(جنرل (عام
حب الوطنی کا ثبوت آپ کودینا ہوگا، کہ ہماری قربانیاں توتاریخ کے اوراق میں سنہرے حرفوں میں قید ہیں
وفا ناہید
آج شہر میں جامعہ کے بے گناہ اور نہتے طلباء پر پولس کی جانب سے ظلم وبربریت کا جو ننگا ناچ کل سے جاری ہیں. کس طرح پولس نے کیمپس میں گھس کر طالبات پر بھی لاٹھی چارج کیا پوری یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کی. ساتھ ہی آنسو گیس کے گولے داغے. پولس کی اس جارحانہ کاروائی میں کتنے طلباء زخمی ہوئے، کچھ اساتذہ کے مطابق کتنے طلباء اب بھی لاپتہ ہے. ان معصوم بے گناہوں کا قصور کیا تھا کہ پولس نے ظلم وبربریت کا دہانہ ان معصوموں پر کھول دیا. اتنا ہی بسوں میں آگ لگا کرانہیں جلایا گیا اوراس کا الزام بھی ان بے گناہوں کے سر منڈھ دیا گیا. جامعہ کے ان طلباء کا قصور یہ تھا کہ وہ ہٹلر شاہی مودی سرکار کے راج میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف اپنا خاموش اور پرامن احتجاج درج کرا رہے تھے. جس کی وجہ سے مودی سرکار کے چاروں پائے ہل گئے تھے. ان طلباء کے خاموش احتجاج میں مودی حکومت کو اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی. تب پھر کی تھا. ان کی آواز کو دبانے کے لئے پولس کا سہارا لیا گیا مگر کیا یہ تانا شاہی سرکار بھول گئی کہ اسپرنگ کو جتنی شدت سے دبایا جاتا ہے وہ اتنی ہی شدت سے پلٹ کر آتی ہے. مودی حکومت بھول گئی کہ وقت نے بڑے بڑے جابر اور ظالم ہٹلر کو نہیں بخشا تو یہ کس کھیت کی مولی ہے. کل جامعہ میں جو کچھ بھی ہوا وہ نہایت افسوسناک ہے. جمہوری ملک میں یہ جمہوریت کا سرعام قتل ہے. جو مسلسل مودی سرکار کررہی ہیں. ارے مسلمانوں سے ان کی حب الوطنی کا ثبوت مانگنے والے تم کون ہو ؟ مسلمانوں نے اس دیش کے لئے کو کچھ کیا ہے. وہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے الفاظ میں قید ہے. تم تو اس ملک کے وہ سیاہ داغ ہو جسے بتاتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہوگی. اس ملک کو ہمارے اجدادحب برٹش گورنمنٹ سے آزاد کراسکتے ہیں تو ہم میں اتنی طاقت ہے کہ تم جیسے وقت کے فرعونوں سے ہم اس ملک کو بچا لیں گے. مسلسل مسلمانوں کے صبر وضبط کا امتحان لیا گیا. کبھی گئو رکھشا کے نام پر، کبھی لو جہاد، گھر واپسی تو کبھی طلاق ثلاثہ بل کے نام پر شریعت میں مداخلت کر کے اس کے بعد بھی تمہارا خون ٹھنڈا نہیں ہوا تو مسلمانوں کی مآب لنچنگ نہیں پولیٹیکل مرڈر کرکے انہیں اپنے ہی گھر میں خوفزدہ کیا گیا. جب بات یہاں بھی نہیں بنی تو این آر سی کے نام سے ڈرایا گیا. اب این آر سی کو چھوڑ کر تم شہریت تعلیمی بل اٹھا لائے. جس میں واضح طور پر مسلمانوں کا نام چھوڑ کر تمام مذاہب کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا. ارے تم کیا ہم سے دستاویز مانگو گے؟ یہ ملک ہمارا ہے. اس کی مٹی ہمارے اجداد کے خون سے لالہ زار ہیں. تم قربانی کی بات کرتے ہو. قربانی کا مطلب پتہ ہے. اس ملک کی ایک ایک اینٹ پر ہمارے اجداد کا نام لکھا ہے. یہ ہمارا اپنا گھر ہے. ہمارا اپنا ہندوستان. جس وقت دیش پر انگریز حکمرانی کررہے تھے. اس ملک کو اپنا غلام بنالیا تھا. اس وقت تم نے اس ملک کے لئے کیا کیا تھا. اب تم ہمیں ثبوت دونگے. اپنی حب الوطنی ثابت کروں گے. ورنہ اس ملک کے غداروں میں تمہارا نام تو پہلے سے شامل ہے. اب ہم کوئی ثبوت نہیں دیں گے. نا بار بار اپنی قربانیوں کو دہرائیں گے کیونکہ ہماری قربانیوں کی گواہ اس دیش کی مٹی ہے. جس میں ہمیں مرنے کے بعد مل جانا ہے. ہماری حب الوطنی کا ثبوت تاریخ کے اوراق ہیں. جسے کوئی بدل نہیں سکتا. مسلمانوں کو مت للکارو. کیونکہ اگر مسلمان اپنے پر آگئے تو تمہاری حکومت کا تختہ پلٹ کر تمہیں جہنم رسید کر دیں گے. ہمارے اجداد سے روم اور فارس کی بڑی بڑی طاقتیں کانپتی تھیں. اس لئے سنبھل جاؤ اگر 5 سال پورے کرنے ہیں تو شہریت تعلیمی بل واپس لے لو. ورنہ 1947 کی جنگ آزادی کے بعد اس ملک کو فرقہ پرست زعفرانی طاقتوں سے آزاد کرانے کے لئے ایک اور جنگ انتظار کر رہی ہے.
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
