Connect with us
Monday,06-April-2026

(جنرل (عام

کشمیری پنڈتوں کی شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی

Published

on

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں نے کہاکہ آپ کے درد کو دیکھ ہمیں اپنا درد یاد آگیا اور آپ کے درد میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ یہ کشمیری پنڈت ایک افواہ’جشن شاہین‘کی وجہ سے آئے تھے لیکن جیسے ہی یہاں کا نظارہ دیکھا ان کا ارادہ بدل اور نظریہ بدل گیا۔
انہوں نے کہاکہ آج ہی کے دن (19جنوری 1990)میں کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکالا گیا تھا۔ آج تک کسی حکومت نے ہمارے مسئلہ کو حل نہیں کیا ہے ہم لوگ جس تکلیف سے گزر رہے ہیں وہی تکلیف میں آپ کو دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم لوگ آپ کے غم میں شریک اور آپ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں وہاں اجڑے ہوئے 30برس ہوگئے لیکن آج تک ہمیں کسی حکومت نے وہاں بسانے کی کوشش نہیں کی۔
شاہین باغ میں اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پنجاب سے سکھوں کا دستہ جس میں پنجاب کے سابق کابینی وزراء ڈپٹی اسپیکر، سابق رکن پارلیمنٹ اور سماج کے دیگر شعبہ سے اہم لوگ شامل تھے آکر شاہین باغ خواتین کی نہ صرف حمایت کی بلکہ مکمل ساتھ دینے اور کاندھا سے کاندھا ملاکر کھڑا ہونے کا یقین دلایا۔ اتوار ہونے کی وجہ سے شاہین باغ میں بھیڑ کافی تھی۔کئی فنکاروں، سماجی کارکنوں نے اس میں حًصہ لیا۔جامعہ نگر سے کئی جلوس، جس میں کینڈل مارچ بھی شامل تھا، آکر شاہین باغ میں شامل ہوئے۔
شاہین باغ مظاہرین کی حمایت کرنے کے لئے پوری دہلی سے سماج کے ہر طبقے کے لوگ آرہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات آکر اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ شاہین باغ خواتین مظاہرہ گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ اقدار و تہذیب کا سنگم نظر آتا ہے۔ کیا، ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ، کیا عیسائی سب لوگوں کی موجودگی نظر آتی ہے اور سبھی طبقے کے لوگ یہاں اپنا تعاون پیش کرتے نظر آرہے ہیں، سڑکوں پر پینٹنگ، تختی بنانے، رخساروں پر ترنگا بنانے، مختلف نعرے لکھنے میں سب لوگ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں۔ یہاں انڈیا گیٹ بھی ہیں اور ہندوستان کا نقشہ بھی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین جنگ آزادی کا منظر پیش کر ر ہے ہیں،ایک طرف قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تقریریں ہورہی ہوتی ہیں تو دوسرے اس کے آس پاس ذاکر حسین لائبریری کے سامنے روڈپر قومی یکجہتی کا نظارہ ہوتا ہے۔ ہندو،سکھ، مسلم، عیسائی کے علامت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہیں میٹرو کے مختلف کھمبے کے سامنے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے کالج کے گروپ، بچوں کے گروپ نظر آتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اہم شخصیات، سماجی کارکنوں اور سیاسی و تعلیمی شخصیات کا آنا جاری ہے اور وہ لوگ یہاں آکر نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہیں بلکہ فسطائی طاقتوں کے خلاف لڑنے کی اپیل کرتے ہیں۔
شاہین باغ کے بعد خاتون مظاہرین کی تعداد سب سے بڑی تعداد خوریجی میں ہے۔ سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ شاہین باغ کی طرف سے شروع کیا گیا مظاہرہ اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل رات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے سابق سکریٹری نبیل عثمانی اور اسٹوڈینٹ لیڈر یاسین غازی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس کالا قانون کے خلاف آپ لوگ گھروں سے نکلی ہے۔ انہوں نے حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ اس قانون کے ذریعہ حکومت نے سماج کو بانٹنے کا کام کیا ہے اس کے خلاف باہر نکل آپ نے ثابت کردیا ہے کہ حکومت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔
محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ آج رات خوریج میں اہم خطاب کرنے والوں میں مشہور مصنف، سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی ایشن (اینڈوا) کی صہبا‘ جے این یو اسٹوڈینٹس یونین کی سابق صدر سوچیتا دیو، محمد ابو ذر چودھری،ہائی منچ کے رویش عالم وغیرہ شامل ہیں۔
اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد،، ترکمان گیٹ،کھجوری، مصفطی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک، اورجامع مسجدسمت ملک تقریباً پچاس سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں۔یہاں کی خواتین کی جانفشانی کا یہ عالم ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی کے عالم بغیر کمبل اور روشنی کے مظاہرہ کررہی ہیں۔پولیس نے یہاں کی لائٹ کاٹ دی تھی، کمبل اور کھانے کا سامان چھین کر لے گئے تھے لیکن پولیس کی ہٹلر شاہی رویہ بھی ان خواتین کا جوش و خروش کم نہ کرسکا۔ پولیس نے یہاں ٹینٹ لگانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ خواتین موبائل کی روشنی سے احتجاج کی روشنی پوری دنیا میں پہنچارہی ہیں۔
اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے اور عام لوگ ضرورت چیزیں خواتین کو پہنچاتے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کرلا سے حماد صدیقی کی گرفتار پر والد جلال الدین صدیقی کی التجا, میرا بیٹا بے قصور ہے اس پر ایجنسیاں رحم کرے

Published

on

Arrest

ممبئی: دلی کو دہلانے کی سازش کے الزام میں گرفتار حماد کے والد جلال الدین صدیقی نے تمام الزامات کو بے بیناد قرار دیتے ہوئے اسے بے قصور قرار دیا اور کہا کہ حماد موبائل فون پر فعال ضرور تھا لیکن وہ اس قسم کی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوسکتا وہ فون پر گیمگ ایپ پر فعال تھا۔ ۱۸ سالہ حماد کرلا اسٹیشن کے قریب ایک قدیم عمارت میں اپنے والدین اور بھائیوں کے ہمراہ مقیم تھا ۔ جلال الدین صدیقی نے اس سے لاعلمی ظاہر کی ہے کہ ان کا بیٹا کس کے رابطے میں تھا اور وہ سوشل میڈیا پر کس گروپ کے رابطے میں تھے وہ اس سے واقف نہیں ہے فون پر رابطہ رکھتا تھا لیکن وہ بے قصور ہے دبلے پتلا کمزور لاغر بچہ میرا ہر برائی سے دور رہتا تھا موبائل سے ہی وہ برائی کی جانب مائل ہوسکتا ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہے تو اس کا معاف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حماد نے کبھی بھی پولس اسٹیشن تک نہیں دیکھا والد نے زار و قطار روتے ہوئے کہا کہ میرے بچے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور پولس و ایجنسیاں میرے بچے پر رحم کرے انہوں نے کہا کہ مجھے عدالت پر بھروسہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو پھنسایا جارہا ہے میرے بیٹا ممبئی تک تنہا سفر نہیں کرسکتا ہے تو پھر وہ دلی یا دیگر صوبہ کیسے جاسکتا ہے اس کی گرفتاری کی خبر نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہے میں یومیہ کام کر تا ہوں اور اتنا پیسہ بھی میسر نہیں تھا کہ اپنے فرزند کی کالج کی فیس اداکرتا اس لئے وہ پرائیوٹ امتحان دینے کی کوشش کررہا تھا میرے بچہ پڑھائی میں اچھا تھا اور وہ پڑھ لکھ کر ملک کی خدمت کرنے کیلئے وکیل جج بننے کے متمنی تھا لیکن بدقسمتی سے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کرلا سے حماد کی گرفتاری سے سنسنی پھیل گئی ہے سوشل میڈیا پر رابطہ میں رہ کر حماد جہادی چیٹ اور گروپ میں شریک تھا یہ الزام اے ٹی ایس اور دلی اسپیشل سیل نے عائد کیا ہے جبکہ ان تمام الزامات سے والد نے انکار کیا ہے فی الوقت این آئی اے کے کھلونا بم دھماکہ کیس میں حماد ریمانڈ پر ہے اور اس معاملہ میں کلیان سے مشید احمد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی میں گیس سلنڈر چوری کرنے والا چور گرفتار، پوائی پولس کی بڑی کارروائی، نئی ممبئی اور ممبئی سے ۴۵ سلنڈر اور تین موٹر سائیکلیں برآمد

Published

on

Cilender-&-Bike

ممبئی : اسرائیل ایران جنگ سے تیل کی قلت اور گیس سلنڈر کا فقدان کا فائدہ اٹھانے کے لیے سلنڈر چوری کرنے والے ایک چور پوائی پولس نے گرفتار کر کے اس کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس چور نے کئی سلنڈر نئی ممبئی اور ممبئی سے چوری کئے تھے۔ ممبئی پوائی پولس نے ایک ایسے گیس سلنڈر چور کو گرفتار کیا ہے, جس نے نئی ممبئی اور ممبئی شہر سے ۴۵ سلنڈر چوری کئے تھے تفصیلات کے مطابق پوائی علاقہ سے سوزوکی برگ مین چوری ہوئی تھی اور اسی برگ مین کا استعمال کر کے یہ ملزم چوری کیا کرتا تھا اس نے نئی ممبئی اور ممبئی میں متعدد مقامات پر گیس سلنڈر چوری کیے ہیں۔ اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران گیس سلنڈر کا بحران ہے ایسے میں یہ چور سلنڈر چوری کیا کرتا تھا, جس کے سبب سلنڈر کی مصنوعی قلت بھی پیدا ہونے کا اندیشہ تھا, اس لئے پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ پولس کو خفیہ اطلاع ملی اور جال بچھا کر چندر کانت کامبلے ۴۵ سالہ کو تھانہ ورتک نگر سے گرفتار کر لیا اور اس کے قبضے سے ممبئی اور نئی ممبئی سے چوری شدہ مسروقہ سلنڈر ضبط کر لئے گئے ہیں۔ اس کام میں ملزم کی چوری کے سلنڈر چھپانے میں مدد کرنے والے ایک ملزم کی شناخت ہوئی ہے۔ یہ ملزم کی جب تفتیش کی گئی تو اس پر چوری کے ۱۰ معاملات درج پائے گئے۔ پوائی پولس نے تین موٹر سائیکل، ۴۵ سلنڈر ضبط کیے ہیں یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : ساکی ناکہ میں ضعیفہ کے زیورات لوٹنے والا گروہ بے نقاب، ۳ گرفتار، ۱۳ نئے معاملات کا خلاصہ

Published

on

ممبئی : ساکی ناکہ پولس نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو بزرگوں کو اپنا ہدف بنایا کرتا تھا. ساکی ناکہ پولس اسٹیشن کی حدود میں ایک ضعیفہ کو ملزم نے یہ کہہ کر بے وقوف بنایا کہ اس کے سیٹھ مالک کے یہاں ولادت ہوئی ہے اور وہ غریبوں میں ساڑھی تقسیم کر رہے ہیں. اس لئے آپ کو بھی ساڑھی مل سکتی ہے, اس کے لیے اس نے ضعیفہ کے گلے میں موجود سونے کے زیورات اتروا لئے اور پھر یہ لے کر فرار ہو گیا. اس معاملہ میں شکایت کنندہ نے شکایت درج کروائی, اس کے دو لاکھ سے زائد کے زیورات لے کر ملزم فرار ہو گیا تھا. ساکی ناکہ پولس نے ملزم کو تلاش کرنے کے لئے ٹیم تشکیل دی اور پھر ملزم نمبر ایک سنتوش گنگا ر ام چورے ۵۵ سالہ کو کلیان سے گرفتار کیا گیا اس کے بعد اس سے تفتیش کی گئی تو اس نے ملزم نمبر دو بالا جی روہی داس پوار ۲۵ سالہ کا نام بتایا جو پربھنی کا ساکن ہے, اس کی تفتیش میں لکشمن روہی داس پوار ۲۲ سالہ سامنے آیا پولس نے تینوں کو گرفتار کر لیا اس پر ورلی میں چار، گھاٹ کوپر میں چھ، ایم آئی ڈی سی میں تین، کانجورمارگ میں تین، واکولہ میں ایک، ڈنڈو شی میں ایک، ملاڈ، گوونڈی، بھانڈوپ، کھیرواڑی اور دادر میں مقدمات درج ہیں. ملزمین پر کل ۲۶ مقدمات درج ہیں, ملزم نمبر دو بالا جی روہی داس پر دادر، گھاٹکوپر کاموٹے میں مجرمانہ ریکارڈ ہے. ملزم نمبر ۳ لکشمن روہی داس پر دادر گھاٹکوپر بائیکلہ، ایم این جوشی مارگ، ڈنڈوشی، جوہو، سری نگر پولس اسٹیشن، سانپاڑہ، ڈنڈوشی میں ۲ ساکی ناکہ میں کیس درج ہے۔ ان تینوں ملزمین کو گرفتار کرنے کے بعد ۱۳ معاملات کا انکشاف ہوا ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزمین کے قبضے سے پولس نے اب تک سونے کے زیورات ۱۵ لاکھ سے زائد برآمد کئے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان