Connect with us
Friday,19-June-2026

(جنرل (عام

اویسی مسلمانوں کی قبر کھود رہا ہے: (صحافی عزیز برنی)

Published

on

AZIZBARNI

عزیز برنی نے اسدالدین اویسی کو قوم کا غدار کہہ کر تفصیلات کا ذکر کیا ہے. انہوں نے کہا کہCAA/NRCنہ ہوتا اگر کچھ غدّار مسلمان نہ ہوتے۔ عزیز برنی نے کہا مختار عبّاس نقوی،شاہنواز حسین،ایم جے اکبر،نجمہ حیپتلله،عارف محمد خان کا ذکر نہیں کر رہا ہوں بی جے پی ایسے 100 مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لے تو مسلمانوں پر کوئی فرق نہیں پڑ نے والا لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس جن مسلمانوں کو مسلمانوں کی صفوں میں ركھ کر مسلمانوں کا نمائندہ بنا کر پالتی ہے وہ آستین کا سانپ ثابت ہوتے ہیں اور قوم کو ڈس لیتے ہیں۔ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
جمعیۃ ملک بھر میں کشمیر کانفرنس کرتی رہی جب کشمیریوں کی بقہ کیلئے کشمیریت کے تحفظ کیلئے آرٹیکل 370 اور 35a کو کوئی خطرہ نہ تھا لیکن جب موجودہ حکومت نے مخصوص درجہ دینے والی ان دفعات کو ہٹا کر کشمیریوں کو انکے گھروں میں نظربند کر دیا تب جمعیۃ کے جنرل سیکرٹری محمود مدنی نے حکومت کی حمایت میں جینیوا جاکر بیان دیا کہ کشمیری خوش ہیں اور آرام سے ہیں۔یہ کشمیری عوام کی پیٹھ میں خنجر تھا جو حکومت کے وار سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔جمعیۃ اس وقت جمہوریت بچاؤ کانفرنس کر رہی تھی جب جمہوریت کو آج جیسا خطرہ نہ تھا اور جب جمہوریت کیلئے جمہوری نظام کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے وہ اپنے حجروں میں بند ہیں۔جمعیۃ اس وقت تحفظ آئین کانفرنس کر رہی تھی جب آئین کو خطرہ نہ تھا اور آج جب ہندو سکھ دلت سب caa اور nrc پر احتجاجی آواز بلند رہے ہیں تب یہ پورے ملک میں nrc نافذ کرنے کی بات کر رہے تھے،امت شاہ کی آواز میں آواز ملا رہے تھے۔ مولانا ارشد مدنی بند کمرے میں موہن بھگوت سے 90 منٹ طویل ملاقات میں کیا گفتگو کر کے آئے کوئی نہیں جانتا لیکن اُسکے بعد ملک کا منظرنامہ تیزی سے بدلتا گیا، جو سب جانتے ہیں ۔بابری مسجد پر فیصلہ،شہریت ترمیمی قانون،nrc،npr اُنکی زبان خاموش اور پاؤں میں زنجیریں ۔موہن بھاگوت با آواز بلند کہیں کہ ہندوستان میں پیدا ہر شخص ہندو ہے اور وہ چپ تھے ۔محمود مدنی کہیں شری رام کی تعلیمات اور حضرت محمد صلی علیہ وسلم کی تعلیم یکساں ہیں اور اُنکی طرف سے کوی وضاحت نہیں ۔
میں بیدار کرنے کی کوشش کرتا رہا اُنکی فوج میرے خلاف محاذ آرائی کرتی رہی میں نے اٹھایا سوال جمعیت یوتھ کلب پر کہاں ہے وہ آج جب اسکی ضرورت ہے؟ وقت رہتے قوم نہ سمجھ پائی،مصلحت مصالحت،حکمت کا نام دیتی رہی لیکن آج سچ سامنے آیا تو سب حیران پریشان کہ یہ کیا ہو گیا کاش کہ آپ وقت رہتے سمجھ لیتے۔
اسدالدین اویسی سردار ملّت یا ملّت فروش،یہ سمجھنا آج بھی آپکے لیے مشکل، وہ کہتا رہا سیکولرزم زندہ لاش ہے مسلمان اب اسکا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔کیا آج ملک کی بقا سیکولرزم میں نظر نہیں آتی؟ وہ سیکولرزم کو دفن کرنے کا اعلان کرتا رہا اور آپ اُسکے ساتھ کھڑے رہے یہ سوچا ہی نہیں کہ سیکولرزم نہیں تو فرقہ پرستی کے سوا کیا آج نتیجہ سامنے ہے کسی کو سمجھ نہیں آتا کہ ڈیڑھ بیگھا زمین کا بہانہ لیکر اعظم کے لئے زمین تنگ کر دی گئی لیکن دارالسلام کی زمین پر دیگر اداروں پر کوئی سوال نہیں،اعظم خان کی تقریر میں ایک شعر ایوان میں معافی کی وجہ بن جائے لیکن وہ بل کی کاپی پھاڑ دے تو کوئی ہنگامہ نہیں. مسلم مسائل پر ہزار لوگ بولا کریں لیکن تشہیر بس اسی کی سرکاری میڈیا کا چہیتا بس وہی آخر یہ عنایت کیوں؟ وہ ہر الیکشن میں بی جے پی کا مدد گار ثابت ہو اور قوم کیلئے وہ قائدِ ملّت یہ داڑھی ٹوپی اور شیروانی میں اُلجھی قوم نتائج پر غور کرتی ہی نہیں آج ملک بھر کا ہندو caa کی مخالفت میں کھڑا ہے لیکن میڈیا اُسے نظر انداز کرتی رہے مگر اویسی ایک اشتعال انگیز تقریر کر دے تو میڈیا اور بی جے پی کو مسالا مل جائے۔
چلو آج میں آپ کا یہ بھرم بھی توڑ ہی دیتا ہوں کہ اُسکی مسلم قیادت قوم کو کیا دے سکتی ہے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کو کتنا طاقتور بنا سکتی ہے،سیکولر پارٹیوں کو طاقتور بنانے کی بات کرنا ہی بیکار ہے اسکا ایجنڈا ہی سیکولرزم کے خلاف ہے،چلو اب مان لیا کے کل ہندوستان کا مسلم قائد وہی اور اُسکی پارٹی کا مسلمان ہی ایوان میں تو 543 کی لوک سبھا میں مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے؟ 1952 کے پہلے الیکشن سے 2019 تک کے اعداد و شمار میں آپکے سامنے رکھ دیتا ہوں
1952 میں۔2 ۔1957 میں۔19 ، 1962 میں20 ۔1967 میں 25 ،1971 میں 28 ۔1977 میں 34 ،1980 میں 49، 1984 میں 42 ،1989 میں (وی پی سنگھ عارف،ارون نہرو ،ست پال ملک اور بی جے پی ساتھ میں) تعداد 27 اسکے بعد 1991 میں 25، 1996 میں 29، 1998 میں 28 ۔1999 میں 31 ، 2004 میں 34 ،2009 میں 30 اب آیا اسدالدین اویسی کے عروج کا وقت 2014 میں 24 اور 2019 میں 27 ۔
یہ صرف مسلم ووٹوں پر جیت کر آنے والے مسلمان نہیں ہیں ان میں سیکولر ہندوؤں کا ووٹ بھی شامل ہے ۔اگر کچھ وقت کیلئے یہ مان بھی لیا جائے کہ تمام مسلمان اویسی اور اُسکی پارٹی کے ساتھ پارلیمنٹ میں سبھی مسلمان اُسکی پارٹی کے یعنی زیادہ سے زیادہ 25/30 وہ بھی سیکولر ہندو ووٹ ملنے پر جنکے وہ خلاف ہے تو کیا 543 میں سے 25/30 کسی قانون کو بننے سے روک سکتے ہیں؟ سبھی یعنی بی جے پی اور سیکولر پارٹیوں کو دشمن بنا کر جنکے خلاف وہ لڑ رہا ہے مسلمانوں کی سیاسی طاقت کیا ہوگی؟ سوچا ہے کبھی۔۔ ۔
خوابِ غفلت سے نکلیں اب اور دشمن نہ بنائیں caa اور nrc پر آپکے حامی سیکولر ہندوستانی اور پارٹی لیڈر ہیں۔اویسی برادران کے فریب سے باہر نکلیں، جھارکھنڈ ہو مغربی بنگال یہ بی جے پی کی مدد کرنے کے سوا کچھ نہیں کریگا آپ یہ سمجھتے کیوں نہیں کہ تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ caa اور nrc کی حمایت میں ہے اور یہ اُسکے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ ممتا بنرجی caa کی مخالفت میں کمربستہ ہے اور یہ اُس کی مخالفت میں آج نہیں تو کل آپ سمجھ جائیں گے یہ اویسی بہت ہی زیادہ خطرناک ثابت ہونگے۔لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی،لہٰذا آج ہی اس حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

شندے کے کام پر عوامی نمائندوں کا اعتماد بلند، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمان کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا : ملند دیورا

Published

on

شیو سینا کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملند دیورا نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی میٹنگ میں کئی ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت ہی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کی پارٹی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین اجلاس غیر حاضر تھے ان میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔

دیورا نے کہا کہ آج عوام اور عوامی نمائندوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے کام اور قیادت پر بھروسہ ہے۔ ایکناتھ شندے صاحب ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو شندے صاحب کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔سنجے راؤت کو نشانہ بناتے ہوئے ملند دیورا نے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور قواعد کا علم نہیں ہے۔ یو بی ٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ کس قسم کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں اور وہپ کے قواعد کیا ہے ۔ وہپ کے معاملے پر دیورا نے کہا کہ وہپ صرف ایوان میں ووٹنگ کے لیے جاری کیا جاتا ہے، کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت کے لیے نہیں۔ یہ پارلیمانی قاعدہ ہے اور جو لوگ برسوں سے رکن ہیں انہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔ملند دیورا نے مزید کہا کہ سنجے راوت کبھی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ممبران پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ کو پیسے دیے گئے، اور کبھی ممبران پارلیمنٹ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔سنجے راوت نے اپنے ہی ایم پیز کی توہین کی۔ اس طرح کے رویے کے ساتھ، کون اس کے ساتھ کام کرنا چاہے گا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کا یو بی ٹی کی قیادت پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر انہیں دستیاب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لیڈر اب بھی ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا ہر اس شخص کا خیر مقدم کرتی ہے جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کرنا ہے۔آخر میں، دیورا نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ میں ان کی خیر خواہی ہی کرسکتا ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے سلسلے میں معاہدہ و مفاہمت پر دستخط

Published

on

ممبئی ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کاتصور اس کی تاریخی خوبصورتی کو زندہ کرنا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس قلعے کا تحفظ کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان آج (18 جون 2026)ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے کام کے سلسلے میں ایک مفاہمت معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں، جسے ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ لاس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی، محکمہ کسٹم کے پرنسپل کمشنر جناب اجے کمار پانڈے، محکمہ کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر نتن تاگڑے، وکرم پھڑکے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (جنوبی زون)پرشانت گائیکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (جنوبی زون) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر یوگیش دیسائی، قدیم ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری، ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر کے کے سانگلے وغیرہ موجود تھے

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی ہدایت کے مطابق ممبئی میں قدیم ڈھانچوں کا تحفظ اور تحفظ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ کے تحفظ اور احیاء کی پہل کی ہے۔ اس معاہدہ نامے کے تحت قلعہ ماہم کے خستہ حال ڈھانچے کو مضبوط اور دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ قلعہ کے علاقے میں موجود تاریخی کنویں کی تلاش اور کھدائی کی جائے گی۔ قلعہ کے اندرونی چاروں طرف پیدل چلنے کا راستہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ قلعہ کی بنیاد کی حفاظت کے لیے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے 20 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ۔میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈپارٹمنٹ نے ماہم قلعہ پر سے تجاوزات کو ہٹا کر مقیم مقامی باشندوں کی بازآبادکاری کی ہے۔ لہٰذا اب اس قلعے کی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جائے گی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ پر جو ایک تاریخی اور قدیم ورثہ ہے، پر تجاوزات کو ہٹانے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب انتظامیہ اس قلعے کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

کسٹم ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل کمشنراجے کمار پانڈے نے کہا کہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ ماہم قلعہ کو محکمہ کسٹم کے کسٹم اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے شروع کیا گیا تحفظ اور بحالی کا کام اس قلعے کو مشہور کرے گا۔ نیز، یہ قلعہ ممبئی والوں کے لیے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی کرے گا۔ماہم ایک قدیم قلعہ ہے اور راجہ بیمب دیو کی اولاد نے 12ویں اور 13ویں صدی کے آس پاس یہ قلعہ تعمیر کیا تھا۔ ممبئی کے سات جزیروں میں سے ماہم طاقت کا مرکزی مرکز تھا اور یہ قلعہ اسی شاندار تاریخ کی علامت ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 1975 میں قلعہ ماہم کو ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ قلعہ کا کل رقبہ تقریباً 3 ہزار 796.02 مربع میٹر ہے۔ فی الحال یہ قلعہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ قلعہ ماہم کے موجودہ ڈھانچے پر کچی آبادیوں کی شکل میں تجاوزات تھیں۔ پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد، درست دستاویزات کی تصدیق کی گئی اور 275 کچی آبادیوں کو کرلا اور ملاڈ میں پروجیکٹ متاثرین کے لیے دستیاب فلیٹوں میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ایک مذہبی ڈھانچے کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈویژن آفس، کسٹم ڈپارٹمنٹ، قدیم ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری اور ویرماتا کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سانگل کے جیجا بائی کی رہنمائی میں کرنے کی تجویز ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر باغی اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے : ابوعاصم اعظمی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر میں شیوسینا کے جاری آپریشن ٹائیگر پر بات کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی ممبئی/مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “آج کے عوامی نمائندے، لیڈر، اور کارکن اب نظریے پر نہیں چلتے، وہ لالچی ہو گئے ہیں۔ جو لوگ عوام کا ووٹ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے پارٹیاں بدلتے ہی ان کےعہدہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ اگر کوئی پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑتا ہے تو اسے پارٹی کا جھنڈا، بینر، نشان اور رقم فراہم کی جاتی ہے۔ کارکنان اپنے امیدوار کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ نمائندے پارٹی کے نظریے کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں، اور لوگ اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں ، اس لیے وہ انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم فتح کے بعد وہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہیں ۔ ایسا قانون بنایا جائے کہ اگر کوئی امیدوار فتحیابی کے بعد دوسری پارٹی میں شامل ہو جائے تو اس کا عہدہ کالعدم قراردیا جائے ۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو لالچ دینے، ڈرانے دھمکانےاور اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ شامل نہیں ہوتے ہیں تو انہیں کیجریوال اور سنجے سنگھ کی طرح جیل بھیج دیا جاتا ہے، لیکن وہ بے قصور ثابت ہوئے تھے۔بی جے پی دیگرپارٹی میں شگاف پیداکرنے کےلئے کوشاں ہوگئی ہے اس لئے مسلسل کئی پارٹیوں کے دو حصے ہوگئے ہیں ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان