(جنرل (عام
کشمیری پنڈتوں کی شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی
قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں نے کہاکہ آپ کے درد کو دیکھ ہمیں اپنا درد یاد آگیا اور آپ کے درد میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ یہ کشمیری پنڈت ایک افواہ’جشن شاہین‘کی وجہ سے آئے تھے لیکن جیسے ہی یہاں کا نظارہ دیکھا ان کا ارادہ بدل اور نظریہ بدل گیا۔
انہوں نے کہاکہ آج ہی کے دن (19جنوری 1990)میں کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکالا گیا تھا۔ آج تک کسی حکومت نے ہمارے مسئلہ کو حل نہیں کیا ہے ہم لوگ جس تکلیف سے گزر رہے ہیں وہی تکلیف میں آپ کو دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم لوگ آپ کے غم میں شریک اور آپ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں وہاں اجڑے ہوئے 30برس ہوگئے لیکن آج تک ہمیں کسی حکومت نے وہاں بسانے کی کوشش نہیں کی۔
شاہین باغ میں اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ پنجاب سے سکھوں کا دستہ جس میں پنجاب کے سابق کابینی وزراء ڈپٹی اسپیکر، سابق رکن پارلیمنٹ اور سماج کے دیگر شعبہ سے اہم لوگ شامل تھے آکر شاہین باغ خواتین کی نہ صرف حمایت کی بلکہ مکمل ساتھ دینے اور کاندھا سے کاندھا ملاکر کھڑا ہونے کا یقین دلایا۔ اتوار ہونے کی وجہ سے شاہین باغ میں بھیڑ کافی تھی۔کئی فنکاروں، سماجی کارکنوں نے اس میں حًصہ لیا۔جامعہ نگر سے کئی جلوس، جس میں کینڈل مارچ بھی شامل تھا، آکر شاہین باغ میں شامل ہوئے۔
شاہین باغ مظاہرین کی حمایت کرنے کے لئے پوری دہلی سے سماج کے ہر طبقے کے لوگ آرہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات آکر اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ شاہین باغ خواتین مظاہرہ گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ اقدار و تہذیب کا سنگم نظر آتا ہے۔ کیا، ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ، کیا عیسائی سب لوگوں کی موجودگی نظر آتی ہے اور سبھی طبقے کے لوگ یہاں اپنا تعاون پیش کرتے نظر آرہے ہیں، سڑکوں پر پینٹنگ، تختی بنانے، رخساروں پر ترنگا بنانے، مختلف نعرے لکھنے میں سب لوگ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں۔ یہاں انڈیا گیٹ بھی ہیں اور ہندوستان کا نقشہ بھی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین جنگ آزادی کا منظر پیش کر ر ہے ہیں،ایک طرف قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف تقریریں ہورہی ہوتی ہیں تو دوسرے اس کے آس پاس ذاکر حسین لائبریری کے سامنے روڈپر قومی یکجہتی کا نظارہ ہوتا ہے۔ ہندو،سکھ، مسلم، عیسائی کے علامت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہیں میٹرو کے مختلف کھمبے کے سامنے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے کالج کے گروپ، بچوں کے گروپ نظر آتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اہم شخصیات، سماجی کارکنوں اور سیاسی و تعلیمی شخصیات کا آنا جاری ہے اور وہ لوگ یہاں آکر نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہیں بلکہ فسطائی طاقتوں کے خلاف لڑنے کی اپیل کرتے ہیں۔
شاہین باغ کے بعد خاتون مظاہرین کی تعداد سب سے بڑی تعداد خوریجی میں ہے۔ سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ شاہین باغ کی طرف سے شروع کیا گیا مظاہرہ اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل رات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے سابق سکریٹری نبیل عثمانی اور اسٹوڈینٹ لیڈر یاسین غازی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس کالا قانون کے خلاف آپ لوگ گھروں سے نکلی ہے۔ انہوں نے حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہاکہ اس قانون کے ذریعہ حکومت نے سماج کو بانٹنے کا کام کیا ہے اس کے خلاف باہر نکل آپ نے ثابت کردیا ہے کہ حکومت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔
محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ آج رات خوریج میں اہم خطاب کرنے والوں میں مشہور مصنف، سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی ایشن (اینڈوا) کی صہبا‘ جے این یو اسٹوڈینٹس یونین کی سابق صدر سوچیتا دیو، محمد ابو ذر چودھری،ہائی منچ کے رویش عالم وغیرہ شامل ہیں۔
اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد،، ترکمان گیٹ،کھجوری، مصفطی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک، اورجامع مسجدسمت ملک تقریباً پچاس سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں۔یہاں کی خواتین کی جانفشانی کا یہ عالم ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی کے عالم بغیر کمبل اور روشنی کے مظاہرہ کررہی ہیں۔پولیس نے یہاں کی لائٹ کاٹ دی تھی، کمبل اور کھانے کا سامان چھین کر لے گئے تھے لیکن پولیس کی ہٹلر شاہی رویہ بھی ان خواتین کا جوش و خروش کم نہ کرسکا۔ پولیس نے یہاں ٹینٹ لگانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ خواتین موبائل کی روشنی سے احتجاج کی روشنی پوری دنیا میں پہنچارہی ہیں۔
اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے اور عام لوگ ضرورت چیزیں خواتین کو پہنچاتے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کانجورمارگ اور بھاؤنڈپ میں سگنل فیل، مسافر پریشان ٹرین سروسیز متاثر

ممبئی : کانجور مارگ اور بھانڈوپ ریلوے لائن سگنل میں تکنیکی خرابی کے سبب سینٹرل اور ہاربر لائنوں کی ٹرینیں تاخیر سے چلائی جا رہی ہے جبکہ ٹرینوں کے سبب مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے پلیٹ فارم پر مسافروں کی بھیڑ جمع ہونے کے سبب ٹرینوں میں چڑھنا محال ہے مسافر بے حال ہے جبکہ ریلوے سروسیز بری طرح سے متاثر و مفلوج ہو کر رہ گئی ہے تفصیلات کے مطابق 26 اکتوبر 2026 کو، تقریباً صبح 09:30 بجے، کانجورمارگ ل پر تمام لائنیں بندہو گئیں اور تمام سگنل غیر فعال ہو گئے۔ اس واقعے کی اطلاع ریلوے انتظامیہ کی جانب سے دی گئی۔ اس خرابی کے باعث، کانجورمارگ اور وکھرولی و بھانڈوپ کے درمیان سگنل غیر فعال ہو گئے۔ ٹرین آپریشنز کو متاثر ہونے کے بعد کے اے-بورڈ’ اتھارٹی (اے بورڈ اتھارٹی): کانجورمارگ اور وکھرولی و بھانڈوپ کے درمیان ٹرینیں ‘اے-بورڈ’ اتھارٹی کے تحت چلائی گئیں۔ بھانڈوپ وکھرولی بھانڈوپ کے درمیان 5ویں اور 6ویں لائن پر بھی ٹرینیں ‘اے-بورڈ’ اتھارٹی کے تحت چلائی گئیں۔
ایبسلوٹ بلاک ورکنگ وکھرولی اور بھانڈوپ کے درمیان ‘ڈاؤن لوکل لائن’ اور ‘ڈاؤن تھرو لائن’ کے لیے، نیز بھانڈوپ اور وکھرولی کے درمیان ‘اپ لوکل لائن’اور ‘اپ تھرو لائن’کے لیے نافذ کی گئی۔ ٹرین موومنٹ اتھارٹی: ٹرینوں کو ‘ٹی ڈی 912’ اتھارٹی کے تحت چلنے کی اجازت دی گئی۔ پہلی ٹرینیں ڈاؤن لوکل لائن (وکھرولی سے)ٹرین نمبر کے 39 ڈاؤن تھرو لائن (وکھرولی سے): ٹرین نمبر بی ایل 11 اپ لوکل لائن (بھانڈوپ سے) چلائی گئی۔ خرابی کی وجہ، بحالی کی صورتحال اور ٹرین سروسز کی معمول کے مطابق بحالی کی کوششیں جاری ہے جبکہ ٹرینوں کے اوقات سے سینٹرل لائن پر ٹرینیں ایک سے نصف گھنٹہ سے تاخیر سے چلائی جارہی ہے ریلوے انتظامیہ نے بتایا ہے کہ جنگی پیمانے پرکام جاری ہے تاحال ریلوے ٹرین پٹری اور معمولات پر نہیں لوٹی ہے اور کوششیں جاری ہے۔ پی آر او سوپنیل نیلا نے بتایا کہ خرابی کے سبب ٹرینیں تاخیر سے چلائی جارہی ہے ریلوے انتظامیہ جلد ہی ٹرینوں کی خدمات معمول پر بحال کرے گی۔
(جنرل (عام
دہلی میں فضائی آلودگی کم ہونے پر سرسا نے عوام کی کوششوں کو سراہا، ایئر کوالٹی انڈیکس ’معتدل‘ سطح پر پہنچ گیا

نئی دہلی : ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے پیر کو کہا کہ شہر میں اے کیو آئی ‘اعتدال پسند سطح’ پر ہے، جب کہ قومی راجدھانی کے لوگوں کا نتیجہ کے لیے شکریہ ادا کیا۔ “میں آج دہلی کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج بھی، اے کیو آئی ‘اعتدال پسند’ ہے، تقریباً 180، جبکہ کل یہ 153 تھا۔ دہلی حکومت، میونسپل کارپوریشن میں ہمارے ساتھیوں، دہلی ٹریفک پولیس اور دہلی کے شہریوں نے مسلسل زبردست مدد فراہم کی ہے،” دہلی کے وزیر نے کہا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق، دہلی نے پیر کی صبح 8 بجے ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 187 ریکارڈ کیا، جس نے قومی راجدھانی کو ‘اعتدال پسند’ زمرے میں رکھا۔ ریڈنگ نے شہر کی مجموعی ہوا کے معیار میں معمولی بہتری کی نشاندہی کی، حالانکہ کئی مانیٹرنگ سٹیشنز آلودگی کی بلند سطح کی اطلاع دیتے رہے۔
مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے ڈیٹا نے شہر بھر میں ہوا کے معیار میں کافی فرق ظاہر کیا۔ براری میں 128 کا اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد بدر پور میں 125، نانگلوئی میں 150، جے این یو میں 157 اور مندر مارگ میں 165۔ اسی دوران جہانگیر پوری (251)، آر کے میں زیادہ ریڈنگ کی اطلاع ملی۔ پورم (233)، سی آر آر آئی متھرا روڈ (231)، پنجابی باغ (229)، نریلا (227)، منڈکا (226) اور وویک وہار (240)۔ سرسا نے کہا کہ لوگوں کی کوششوں کی وجہ سے اے کیو آئی بہتر تھا اور یہ صرف عوامی شراکت کی وجہ سے ہی دہلی میں اس پر قابو پایا جا سکا۔
“میں خاص طور پر پڑوسی ریاستوں اور پڑوسی اضلاع کے پولیس افسران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پچھلے تین دنوں سے، آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہاں کی پولیس آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کو دہلی میں داخل ہونے سے مسلسل روک رہی ہے۔” دریں اثنا، دہلی کے وزیر پرویش ورما نے ہفتے کے روز دہلی میں اوکھلا بیراج کے قریب چھٹھ پوجا سے پہلے یمنا میں سفید جھاگ کے دوبارہ نمودار ہونے پر تشویش کا ازالہ کیا، جس میں بصری جھاگ کی پرت کالندی کنج کی طرف بہتے دریا کے کنارے پھیلی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پرویش ورما نے کہا، “دہلی میں یمنا کی لمبائی 52 کلومیٹر ہے، ان 52 کلومیٹر کے ساتھ کہیں بھی جھاگ نہیں ہے، جہاں دہلی کی سرحد ختم ہوتی ہے اور اتر پردیش شروع ہوتی ہے، وہاں صرف ایک آخری نقطہ ہے جہاں جھاگ نظر آتا ہے کیونکہ وہاں ایک بہت بڑا آبشار ہے۔” انہوں نے مزید کہا، ’’جب پانی اوپر سے گرتا ہے تو وہاں جھاگ بنتا ہے۔‘‘ “چھٹھ پوجا کی تیاریاں پچھلی بار سے بھی بہتر کی گئی ہیں۔ دہلی میں مزید گھاٹ بنائے جا رہے ہیں، اور دہلی جل بورڈ ان گھاٹوں پر صاف پانی فراہم کرے گا۔ تیاریاں بہت اچھی طرح سے چل رہی ہیں۔ تمام عہدیداروں کو ہدایات دے دی گئی ہیں، اور ہمارے ٹینڈرز پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔ تیاریاں بہت اچھی چل رہی ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
کالندی کنج کے قریب سفید جھاگ کے دوبارہ ظاہر ہونے نے دریا کی مسلسل آلودگی کے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ یہ پیش رفت دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے جمنا کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات کی تعریف کرنے اور تقریباً 9,000 کروڑ روپے کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کے افتتاح کو رہائشیوں کے لیے ایک خوشی کا موقع قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ شہر کی ہوا کا معیار بنیادی طور پر باریک ذرات سے متاثر ہوا ہے، بشمول پی ایم2.5 اور پی ایم10۔ مانیٹرنگ سٹیشنوں نے آلودگی کی مختلف سطحوں کی اطلاع دی ہے، کچھ مقامات پر نسبتاً کم ریڈنگ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ کئی دیگر نے بگڑتے ہوئے حالات کا سامنا کرنا جاری رکھا ہے۔ دہلی-این سی آر میں ہوا کا معیار ‘خراب’ زمرے میں خراب ہونے کے ساتھ، کمیشن برائے ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے گزشتہ ہفتے مزید آلودگی کو روکنے کے لیے گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے تحت اسٹیج 1 کے اقدامات کی درخواست کی۔ پہلے مرحلے کے تحت ہوٹلوں، ریستورانوں اور کھلی فضا میں کھانے پینے کی جگہوں پر تندور میں کوئلہ اور لکڑی کا استعمال ممنوع ہے۔ ضروری اور ہنگامی ضروریات کے علاوہ ڈیزل جنریٹر سیٹوں کا آپریشن بھی محدود ہے۔
(جنرل (عام
پاکستان کے جڑواں شہروں میں گیس کی قلت، ایل پی جی مہنگی ہونے سے متبادل ایندھن کا استعمال بڑھا

اسلام آباد : پاکستان کے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہائشی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی زیادہ قیمتوں اور قدرتی گیس کی صرف چھ گھنٹے دستیابی کی وجہ سے کھانا پکانے کے لیے متبادل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہیں، مقامی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا۔ لوگوں کی اکثریت نے کھانا پکانے کے لیے لکڑی اور کوئلہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہیں جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مقرر کردہ 279 روپے فی کلو گرام ہے۔ تاہم، ضلعی انتظامیہ اور اوگرا اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ لوگوں کو مقررہ قیمتوں پر ایل پی جی ملے، معروف پاکستانی روزنامہ ڈان نے رپورٹ کیا۔ دریں اثنا، گھریلو اور تجارتی صارفین کو گزشتہ دو ماہ کے دوران سوئی نیچرل گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل) سے ایل پی جی سلنڈر نہیں مل رہے ہیں، اور نجی کمپنیاں زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے سلنڈر بڑھی ہوئی قیمتوں پر فروخت کر رہی ہیں۔ 11 کلو کے گیس سلنڈر کی قیمت 6500 روپے ہو گئی ہے جبکہ کمرشل سلنڈر 25000 روپے سے زیادہ میں فروخت ہو رہے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پائپ سے قدرتی گیس کی سپلائی کی طویل اور غیر اعلانیہ معطلی کی وجہ سے بہت سے خاندانوں کے پاس کھانا پکانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
ڈان نے ایک رہائشی محمد سجاد کے حوالے سے بتایا کہ “میں نے ایل پی جی سلنڈر خریدے ہیں کیونکہ سوئی گیس صرف صبح 7 بجے سے 9 بجے، دوپہر 12 بجے سے 2 بجے اور شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک دستیاب ہوتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ قدرتی گیس کے کم پریشر نے لوگوں کے روزمرہ کے معمولات کو متاثر کیا ہے اور ایس این جی پی ایل اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے۔ ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ سرد موسم کے آغاز سے ہی انہیں گیس کی قلت کا سامنا ہے اور وہ ایل پی جی سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں صرف چھ گھنٹے گیس ملتی ہے۔ ایک اور رہائشی عبدالرشید نے بتایا کہ انہیں گزشتہ ایک ماہ سے گیس کی قلت کا سامنا ہے اور رہائشیوں نے متعدد بار متعلقہ محکمے سے اس مسئلے کا سامنا کرنے کی شکایت کی ہے۔ تاہم، حکام کی طرف سے مسئلہ حل نہیں کیا گیا ہے.
ڈان نے ایک دکاندار محمد اکمل کے حوالے سے بتایا کہ “ایل پی جی کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ پہلے دور دراز کے علاقوں سے لوگ اپنے سلنڈر بھر کر لاتے تھے، لیکن اب مقامی رہائشیوں نے بھی سلنڈر خریدنا اور اسے ہفتے میں ایک بار ری فل کرنا شروع کر دیا ہے،” ڈان نے ایک دکاندار محمد اکمل کے حوالے سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ انہوں نے مقامی ڈیلرز سے زیادہ قیمتوں پر خریداری کی۔ دریں اثنا، پاکستان میں ایندھن، خوراک اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ مالی سال 2026-27 کے تقریباً چار مہینوں میں پٹرول کی قیمتوں میں 26.11 فیصد اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 26.39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے معروف روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ پٹرول کی قیمتیں 24 اکتوبر کو 377.71 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئیں۔ اسی مدت کے دوران ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 311.47 روپے سے بڑھ کر 393.66 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مسافر ٹرانسپورٹرز اور مال بردار آپریٹرز کو پریشانی کا سامنا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
