Connect with us
Monday,03-August-2026

(جنرل (عام

بابری مسجدفیصلہ کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی ریویوپٹیشن سپریم کورٹ میں داخل

Published

on

babri-masjid

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں گزشتہ 9/نومبر کو آئے فیصلہ کے خلاف آج سپریم کورٹ میں ریویوپٹیشن (ڈائری نمبر43241-2019) داخل کردی، ریویوپٹیشن آئین کی دفعہ 137کے تحت دی گئی مراعت کی روشنی میں داخل کی گئی ہے۔ بابری مسجد کا مقدمہ ہندوستان کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ ہے، جس نے انصاف کے لئے نہیں صرف فیصلہ کے لئے تقریباً ۰۷ سال کا وقت لیا ہے۔ آخرمعاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور طویل بحث کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے اپنا فیصلہ صادر کردیاتھا اور متنازع اراضی رام للا کو دینے اور مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین متبادل کے طور پر دینے کا حکم دیا تھا، اس فیصلے کے خلاف اس معاملے میں فریق اول جمعیۃ علماء ہند نے وکلاء خصوصاً سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیو دھون، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول و دیگر سے صلاح و مشورہ کرنے اور ورکنگ کمیٹی کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ریویو پٹیشن داخل کردی، جس میں عدالت سے 9نومبر کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی گی ہے اور کہا گیا ہے کہ متذکرہ فیصلہ نے بابری مسجد کی شہادت کو غیر قانونی عمل مانتے ہوئے بھی رام مندر کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے۔ لہٰذ عدالت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ ریویوپٹیشن میں کئی اہم نکات کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور فیصلہ میں موجود تضادات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 142کے تحت مکمل انصاف تب ہوتاجب سپریم کورٹ کے ذریعہ مسلمانوں کو حق ملکیت دی جاتی اور سپریم کورٹ گورنمنٹ کو یہ ہدایت دیتی کے شہید کی گئی مسجد دوبارہ تعمیر کی جائے۔ ریویو پٹیشن داخل ہونے کے بعد  جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر میں منعقد ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے  ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ریویو پٹیشن داخل کرنا  سپریم کورٹ کی طرف سے دیا گیا ہمارا قانونی حق ہے اور وہیں  یہ شرعی اور انسانی حق بھی ہے کہ آخری دم تک مسجد کی حصولیابی کے لئے جدو جہد کی جائے۔ کیوں کہ مسجد وقف علیٰ اللہ ہوتی ہے اور واقف کو بھی یہ اختیار نہیں رہ جاتا کہ اس کو واپس لے لے۔ اس لئے کسی فرد یا جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی متبادل پر مسجد سے دستبرادار ہوجائے۔ ساتھ ہی مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی نظر ثانی کی اپیل داخل کرنے کا مقصد ملک کی یکجہتی اور امن و امان میں خلل ڈالنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ قانون میں دی گئی مراعات کا حق استعمال کرتے ہوئے پانچ رکنی آئینی بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی گئی ہے۔کیوں کہ ملک کے کروڑوں انصاف پسند عوام جس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور ماہرین قانون بھی شامل ہیں، جو اس فیصلے کو سمجھ سے بالاتر سمجھ رہے ہیں۔ ریویو پٹیشن داخل کرنے کے بعد مولانا مدنی نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پانچ رکنی آئینی بینچ کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد جمعیۃ علماء نے عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے، نیز یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کی جانب سے ریویو پٹیشن داخل نہیں کرنے کا ہماری جانب سے داخل کردہ ریویو پٹیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ1961 میں جب سنی وقف بورڈنے پٹیشن داخل کیا تھا اس وقت عدالت سے کہا گیا تھا کہ اسے ری- پریزینٹیٹیو سوٹ کا دعوی سمجھا جائے جو تمام مسلمانوں کی جانب سے داخل کیا جارہا ہے، جسے عدالت نے منظور بھی کرلیا تھا۔ لہٰذ ا اب کوئی بھی مسلم ریویو پٹیشن داخل کرسکتا ہے، جب کہ اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند فریق اول ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ نقطۂ نظر پوری طرح تاریخی حقائق و شواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے یا کسی مندر کی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی ہے،جیسا کہ خود سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا ہے۔اسی بنیاد پرجمعیۃ علماء ہند کا روز اول سے بابری مسجد حق ملکیت مقدمے میں یہ موقف رہا ہے کہ ثبوت و شواہد اور قانون کی بنیاد پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گا اسے ہم تسلیم کریں گے۔خود سپریم کورٹ نے متعدد بار کہا تھا کہ بابری مسجد کا مقدمہ صرف ملکیت کا ہے نہ کہ’آستھا‘ کا۔اسی لئے جمعیۃ علماء ہندنے ملک کے ممتاز وکلاء کی خدمات حاصل کیں،ثبوت وشواہد اکٹھا کئے اور پوری مضبوطی سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کی ملکیت کادعویٰ پیش کیا اور ہم اسی بنیاد پرپر امید تھے کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا، مگر جو فیصلہ آیا ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ ان تمام حقائق اور شواہد کو نظر انداز کرکے  دیا گیا ہے جس میں ’آستھا‘ کی بو نظر آتی ہے، جو سمجھ سے بالا تر ہے۔مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ فیصلہ کے ابتدائی حصہ بتارہے ہیں کہ حق ملکیت مسلمانوں کا ہے انہوں نے آگے کہا کہ فیصلہ سے یہ سچائی بھی اجاگر ہوگئی کہ مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی یعنی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مسجد کسی مندرکی جگہ پر تعمیر ہوئی تھی مگر جو فیصلہ آیا ہے وہ اس سے میل نہیں کھاتا انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اسی بنیاد پر سپریم کورٹ گئے تھے کہ فیصلہ آستھا کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔

 مولانا مدنی  نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ کیوں کہ پانچ ججوں کی بینچ نے ایک طرف تو اپنے فیصلے میں کسی مندر کو توڑ کر مسجد بنانے کا انکار کیا، بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنے، پھر اسے توڑنے کو غلط ٹھہرا یا ہے اورجگہ انہیں لوگوں کودے دی جنہوں نے مسجد میں مورتی رکھی اور پھر مسجد کو شہید کردیاجس کی ہر گز امید نہ تھی۔اس سوال پر کہ کیا ریویوپٹیشن سے ملک کا ماحول خراب نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بالکل نہیں اگر اس معاملہ کو لے کر پچھلے سترسال کے دوران ملک کاماحول خراب نہیں ہوا تو ریویوپٹیشن سے کیونکر خراب ہوسکتاہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کے امن واتحادکو ذہن میں رکھ کرہی ہم اس معاملہ کو لے کر کبھی سڑک پرنہیں اترے بلکہ انصاف کے لئے قانون کا راستہ اپنا یا اور یہ اختیار ہمیں ہی نہیں ملک کے ہر شہری کو ہمارے آئین نے دیا ہے۔
ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں.

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان