Connect with us
Sunday,20-September-2026

(جنرل (عام

زبردست مخالفت کے باوجود مالیگاؤں میں خواتین کی پرامن ریلی نے مودی حکومت کے کالے قانون کےخلاف تاریخ ساز احتجاج درج کرایا

Published

on

(وفا ناہید)
تحریکوں کا شہر مالیگاؤں جس کے 7 سپوت کا ہندوستان کی جنگ آزادی کے شہداء میں شمار ہوتا ہے. اس سرزمین کی مٹی سے آج ان شہدائے کرام کی خوشبوئیں آتی ہیں. اس مسلم اکثریتی شہر سے آج لاکھوں کی تعداد میں خواتین نے دستور بچاؤ کمیٹی کے بینر تلے مودی حکومت کے کالے قانون سی اے اے اور این آر سی کے خلا ف ایک پرامن اور تاریخ ساز احتجاج درج کرایا. بچاؤ کمیٹی کے زیر اہتمام جمعیت العلماء مالیگاؤں کے صدر مفتی اسمٰعیل قاسمی کی زیر سرپرستی اور شان ہند نہال احمد کی قیادت میں لاکھوں سروں کے امڈتے ہوئے سیلاب کی طرح شہر بھر کی خواتین نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تاریخی ریلی نکال کر انتظامیہ کے ہوش اڑا دیئے . آج مورخہ 6 جنوری 2020 کو دوپہر دہائی بجے جامعتہ الصالحات سے خواتین کی یہ ریلی سلیمانی چوک, مولانا ابوالکلام آزاد روڑ سے مشاورت چوک سے مولانا محمد علی روڈ سے ہوتے ہوئے قدوائی روڑ پر واقع شہیدوں کی یادگار تک نکالی گئی اس ریلی میں معصوم بچوں سمیت عمردراز بزرگ خواتین نے فلک شگاف نعروں کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے حکومت وقت سے سی اے اے قانون رد کرنے اور این آر سی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ، وہیں شہیدوں کی یادگار پر ریلی کے اختتام سے قبل کلکتہ سے آئی آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی محترمہ سلطانہ بیگم نے کہا کہ ہم خواتین کمزور نہیں ہے ، ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، مودی سرکار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اندھی بہری ہے میں صرف یہی پیغام دینا چاہتی ہوں کے ہم سب ایک ساتھ رہے . اتحاد قائم رکھے یہ ہندوستان ہمارا ہے ہم یہی رہینگے ہمیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے ، میرا سوال ہے کے کیا ایسا کرنے سے وہ مسلمانوں کو ختم کر دینگے ، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ، ہمارا ایک ہی مقصد ہے کے ہم سب ایک ساتھ متحد ہو جائے. سلطانہ بیگم کے بعد دہل سے تشریف لائی ہوئی شوشیلا مراڈے نے حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمانوں نے قربانیاں دیں ہیں. اس وقت یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کہاں تھے. گاندھی, نہرو, مولانا آزاد نے اس ملک کو آزاد کرایا ہے. اشفاق اللہ خان نے اپنی جان کی قربانی دی ہے. آج بھی دہلی سے لاہور تک وہ سارے پیڑ ان علماء کرام کی شہادت کے گواہ ہے. اے مودی اور شاہ یہ تمہارے باپ کا ہندوستان نہیں ہے یہ ہمارے باپ کا ہندوستان ہے. ہم کہیں نہیں جائیں گے. محترمہ نے لاکھوں خواتین کے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے پرجوش انداز میں ایک شاعر کے حوالے سے کہا کہ جب ہٹلر یہودیوں کو ماررہا تھا تو اس شاعر نے سوچا کہ میں تو یہودی نہیں ہوں. پھر ہٹلر نے عیسائیوں کو پاک کرنا شروع کیا تب بھی اس شاعر نے سوچا کہ میں تو عیسائی بھی نہیں ہوں اس کے بعد ہٹلر نے کمیونسٹ کو مارنا شروع کیا. تب بھی اس شاعر نے سوچا کہ میں تو کمیونسٹ بھی نہیں ہوں. آخر میں اس شاعر کہنا تھا کہ میری باری آئی تو مجھے بچانے کے لئے کوئی بھی نہیں بچا تھا. اس لئے میں ہندو بھائیوں سے کہہ رہی ہوں کہ جس طرح ہٹلر نے یکے بعد دیگرے سب کو ختم کردیا ویسے ہی مودی حکومت ایک ایک کو ختم کرنا چاہتی ہے. اس لئے اگلی باری تمہاری ہوگی. شان ہند نہال احمد نے کہا کہ آج شہر کی خواتین کا یہ سیلاب اس تحریک کا حصہ ہے جو ہندوستان میں چل رہی ہے ، ہم نے آج یہ بتا دیا کے ہم کل بھی زندہ تھے آج بھی زندہ ہیں میں مالیگاؤں کی خواتین کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج کررہی خواتین کو سلام پیش کرتی ہوں ، جے این یو میں گھس کر شرپسندوں نے جو حملہ کیا جس میں پولس ان کے ساتھ تھی یہ بزدل ہمیں ڈرانا چاہتے ہے لیکن ہم انھیں بتا دینا چاہتے ہے کے یہ تحریکی شہر ہے جہاں نہال احمد صاحب نے اسے جلا بخشی تھی ، ہمیں مالیگاؤں شہر کی پولس سے شکایت ہے جنہوں نے اس ریلی میں جامعہ کی ان نڈر طالبہ عائشہ اور لدیدہ فرزانہ دونوں کو شہر آنے سے روکا جن کے ساتھ اور بھی لوگ انہیں روکنے میں شامل تھے ، ہم نے یہ طے کیا ہے کے آنے والی 26 جنوری کو 70 سال پورے ہونے پر 70 مقامات پر ترنگا جھنڈا لہرا کر راشٹرگیت پڑھ جائیگا اور یہ احتجاجی مظاہرہ جاری رہے گا ، میں شکر گزار ہوں سبھی افراد کا جنہوں اس ریلی کو کامیاب کرنے کے لئے بھرپور تعاون پیش کیا ، اس ریلی میں شریک خواتین کا ایک حصہ شہیدوں کی یادگار سے مشاورت چوک پر تھا تو دوسرا حصّہ شہیدوں کی یادگار سے نیا بس اسٹینڈ اور جونا بس اسٹینڈ تک تھا جس میں خواتین نے بڑے ہی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا ، ریلی کے سرپرست مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ میں ان لوگوں کو آج بتا دینا چاہتا ہوں جو شہر میں کسی طرح کی تحریک کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہمیشہ تخت نشین نہیں رہیں گے ، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کے ہندوستان کی آزادی کے لئے خواتین کی بھی تاریخ رہی ہے جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا ہے ، مرحوم نہال احمد صاحب نے یہ دستور بچاؤ کمیٹی بنائی تھی . جس کی آبیاری ان کے فرزند مرحوم ساتھی بلند اقبال نے کی اور جس کی قیادت آج شان ھند کررہی ہے ، ملک میں ایسا کوئی قانون ہم چلنے نہیں دینگے جس میں لوگوں کو ڈیٹکشن کیمپوں میں بھیجا جائے گا ،میں ہندو بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کے آپ این آر سی اور سی اے اے کو الگ کر کے نہ دیکھے یہ یہودیوں کی سازش ہے ، میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کے خواتین اپنے گھر کے مردوں تک یہ پیغام پہونچا دیں کے 26 جنوری کے دن کوئی بھی مرد پیٹرول پمپ سے پیٹرول نا بھروائے اور اپنے اکاؤنٹ میں اتنا ہی پیسہ رکھے جتنی ضروری ہے باقی کی رقم نکال لیں ، ہم 26 جنوری کو دستور بچاؤ اور دیش بچاؤ کا نعرہ لگائیں گے ، ہم پولس کو یہ بتادینا چاہتے ہے کے ہم نے شہر میں کبھی امن و امان کو خراب نہیں کیا لیکن جو لوگ ہماری تحریک کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ان پر نظر رکھی جائے ، میں امید کرتا ہوں کے یہ شہر تحریکی رہا ہے اور ہمیشہ تحریکی رہیگا ، آج خواتین نے کسی کے بہکاوے میں نا آتے ہوئے یہ ثابت کردیا کے یہ شہر تحریکی ہے اور ہم زندہ قوم ہے . دیگر خواتین مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں جم کر حکومت کی بزدلی اور نا انصافی پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے ، این آر سی ، سی اے اے صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے یہ اس دیش کے ہر مذہب کے ماننے والوں کا مسئلہ ہے ،آج ہم سے ہماری قربانیاں پوچھی جارہی ہے انہیں معلوم نہیں ہے کہ “ہم بھارت کی ناری ہے پھول نہیں چنگاری ہے” ، اس احتجاجی ریلی میں سلطانہ بیگم ، آسمہ میڈم ، عائشہ ثمن ، کارپوریٹر سعدیہ لئیق احمد ، صبیحه مزممل بفاتی ، ساجدہ میڈم ، شوشیلا مراڈے ، سائرہ اجمل خان سمیت دیگر سرکردہ خواتین اس ریلی کا اہم حصّہ تھی ۔ مفتی اسمٰعیل قاسمی کی دعا پر یہ تاریخ ساز احتجاج اختتام پذیر ہوا.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

Published

on

I.-Airport

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پاسپورٹ کی میعاد کے لیے قوانین میں تبدیلی : نئے اصول کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کا پاسپورٹ 18 سال کا بچہ نہیں ہو جاتا کارآمد رہے گا۔

Published

on

Passport

نئی دہلی : حکومت نے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے پاسپورٹ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب اس عمر سے کم عمر بچوں کو جاری کیا جانے والا 36 صفحات پر مشتمل معیاری پاسپورٹ پانچ سال یا جب تک بچہ 18 سال کا نہیں ہو جاتا، جو بھی پہلے ہو، کارآمد رہے گا۔ وزارت خارجہ نے پاسپورٹ (ترمیمی) قواعد، 2026 کو مطلع کیا ہے، جو جمعرات کو گزٹ آف انڈیا میں شائع ہونے کے بعد نافذ ہوا تھا۔ اگر کسی بچے کو 12 سال کی عمر میں پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تو اس کا پاسپورٹ پانچ سال تک کارآمد رہے گا، یعنی جب تک کہ وہ 17 سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ تاہم، اگر کوئی بچہ 14 سال کا ہے، تو اس کا پاسپورٹ اس وقت تک کارآمد رہے گا جب تک کہ وہ 18 سال کا نہ ہو جائے۔ یہ تبدیلی پاسپورٹ رولز، 1980 کے رول 12(1اے) میں کی گئی ہے۔

اس سے قبل، حکومت نے پاسپورٹ خدمات کی فیسوں میں بھی نظر ثانی کی تھی، جو 1 جولائی سے لاگو ہوتی ہے۔ 36 صفحات پر مشتمل عام بالغ پاسپورٹ کی نئی درخواست یا تجدید کی فیس اب 2,500 ہے، جو کہ پہلے 1,500 تھی۔ 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 2000 روپے سے بڑھا کر 3500 روپے کر دی گئی ہے۔ تتکال سروس کے تحت 36 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 5,000 اور 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 6,000 کر دی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان