سیاست
مہاراشٹر میں این آر سی کا نفاذ نہیں ہوگا: وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے
ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کی قیادت میں شہر کے علمائے کرام ،اراکین اسمبلی امین پٹیل، این سی پی ترجمان نواب ملک اورعمائدین شہر کی ایک اہم میٹنگ میں یہ یقین دہانی کروائی کہ ریاست میں این آر سی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اس لئے آپ پوری طرح سے مطمئن رہیں۔ یہ میرا وچن ہے۔ جو احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ احتجاجی مظاہرے کا سماج دشمن عناصر غلط فائدہ اٹھا کر تشدد برپا کر سکتے ہیں۔ریاست میں نظم ونسق اور بقا کی ضرورت اب عوام کی ہے جو غلط فہمیاں ہیں اس کو بھی دور کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے وفد سے عہد لیا ہے کہ وہ ریاست میں امن وامان کی فضا کو بر قرار رکھنے میں تعاون کریں گے۔ علماۓ کرام نے یہ واضح کیا کہ ہم ریاست کی فلاح اور امن کے لئے آپ کے ساتھ ہیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے تعلق سے لوگوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ اس لئے ہم عوام کے جذبات سے طرح واقف ہیں۔ کیونکہ یہ مسئلہ ملک کا ہے اور ریاست میں ہم اس کا نفاذ قطعی نہیں کریں گے ۔ ادھوٹھاکرے نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں این آر سی کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حراستی مراکز ڈٹینشن کیمپ ہندوستانیوں کے لئےنہیں ہے۔ بلکہ یہ غیر قانونی طور پر مقیم نائیجریائی یا دیگر باشندوں کے لئے ہے۔ این آر سی کےلئے مہاراشٹر میں کوئی ڈٹینشن سینٹر کاقیام عمل میں نہیں لایا گیا۔ یہ میرا وچن ہے کہ این آر سی کی زد میں کوئی بھی شہری نہیں آئے گا۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ اب احتجاجی مظاہرے نہ کریں ۔ کیونکہ سماج دشمن عناصر ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام کی بات ہم تک پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اب ریاست میں امن کے قیام کی ضرورت ہے۔ رکن اسمبلی اور ایس پی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے سے عوام بالخصوص مسلمانوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کےدوران پولس کی شبیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پربھنی اور بیڑ میں پولس نے سخت کارروائی کی ہے ایسے معاملے میں جو کیس درج کئے گئے ہیں اس میں نرمی پیدا کی جائے۔ جبکہ احتجاجی مظاہروں کامقصد اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے یہ واضح کیا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کو اس ریاست میں نافذ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ ریاست میں نقص امن کے لئے خطرہ ہے انہوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آپ مسلمانوں اور عوام کو این آر سی اور سی اے اے کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ریاست مہاراشٹر میں اسے نافذ نہ کریں ۔ مولانا سجاد نعمانی بھی این آر سی اور سی اے اے پر عوام میں پھیلی ناراضگی اور بے اطمینانی سے وزیر اعلی کو واقف کروایا اور کہا کہ اس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ وفد میں شامل “ٹیس “کے لیڈر فہد شیخ نے گزارش کی ریاست میں این آر سی اور سی اے اے نفاذ نہ کرنے کے لئے آپ نوٹیفکیشن جاری کریں۔ کیونکہ یہ مسئلہ اب عوام میں اس قدر عام ہوگیا ہے کہ ہر کوئی این آر سی کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ریاستی حکومت نوٹیفکیشن جاری کرے۔ اس اہم میٹنگ میں مسلم اراکین اسمبلی این سی پی کے نواب ملک , رکن اسمبلی امین پٹیل ,سماجوادی پارٹی لیڈر اور ترجمان عبدالقادر چودھری، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی، مولانا عبدالسلام سلفی ،مولانا مفتی حذیفہ قاسمی، مولانا اعجاز کشمیری ، ممبئی امن کمیٹی فرید شیخ، پرویز صدیقی سمیت اکابرین اور مقتدر اشخاص شریک تھے ۔ جبکہ ڈائریکٹر جنرل آف پولس سبودھ جیسوال، پولس کمشنر سنجۓ بروے سمیت مختلف اعلی افسران موجود تھے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : کریٹ سومیا کو اب مسلم بچوں کی پیدائش سے بھی اعتراض

ممبئی : ممبئی مسلم بچوں کی شرح ولادت پر بھی اب بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو اعتراض ہے انہوں نے یہاں شرح پیدائشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے ۲۰۵۱ تک مسلمانوں کی آبادی اکثریتی فرقہ یعنی ہندوؤں سے بھی زیادہ ہو گی۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس پر کہا ہے کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔
گزشتہ 5 سالوں میں 336,525 ہندو بچے کی پیدائش ہو ئی ۔ 220,754 مسلمان بچوں کی ولادت ہوئی ہے گزشتہ 5 سالوں میں، ممبئی میں: 336,625 ہندو بچے پیدا ہوئے۔ 220,754 مسلمان بچے پیدا ہوئے۔ کریٹ سومیا نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ‘ڈیموگرافک بیلنس کمیٹی’ (آبادیاتی توازن کمیٹی) تشکیل دیں، تاکہ ممبئی کو “مسلم ممبئی” بننے سے روکا جا سکے ممبئی کو مسلم ممبئی بنانے کی سازش کا الزام بھی کریٹ سومیا نے اپنے ٹویٹ میں عائد کیا ہے اور مسلم بچوں کی ولادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوتے آبادی پر کنٹرول کے لیے کمیٹی تشکیل کا مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے بھی کیا ہے۔
(جنرل (عام
دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔
ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
سیاست
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے راہول گاندھی کو ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر بحث کی دعوت دی

چندی گڑھ : ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے بحث (ڈیبیٹ) کے چیلنج پر طنز کرتے ہوئے انہیں ریاست میں آنے اور پارٹی کے ’یوا مورچہ‘ (یوتھ ونگ) کے صدر کے سوالات کا سامنا کرنے کی دعوت دی۔ بحث کے مقام کا انتظام خود کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گاندھی یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جھوٹے الزامات لگائیں اور بدلے میں ان سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص جھوٹے دعوے کرے اور پھر وہاں سے چلا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس کو انتخابی عمل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے، تو اسے اپنا موقف چیف الیکشن کمشنر کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ”الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔“
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کانگریس ان فورمز سے رجوع کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہے، اور کہا کہ محض گھر بیٹھے عوامی سطح پر الزامات لگانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سینی یہاں سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے سرکاری اقدامات، فصلوں کی خریداری، کانگریس کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور دیگر کئی امور پر پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے۔ کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پارٹی کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس مسئلہ نہیں ہے، اس لیے وہ ”ووٹ چوری“ کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی جمہوریت اور الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کو ووٹروں کے نام خارج ہونے یا غلط درج ہونے کے بارے میں کوئی شکایت ہے، تو الیکشن کمیشن نے اعتراضات اٹھانے کے لیے پہلے ہی ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ انتخابی فہرستیں عوامی سطح پر دستیاب کرائی گئی تھیں، اور مقررہ فارموں کے ذریعے اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے باوجود کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان تمام پیش رفتوں کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اب وہ ایسے دعووں سے بہکنے والے نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ”کوئی ووٹ چوری نہیں ہوا ہے۔ کانگریس آج جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب تو لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو اپنی پارٹی ہی بند کر دینی چاہیے۔“
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
