Connect with us
Friday,18-September-2026

(جنرل (عام

بابری مسجدفیصلہ کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی ریویوپٹیشن سپریم کورٹ میں داخل

Published

on

babri-masjid

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں گزشتہ 9/نومبر کو آئے فیصلہ کے خلاف آج سپریم کورٹ میں ریویوپٹیشن (ڈائری نمبر43241-2019) داخل کردی، ریویوپٹیشن آئین کی دفعہ 137کے تحت دی گئی مراعت کی روشنی میں داخل کی گئی ہے۔ بابری مسجد کا مقدمہ ہندوستان کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ ہے، جس نے انصاف کے لئے نہیں صرف فیصلہ کے لئے تقریباً ۰۷ سال کا وقت لیا ہے۔ آخرمعاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور طویل بحث کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے اپنا فیصلہ صادر کردیاتھا اور متنازع اراضی رام للا کو دینے اور مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین متبادل کے طور پر دینے کا حکم دیا تھا، اس فیصلے کے خلاف اس معاملے میں فریق اول جمعیۃ علماء ہند نے وکلاء خصوصاً سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیو دھون، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول و دیگر سے صلاح و مشورہ کرنے اور ورکنگ کمیٹی کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ریویو پٹیشن داخل کردی، جس میں عدالت سے 9نومبر کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی گی ہے اور کہا گیا ہے کہ متذکرہ فیصلہ نے بابری مسجد کی شہادت کو غیر قانونی عمل مانتے ہوئے بھی رام مندر کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے۔ لہٰذ عدالت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ ریویوپٹیشن میں کئی اہم نکات کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور فیصلہ میں موجود تضادات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 142کے تحت مکمل انصاف تب ہوتاجب سپریم کورٹ کے ذریعہ مسلمانوں کو حق ملکیت دی جاتی اور سپریم کورٹ گورنمنٹ کو یہ ہدایت دیتی کے شہید کی گئی مسجد دوبارہ تعمیر کی جائے۔ ریویو پٹیشن داخل ہونے کے بعد  جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر میں منعقد ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے  ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ریویو پٹیشن داخل کرنا  سپریم کورٹ کی طرف سے دیا گیا ہمارا قانونی حق ہے اور وہیں  یہ شرعی اور انسانی حق بھی ہے کہ آخری دم تک مسجد کی حصولیابی کے لئے جدو جہد کی جائے۔ کیوں کہ مسجد وقف علیٰ اللہ ہوتی ہے اور واقف کو بھی یہ اختیار نہیں رہ جاتا کہ اس کو واپس لے لے۔ اس لئے کسی فرد یا جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی متبادل پر مسجد سے دستبرادار ہوجائے۔ ساتھ ہی مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی نظر ثانی کی اپیل داخل کرنے کا مقصد ملک کی یکجہتی اور امن و امان میں خلل ڈالنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ قانون میں دی گئی مراعات کا حق استعمال کرتے ہوئے پانچ رکنی آئینی بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی گئی ہے۔کیوں کہ ملک کے کروڑوں انصاف پسند عوام جس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور ماہرین قانون بھی شامل ہیں، جو اس فیصلے کو سمجھ سے بالاتر سمجھ رہے ہیں۔ ریویو پٹیشن داخل کرنے کے بعد مولانا مدنی نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پانچ رکنی آئینی بینچ کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد جمعیۃ علماء نے عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے، نیز یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کی جانب سے ریویو پٹیشن داخل نہیں کرنے کا ہماری جانب سے داخل کردہ ریویو پٹیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ1961 میں جب سنی وقف بورڈنے پٹیشن داخل کیا تھا اس وقت عدالت سے کہا گیا تھا کہ اسے ری- پریزینٹیٹیو سوٹ کا دعوی سمجھا جائے جو تمام مسلمانوں کی جانب سے داخل کیا جارہا ہے، جسے عدالت نے منظور بھی کرلیا تھا۔ لہٰذ ا اب کوئی بھی مسلم ریویو پٹیشن داخل کرسکتا ہے، جب کہ اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند فریق اول ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ نقطۂ نظر پوری طرح تاریخی حقائق و شواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے یا کسی مندر کی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی ہے،جیسا کہ خود سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا ہے۔اسی بنیاد پرجمعیۃ علماء ہند کا روز اول سے بابری مسجد حق ملکیت مقدمے میں یہ موقف رہا ہے کہ ثبوت و شواہد اور قانون کی بنیاد پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گا اسے ہم تسلیم کریں گے۔خود سپریم کورٹ نے متعدد بار کہا تھا کہ بابری مسجد کا مقدمہ صرف ملکیت کا ہے نہ کہ’آستھا‘ کا۔اسی لئے جمعیۃ علماء ہندنے ملک کے ممتاز وکلاء کی خدمات حاصل کیں،ثبوت وشواہد اکٹھا کئے اور پوری مضبوطی سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کی ملکیت کادعویٰ پیش کیا اور ہم اسی بنیاد پرپر امید تھے کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا، مگر جو فیصلہ آیا ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ ان تمام حقائق اور شواہد کو نظر انداز کرکے  دیا گیا ہے جس میں ’آستھا‘ کی بو نظر آتی ہے، جو سمجھ سے بالا تر ہے۔مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ فیصلہ کے ابتدائی حصہ بتارہے ہیں کہ حق ملکیت مسلمانوں کا ہے انہوں نے آگے کہا کہ فیصلہ سے یہ سچائی بھی اجاگر ہوگئی کہ مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی یعنی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مسجد کسی مندرکی جگہ پر تعمیر ہوئی تھی مگر جو فیصلہ آیا ہے وہ اس سے میل نہیں کھاتا انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اسی بنیاد پر سپریم کورٹ گئے تھے کہ فیصلہ آستھا کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔

 مولانا مدنی  نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ کیوں کہ پانچ ججوں کی بینچ نے ایک طرف تو اپنے فیصلے میں کسی مندر کو توڑ کر مسجد بنانے کا انکار کیا، بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنے، پھر اسے توڑنے کو غلط ٹھہرا یا ہے اورجگہ انہیں لوگوں کودے دی جنہوں نے مسجد میں مورتی رکھی اور پھر مسجد کو شہید کردیاجس کی ہر گز امید نہ تھی۔اس سوال پر کہ کیا ریویوپٹیشن سے ملک کا ماحول خراب نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بالکل نہیں اگر اس معاملہ کو لے کر پچھلے سترسال کے دوران ملک کاماحول خراب نہیں ہوا تو ریویوپٹیشن سے کیونکر خراب ہوسکتاہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کے امن واتحادکو ذہن میں رکھ کرہی ہم اس معاملہ کو لے کر کبھی سڑک پرنہیں اترے بلکہ انصاف کے لئے قانون کا راستہ اپنا یا اور یہ اختیار ہمیں ہی نہیں ملک کے ہر شہری کو ہمارے آئین نے دیا ہے۔
ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر سیل کی بڑی کارروائی! منظم گروہ کے ۶ اراکین گرفتار, ڈیجیٹل گرفتاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں : ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے

Published

on

ممبئی سائبر سیل نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو سائبر دھوکہ بازی کے دوران ڈیجیٹل گرفتاری یعنی ڈیجیٹل اریسٹ سے خوفزدہ کر کے جھوٹے کیسوں میں پھنسانے کی دھمکی دے کر متاثرین سے رقومات وصول کیا کرتے تھے۔ جعلی سم کارڈ 238 کروڑ کے منی لانڈرنگ معاملے میں مقدمہ درج ہونے کا خوف بتا کر سپریم کورٹ کا جعلی نوٹس بھیج کر شکایت کنندہ کو ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ میں رکھ کر 1.12 کروڑ کی مالی دھوکہ دہی کی گئی۔ اس معاملے میں انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ سمیت آئی ٹی شعبہ کے ویب ڈویلپر سمیت کل 6 ملزمان کو پکڑنے کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی۔ نارتھ سائبر پولیس بی این ایس دفعہ 204, 308(7), 61(2), 318(4), 319(2), 336(2), 336(3), 338, 340(2), 238 آئی ٹی ایکٹ دفعہ 66, 66 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں متاثرہ دہیسر کے رہائشی 68 سالہ بزرگ شہری شکایت کنندہ کو تاریخ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ سے ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶ کے درمیان واٹس ایپ ویڈیو کال کرکے خود کی شناخت بھارتیہ دور سنچار ویبھاگ سے بتائی اور شکایت کنندہ کے سم کارڈ کا استعمال کرکے اس پر کل 238 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا گھوٹالہ کرنے کے بارے میں شکایت کنندہ کے خلاف دہلی میں منی لانڈرنگ کا کیس درج ہوا ہے اس بارے میں شکایت کنندہ کو سپریم کورٹ نوٹس بھیج کر اس جرم میں شکایت کنندہ کو گرفتاری کی دھمکی دے کر اسے ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر شکایت کنندہ کی کل 1,12,26,000/- روپے کی مالی دھوکہ دہی کی انتہائی حساس جرم میں ملزمان نے خود کی شناخت پوری طرح سے چھپا کر منظم طریقے سے پولیس افسر ہونے کا بہانہ بنا کر، پولیس وردی پہن کر سرکاری اتھارٹی، قومی جانچ ایجنسیوں کے نام، مہر، لیٹر ہیڈ استعمال کرکے شکایت کنندہ کو بار بار گرفتاری کا ڈر دکھا کر ویڈیو کال کرکے بینک کھاتے میں رقم طلب کر کے دھوکہ دہی کی ہے۔ دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے سائبر ملزمان نے الگ الگ افراد/کمپنی کے نام پر موجود الگ الگ بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹس کی دستیابی کرکے ان کا استعمال کیا ہے اور نارتھ سائبر پولیس تھانہ، ممبئی کی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ سائبرجرم کی مہارت سے کوشش میں تسلسل رکھ کر مثبت تفتیش کرکے ملزمان کے جرم کا طریقہ کار سمجھ کر جرم میں استعمال کیے گئے پہلی سطح کے بینک اکاؤنٹ کی بنیاد پر مزید معلومات لے کر ڈیجیٹل اریسٹ میں دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے کرنٹ بینک اکاؤنٹ خرید و فروخت کرنے والے اور دھوکہ دہی کی رقم کو لیئر کرنے والے ملزمان کی تلاش کرکے انہیں گرفتار کیا ہے اور گرفتار شدگان کے قبضے سے 02 لیپ ٹاپ، 20 موبائل فون، 25 مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈس، پاس بک، آدھار کارڈس، ایسا برآمد کیا ہے گرفتار شدگان ملزمین میں 1) راجیش کمار موہن لال جین، عمر 54 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 301/ دادا صاحب پھالکے روڈ، دادر مشرق، ممبئی بینک اکاؤنٹ ہولڈر 2) محمد طارق انور مومن، عمر 49 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 01/ ساجن بلڈنگ، نایاگاؤں کراس روڈ، شترو نجے ٹاور کے پاس، دادر مشرق، ممبئی مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹ کھولنے والا اور بینک اکاؤنٹ آگے سپلائی کرنے والا 3) شیکھر مکیش تیاگی، عمر 28 سال، تعلیم ب کوم, بی ایم اے، رہنے والا پرتیکشا نگر، سائن، ممبئی انڈس انڈ بینک آپریشنل منیجر 4) گورو مہیش گوئل، عمر 40 سال، بی ای, آئی آئی ٹی دہلی، رہائشی رہیجہ ہائٹس، گوریگاؤں مشرق، ممبئی ویب ڈیولپر باندرہ پولیس تھانہ پربھادیوی دفعہ 420, 409, 120(بی), 34 کے تحت مقدمہ درج ہے 5) اجے کمار کالی پرساد شرما عمر 35 سال تعلیم بی اے، رہائشی بھیونڈی روڈ کالہیر ضلع تھانے موبائل کے ذریعہ آگے ایکسیس دینے والا 6) چنتن کمار سوریش بھائی دیسائی عمر 46 سال تعلیم- بی اے، رہنے والا ایس بی آئی بینک کے عقب مورا بگل رانادیل روڈ سورت گجرات موبائل یہاں ساتھیوں کے ذریعہ شکایت کنندہ کی رقم کی لیئرنگ کرنے والا)

جرم کی انجام دہی کا ملزمان کا طریقہ کار ابھے دیو گولڈ پرالی اس کمپنی کا گرفتار ملزم نمبر 01 ڈائریکٹر ہے۔ مذکورہ کمپنی کا انڈس انڈ بینک اکاؤنٹ رجسٹرڈ ہے۔ مذکورہ کھاتے سے گرفتار ملزم نمبر 01 کا موبائل لنک ہے تو دوسرے ڈائریکٹر کا موبائل لنک ہے۔ گرفتار ملزم نمبر 02 نے دادر مشرق یہاں کی موبائل شاپ سے دو نئے موبائل خریدے, ان میں سے ایک موبائل میں ابھے دیو گولڈ پرالی کمپنی کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, تو دوسرے موبائل میں گرفتار ملزم نمبر 01 مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, دونوں موبائل گرفتار ملزم نمبر 02 نے انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ گرفتار ملزم نمبر 03 کے قبضے میں دیئے۔ گرفتار ملزم نمبر 03 نے مذکورہ دو موبائل فون میں سے مذکورہ کھاتے کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے بینک سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون خود کے پاس رکھ کر وہ گرفتار ملزم نمبر 05 کے قبضے میں دیدیا۔ تو گرفتار ملزم نمبر 01 کے مذکورہ بینک کھاتے سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون میں ڈال کر مذکورہ موبائل فون گرفتار ملزم نمبر 04 (ویب ڈیولپر) کے قبضے میں دیا اس نے وہ گرفتار ملزم نمبر 06 کے قبضے میں دیا۔ گرفتار ملزم نمبر 06 نے ممبئی سے ہوائی جہاز سے دہلی جا کر وہاں سے بجنور اترپردیش یہاں اس کے ساتھیوں کی مدد سے مذکورہ کھاتے پر شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ کی رقم ٹرانسفر کرکے لے کر شکایت کنندہ کو ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر فراڈ معاملے میں کل 1,12,26,000/- روپے کی سائبر دھوکہ دہی کی ہے۔

شہریوں سے اپیل ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر دھوکہ دہی سے محفوظ رہنے ہدایات پر عمل کریں۔ پولیس/سی بی آئی/ای ڈی/آر بی آئی یا کوئی بھی سرکاری ادارہ ڈیجیٹل گرفتاری نہیں کرتا، قانون میں ڈیجیٹل گرفتاری ایسی کوئی بھی دفعہ نہیں ہے۔ انجان افراد کی ویڈیو کال قبول نہ کریں یا کبھی بھی پیسے نہ بھیجیں خاندان کے کسی بھی فرد کے برتاؤ یا موڈ میں تبدیلی نظر آئے تو اس پر دھیان دیں۔ اگر آپ ڈیجیٹل اریسٹ کے شکار ہوئے ہیں، تو اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو یا پولیس کو فوری معلومات دیں۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل اریسٹ کے بارے میں کوئی بھی کال آئے، تو فوری قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں یا مدد کے لیے 100/1930 اس ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں یا http://www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کروائیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بائیکلہ ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن و چڑیا گھر میں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا معائنہ کے لئے میونسپل کمشنر کا دورہ

Published

on

ممبئی ؛میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے آج (17 ستمبر 2026) بائیکلہ (مشرقی) میں واقع ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کا دورہ کیا تاکہ وہاں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔ دورے کے دوران،اشونی بھڈے نے باغ میں ہبسکس (گڑہل) کی نمائش کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے حصے کے طور پر اور وزیر اعظم شری نریندر مودی کی سالگرہ کی یاد میں احاطے کے اندر ’سینچری پام‘ کا پودا بھی لگایا۔ مزید برآں، انہوں نے گارڈن اور چڑیا گھر کے احاطے میں تعمیر کیے جا رہے ’ٹنل ایکویریم‘ (سرنگ نما ایکویریم) کی تعمیراتی پیش رفت کا معائنہ کیا اور جنوری 2027 تک تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ڈپٹی کمشنر (باغات) اجیت کمار امبی، ڈائریکٹر (چڑیا گھر) ڈاکٹر سنجے ترپاٹھی، گارڈن سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی کے ساتھ دیگر متعلقہ عہدیداران اور عملہ موجود تھا۔ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں ہبسکس کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں مختلف رنگوں کے ہبسکس پھولوں کی تقریباً 50 اقسام پیش کی گئی ہیں۔ یہ نمائش عوام کے لیے کھلی ہے۔ اس موقع پر، محترمہ اشونی بھیڈے نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نمائش کا دورہ کریں اور مختلف رنگوں میں ہبسکس پھولوں کی اقسام کا مشاہدہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سنجے گاندھی نیشنل پارک میں شیرنی بجلی (ٹی2) کی موت

Published

on

ممبئی سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے اموت کا اعلان کرتی ہے، جس کی عمر تقریباً 18 سال 4 ماہ تھی اور جو 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے بڑھاپے سے متعلق صحت کے مسائل کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ وہ 2016 سے سنجے گاندھی کنبہ کی ایک محبوب رکن رہی ہے۔ ان سالوں میں، اس نے لاکھوں زائرین کے دلوں کو گرویدہ کیا۔پچھلے مہینے سے، اس کی خوراک میں بتدریج کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی صحت کی قریب سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ مغربی مہاراشٹر کی ٹیکنیکل ویٹرنری ایڈوائزری ٹیم کی رہنمائی اور تکنیکی مشورے کے تحت ویٹرنری آفیسر کے ذریعہ مناسب ویٹرنری اور معاون انتظام فراہم کیا جا رہا تھا۔ ان کی انتھک طبی کوششوں اور مسلسل نگرانی کے باوجود، بجلی نے 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے پرامن طور پر آخری سانس لی۔بجلی کو 11 جولائی 2016 کو پینچ ٹائیگر ریزرو سے سنجے گاندھی نیشنل پارک لایا گیا تھا اور وہ دس سال سے زیادہ عرصے تک ایس جی این پی کی دیکھ بھال اور حفاظت میں رہی۔ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے ساتھ اس کا طویل تعلق پارک کے وائلڈ لائف مینجمنٹ، کنزرویشن ایجوکیشن اور قید جانوروں کی دیکھ بھال کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھااگرچہ بجلی (ٹی2) کا انتقال بڑھاپے کی وجہ سے ہوا، موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لیے معیاری پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ایس جی این پی انتظامیہ تمام وائلڈ لائف سے اور عشاق جانور سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بجلی (ٹی2) کی یادیں اور تصاویر شیئر کریں تاکہ ہم اس کی میراث اور وائلڈ لائف کنزرویشن میں اس کے تعاون کا احترام کر سکیں ایک بار پھر پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ یہاں اطلاع سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ، بوریولی، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان