Connect with us
Friday,18-September-2026

(جنرل (عام

بابری مسجدفیصلہ کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی ریویوپٹیشن سپریم کورٹ میں داخل

Published

on

babri-masjid

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں گزشتہ 9/نومبر کو آئے فیصلہ کے خلاف آج سپریم کورٹ میں ریویوپٹیشن (ڈائری نمبر43241-2019) داخل کردی، ریویوپٹیشن آئین کی دفعہ 137کے تحت دی گئی مراعت کی روشنی میں داخل کی گئی ہے۔ بابری مسجد کا مقدمہ ہندوستان کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ ہے، جس نے انصاف کے لئے نہیں صرف فیصلہ کے لئے تقریباً ۰۷ سال کا وقت لیا ہے۔ آخرمعاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور طویل بحث کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے اپنا فیصلہ صادر کردیاتھا اور متنازع اراضی رام للا کو دینے اور مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین متبادل کے طور پر دینے کا حکم دیا تھا، اس فیصلے کے خلاف اس معاملے میں فریق اول جمعیۃ علماء ہند نے وکلاء خصوصاً سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیو دھون، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول و دیگر سے صلاح و مشورہ کرنے اور ورکنگ کمیٹی کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ریویو پٹیشن داخل کردی، جس میں عدالت سے 9نومبر کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی گی ہے اور کہا گیا ہے کہ متذکرہ فیصلہ نے بابری مسجد کی شہادت کو غیر قانونی عمل مانتے ہوئے بھی رام مندر کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے۔ لہٰذ عدالت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ ریویوپٹیشن میں کئی اہم نکات کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے اور فیصلہ میں موجود تضادات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 142کے تحت مکمل انصاف تب ہوتاجب سپریم کورٹ کے ذریعہ مسلمانوں کو حق ملکیت دی جاتی اور سپریم کورٹ گورنمنٹ کو یہ ہدایت دیتی کے شہید کی گئی مسجد دوبارہ تعمیر کی جائے۔ ریویو پٹیشن داخل ہونے کے بعد  جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر میں منعقد ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے  ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ریویو پٹیشن داخل کرنا  سپریم کورٹ کی طرف سے دیا گیا ہمارا قانونی حق ہے اور وہیں  یہ شرعی اور انسانی حق بھی ہے کہ آخری دم تک مسجد کی حصولیابی کے لئے جدو جہد کی جائے۔ کیوں کہ مسجد وقف علیٰ اللہ ہوتی ہے اور واقف کو بھی یہ اختیار نہیں رہ جاتا کہ اس کو واپس لے لے۔ اس لئے کسی فرد یا جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی متبادل پر مسجد سے دستبرادار ہوجائے۔ ساتھ ہی مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی نظر ثانی کی اپیل داخل کرنے کا مقصد ملک کی یکجہتی اور امن و امان میں خلل ڈالنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ قانون میں دی گئی مراعات کا حق استعمال کرتے ہوئے پانچ رکنی آئینی بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی گئی ہے۔کیوں کہ ملک کے کروڑوں انصاف پسند عوام جس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور ماہرین قانون بھی شامل ہیں، جو اس فیصلے کو سمجھ سے بالاتر سمجھ رہے ہیں۔ ریویو پٹیشن داخل کرنے کے بعد مولانا مدنی نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پانچ رکنی آئینی بینچ کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد جمعیۃ علماء نے عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے، نیز یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کی جانب سے ریویو پٹیشن داخل نہیں کرنے کا ہماری جانب سے داخل کردہ ریویو پٹیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ1961 میں جب سنی وقف بورڈنے پٹیشن داخل کیا تھا اس وقت عدالت سے کہا گیا تھا کہ اسے ری- پریزینٹیٹیو سوٹ کا دعوی سمجھا جائے جو تمام مسلمانوں کی جانب سے داخل کیا جارہا ہے، جسے عدالت نے منظور بھی کرلیا تھا۔ لہٰذ ا اب کوئی بھی مسلم ریویو پٹیشن داخل کرسکتا ہے، جب کہ اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند فریق اول ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ نقطۂ نظر پوری طرح تاریخی حقائق و شواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے یا کسی مندر کی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی ہے،جیسا کہ خود سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا ہے۔اسی بنیاد پرجمعیۃ علماء ہند کا روز اول سے بابری مسجد حق ملکیت مقدمے میں یہ موقف رہا ہے کہ ثبوت و شواہد اور قانون کی بنیاد پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گا اسے ہم تسلیم کریں گے۔خود سپریم کورٹ نے متعدد بار کہا تھا کہ بابری مسجد کا مقدمہ صرف ملکیت کا ہے نہ کہ’آستھا‘ کا۔اسی لئے جمعیۃ علماء ہندنے ملک کے ممتاز وکلاء کی خدمات حاصل کیں،ثبوت وشواہد اکٹھا کئے اور پوری مضبوطی سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کی ملکیت کادعویٰ پیش کیا اور ہم اسی بنیاد پرپر امید تھے کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا، مگر جو فیصلہ آیا ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ ان تمام حقائق اور شواہد کو نظر انداز کرکے  دیا گیا ہے جس میں ’آستھا‘ کی بو نظر آتی ہے، جو سمجھ سے بالا تر ہے۔مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ فیصلہ کے ابتدائی حصہ بتارہے ہیں کہ حق ملکیت مسلمانوں کا ہے انہوں نے آگے کہا کہ فیصلہ سے یہ سچائی بھی اجاگر ہوگئی کہ مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی یعنی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مسجد کسی مندرکی جگہ پر تعمیر ہوئی تھی مگر جو فیصلہ آیا ہے وہ اس سے میل نہیں کھاتا انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اسی بنیاد پر سپریم کورٹ گئے تھے کہ فیصلہ آستھا کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔

 مولانا مدنی  نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ کیوں کہ پانچ ججوں کی بینچ نے ایک طرف تو اپنے فیصلے میں کسی مندر کو توڑ کر مسجد بنانے کا انکار کیا، بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنے، پھر اسے توڑنے کو غلط ٹھہرا یا ہے اورجگہ انہیں لوگوں کودے دی جنہوں نے مسجد میں مورتی رکھی اور پھر مسجد کو شہید کردیاجس کی ہر گز امید نہ تھی۔اس سوال پر کہ کیا ریویوپٹیشن سے ملک کا ماحول خراب نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بالکل نہیں اگر اس معاملہ کو لے کر پچھلے سترسال کے دوران ملک کاماحول خراب نہیں ہوا تو ریویوپٹیشن سے کیونکر خراب ہوسکتاہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کے امن واتحادکو ذہن میں رکھ کرہی ہم اس معاملہ کو لے کر کبھی سڑک پرنہیں اترے بلکہ انصاف کے لئے قانون کا راستہ اپنا یا اور یہ اختیار ہمیں ہی نہیں ملک کے ہر شہری کو ہمارے آئین نے دیا ہے۔
ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں.

ممبئی پریس خصوصی خبر

گنپتی وسرجن کے لیے بی ایم سی کی جانب سے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں دستیاب

Published

on

ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ مہاراشٹر کے ریاستی تہوار گنیش اتسو کو ماحول دوست انداز میں منانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جس میں وسرجن کے جلوس کے لیے مختلف سہولیات اور انتظامات شامل ہیں۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق، بی ایم سی نے اس سال چھ فٹ تک اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں تعمیر کی ہیں۔ اس کے علاوہ، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات پر مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، اس سال ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ (ایک گنپتی، ایک درخت) کا اقدام شروع کیا گیا ہے، جس کا تصور میئر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا تھا۔ بی ایم سی نے ممبئی میں وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی کل تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ کے تصور کے تحت، بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک پھیلے اس تہوار کو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ مزید برآں، مورتی وسرجن کی تقریب کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور ملازمین پر مشتمل عملے کے ساتھ جامع اور مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس سال، گنیش اتسو کا تہوار 14 ستمبر 2026 کو شروع ہوا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی رہنمائی میں،ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے پورے ممبئی، اور خاص طور پر وسرجن کے مقامات پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ وسرجن کے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے، سڑکوں کے گڑھوں اور نکاسی آب کے ڈھکنوں کی مرمت، اور درختوں کی کانٹ چھانٹ جیسے کام مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سمندری ساحلوں اور قدرتی و مصنوعی وسرجن مقامات پر مختلف سہولیات اور خدمات—جن میں اسٹیل کی پلیٹس، رافٹس (تیرنے والے تختے)، کرینیں، ایمبولینسیں، لائف گارڈز، ‘نرمالیہ’ (پوجا کے بعد بچ جانے والے پھول اور دیگر اشیاء) جمع کرنے کے ڈبے، کنٹرول رومز، مشاہداتی ٹاورز، روشنی کا انتظام، عارضی بیت الخلاء اور ضروری افرادی قوت شامل ہیں—فراہم کی گئی ہیں۔

ایک گنپتی، ایک درخت گنپتی عقیدت، ایمان اور سماجی ہم آہنگی کا تہوار ہے۔ اس تہوار کے ذریعے عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ‘ایک گنپتی – ایک درخت’ (ایک گنپتی، ایک درخت) کے اقدام کا تصور مئیر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک کے تہوار کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو شامل کرنا ہے، جس کے تحت ہر وسرجن کی جانے والی مورتی کے بدلے ایک درخت لگایا جائے گا اور اس طرح ممبئی کے سرسبز مستقبل میں اپنا حصہ ڈالا جائے گا۔ گنیش اتسو تہوار کے ذریعے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے عوامی شرکت سے ممبئی کو سرسبز، خوبصورت اور ماحول دوست بنانے کا عزم کیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ شجرکاری، درختوں کے تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا بھی ارادہ کیا ہے۔ اس سال بھگوان گنیش کے بتوں کے وسرجن کے لیے، قدرتی وسرجن کے 67 مقامات (جن میں 44 ساحل/جیٹیز اور 23 قدرتی جھیلیں شامل ہیں) اور 383 مصنوعی وسرجن مقامات دستیاب کیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر درج ذیل انتظامات کیے گئے ہیں: 1,194 اسٹیل پلیٹس، 23 جرمن رافٹس (rafts)، 34 کرینیں، 85 ایمبولینسیں، 10 موٹر بوٹس، 498 ‘نرمالیہ’ (پوجا کی نذر/سامان) جمع کرنے والے برتن، 326 ‘نرمالیہ’ ڈمپرز، 261 استقبالیہ مراکز، 228 کنٹرول رومز، 75 مشاہداتی ٹاورز، 1,132 لائف گارڈز، 6,052 فلڈ لائٹس/سرچ لائٹس اور 489 عارضی بیت الخلاء۔ مزید برآں، میونسپل کارپوریشن کے تقریباً 25,000 اہلکار اور مختلف رضاکار تنظیمیں ڈیوٹی پر مامور ہوں گی۔

چھ فٹ سے کم اونچائی والے بتوں کا مصنوعی جھیلوں میں وسرجن ہائی کورٹ کی 20 اگست 2026 کی ہدایات کے مطابق، عوامی مفاد کی عرضداشت (پی آئی ایل) پر حتمی فیصلہ ہونے تک 24 جولائی 2025 کے حکم کی تعمیل لازمی ہے۔ لہٰذا، 6 فٹ تک اونچائی والے بھگوان گنیش کے بتوں کو مصنوعی جھیلوں میں وسرجن کرنا لازمی ہے اور میونسپل کارپوریشن نے اس کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ اس اقدام کے حوالے سے عوامی بیداری کی مناسب مہم بھی چلائی گئی ہے۔ ممبئی میں 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب ماحول دوست ‘گنیش اتسو’ کو فروغ دینے اور مصنوعی تالابوں میں بتوں کے وسرجن کی حوصلہ افزائی کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب قائم کیے ہیں۔ مزید برآں، میونسپل انتظامیہ 6 فٹ سے زیادہ اونچے بتوں کے لیے قدرتی وسرجن کے 67 مقامات پر ضروری سہولیات فراہم کرے گی۔ سوراجیہ بھومی (گرگاؤں چوپاٹی) میں 12 مصنوعی تالاب سوراجیہ بھومی جو عام طور پر ‘گرگاؤں چوپاٹی’ کے نام سے مشہور ہےممبئی میں گنیش کے بتوں کے وسرجن کی سب سے بڑی تعداد کا مرکز ہے۔ شہر بھر میں عوامی ’منڈلوں‘ اور گھروں سے مورتیاں وسرجن (جل پرواہ) کے لیے یہاں لائی جاتی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی پیروی، 65/ سالہ ضعیف شخص ضمانت منظور ہونے کے باجود جیل میں مقید

Published

on

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص ابتک بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے کے باجود جیل سے رہا نہیں ہوسکا ہے کیونکہ بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ ملزم کفیل احمد کی گذشتہ سال بامبے ہائی کورٹ نے طویل قید اور مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت منظور کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس آر آر بھونسلے نے کفیل احمد کی ضمانت منظور کرتے ہو ئے اسے مقامی ضامندار پیش کرنے کی شرط پر جیل سے رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ میں کفیل احمد کے مقدمہ کی پیروی ایڈوکیٹ مبین سولکر نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے کی تھی۔ ملزم کفیل احمد کا تعلق بہار سے ہے اور اس کی ضمانت لینے کے لیئے مہاراشٹر میں کوئی موجود نہیں ہے لہذا آج بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی عرضداشت صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ متین شیخ نے داخل کی ہے۔ گذشتہ ہفتہ ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی۔ ملزم کفیل احمد کے خلاف دہلی میں بھی ایک مقدمہ زیر سماعت ہے جہاں اسے ضمانت مل چکی ہے اور دہلی کی عدالت نے کفیل احمد کو کسی بھی صوبے سے تعلق رکھنے والے شخص کو بطور ضمانتدار پیش کرنے کی اجازت دی تھی۔ ایڈوکیٹ متین شیخ کی جانب سے داخل پٹیشن میں تحریرہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے ایک سال قبل ضمانت منظور ہو جانے کے باوجود ملزم کی ابتک جیل سے رہائی نہیں ہوسکی ہے کیونکہ مقامی ضامن دار کی جو شرط عدالت نے تجویز کی ہے ملزم اسے پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی جاننے والا نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ عرضداشت میں مزید تحریر ہے کہ جس طرح سے دہلی کورٹ نے ملزم کو بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے ضامندار کو پیش کرنے کی اجازت دی ہے بامبے ہائی کورٹ بھی ملزم کو ایسی سہولت دے تاکہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ملزم کی رہائی عمل میں آسکے۔ ملزم کفیل احمد کی عرضداشت پر اگلے ہفتے کسی دن سماعت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری،، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : شہزاد بھٹی نیٹ ورک بھی دہشت گرد تنظیم میں شامل، نوجوانوں سے اس نیٹ ورک سے دور رہنے کی اے ٹی ایس ذرائع کی اپیل

Published

on

ممبئی : شہزاد بھٹی گینگ و نیٹ ورک کو اب مرکزی وزارت داخلہ نے دہشت گرد نیٹ ورک قرار دیا ہے جس کے بعد اب شہزاد بھٹی سے وابستگان کے خلاف کارروائی میں تفتیشی ایجنسیوں کو راحت میسر ہوئی ہے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلانے اور اسلحہ جات کی فراہمی کے عمل میں بھی شہزاد بھٹی نیٹ ورک ملوث پایا گیا ہے اس کے خلاف مختلف ۹ ایف آئی آر درج کی گئی ہے ملک میں دہشت گردی سرگرمیوں اور بدامنی پھیلانے کی سازش میں شہزاد بھٹی گینگ نے کئی ایسے نوجوانوں کو بھی ملوث کیا تھا جو نابالغ بھی تھے .مہاراشٹراے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی گینگ کے خلاف آپریشن انجام دیا تھا جس میں کئی نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اس سے رابطہ رکھنے کے الزام میں بازپرس کے لیے طلب کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا بھی کیا گیا تھا لیکن سرکار نے شہزاد بھٹی گینگ پر ہی یو اے پی اے ایکٹ کا اطلاق کیا ہے اگر کوئی بھی اس گینگ یا نیٹ ورک سے وابستہ پایا جاتا ہے تو اس کی گرفتاری بھی یو اے پی اے کے تحت ہی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ پہلے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو ٹھوس اقدام کرنے یا کارروائی کے لئے کوئی ایسی دفعہ نہیں تھی لیکن اب اس تنظیم گینگ اور نیٹ ورک کو ہی دہشت گرد قرار دیدیا گیا ہے اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو کارروائی بھی اسی مناسبت سے ہو گی یعنی ان کے خلاف بھی یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی اے ٹی ایس نے اس سے قبل شہزاد بھٹی سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوانوں کو زیر حراست لیا تھا ان سے باز پرس کی اور انہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اے ٹی ایس کی کارروائی کے سبب شہزاد بھٹی سے زبرداست جھٹکا لگا ہے دبئی میں مقیم پاکستانی ڈان ہندوستان کے خلاف تشدد کی سازش میں ملوث ہے اور اس کو انجام دینے کےلیے وہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلاتا ہے اس کے وہاٹس ایپ گروپ سے لے کر فیس بک سمیت انسٹاگرام اور ٹیلیگرام گروپ بھی ہے جس پر وہ غیر قانونی سرگرمی کو انجام دینے کےلیے نوجوانوں کی تقرری کرتا ہے.

ایسے میں دلی اسپیشل سیل اور اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی پر کارروائی کی ہے ملک میں ۲۰۰ سے زائد شہزاد بھٹی اراکین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے شہزاد بھٹی پنجابی زبان بولتا ہے اور اسی طرح وہ سوشل میڈیا پر نوجوان کو اپنی طرف مائل کرتا ہے اے ٹی ایس ذرائع نے اپیل کی ہے شہزاد بھٹی نیٹ ورک سے سوشل میڈیا پر نوجوان دور رہیں کیونکہ اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو اس پر کاروائی یقینی ہے اس لئے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنا چاہئے اور کسی بھی انجان شخص سے رابطہ نہ رکھیں کیونکہ ایسے انجان رابطہ کاروں کے سبب ہی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ شہزاد بھٹی سے وابستگان پر بھی اب یو اے پی اے ایکٹ اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کارروائی یقینی ہے اس لئے اس گروہ نیٹ ورک سے دور رہنے کی اپیل اے ٹی ایس ذرائع نے کی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان