سیاست
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس فائرنگ اور تشدد ڈکٹیٹرشپ کی بدترین مثال
(عطاء الرحمٰن)
مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے کہا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں پولس نے جس طرح کی پر تشدد کارروائی کی ہے اور فائرنگ کرکے درجنوں طلبہ و طالبات کو زخمی کیا ہے یہ بھارت جیسے سیکولر ملک کے لیے ایک بدنما داغ ہے۔ کیب کے خلاف احتجاج کرنا ملک کے باشندوں کا قانونی اور جمہوری حق ہے جسے ان سے کسی بھی قیمت پر چھینا نہیں جاسکتا۔ یہ ہٹلر شاہی بل جس طرح ملک کے باشندوں پر مسلط کیا گیا ہے وہ آئین اور دستور کے خلاف ہے اور من مانی طریقے پر ظلم وستم کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے کیب کے خلاف پورے ملک کے میں احتجاج کیا جارہا ہے اور اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ دہلی میں کیے جانے والے مظاہرے بھی اسی احتجاج کا حصہ ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں جمہوری طریقے پر اگر گورنمنٹ کے کسی اقدام یا اس کی جانب سے لائے گئے کسی قانون کی مخالفت جاتی ہے یا اس کے سلسلے میں کوئی احتجاج کیا جاتا ہے تو اسے برداشت کیا جانا چاہیے اور بزور طاقت ایسے احتجاج کو کچلنے کی کوشش کرنا اور ملک کے باشندوں کی آواز کو دبانا غیر آئینی اور غیر جمہوری قدم ہے اور یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات نے جس عزم ،عزیمت، جرأت اور ہمت کا ثبوت دیا ہے اور ملک کے جن جن حصوں سے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے غیر مسلم بھائیوں نے جس طرح اس قانون کو غیر دستوری قرار دیا ہے وہ ہر طرح سے لائق ستائش قدم ہے۔ ہمارا یہ احساس ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت فرقہ وارانہ فضا کو گرم کرنے اور ووٹ بینک کو پکا کرنے کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے، اور اس کے پیچھے بہت ہی خطرناک اور زہریلی ذہنیت کار فرما ہے اب جب کہ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج منظم ہورہے ہیں تو گورنمنٹ طاقت و قوت کے ذریعے اور پولس فورس کو استعمال کرکے اسے دبانا چاہتی ہے۔ حکومت وقت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا یہ طرز عمل خود اس کے لیے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ حکومت وقت سے ہمارا یہ صاف صاف کہنا ہے کہ وہ آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے کہ اس میں خود اس کے ہی ہاتھ جلے گے۔ اب وقت آچکا ہے کہ باشندگان ملک اس ظلم اور بربریت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو مضبوط کریں اور یک جٹ ہوکر اس قانون کو مسترد کریں۔ جامعہ ملیہ کے طلبہ و طالبات نے اپنے خون کی جو قربانی دی ہے وہ ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی، زمین پر پانی نہیں لہو بہا ہے جو اپنا رنگ اور اثر دکھا کر رہیگا۔ یہ حکومت کی خام خیالی ہے کہ طاقت کے زور سے اس سیلاب کو روکا جاسکتا ہے۔ اس نازک اور حساس وقت میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دوسرے طبقات سے تعلق رکھنے والے انصاف پسند لوگوں کو بھی آگے آنا چاہیے اور اس قانون کی بھرپور مخالف کرنی چاہیے اور جامعہ ملیہ میں ہونے والے اقدام کی مذمت کرنی چاہیے۔
سیاست
بی جے پی کے مرکزی قائدین تریپورہ یونٹ پر زور دیتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نیٹ ورک کو مضبوط کیا جائے۔

نئی دہلی/اگرتلہ : بی جے پی کی مرکزی قیادت نے تریپورہ کی ریاستی اکائی سے کہا ہے کہ وہ پارٹی کی تنظیم کو مزید مضبوط بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ حکومت کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی اسکیمیں سماج کے تمام طبقات کے لوگوں تک پہنچیں۔ تریپورہ میں بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے جمعہ کو کہا کہ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین اور قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل۔ سنتوش نے جمعرات کی رات نئی دہلی میں ریاستی رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ میٹنگ کی۔ رہنما نے کہا، “مرکزی رہنماؤں نے ریاستی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو مزید فعال کریں اور گاؤں کی کمیٹیوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے اہم انتخابات سے قبل تنظیم کو مضبوط کریں۔”
انہوں نے کہا کہ مرکزی قائدین نے ریاستی قائدین سے پارٹی تنظیم کے کام کاج اور دیہی کمیٹیوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے آئندہ انتخابات سے قبل اس کی حیثیت کے بارے میں بھی رائے لی۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ نئی دہلی میں ہونے والی یہ ملاقاتیں آنے والے اہم انتخابات کے لیے بی جے پی کی حکمت عملی اور اس کے دو قبائلی حلیفوں، ٹپرا موتھا پارٹی (ٹی ایم پی) اور انڈیجینس پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) کے ساتھ انتخابی اتحاد کے لیے اہم ہیں۔
اس سال تریپورہ قبائلی علاقہ جات خود مختار ضلع کونسل (ٹی ٹی اے اے ڈی سی) کے تحت 587 دیہاتی کمیٹیوں (گرام پنچایتوں کے برابر) اور 20 سے زیادہ شہری بلدیاتی اداروں کے لیے انتخابات شیڈول ہیں۔ 12 اپریل کو ہونے والے ٹی ٹی اے اے ڈی سی کے انتخابات میں، ٹپرا موٹھا پارٹی (ٹی ایم پی) نے 28 میں سے 24 منتخب نشستیں جیت کر بھاری اکثریت حاصل کی۔ بی جے پی صرف چار جیتنے میں کامیاب رہی۔
بی جے پی اور اس کے دو قبائلی حلیف، ٹی ایم پی اور انڈیجینس پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) نے انتخابی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد الگ الگ انتخابات میں حصہ لیا۔ 2021 سے، ٹی ایم پی حکمت عملی کے لحاظ سے اس اہم کونسل پر حکومت کر رہی ہے، جسے ریاستی اسمبلی کے بعد تریپورہ کا دوسرا سب سے اہم آئینی اور سیاسی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ 30 رکنی ٹی ٹی اے اے ڈی سی میں 28 منتخب نمائندے اور ریاستی حکومت کے نامزد کردہ دو ارکان شامل ہیں۔ یہ تریپورہ کے 10,491 مربع کلومیٹر جغرافیائی رقبے کے تقریباً 70 فیصد کا انتظام کرتا ہے۔
اس کے علاوہ نتن نوین اور بی ایل سنتوش، دیگر مرکزی قائدین جنہوں نے دونوں میٹنگوں میں شرکت کی ان میں بی جے پی کے شمال مشرقی کوآرڈینیٹر سمبیت پاترا اور تریپورہ کے لئے پارٹی کے مبصر راجدیپ رائے شامل تھے۔ رائے سلچر سے موجودہ ایم ایل اے اور جنوبی آسام سے لوک سبھا کے سابق رکن ہیں۔ کل، تریپورہ سے بی جے پی کے 14 رہنماؤں نے، پارٹی کی کور کمیٹی کے تمام اراکین، نئی دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ میٹنگوں میں شرکت کی۔
نئی دہلی میں میٹنگوں میں شرکت کرنے والے ریاستی قائدین میں وزیر اعلیٰ مانک ساہا، ریاستی صدر ابھیشیک دیبروئے، سینئر وزرا رتن لال ناتھ، ٹنکو رائے، اور بیکاش دیببرما، ریاستی اسمبلی کے اسپیکر رام پدا جمعیتہ، سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ رکن پارلیمنٹ بپلب کمار دیب، راجیہ سبھا کے رکن راجیو بھٹاچاریہ، اور سابق مرکزی وزیر پراکھو شامل تھے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔
سیاست
پریاگ راج میں ‘طلبہ’ کے پروگرام سے پہلے راہل گاندھی نے کہا، “حکومت جھک جاتی ہے، لیکن ہماری آواز ایک ساتھ اٹھانی چاہیے۔”

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ہفتہ کو پریاگ راج میں منعقد ہونے والے “اسکولز ایکو” پروگرام سے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھک جاتی ہے۔ مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اس پر بات کرنے کے لیے وہ ہفتہ کو پریاگ راج آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، “میں پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے: یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نظام بے ایمان ہو گیا ہے۔ آپ کی طرف سے محنت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن خرابی نظام کی نیتوں میں ہے، جو آپ کی محنت کی قدر نہیں کرتا۔”
اپوزیشن لیڈر نے لکھا، “کاغذ لیک، بھرتی رکی، برسوں کا انتظار، اور کوئی جوابدہ نہیں، کوٹا میں طلبہ نے تقریر کی، دہرادون میں پھر آوازیں اٹھیں، اور انہی طلبہ پر دہلی میں لاٹھی چارج کیا گیا، محض سوال پوچھنے پر، آخر کار ایک وزیر کو جانا پڑا۔ یہ حکومت جھک گئی، یہ آواز سنیچر کو اٹھانے کے لیے آپ کو اکٹھے ہونا چاہیے۔” بھی آنا چاہیے۔” اس کے ساتھ ویڈیو میں راہول گاندھی کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے، “راہل سر، آپ پریاگ راج آ رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ واقعی کوئی ہماری طالب علموں کی بات نہیں سن رہا ہے۔”
اس پیغام کے ساتھ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “میں طلباء کو سن رہا ہوں، میں روزگار اور ملازمت کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے پریاگ راج آ رہا ہوں۔ میں ایک بات کو 100 فیصد قبول کرتا ہوں: آج کے ہندوستان میں، ہمارے طلباء کا روزگار یا تعلیم میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم سب کو مل کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ کی توانائی اور آپ کی آواز سے، ہم مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔”
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
