Connect with us
Saturday,01-August-2026

سیاست

مختارعباس نقوی نےکہاکہ این پی آر بھی کسی طور مسلمانوں کے خلاف نہیں

Published

on

mukhtar-abbas

اس تمہید کے ساتھ کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں موجودہ حکومت بلا تفریق مذہب و ملت ہر ضر ورت مند کی آنکھوں میں خوشی اور زندگی میں خوشحالی لانے کے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سٹیزن شپ ترمیم ایکٹ،این آر سی اور اب قومی آبادی کا رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کا سرکاری فیصلہ کسی بھی طرح ہندستانی مسلمانوں کے خلاف نہیں ۔
انہوں نے اپنے ایک آرٹیکل میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اس وضاحت کی تائید کی ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ، کسی کی شہریت لینے کے لئے نہیں بلکہ شہریت دینے کے لئے ہے اور اینآرسی کا 1951 سے تعلق آسام کے علاوہ کہیں اور سے نہیں۔
مسٹر نقوی نے الزام لگایا کہ سٹیزن شپ ترمیم ایکٹ،این آر سی اور اب قومی آبادی کا رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کے فیصلے کے حوالے سےسماج کے ایک طبقے میں ”خوف اور شک کا بھوت“کھڑا کیا جارہا ہے۔ ”جھوٹ کے جھاڑ سے سچ کے پہاڑ“ کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں 2014 سے اب تک کے سرکاری کام کاج کوقوم کے حق میں مجموعی طو ر پر خودمختاری اور ظاہری خوشحالی سے سرشار ی کی کوشش پر محمول کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جن 2 کروڑ غریبوں کو گھر دیا گیا ہے ان میں 31 فیصد اقلیتی آبادی خاص طور پر مسلم طبقہ کی ہے۔ 6 لاکھ دیہاتوں میں بجلی پہنچائی تو 39 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے گاؤں جن کے مکانات روشن ہیں، 22 کروڑ کسانوں کو ”کسان سمان ندھی“ کے تحت فوائد دیئے گئے تو، اس میں بھی 33 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے غریب کسان ہیں۔ اسی طرح 8کروڑ خواتین کو ”اْجوّ لا یوجنا“ کے تحت مفت گیس کنیکشن دیا تو اس میں 37 فیصد اقلیتی طبقے کے غریب خاندان مستفید ہو ئے۔ 21کروڑ افراد کو ”مدرایوجنا“ کے تحت روزگار سمیت دیگر معاشی سرگرمیوں کے لئے آسان قرضے دیئے گئے ہیں جن میں 36 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے افراد مستفید ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ بجلی،سڑک،پانی،تعلیم،روزگار، ذاتی روزگار کے پروگراموں کا بھرپور فائد ہ اقلیتی سماج کے غریب کمزور طبقے کو ہوا، کیونکہ زیادہ تر اسکیمیں غریبوں، کمزور طبقوں کے لئے ہوتی ہیں اور ان 70 برسوں میں، اقلیتی طبقہ خصوصآٓمسلم سماج غربت اور تعلیم کا شکار رہا۔اسی لئے مودی سرکار کی غریب اور کمزور طبقوں کی مضبوطی کی سبھی اسکیموں کا بھرپور فائدہ اقلیتی سماج کو ہو رہا ہے۔
حکومت کے کام کاج کی اس تفصیل کے پس منظر میں مسٹر نقوی سوال کیا کہ سوال کیا کہ جس وزیر اعظم نے کسی بھید بھاؤ کے بغیرغریبوں کو مکان دیا، ان کے گھروں میں اجالا کیا کیا وہ انھیں بے گھر اور ا ن کی زندگی میں اندھیرا ہوتے کبھی دیکھ سکتے ہیں؟اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شہریت بل،این۔آر۔سی پر وزیر اعظم نے واضح پیغام یہ دیا ہے کہ کسی قانون سے ہندستانی مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہوگا۔شہریت ترمیمی قانون۔ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان۔ میں مذہبی بھید بھاؤ اور اقلیتی طبقے کے متاثرہ افراد کو شہریت دینے کا قانون ہے۔ وہ بھی اگر وہ لوگ چاہیں گے تب۔ جہاں تک سوال ہے غیر ممالک میں بسنے والے مسلم سماج کے لوگوں کو شہریت دینے کا، تو یہ شق ہندوستانی سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں آج بھی موجود ہے اورکوئی بھی غیر ملکی شہری،جس میں مسلم بھی شامل ہیں، سٹیزن شپ ایکٹ 1955کے سیکشن 5 کے تحت ہندستانی شہریت لے سکتے ہیں۔ پچھلے 5برسوں میں، 500 سے زیادہ مسلمانوں کو ہندستانی شہریت دی گئی ہے۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا ہے کہ سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ کی تاریخی اہمیت ہے، 1955 میں ہندستان کے وزیر داخلہ پنڈت گووند بلبھ پنت اور پاکستان کے وزیر داخلہ میجر جنرل اسکندر مرزا کے مابین معاہدہ ہوا،اس سمجھوتے کے تحت بھارت سرکار کی ذمے داری ہے کہ پاکستان میں موجودغیر مسلم مذہبی مقامات کی حفاظت کا خیال رکھنا ہے۔ نیز غیر مسلمانوں کے مذہببی۔سماجی سروکار کی بھی فکرکرنی ہے۔
’’پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی پرظلم و ستم اور ایذا رسانی کی پہلے کی ہندستانی سرکاروں نے کوئی فکر نہیں کی۔ جو پناہ گزین مجبور اًبھاگ کر آگئے ان پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی تلوار لٹک رہی تھی۔اور بھارت میں قانون کا ڈنڈ ا لٹکا ہوا تھا۔ وہاں سے جان بچا کر آئے تو یہاں بھی جان مشکلوں سے دو چار ہوتی رہی۔ اسی غیرانسانی توہین کو انسانی احترام دینے کے لئے شہریت ترمیم قانون لایا گیا ہے۔ یہ خالص طور سے پاکستان،بنگلہ دیش افغانستان کی اقلیتوں کو انسانی احترام، تحفظ دینے کے مقصدسے لایا گیا ہے۔ اس کا ہندستانی مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی اس سے ان پر کوئی اثر پڑے گا‘‘۔
مسٹر نقوی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جہاں اقلیتی طبقے کے لوگ بے عزتی او ر توہین کے شکار ہیں وہیں بھارت میں اقلیتی طبقے کے لوگ ترقی میں برابر کے حصے دار رہتے آئے ہیں۔ پچھلے لگ بھگ پانچ برسوں میں ہی مختلف اسکالرشپ اسکیموں سے غریب،کمزور اقلیتی طبقے کے ریکارڈ تقریبآٓ 3 کروڑ 20 لاکھ طلباء مستفید ہوئے ہیں جن میں لگ بھگ 60 فیصد طالبات بھی شامل ہیں۔، 2014 سے ابھی تک ”سیکھو اور کماؤ“ ، ”استاد“ ، ”غریب نواز روزگار یوجنا“، ”نئی منزل“ وغیرہ نئے ترقیاتی پروگراموں کے ذریعہ 8 لاکھ سے زیادہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو کوشل وکاس اور روزگار۔ روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ ان میں تقریبآٓ 50 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ ”ہنر ہاٹ“ کے ذریعے پچھلے 2برسوں میں 2 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ اقلیتی طبقے کے دستکاروں۔شلپ کاروں کو نہ صرف ملازمت۔ روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ بلکہ انھیں قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ اور مواقع بھی مہیا کرائے گئے ہیں۔
ایک موازنہ کے تحت انہوں نے کہا کہ یو پی اے سرکارمیں صرف 90 اضلاع اقلیتی طبقوں کی ترقیّ کے لئے منتخب کئے گئے تھے وہیں مودی سرکار میں اس کو پھیلا کر دیش کے 308 اضلاع،1300 بلاک میں اقلیتی سماج خصوصاً لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کے لئے لازمی سہولیات کے ساتھ جنگی پیمانے پر کام جاری ہے۔’’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘‘کے تحت گذشتہ لگ بھگ 5برسوں کے دوران 8 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے 33 ڈگری کالج، 1 ہزار 398 اسکول کی عمارتیں، 40 ہزار 201 اضافی کلاس روم 574 ہاسٹلز 81 آئی ٹی آئی 50پالی ٹیکنک 39 ہزار 586 آنگن واڑی مراکز 398سدبھاونا منڈپ، 123 رہائشی اسکول، 570 مارکیٹ شیڈ، 104کامن سروس سینٹر وغیرہ سہولیات کا مودی سرکار کے ذریعہ زیادہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں تعمیر کرائی گئی ہیں۔
پاکستان کو اقلیتی طبقے کے لوگوں کے لئے جہنم اور ہندوستان کو جنت گردانتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ’’ یہی حقیقت کچھ غیر منظم قوتوں کی آنکھ میں کر کر ی بنی ہوئی ہے اور وہ بھارت کی کثرت میں وحدت کی طاقت کو کمزور کرنے کی سازشوں کا تانا۔بانا بن رہی ہیں‘‘۔
این آر سی، کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ عمل 1951 سے آسام میں شروع ہوا، پھر 1975 میں اسے آگے بڑھانے کی تحریک اور مانگ ہوئی۔ پھر 2013 میں،سپریم کورٹ نے اسے آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔لیکن صرف آسام تک محدود ہے۔ ایک فہرست 31 اگست 2019 کو جاری ہوئی جو نام نہیں آئے سرکار این آرسی سیواکیندروں،ٹربیونلوں میں قانونی طور پر ان کو مددفر اہم کر رہی ہے۔ 1951 سے آسام میں جاری این آرسی کا عمل ابھی بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
جہاں تک سوال ہے ملک کے دیگر حصوں میں این آر سی کو متعارف کرانے کا،تو اس سے متعلق انہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے او ر نہ ہی دوسری ریاستوں میں این آر سی پر عمل کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جوہنگامہ اور سیا سی ڈرام عروج پر ہے اس کے پس منظر میں من گھڑت اور جھوٹ سے بھرپور کہانی بنا کر ایک خاص سماج کے کندھے پر بندوق رکھ کر “سیاست کی سانپ سیڑھی” کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ دراصل موضوعات کی کنگالی نے کچھ سیاسی جماعتوں کو فروعی معاملات کا موالی “بنا دیا ہے۔ اور اب مردم شماری کو لے کر تشویش اور الجھن کا جال بچھایا جارہا ہے۔اور کچھ سیاسی پارٹیاں لوگوں کو اپنے “چالاکی کے چکرویو ” میں پھنسا نے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مردم شماری یا این پی آر لگاتار جاری رہنے والا عمل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مردم شماری 1951,1961,1971,1981,1991,2001,2011 میں ہوئی۔ اب اس حوالے سےبھی لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔’’ ہمیں سمجھناچاہئے کہ جمہوریت سے ہارے لوگ”غنڈہ تنتر“ سے جمہوریت کا اغوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
مسٹر نقوی نے اس عزم کے ساتھ اپنی بات مکمل کی کہ ’’ ہمارے لئے، ہندستان کی مٹی ہمارا ایمان ہے، اس مٹی میں پیدا ہوا ہر شخص یہیں رہے گا، کسی کے بھی سماجی، مذہبی،دستوری، شہری حق پر کوئی سوال یا خطرہ نہ ہے، نہ ہوگا۔یہی سچاّئی سے بھرپور حقیقت ہے،باقی سب تشویش سے بھرا ا فسانہ ہے۔ آئیے ہم سب متحد ہوکرخوف و ہراس اور شک کے بھوت کا صفایا کریں‘‘۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان