Connect with us
Thursday,17-September-2026

سیاست

مہاراشٹر میں این آر سی کا نفاذ نہیں ہوگا: وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے

Published

on

thackry

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کی قیادت میں شہر کے علمائے کرام ،اراکین اسمبلی امین پٹیل، این سی پی ترجمان نواب ملک اورعمائدین شہر کی ایک اہم میٹنگ میں یہ یقین دہانی کروائی کہ ریاست میں این آر سی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اس لئے آپ پوری طرح سے مطمئن رہیں۔ یہ میرا وچن ہے۔ جو احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ احتجاجی مظاہرے کا سماج دشمن عناصر غلط فائدہ اٹھا کر تشدد برپا کر سکتے ہیں۔ریاست میں نظم ونسق اور بقا کی ضرورت اب عوام کی ہے جو غلط فہمیاں ہیں اس کو بھی دور کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے وفد سے عہد لیا ہے کہ وہ ریاست میں امن وامان کی فضا کو بر قرار رکھنے میں تعاون کریں گے۔ علماۓ کرام نے یہ واضح کیا کہ ہم ریاست کی فلاح اور امن کے لئے آپ کے ساتھ ہیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے تعلق سے لوگوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ اس لئے ہم عوام کے جذبات سے طرح واقف ہیں۔ کیونکہ یہ مسئلہ ملک کا ہے اور ریاست میں ہم اس کا نفاذ قطعی نہیں کریں گے ۔ ادھوٹھاکرے نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں این آر سی کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حراستی مراکز ڈٹینشن کیمپ ہندوستانیوں کے لئےنہیں ہے۔ بلکہ یہ غیر قانونی طور پر مقیم نائیجریائی یا دیگر باشندوں کے لئے ہے۔ این آر سی کےلئے مہاراشٹر میں کوئی ڈٹینشن سینٹر کاقیام عمل میں نہیں لایا گیا۔ یہ میرا وچن ہے کہ این آر سی کی زد میں کوئی بھی شہری نہیں آئے گا۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ اب احتجاجی مظاہرے نہ کریں ۔ کیونکہ سماج دشمن عناصر ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام کی بات ہم تک پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اب ریاست میں امن کے قیام کی ضرورت ہے۔ رکن اسمبلی اور ایس پی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے سے عوام بالخصوص مسلمانوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کےدوران پولس کی شبیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پربھنی اور بیڑ میں پولس نے سخت کارروائی کی ہے ایسے معاملے میں جو کیس درج کئے گئے ہیں اس میں نرمی پیدا کی جائے۔ جبکہ احتجاجی مظاہروں کامقصد اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے یہ واضح کیا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کو اس ریاست میں نافذ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ ریاست میں نقص امن کے لئے خطرہ ہے انہوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آپ مسلمانوں اور عوام کو این آر سی اور سی اے اے کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ریاست مہاراشٹر میں اسے نافذ نہ کریں ۔ مولانا سجاد نعمانی بھی این آر سی اور سی اے اے پر عوام میں پھیلی ناراضگی اور بے اطمینانی سے وزیر اعلی کو واقف کروایا اور کہا کہ اس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ وفد میں شامل “ٹیس “کے لیڈر فہد شیخ نے گزارش کی ریاست میں این آر سی اور سی اے اے نفاذ نہ کرنے کے لئے آپ نوٹیفکیشن جاری کریں۔ کیونکہ یہ مسئلہ اب عوام میں اس قدر عام ہوگیا ہے کہ ہر کوئی این آر سی کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ریاستی حکومت نوٹیفکیشن جاری کرے۔ اس اہم میٹنگ میں مسلم اراکین اسمبلی این سی پی کے نواب ملک , رکن اسمبلی امین پٹیل ,سماجوادی پارٹی لیڈر اور ترجمان عبدالقادر چودھری، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی، مولانا عبدالسلام سلفی ،مولانا مفتی حذیفہ قاسمی، مولانا اعجاز کشمیری ، ممبئی امن کمیٹی فرید شیخ، پرویز صدیقی سمیت اکابرین اور مقتدر اشخاص شریک تھے ۔ جبکہ ڈائریکٹر جنرل آف پولس سبودھ جیسوال، پولس کمشنر سنجۓ بروے سمیت مختلف اعلی افسران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹس کا استعمال کر کے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گوا سے گرفتار، ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

Published

on

chori

ممبئی : ممبئی سائبر دھوکہ بازوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کے بعد اب مزید ۷ سائبر دھوکہ بازوں کو گوا سے گرفتار کرنے کا دعویٰ ممبئی کرائم برانچ نے کیا ہے۔ اس سے قبل تین ملزمین کو اسی معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش میں پیش رفت پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔ ۱۱ ستمبر کو ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ 5 کو موصول ہونے والی خفیہ معلومات سے سائبر دھوکہ دہی کرنے والے 03 افراد کے خلاف کارررائی کرتے ہوئے دفعہ 318(4), 61, 45, 3(5) بی این ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 66(ڈ) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی, اس میں پیش رفت کے بعد یونٹ پانچ نے مزید کارروائی کی۔ مذکورہ ملزمین خود نیز اپنے دیگر ساتھیوں سمیت خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف بینکوں میں بینک اکاؤنٹ کھول کر مذکورہ بینک اکاؤنٹس سے لنک کرنے کے لیے خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف سم کارڈ خریدی کرتے تھے۔ مذکورہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ان کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، سم کارڈ نیز متعلقہ بینک اکاؤنٹس سے منسلک دیگر ذرائع کا براہ راست قبضہ اور کنٹرول خود کے پاس رکھ کر مذکورہ اکاؤنٹس کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کرتے تھے۔ ان کے پاس سے مختلف بینکوں کی 88 پاس بک، 143 چیک بک، 100 اے ٹی ایم کارڈ، 24 موبائل، 167 سم کارڈ، 2 لیپ ٹاپ ضبط کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمے کی مزید تفتیش میں تکنیکی تجزیہ اور اے آئی کی بنیاد پرریاست گوا سے ۱۳ ستمبر کو ریزورٹ میں ایک ویلا سے سائبر دھوکہ دہی آپریٹ کرنے والے 07 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے 1) مختلف کمپنیوں کے 59 موبائل فون، 2) مختلف کمپنیوں کے کل 19 سم کارڈ، 3) 09 لیپ ٹاپ، 4) 51 اے ٹی ایم، 5) 12 پاس بک اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔ ملزمان نے مالی دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے خود کی ایپلی کیشن بنا کر اس کا استعمال کیا ہے اس کا انکشاف ہوا ہے۔

مذکورہ ملزمان کی عدالت نے ۲۴ ستمبر تک پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر (جرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل کمشنر (جرائم) کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی، راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

ایم پی کے جبل پور کالج ہاسٹل میں انجینئرنگ کے طالب علم کی خودکشی، تحقیقات جاری

Published

on

Death

جبل پور، 16 ستمبر، جبل پور انجینئرنگ کالج (جے ای سی) کے مکینیکل انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم نے مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے جبل پور کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش بھر میں خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور اداروں میں انجینئرز ڈے منائے جانے کے ایک دن بعد بدھ کو سامنے آیا۔ متوفی کی شناخت ساتویں جماعت کے طالب علم کے طور پر ہوئی ہے۔ رانجھی تھانہ علاقے میں گاندھی ویام شالا کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں اس کا کمرہ۔ پولیس کے مطابق پانڈے کمرے میں اکیلا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ اس کے دو روم میٹ باہر گئے ہوئے تھے۔

واپس آنے پر انہوں نے کمرہ بند پایا اور اسے کھولنے کے بعد پانڈے کو چھت سے لٹکا ہوا پایا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ رانجھی پولس اسٹیشن کے انچارج امیش گولہانی نے بتایا کہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنی قمیض کو پھندا لگانے کے لیے استعمال کیا تھا۔” اوم کمرے میں اکیلا تھا جب اس کے روم میٹ باہر گئے تھے۔ جب وہ کمرے میں واپس آئے تو انہیں خودکشی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ گولہانی نے مزید کہا۔پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش اور خاندان کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پانڈے ایک ہونہار طالب علم تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل بیمار ہونے کے بعد اس نے کچھ مضامین میں بیک لاگ تیار کیا تھا۔

مبینہ طور پر زیر التوا مضامین نے اسے ذہنی تناؤ کا سبب بنایا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے میں تعلیمی دباؤ کا سبب تھا، لیکن موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔” ہم اس کے دوستوں، کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات کی وجہ سے ہوا۔ صحیح وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔” جبل پور سٹیشن ہاؤس آفیسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے حصے کے طور پر اس کے حالیہ تعلیمی اور ذاتی حالات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔

Continue Reading

سیاست

کٹکا کانگریس کے سربراہ ہری پرساد کے خلاف ‘عمر خالد ایک قوم پرست’ تبصرہ پر شکایت درج

Published

on

بنگلورو، 16 ستمبر ہندو کارکن تیجس گوڑا نے بدھ کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر بی کے کے خلاف بنگلورو کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ ہری پرساد نے عمر خالد کو “قوم پرست” قرار دینے اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ان پر تبصرہ کرنے کے اختیار پر سوال اٹھانے پر اپنے ریمارکس پر۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ کانگریس لیڈر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے گوڑا نے کہا کہ ہری پرساد نے عمر خالد کو ودھانا سودھا کے احاطے میں ایک “قوم پرست” کہا تھا، جس کا ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ہندوستانی شہریوں کی توہین تھی۔ سبھی،” ہندو کارکن نے الزام لگایا۔

گوڈا نے 2020 کے دہلی فسادات کیس کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت خالد کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دینا قانونی طور پر قابل اعتراض ہے اور اس معاملے پر کانگریس کے ملزم خالدوٹیل کے موقف پر سوال اٹھایا۔ یو اے پی اے کے تحت، ہری پرساد کے لیے ایک قوم پرست ہے، اس سے کرناٹک کانگریس کے صدر اور پارٹی کی پالیسی پر سوال اٹھتے ہیں۔” گوڑا نے کہا کہ پولیس حکام نے انہیں مطلع کیا ہے کہ شکایت درج کی جائے گی۔ مہاتما گاندھی کی تنظیم کی نظریاتی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے، اے بی وی پی کو ان کے بارے میں بات کرنے کا اختیار۔

بی کے ہری پرساد نے منگل کے روز جیل میں بند کارکن عمر خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دیا اور اس کے ناقدین کو اخلاقیات اور اخلاقیات سے عاری قرار دیا۔”عمر خالد ایک قوم پرست ہیں، اور اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کو عمر خالد پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اے بی وی پی ناتھورام کو پوجتی ہے اور وہ پہلے ملک دشمن دہشت گرد تھے۔ ہری پرساد نے بنگلورو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ عمر خالد پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق یا اخلاقیات نہیں ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان