سیاست
مہاراشٹر حکومت میں وزرا ٔ کے قلمدانوں کی تقسیم
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کہ مترادف آج یہاں شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مخلوط مہاوکاس اگھاڑی کے وزرا کے قلمدانوں کی تقسیم ہوئی جس کے تحت سابق وزیر اعلی دیویندر فرنویس کے ہمراہ نصف شب میں نائب وزیر اعلی کا حلف لینے والے اجیت پوار جنہوں نے بعد میں ڈرامائی انداز میں این سی پی میں واپس آ کر نائب وزیر اعلی کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی آج انہیں وزیر مالیات پلاننگ جیسے اہم محکمہ دیئے گئے ہیں جبکہ وزیر داخلہ کا قلمدان این سی پی کے انل دشمکھ کو سونپا گیا ہے ۔ اسی طرح سے مسلم کابینی وزرا ٔ نواب ملک کومحکمہ اقلیت اور صنعتی ٹریننگ ، دیا گیا ہے جبکہ حسین مشرف کو دیہی ترقی کا محکمہ دیاگیا ہے جبکہ شیوسینا سے تعلق رکھنے والےواحد مسلم رکن اسمبلی عبدالستار شیخ کو ریاستی وزیر برائے محصول کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ30دسمبر کو کانگریس ، این سی پی ، اور شیوسینا کے کل 41وزرا ٔ کی حلف برداری عمل میں آئی تھی لیکن قلمدانوں ی تقسیم کو لے کر تینوں پارٹیوں میں انتشار پایا جا رہا تھا جس کا خاتمہ آج عمل میں آیا جب وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے وزرأ کو ان کے محکموں کی ذمہ داری دی ۔ ذیل میں وزرا ٔ کے نام اور ان کے محکمہ دیئے گئے ہیں ۔
مہاراشٹر میں وزرأ کے کونسل کی مکمل فہرست
1۔ادھوٹھاکرے (شیوسینا)وزیراعلی،جنرل ایڈمنسٹریشن ،رابطہ عامہ،قانون وعدلیہ،یا ایسے محکمےجو کسی وزیر کو نا دئیے گئے ہو
2۔ اجیت پوار (این سی پی) – نائب وزیر اعلی،مالیت،پلاننگ،
کابینہ کے وزراء
1۔ ایکناتھ شند ے (شیوسینا) – شہری ترقی،پی دبلیو ڈی
2۔ سبھاش دیسائی (شیوسینا) – صنعت ،مراٹھی زبان
3۔ جینت پاٹل (این سی پی) – آبی وسائل
4۔ چھگن چندرکانت بھجبل (این سی پی) -غذاواناج
5۔ بالاصاحب تھوراٹ (کانگریس) -محصول
6۔ نتن راوت (کانگریس) -بجلی توانائی
7۔ اشوک چوان (کانگریس)پی ڈبلیوڈی
8۔ دلیپ ولسے پاٹل (این سی پی)کامگار
9۔ دھننجے منڈے (این سی پی)سماجی انصاف
10۔ وجے واڈٹیواور (کانگریس)پسماندہ طبقات
11۔ انیل دیشمکھ (این سی پی)داخلہ
12۔ حسن مشریف (این سی پی)دہیی ترقی
13۔ ورشا گائیکواڈ (کانگریس)اسکولی تعلیم
14۔ راجندر شنگانے (این سی پی)اناج اور دوائیں
15۔ نواب ملک (این سی پی)اقلیت
16۔ راجیش ٹوپے (این سی پی)صحت عامہ
17۔ سنیل کیدار (کانگریس)دودھ ڈیری
18۔ سنجے راٹھوڑ (شیوسینا)جنگلات
19۔ گلاب راو پاٹل (شیوسینا)پانی و صفائی
20۔ امت دیشمکھ (کانگریس)میڈیکل ایجوکیشن
21۔ دادا بھوسے (شیوسینا)زراعت ،سابق فوجی
22۔ جتیندر اوہاد (این سی پی)ہاوسسنگ
23۔ سندیپن بھومرے (شیوسینا)روزگار
24۔ بالاصاحب پاٹل (این سی پی)کوپریٹیو
25۔ یشومتی ٹھاکر (کانگریس)خواتین واطفال
26۔ انیل پرب (شیوسینا)ٹرانسپوٹ
27۔ اودئے سامنت (شیوسینا)اعلی و تکنکی تعلیم
28۔ کے سی پڑوی (کانگریس)قبائلی فلاحی بہبود
29۔ شنکر راؤ گدالھ ، آزاد (شیوسینا کوٹہ)
30۔ اسلم شیخ (کانگریس)ٹیکسٹائل
31۔ آدتیہ ٹھاکرے (شیوسینا)صحت
وزرائے مملکت
32۔ عبد الستار (شیوسینا)محصول
33۔ ستیج پاٹل (کانگریس)محکمہ داخلہ شہری
شمبھوراج دیسائی (شیوسینا)محکمہ داخلہ دہیی
35۔ بچو کڈو ، آزاد (شیوسینا کوٹہ)آبی وسائل
36۔ وشوجیٹ کدم ، کانگریس کوپریٹیو
37۔ دتاترے بھرنے ، (این سی پی)پیڈبلیو ڈی
38۔ ادیتی سنیل تٹکرے (این سی پی)صنعت
39۔ سنجے بنسوڈے (این سی پی)ٹرانسپورٹ
40۔ پراجکت تنپورے (این سی پی)شہری ترقی
41۔ راجندر پاٹل یدراورکر آزاد (شیوسینا کوٹہ)صحت عامہ
بین الاقوامی خبریں
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے سے لے کر روسی تیل پر تناؤ، کواڈ کے مستقبل کے بارے میں سوالات باقی ہیں۔

واشنگٹن : کچھ معاملات پر اختلافات کے باوجود، ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک، اقتصادی، تکنیکی اور سیکورٹی تعاون پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔ امریکہ میں ہندوستان کے ڈپٹی چیف آف مشن، نمگیا سی کھمپا نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات 21ویں صدی کی سب سے اہم اور واضح شراکت داری بن گئے ہیں۔ کیپٹل ہل پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھمپا نے کہا کہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی بنیاد مشترکہ مفادات، مضبوط اقتصادی تعاون، تکنیکی شراکت داری، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی پر ہے۔ کھمپا نے کہا، “ہندوستان-امریکہ کی شراکت داری کو 21ویں صدی کی سب سے اہم شراکت داری کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، اور یہ بالکل سچ ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ ہم ہر معاملے پر 100 فیصد متفق ہیں۔ فطری طور پر، کچھ مسائل پر اختلافات ہیں، لیکن اس تعلقات کے پیچھے اسٹریٹجک نقطہ نظر ہر سال مضبوط ہو رہا ہے۔” کھمپا کے تبصرے ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب ہندوستان اور امریکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں تجارت کو بڑھانے، تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانے اور سیکورٹی کوآرڈینیشن کو گہرا کرنے کے لیے بات چیت میں مصروف ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے سی کھمپا نے کہا کہ دونوں رہنما دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ وہ ایک پرجوش تعلقات اور اعتماد کے مضبوط بندھن میں شریک ہیں۔ بھارتی سفارت کار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ دورہ بھارت کا بھی ذکر کیا، جس کے دوران انہوں نے دو طرفہ ملاقاتوں کے علاوہ کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بھی شرکت کی۔ سی کھمپا نے کہا کہ تجارت دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ دونوں اطراف کے مذاکرات کار دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد صرف ٹیرف کو کم کرنا نہیں ہے بلکہ ایک مضبوط، گہرا، مہتواکانکشی اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور امریکہ کے توانائی کے وسیع وسائل دونوں ممالک کو قدرتی شراکت دار بناتے ہیں۔ خام تیل، ایل این جی اور سول نیوکلیئر توانائی میں تعاون تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کو مستقبل کی شراکت داری کا سب سے اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کھمپا نے کہا کہ اے آئی، سیمی کنڈکٹرز، ایڈوانس کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشنز اور دیگر اہم ٹیکنالوجیز میں تعاون دونوں ممالک کی ترجیح ہے۔ سپلائی چینز کو متنوع بنانے اور چند منتخب ٹیکنالوجی مراکز پر انحصار کم کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ یہ اب صرف فوجی مشقوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں میری ٹائم سیکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اہم ٹیکنالوجیز اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال، ہندوستان اور امریکہ نے 10 سالہ دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو مستقبل میں تعاون کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرتا ہے۔ کھمپا نے کواڈ (ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا) کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہند-بحرالکاہل خطے میں استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اپنے خطاب میں، انہوں نے نوٹ کیا کہ امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی نژاد 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دونوں ممالک کے درمیان حکومتی تعلقات کو ایک جامع سماجی شراکت داری میں بدل دیا ہے۔ کھمپا نے کاروبار، طب، ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ، تعلیم اور عوامی خدمت کے شعبوں میں ہندوستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے اہم کردار کی تعریف کی اور کہا کہ یہ کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کے طور پر کام کر رہی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی جھوپڑ پٹی علاقوں کے اسکولوں پر درج ایف آئی آر حکومت فوراً واپس لے، شرائط میں نرمی دے کر انہیں مستقل کرے : ابو عاصم اعظمی

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور مانخورد شیواجی نگر سے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران ایوان میں کچی بستیوں (جھوپڑ پٹی علاقوں) میں چلنے والے پرائیویٹ اسکولوں کا مسئلہ پیش کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اسکولوں کے پرنسپل، سکریٹریوں اور چیئرمین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ان اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جائے۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “میرا انتخابی حلقہ مانخورد شیواجی نگر ایک انتہائی غریب و پسماندہ علاقہ ہے۔ یہاں پرائیویٹ اسکولوں میں تقریباً ۳۰ سے ۳۵ ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ اس علاقے کے بی ایم سی اسکولوں کی گنجائش پوری طرح ختم ہو چکی ہے اور وہاں نئے داخلوں کے لیے بچوں کی طویل ویٹنگ لسٹ ہے۔ ایسے میں یہ پرائیویٹ اسکول ہی غریب بچوں کی تعلیم کا واحد سہارا ہیں۔
اہم مطالبات اور نکات : شرائط میں نرمی اور ریگولرائزیشن
اسکولوں کو منظوری دینے کے لیے حکومت کی جو شرائط ہیں جیسے کھلی جگہ، کھیل کا میدان (پلے گراؤنڈ) وغیرہ وہ جھوپڑ پٹی علاقوں میں پوری ہونا عملی طور پر ناممکن ہے۔ اس لیے حکومت کو ان علاقوں کے لیے خصوصی قوانین بنا کر انہیں ریگولرائز کرنا چاہیے۔شیواجی نگر اور دیونار پولیس اسٹیشنوں میں ان اسکولوں کی مینجمنٹ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو فوراً واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اسکولوں کا رزلٹ ۹۰ فیصد سے زیادہ رہتا ہے اور ان کا تعلیمی معیار بی ایم سی اسکولوں سے بہتر ہے۔ یہاں اساتذہ محض ۶,۰۰۰ سے ۷,۰۰۰ روپے کی قلیل تنخواہ میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کی تشکیل میں تاخیرہوئی ہےگزشتہ اجلاس میں بھی یہ مسئلہ پر سرکار نے انکوائری کمیٹی بنانے کا یقین دلایا تھا، لیکن اب تک کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی۔
ابو عاصم اعظمی نے وارننگ دی کہ اگر انتظامی کارروائی کی وجہ سے یہ اسکول بند ہو گئے تو ۳۰ سے ۳۵ ہزار غریب بچوں کا مستقبل مکمل طور پرتاریک ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے میں فوری مداخلت کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
فرضی بی ایم سی ڈپٹی کمشنر الطاف شیخ گرفتار

ممبئی کرائم برانچ نے ایک ایسے نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا جو خود کو بی ایم سی کا ڈپٹی کمشنر ظاہر کر کے لوگو ں کو دھوکہ دیا کرتا تھا۔ الطاف شیخ نامی ۴۵ سالہ شخص سے متعلق کرائم برانچ نے تفتیش کی اور شکایت کو درست پایا جس کے بعد کرائم برانچ نے جال بچھا کر اسے گرفتار کر لیا, یہ بتی والی کار کا بھی استعمال کیا کرتا تھا ۔اس کے علاوہ اس کے قبضے سے شناختی کارڈ بھی برآمد کیا گورنمنٹ آف انڈیا کا فرضی اسٹیکر اور فرضی کارڈ بھی برآمد کئے ہیں۔ ملزم سرکاری ویزیٹنگ کارڈ کا استعمال کرتا تھا اور خود کو بی ایم سی ڈپٹی کمشنر قرار دیا کرتا تھا, اسے ملاڈ سے بتی والی کار سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی کرائم برانچ کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
