Connect with us
Saturday,01-August-2026

(جنرل (عام

اویسی مسلمانوں کی قبر کھود رہا ہے: (صحافی عزیز برنی)

Published

on

AZIZBARNI

عزیز برنی نے اسدالدین اویسی کو قوم کا غدار کہہ کر تفصیلات کا ذکر کیا ہے. انہوں نے کہا کہCAA/NRCنہ ہوتا اگر کچھ غدّار مسلمان نہ ہوتے۔ عزیز برنی نے کہا مختار عبّاس نقوی،شاہنواز حسین،ایم جے اکبر،نجمہ حیپتلله،عارف محمد خان کا ذکر نہیں کر رہا ہوں بی جے پی ایسے 100 مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لے تو مسلمانوں پر کوئی فرق نہیں پڑ نے والا لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس جن مسلمانوں کو مسلمانوں کی صفوں میں ركھ کر مسلمانوں کا نمائندہ بنا کر پالتی ہے وہ آستین کا سانپ ثابت ہوتے ہیں اور قوم کو ڈس لیتے ہیں۔ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
جمعیۃ ملک بھر میں کشمیر کانفرنس کرتی رہی جب کشمیریوں کی بقہ کیلئے کشمیریت کے تحفظ کیلئے آرٹیکل 370 اور 35a کو کوئی خطرہ نہ تھا لیکن جب موجودہ حکومت نے مخصوص درجہ دینے والی ان دفعات کو ہٹا کر کشمیریوں کو انکے گھروں میں نظربند کر دیا تب جمعیۃ کے جنرل سیکرٹری محمود مدنی نے حکومت کی حمایت میں جینیوا جاکر بیان دیا کہ کشمیری خوش ہیں اور آرام سے ہیں۔یہ کشمیری عوام کی پیٹھ میں خنجر تھا جو حکومت کے وار سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔جمعیۃ اس وقت جمہوریت بچاؤ کانفرنس کر رہی تھی جب جمہوریت کو آج جیسا خطرہ نہ تھا اور جب جمہوریت کیلئے جمہوری نظام کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے وہ اپنے حجروں میں بند ہیں۔جمعیۃ اس وقت تحفظ آئین کانفرنس کر رہی تھی جب آئین کو خطرہ نہ تھا اور آج جب ہندو سکھ دلت سب caa اور nrc پر احتجاجی آواز بلند رہے ہیں تب یہ پورے ملک میں nrc نافذ کرنے کی بات کر رہے تھے،امت شاہ کی آواز میں آواز ملا رہے تھے۔ مولانا ارشد مدنی بند کمرے میں موہن بھگوت سے 90 منٹ طویل ملاقات میں کیا گفتگو کر کے آئے کوئی نہیں جانتا لیکن اُسکے بعد ملک کا منظرنامہ تیزی سے بدلتا گیا، جو سب جانتے ہیں ۔بابری مسجد پر فیصلہ،شہریت ترمیمی قانون،nrc،npr اُنکی زبان خاموش اور پاؤں میں زنجیریں ۔موہن بھاگوت با آواز بلند کہیں کہ ہندوستان میں پیدا ہر شخص ہندو ہے اور وہ چپ تھے ۔محمود مدنی کہیں شری رام کی تعلیمات اور حضرت محمد صلی علیہ وسلم کی تعلیم یکساں ہیں اور اُنکی طرف سے کوی وضاحت نہیں ۔
میں بیدار کرنے کی کوشش کرتا رہا اُنکی فوج میرے خلاف محاذ آرائی کرتی رہی میں نے اٹھایا سوال جمعیت یوتھ کلب پر کہاں ہے وہ آج جب اسکی ضرورت ہے؟ وقت رہتے قوم نہ سمجھ پائی،مصلحت مصالحت،حکمت کا نام دیتی رہی لیکن آج سچ سامنے آیا تو سب حیران پریشان کہ یہ کیا ہو گیا کاش کہ آپ وقت رہتے سمجھ لیتے۔
اسدالدین اویسی سردار ملّت یا ملّت فروش،یہ سمجھنا آج بھی آپکے لیے مشکل، وہ کہتا رہا سیکولرزم زندہ لاش ہے مسلمان اب اسکا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔کیا آج ملک کی بقا سیکولرزم میں نظر نہیں آتی؟ وہ سیکولرزم کو دفن کرنے کا اعلان کرتا رہا اور آپ اُسکے ساتھ کھڑے رہے یہ سوچا ہی نہیں کہ سیکولرزم نہیں تو فرقہ پرستی کے سوا کیا آج نتیجہ سامنے ہے کسی کو سمجھ نہیں آتا کہ ڈیڑھ بیگھا زمین کا بہانہ لیکر اعظم کے لئے زمین تنگ کر دی گئی لیکن دارالسلام کی زمین پر دیگر اداروں پر کوئی سوال نہیں،اعظم خان کی تقریر میں ایک شعر ایوان میں معافی کی وجہ بن جائے لیکن وہ بل کی کاپی پھاڑ دے تو کوئی ہنگامہ نہیں. مسلم مسائل پر ہزار لوگ بولا کریں لیکن تشہیر بس اسی کی سرکاری میڈیا کا چہیتا بس وہی آخر یہ عنایت کیوں؟ وہ ہر الیکشن میں بی جے پی کا مدد گار ثابت ہو اور قوم کیلئے وہ قائدِ ملّت یہ داڑھی ٹوپی اور شیروانی میں اُلجھی قوم نتائج پر غور کرتی ہی نہیں آج ملک بھر کا ہندو caa کی مخالفت میں کھڑا ہے لیکن میڈیا اُسے نظر انداز کرتی رہے مگر اویسی ایک اشتعال انگیز تقریر کر دے تو میڈیا اور بی جے پی کو مسالا مل جائے۔
چلو آج میں آپ کا یہ بھرم بھی توڑ ہی دیتا ہوں کہ اُسکی مسلم قیادت قوم کو کیا دے سکتی ہے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کو کتنا طاقتور بنا سکتی ہے،سیکولر پارٹیوں کو طاقتور بنانے کی بات کرنا ہی بیکار ہے اسکا ایجنڈا ہی سیکولرزم کے خلاف ہے،چلو اب مان لیا کے کل ہندوستان کا مسلم قائد وہی اور اُسکی پارٹی کا مسلمان ہی ایوان میں تو 543 کی لوک سبھا میں مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے؟ 1952 کے پہلے الیکشن سے 2019 تک کے اعداد و شمار میں آپکے سامنے رکھ دیتا ہوں
1952 میں۔2 ۔1957 میں۔19 ، 1962 میں20 ۔1967 میں 25 ،1971 میں 28 ۔1977 میں 34 ،1980 میں 49، 1984 میں 42 ،1989 میں (وی پی سنگھ عارف،ارون نہرو ،ست پال ملک اور بی جے پی ساتھ میں) تعداد 27 اسکے بعد 1991 میں 25، 1996 میں 29، 1998 میں 28 ۔1999 میں 31 ، 2004 میں 34 ،2009 میں 30 اب آیا اسدالدین اویسی کے عروج کا وقت 2014 میں 24 اور 2019 میں 27 ۔
یہ صرف مسلم ووٹوں پر جیت کر آنے والے مسلمان نہیں ہیں ان میں سیکولر ہندوؤں کا ووٹ بھی شامل ہے ۔اگر کچھ وقت کیلئے یہ مان بھی لیا جائے کہ تمام مسلمان اویسی اور اُسکی پارٹی کے ساتھ پارلیمنٹ میں سبھی مسلمان اُسکی پارٹی کے یعنی زیادہ سے زیادہ 25/30 وہ بھی سیکولر ہندو ووٹ ملنے پر جنکے وہ خلاف ہے تو کیا 543 میں سے 25/30 کسی قانون کو بننے سے روک سکتے ہیں؟ سبھی یعنی بی جے پی اور سیکولر پارٹیوں کو دشمن بنا کر جنکے خلاف وہ لڑ رہا ہے مسلمانوں کی سیاسی طاقت کیا ہوگی؟ سوچا ہے کبھی۔۔ ۔
خوابِ غفلت سے نکلیں اب اور دشمن نہ بنائیں caa اور nrc پر آپکے حامی سیکولر ہندوستانی اور پارٹی لیڈر ہیں۔اویسی برادران کے فریب سے باہر نکلیں، جھارکھنڈ ہو مغربی بنگال یہ بی جے پی کی مدد کرنے کے سوا کچھ نہیں کریگا آپ یہ سمجھتے کیوں نہیں کہ تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ caa اور nrc کی حمایت میں ہے اور یہ اُسکے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ ممتا بنرجی caa کی مخالفت میں کمربستہ ہے اور یہ اُس کی مخالفت میں آج نہیں تو کل آپ سمجھ جائیں گے یہ اویسی بہت ہی زیادہ خطرناک ثابت ہونگے۔لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی،لہٰذا آج ہی اس حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان