Connect with us
Thursday,05-November-2026

(جنرل (عام

اویسی مسلمانوں کی قبر کھود رہا ہے: (صحافی عزیز برنی)

Published

on

AZIZBARNI

عزیز برنی نے اسدالدین اویسی کو قوم کا غدار کہہ کر تفصیلات کا ذکر کیا ہے. انہوں نے کہا کہCAA/NRCنہ ہوتا اگر کچھ غدّار مسلمان نہ ہوتے۔ عزیز برنی نے کہا مختار عبّاس نقوی،شاہنواز حسین،ایم جے اکبر،نجمہ حیپتلله،عارف محمد خان کا ذکر نہیں کر رہا ہوں بی جے پی ایسے 100 مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لے تو مسلمانوں پر کوئی فرق نہیں پڑ نے والا لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس جن مسلمانوں کو مسلمانوں کی صفوں میں ركھ کر مسلمانوں کا نمائندہ بنا کر پالتی ہے وہ آستین کا سانپ ثابت ہوتے ہیں اور قوم کو ڈس لیتے ہیں۔ مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
جمعیۃ ملک بھر میں کشمیر کانفرنس کرتی رہی جب کشمیریوں کی بقہ کیلئے کشمیریت کے تحفظ کیلئے آرٹیکل 370 اور 35a کو کوئی خطرہ نہ تھا لیکن جب موجودہ حکومت نے مخصوص درجہ دینے والی ان دفعات کو ہٹا کر کشمیریوں کو انکے گھروں میں نظربند کر دیا تب جمعیۃ کے جنرل سیکرٹری محمود مدنی نے حکومت کی حمایت میں جینیوا جاکر بیان دیا کہ کشمیری خوش ہیں اور آرام سے ہیں۔یہ کشمیری عوام کی پیٹھ میں خنجر تھا جو حکومت کے وار سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔جمعیۃ اس وقت جمہوریت بچاؤ کانفرنس کر رہی تھی جب جمہوریت کو آج جیسا خطرہ نہ تھا اور جب جمہوریت کیلئے جمہوری نظام کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے وہ اپنے حجروں میں بند ہیں۔جمعیۃ اس وقت تحفظ آئین کانفرنس کر رہی تھی جب آئین کو خطرہ نہ تھا اور آج جب ہندو سکھ دلت سب caa اور nrc پر احتجاجی آواز بلند رہے ہیں تب یہ پورے ملک میں nrc نافذ کرنے کی بات کر رہے تھے،امت شاہ کی آواز میں آواز ملا رہے تھے۔ مولانا ارشد مدنی بند کمرے میں موہن بھگوت سے 90 منٹ طویل ملاقات میں کیا گفتگو کر کے آئے کوئی نہیں جانتا لیکن اُسکے بعد ملک کا منظرنامہ تیزی سے بدلتا گیا، جو سب جانتے ہیں ۔بابری مسجد پر فیصلہ،شہریت ترمیمی قانون،nrc،npr اُنکی زبان خاموش اور پاؤں میں زنجیریں ۔موہن بھاگوت با آواز بلند کہیں کہ ہندوستان میں پیدا ہر شخص ہندو ہے اور وہ چپ تھے ۔محمود مدنی کہیں شری رام کی تعلیمات اور حضرت محمد صلی علیہ وسلم کی تعلیم یکساں ہیں اور اُنکی طرف سے کوی وضاحت نہیں ۔
میں بیدار کرنے کی کوشش کرتا رہا اُنکی فوج میرے خلاف محاذ آرائی کرتی رہی میں نے اٹھایا سوال جمعیت یوتھ کلب پر کہاں ہے وہ آج جب اسکی ضرورت ہے؟ وقت رہتے قوم نہ سمجھ پائی،مصلحت مصالحت،حکمت کا نام دیتی رہی لیکن آج سچ سامنے آیا تو سب حیران پریشان کہ یہ کیا ہو گیا کاش کہ آپ وقت رہتے سمجھ لیتے۔
اسدالدین اویسی سردار ملّت یا ملّت فروش،یہ سمجھنا آج بھی آپکے لیے مشکل، وہ کہتا رہا سیکولرزم زندہ لاش ہے مسلمان اب اسکا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔کیا آج ملک کی بقا سیکولرزم میں نظر نہیں آتی؟ وہ سیکولرزم کو دفن کرنے کا اعلان کرتا رہا اور آپ اُسکے ساتھ کھڑے رہے یہ سوچا ہی نہیں کہ سیکولرزم نہیں تو فرقہ پرستی کے سوا کیا آج نتیجہ سامنے ہے کسی کو سمجھ نہیں آتا کہ ڈیڑھ بیگھا زمین کا بہانہ لیکر اعظم کے لئے زمین تنگ کر دی گئی لیکن دارالسلام کی زمین پر دیگر اداروں پر کوئی سوال نہیں،اعظم خان کی تقریر میں ایک شعر ایوان میں معافی کی وجہ بن جائے لیکن وہ بل کی کاپی پھاڑ دے تو کوئی ہنگامہ نہیں. مسلم مسائل پر ہزار لوگ بولا کریں لیکن تشہیر بس اسی کی سرکاری میڈیا کا چہیتا بس وہی آخر یہ عنایت کیوں؟ وہ ہر الیکشن میں بی جے پی کا مدد گار ثابت ہو اور قوم کیلئے وہ قائدِ ملّت یہ داڑھی ٹوپی اور شیروانی میں اُلجھی قوم نتائج پر غور کرتی ہی نہیں آج ملک بھر کا ہندو caa کی مخالفت میں کھڑا ہے لیکن میڈیا اُسے نظر انداز کرتی رہے مگر اویسی ایک اشتعال انگیز تقریر کر دے تو میڈیا اور بی جے پی کو مسالا مل جائے۔
چلو آج میں آپ کا یہ بھرم بھی توڑ ہی دیتا ہوں کہ اُسکی مسلم قیادت قوم کو کیا دے سکتی ہے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کو کتنا طاقتور بنا سکتی ہے،سیکولر پارٹیوں کو طاقتور بنانے کی بات کرنا ہی بیکار ہے اسکا ایجنڈا ہی سیکولرزم کے خلاف ہے،چلو اب مان لیا کے کل ہندوستان کا مسلم قائد وہی اور اُسکی پارٹی کا مسلمان ہی ایوان میں تو 543 کی لوک سبھا میں مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے؟ 1952 کے پہلے الیکشن سے 2019 تک کے اعداد و شمار میں آپکے سامنے رکھ دیتا ہوں
1952 میں۔2 ۔1957 میں۔19 ، 1962 میں20 ۔1967 میں 25 ،1971 میں 28 ۔1977 میں 34 ،1980 میں 49، 1984 میں 42 ،1989 میں (وی پی سنگھ عارف،ارون نہرو ،ست پال ملک اور بی جے پی ساتھ میں) تعداد 27 اسکے بعد 1991 میں 25، 1996 میں 29، 1998 میں 28 ۔1999 میں 31 ، 2004 میں 34 ،2009 میں 30 اب آیا اسدالدین اویسی کے عروج کا وقت 2014 میں 24 اور 2019 میں 27 ۔
یہ صرف مسلم ووٹوں پر جیت کر آنے والے مسلمان نہیں ہیں ان میں سیکولر ہندوؤں کا ووٹ بھی شامل ہے ۔اگر کچھ وقت کیلئے یہ مان بھی لیا جائے کہ تمام مسلمان اویسی اور اُسکی پارٹی کے ساتھ پارلیمنٹ میں سبھی مسلمان اُسکی پارٹی کے یعنی زیادہ سے زیادہ 25/30 وہ بھی سیکولر ہندو ووٹ ملنے پر جنکے وہ خلاف ہے تو کیا 543 میں سے 25/30 کسی قانون کو بننے سے روک سکتے ہیں؟ سبھی یعنی بی جے پی اور سیکولر پارٹیوں کو دشمن بنا کر جنکے خلاف وہ لڑ رہا ہے مسلمانوں کی سیاسی طاقت کیا ہوگی؟ سوچا ہے کبھی۔۔ ۔
خوابِ غفلت سے نکلیں اب اور دشمن نہ بنائیں caa اور nrc پر آپکے حامی سیکولر ہندوستانی اور پارٹی لیڈر ہیں۔اویسی برادران کے فریب سے باہر نکلیں، جھارکھنڈ ہو مغربی بنگال یہ بی جے پی کی مدد کرنے کے سوا کچھ نہیں کریگا آپ یہ سمجھتے کیوں نہیں کہ تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ caa اور nrc کی حمایت میں ہے اور یہ اُسکے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ ممتا بنرجی caa کی مخالفت میں کمربستہ ہے اور یہ اُس کی مخالفت میں آج نہیں تو کل آپ سمجھ جائیں گے یہ اویسی بہت ہی زیادہ خطرناک ثابت ہونگے۔لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی،لہٰذا آج ہی اس حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

(جنرل (عام

اتراکھنڈ کے اترکاشی میں گاڑی دریا میں جا گری، 4 افراد ہلاک، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

Published

on

Death

اترکاشی : جمعرات کی صبح اتراکھنڈ کے اترکاشی میں گنگنی دھرم کنڈ کے قریب ایک ایم یو وی سیدھا دریا میں گرنے کے بعد چار افراد کی موت ہو گئی، جبکہ تین کی تلاش جاری ہے۔ یہ حادثہ گنگوتری نیشنل ہائی وے پر گنگنی دھرم کنڈ کے قریب جمعرات کی صبح پیش آیا، جب ایک ایم یو وی کار سیدھی دریا میں جا گری۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 7 سیٹوں والی کار میں سات افراد سوار تھے۔ حادثے کے بعد دریا کے کنارے سے چار افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ دیگر ممکنہ مسافروں کی تلاش کے لیے تیز دریا میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر متحرک کردیا گیا۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کار گنگنانی دھرم کنڈ سے 20 میٹر آگے ڈبرانی کی طرف کنٹرول کھو بیٹھی اور دریا میں گر گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس، ایس ڈی آر ایف اور 108 ایمرجنسی سروس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔ ضلع مجسٹریٹ پرشانت آریہ کی ہدایت پر فوری طور پر راحت اور بچاؤ کام شروع کیا گیا۔ ندی کے کنارے سے چار لاشیں ملنے کے بعد متوفی کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا، غوطہ خوروں کو گاڑی میں سوار دیگر افراد کی تلاش کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔

دریا کا تیز بہاؤ ریسکیو آپریشن کے لیے ایک اہم چیلنج بن رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں دریا کے کنارے ممکنہ علاقوں میں مکمل تلاشی لے رہی ہیں۔ مانیری پولیس کی مدد سے ایک زخمی کو سڑک تک لانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ انتظامیہ نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر اور میڈیکل ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ پرشانت آریہ پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جائے وقوعہ پر موجود اہلکاروں کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتظامیہ متاثرین کے اہل خانہ سے رابطہ قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ حادثے کی وجوہات کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہے: ابو عاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابوعاصم اعظمی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ ‘یونیفارم سول کوڈ’ (یو سی سی ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “یو سی سی بل دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہےپریس کانفرنس کے دوران، ابو عاصم اعظمی نے یو سی سی بل کے حوالے سے اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے جو مہلت یعنی 15 نومبر تک دی گئی ہے وہ ناکافی ہے؛ لہٰذا، اس آخری تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔اس عمل پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے، اعظمی نے کہا کہ “تجاویز جمع کراتے وقت شہریوں سے ان کی ذات اور مذہب کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس عمل میں شامل سوالات بھی نامناسب انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور ناقص طریقوں کی وجہ سے کمیٹی کے رکن آشیش چوہان نے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہےشہری حقوق کے معاملے پر حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب شہری حقوق کی بات آتی ہے، تو حکومت صرف مذہب سے متعلق معاملات پر ہی کارروائی کر رہی ہے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شئیر ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی ۳ گرفتار

Published

on

ممبئی سائبر ساؤتھ نے ممبئی میں شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ دھوکہ دہی کے معاملہ میں بڑی کارروائی انجام دیتے ہوتےسائبر جرائم میں، 3 ملزمان کو ناگپور سے گرفتار کر کے ممبئی کے 06 اور کل 73 جرائم میں حصہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ ۱۰ جون ۲۰۲۶ سے تاریخ ۸ ستمبر کے دوران، خاتون میرا آئیر اور ان کے ساتھی دار نے شکایت کنندہ کو شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ کے ذریعے زیادہ نفع کا لالچ دے کر شکایت کنندہ کو مختلف بینک کھاتوں میں کل 58,72,410/- اتنی رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقلی کر شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کی اس معاملہ میں سائبر پولیس تھانہ، ممبئی میں 79/2026، دفعہ 318(4)، 319(2)، 338، 340، 61(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا دفعہ 66(ک)، 66(ڈ) معلوماتی تکنیک قانون کے تحت جرم درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم کی تفتیش میں شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کل رقم میں سے روپے 24,75,000/ رقم سنٹرل بینک آف انڈیا، شاخ، ناگپور اس بینک میں گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی اس کمپنی کے نام سے موجود جاری کھاتہ میں منتقل کی گئی ایسا پایا گیا تکنیکی تجزیہ اور نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر موجود معلومات کی بنیاد پر، مذکورہ بینک کھاتہ دار ملزم کا سراغ ناگپور میں ملا ، ۲ اکتوبر کو مذکورہ جرم کے سرغنہ سمیت 03 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے سازش رچ کر، ملزم انیرودھ اوکے اور مرکزی سرغنہ ملزم امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم نام رتیک شیلیش دھارگاوے کے نام سے گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی کمپنی قائم کی مذکورہ کمپنی قائم کرنے کے لیے جھوٹا معاہدہ کیامرکزی سرغنہ ملزم نام امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم ساتھی دار نام رتیک دھارگاوے کے نام سے موجود موبائل اپنے میں لاگ ان کرکے استعمال کرکے دھوکہ دہی کا کاروبار انجام دینے کے لیے مذکورہ موبائل نمبر دیگر ساتھی داروں کو دے کر دھوکہ دہی کی رقم آن لائن منتقل کی گئی تفتیش میں اس کا خلاصہ ہوا ۔

گرفتار ملزمین کے پاس سے
1) 11 مختلف بینک کھاتوں کے ضبط کیے گئے چیک بکس اور پاس بکس
2) 25 مختلف کمپنیوں کے سم کارڈز
3) 11 بناوٹ کمپنیوں کے ربڑ اسٹیمپس اور 03 اسٹیمپ پیڈز
4) ڈیبٹ/اے-ٹی-ایم کارڈز، کیو-آر کوڈ
5) بناوٹ کمپنیوں کے کاغذات و پین کارڈز برآمد ہوئے ہیں ان کی شناخت 1) امیت دلیپ راؤ کالے، عمر- 34 سال، پلاٹ نمبر 18، واٹوڈا روڈ، چیتنیشور نگر، واٹوڈا، ناگپور، رتیک شیلیش دھارگاوے، عمر – 25 سال، نیو اندرا ریپبلکن نگر، لائن نمبر 2، جریپٹکا، ناگپور ، 3) انیرودھ ستیش اوکے، عمر – 30 سال، پلاٹ نمبر 3564 اے/1، بدھ گیا بدھ وہار کے قریب، سرسوتی نگر، جریپٹکا، ناگپور کے طور پر ہوئی ۔ مذکورہ جرم میں مرکزی سرغنہ ملزم اور اس کے دیگر 02 ساتھی داروں کو گرفتار کرنے میں ساؤتھ سائبر پولیس تھانہ،ممبئی کو کامیابی ملی ہے۔ مذکورہ قابل ستائش کارکردگی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ، ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان