ہونے کے لیے جو پہلے سے طے شدہ تھے، میں نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق میونسپل ہیڈ کوارٹر میں میٹنگز میں شرکت کی ایسے سنگین اور حساس معاملات میں پولیس انتظامیہ اور میونسپل ایڈمنسٹریشن سے فوری اور مناسب قانونی کارروائی کی توقع کی جاتی ہے اور اسی ضمن میں کارروائی جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انتظامیہ اپنی سطح پر میری گاڑی، دفتر اور ذاتی سیکورٹی کے حوالے سے مناسب قانونی اور تکنیکی کارروائی کرے گی۔

ذاتی طور پر میں ایسی کسی دھمکی سے نہیں ڈرتی اس سے قبل، بنگلہ دیشی ہاکروں اور دیگر غیر مجاز مقدمات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کچھ عناصر نے مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی, لیکن میں ایسے دباؤ کے سامنے کبھی نہیں جھکی اور نہ آئندہ جھکوں گا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ نہ صرف ممبئی بلکہ ریاست کے کچھ دوسرے شہروں کے میئروں کو بھی ایسی ہی دھمکیاں ملی ہیں۔ اس میں سازشی عمل سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم، مجھے ریاست کے محکمہ داخلہ پر پورا بھروسہ ہے، وہ اس پورے معاملے کا پردہ فاش کریں گے اور مناسب سخت کارروائی کریں گے۔ انتظامیہ اور پولیس کا نظام اپنا کام کر رہا ہے اور میں عوامی خدمت کا عزم جاری رکھوں گا۔ اس طرح کے خطرات سے ممبئی کی ترقی اور سلامتی کی رفتار کم نہیں ہوگی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان