Connect with us
Thursday,01-October-2026

(جنرل (عام

محنت کشوں کا شہر مالیگاؤں اس شہر نے اُردو ادب کو قلم کے سپاہی عطا کئے ہیں

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں 5 روزہ اُردو کتاب میلے کا شاندار آغاز ہوگیا. اس موقع پر مہاراشٹر اُردو اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر احمد رانا صدیقی ممبئی سے تشریف لائے تھے. آج صبح ساڑھے 11بجے موصوف نے نمائندے نے تفصیلی گفتگو کی. اُردو کے اہل ذوق قارئین کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کا یہ انٹرویو حاضر خدمت ہے . محترم ڈاکٹر احمد رانا صدیقی نے ممبئی پریس کو بتایا کہ اُردو اکیڈمی کی جانب سے ہمارے ابھی جو آنے والے پروگرام ہونے والے ہیں. اس میں اُردو لائبریری اور اردو گھر کا جو مطالبہ ہے اسے پورا کیا جائے گا. اس کے علاوہ اُردو کے فروغ کے لئے بہت سارے پروگرام منعقد کئے جائینگے. کئی ضلعوں میں اُردو کو روزگار سے جوڑنے کے لئے کیا تدبیریں ہیں. اس کی تیاریاں چل رہی ہیں. موصوف نے مہاراشٹر میں اُردو کے مستقبل کے تعلق سے کہا کہ مہاراشٹر میں اُردو کا مستقبل بہت سنہرا ہے. بہت پیارا ہے. پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ بہتر اُردو مہاراشٹر ہی میں فروغ پارہی ہے. نمائندے نے جب مہاراشٹر اُردو اکیڈمی کے 2018 کے ایوارڈ یافتگان کے بارے میں دریافت کیا کہ رکن اُردو اکیڈمی ایوارڈ کی شفارش کے بدلے ایوارڈ کی رقم کی مانگ کرتے ہیں تو موصوف نے کہا کہ ہم بالخصوص آپ سے ایک چیز جاننا چاہتے ہیں کہ ابھی تک یہ چیز ہماری جانکاری میں نہیں تھی. کیونکہ اس بار ہم نے پوری کوشش کی تھی کہ صحیح لوگوں کو ایوارڈ ملے لیکن اگر ایسی کہیں ذرا سی بھی لغزش یا غلطیاں پائی جاتی ہیں تو برائے کرم ان کی تفصیل مجھے ارسال کرنے کی زحمت کریں اور مجھے بتائیں . تاکہ میں اس پر پورے طریقے سے غور و فکر کرکے ان اراکینوں کو جنھوں نے اس طرح کی حرکتیں کی ہیں ان کو یا تو اکیڈمی کی جانب سے برخاست کیا جائے گا یا ان کو اس کی سزا منتخب کی جائے گی تاکہ آئندہ وہ اس طرح کی غلطی نہ کرسکے . ویسے میری جانکاری میں بالکل نہیں ہے. پھر بھی اگر آپ اس کی جانکاری دینے کی کوشش کریں گی تو میں آپ کا بے حد شکر گزار رہوں گا کہ ایسی حرکتیں اگر ہوئی ہیں تو اگر ایک بھی آدمی مجھ کو مل جاتا ہے کہ واقعی میں میرے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ میں نے ایوارڈ لیا ہے اور پیسہ میں نے دے دیا ہے. ایسا کوئی ایک آدمی بھی مل جاتا ہے تو میں شکر گزار رہوں گا جانکاری دینے کے لئے اور یہ جانکاری خفیہ رکھی جائے گی. دوسری بات یہ ہے کہ آنے والے وقت میں ہم نے یہی کوشش کیا تھا چونکہ ہمارے پاس وقت بہت کم تھا جس وقت ہم کو یہ عہدہ ملا تو ایوارڈ دینے کی جو کوششیں ہوتی ہیں جو ذرائع ہوتے ہیں. اس میں کافی وقت لگتا ہے. جب موصوف سے پوچھا گیا کہ مہاراشٹر اُردو اکیڈمی کا ایوارڈ قابلیت کو دیا جاتا ہے یا شفارش کو ؟ تو موصوف نے نہایت خندہ پیشانی سے اس کی وضاحت کی کہ
جب ہمیں عہدہ ملا تو ہمارے پاس بہت کم وقت تھا کہ نئے ممبران کا انتخاب کرنا تو اس کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں تھا. پہلے سے چونکہ کچھ چیزیں طے ہوچکی تھی جس کے تحت اتنے سارے پروگرام ہم کو مجبوراً کرنے پڑیں. پھر بھی ہم نے اس پر نظر رکھی ہے . پھر بھی کسی سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اگر موقع ملتا ہے تو برائے کرم مجھ کو بتائے کہ فلاں فلاں لوگوں کی شفارش گئی تھی ان کی یا اس لائق نہیں تھے کہ ان کو ایوارڈ دیا گیا ہے. تو ہم اس پر نظر ثانی کریں گے اور آئندہ اس طرح کی غلطی نہ ہو اس پر پورا غور و خوض کیا جائے گا. میں بہت شکر گزار رہوں گا . ڈاکٹر صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ دیکھئے میں واقعی میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اُردو اکیڈمی میں ایسی جو بھی حرکتیں ہورہی ہیں مطلب یہاں کے ممبران یا یہاں کے افسران اگر اس کا غلط یا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں تو میں اس کی تاک میں ہوں کہ اے کاش مجھے وہ غلطی ملے تو میں پوری ذمے داری کے ساتھ اس پر کاروائی کروں گا اور آئندہ اکیڈمی کی جانب سے کوئی سوچے بھی نہ ایسی غلطی کرنے کے بارے میں. میں ان کی ایسی سزا منتخب کراؤں گا. میں ابھی مالیگاؤں پہنچا ہوں اور ابھی اُردو گھر دیکھنے جارہا ہوں. وہاں ہم کیا کرسکتے ہیں اور ہم نے ارادہ بنایا ہے اُردو گھر دیکھنے کے بعد ہم کو اچھا لگا تو آئی اے ایس اور آئی پی ایس کی کوچنگ سینٹر بھی ہم اسی گھر میں شروع کریں گے جس میں مسلم نوجوان اگر آئی اے ایس , آئی پی ایس کی تیاری کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے بہتر سہولت مہیا کی جائے گی. دوسرے آج میری بات ہوئی ہے
بھارت سرکار سے جناب نقوی صاحب سے جو پروگرام چل رہا ہے مسلم بالخصوص اقلیتوں کے لئے میں چاہوں گا کہ یہاں بھی ایک سینٹر نوجوانوں کے لئے شروع کیا جائے تاکہ وہ اس سے کچھ ہنر سیکھ سکے. یہ ہمارے پروگرام ہے. آج ہم ان ساری چیزوں کا معائنہ کرکے طے کرلیں گے تو آنے والے وقت میں ہم یہ سارے پروگرام ہم یہاں شروع کریں گے.
مالیگاؤں کے تعلق سے پوچھے جانے پر موصوف نے کہا کہ میں 6 سال قبل جب مہانگرپالیکا کا چناؤ تھا جس میں مجھے مالیگاؤں کی ذمے داری سونپی گئی تھی اس وقت میں لگ بھگ 1 مہینہ مالیگاؤں میں تھا. میں نے 16 مسلم امیدوار دیئے تھے لیکن اتفاق کہ ہمارے امیدوار ہار گئے تھے لیکن ہم نے کوشش کیا تھا اس شہر کو بہتر بنانے کے لئے لیکن یہاں کی عوام نے بی جے پی کے نام پر ہمیں ووٹ نہیں دیا تھا. اس وقت پورا مہینہ مالیگاؤں میں تھے. یہاں کا جائزہ بھی لیا تھا کہ ہم کچھ کریں گے لیکن یہاں کے لوگوں نے اس وقت توجہ نہیں دیا. اب انشاء اللہ تعالیٰ آنے والے وقت میں ہم کیا کرسکتے ہیں کہ اُردو اکیڈمی ہمارے پاس میں ہے. اس کے تحت ہم انشاء اللہ بہت کچھ کرنے کی کوشش کریں گے. مالیگاؤں ہمیں بہت پسند ہے. یہاں کے لوگ بھی بہت پسند ہے. جب نمائندہ نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مالیگاؤں سے اُردو اکیڈمی کا کوئی رکن منتخب نہیں کیا جاتا تو موصوف نے کہا کہ آئندہ باڈی میں مالیگاؤں سے بھی اکیڈمی کے رکن کو منتخب کیا جائے گا. اس ر غور و خوص چل رہا ہے. اس بار انشاء اللہ مالیگاؤں سے ضرور اکیڈمی کے رکن کا انتخاب عمل میں آئے گا.
موصوف نے اہلیان مالیگاؤں کو پیغام دیا ہے کہ مالیگاؤں سے مجھے بہت لگاؤ ہے . اس کی وجہ ہے کہ یہ زرخیز شہر ہے. اس کے علاوہ یہ محنت کشوں کا شہر ہے. یہاں جو لوگ رزق تلاش کرتے ہیں. روز کنواں کھودکر پانی پینے والے لوگ انتہائی سادہ اور معصوم ہے. مالیگاؤں شہر نے ادب کو قلم کے سپاہی عطا کئے ہیں جو دن رات اُردو ادب کی خدمت میں لگے ہیں.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پولس کی آپریشن شودھ مہم

Published

on

Police

ممبئی شہر میں ریکارڈ پر موجود اغواء/اختطاف شدہ 18 سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکی (بچے) اور گمشدہ 18 سال سے اوپر کے مرد/خاتون کے بارے میں خصوصی تلاش مہم کرنے کے لیے تاریخ ۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶ اس مدت میں ممبئی شہر میں “آپریشن شودھ 5” اس تلاش مہم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مذکورہ مدت میں ممبئی شہر سے 18 سال سے کم عمر کے گمشدہ زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں اور 18 سال سے اوپر کی گمشدہ خاتون/مرد ملنے کے لیے پولیس تھانہ سطح پر زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے گی۔ مذکورہ مہم کامیاب ہونے کے لیے ممبئی کے شہریوں نے پولیس اور گمشدہ/اختطاف/اغواء کے سلسلے میں کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو مدد کرنے سے زیادہ سے زیادہ گمشدہ/اختطاف شدہ بچوں، خواتین/مردوں کی تلاش لینے میں مدد ہوگی۔ اس لیے ممبئی کے تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس میں مشکوک چھوٹے لڑکے/لڑکیاں گمشدہ خواتین/مرد ملنے پر اگر ان کے بارے میں کچھ معلومات کی حصولیابی پر نیچے دی گئی معلومات متعلقہ محکموں کو دے کر مذکورہ اقدام کو اچھے طریقے سے نافذ کرنے کے لیے ممبئی پولیس کی مدد کریں۔ کسی بھی مشکوک چھوٹے لڑکے اور لڑکی یا گمشدہ خاتون/مرد ملنے پر ان سے پوچھ گچھ کریں اور کچھ مشکوک لگنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں اور مذکورہ گمشدہ شخص/بچوں کو فوری قریبی پولیس تھانے لے جائیں۔

۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر اس مدت میں ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، راستے پر بھیک مانگنے والے یا کچرا جمع کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، مذہبی مقامات، ہسپتال، ہوٹل، دکانیں وغیرہ جگہوں پر کام کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔علاقے میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں کام کر رہے ہیں ایسا ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔> ریلوے اسٹیشن کے باہر کا علاقہ/بس اسٹینڈ کے باہر کا علاقہ اس جگہ پر بے وارث حالت میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں یا خاتون/مرد ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔اپنے رہائشی علاقے میں رشتہ داروں کے پاس رہنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، خاتون/مرد کے بارے میں کچھ شک ہونے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔کوئی بھی کم عمر لڑکا یا لڑکی مشکوک لگنے پر اس بارے میں https://missionvatsalya.wcd.gov.in اس ویب سائٹ پر جا کر کھویا۔پایا اس پورٹل پر لڑکے اور لڑکی کا فوٹو اپ لوڈ کریں۔اپنے آس پاس کے علاقے میں کوئی چھوٹے لڑکے گھر کا کام کرتے ہوئے ملنے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کی میئر، ڈپٹی میئر اور میونسپل کمشنر نے ماحول دوستی کو برقرار رکھنے کی پہل کرنے پر گنیش عقیدت مندوں کا کیا شکریہ ادا

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) کی جانب سے کیے گئے بہترین اقدامات اور ماحول دوست گنیش اتسو کی اپیل پر پرجوش ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، ممبئی کے شہریوں اور گنیش منڈلوں نے حیرت انگیز طور پر 97.27 فیصد مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کیں۔ یہ وسرجن بی ایم سی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ 383 مصنوعی تالابوں میں کیا گیا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئرسنجے گھاڑی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے تہوار کو ماحول دوست رکھنے کی پہل کرنے پر تمام عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس سال کے گنیش اتسو کے دوران، برہن ممبئی کے علاقے میں کل 1,97,382 گنیش مورتیوں کا وسرجن کیا گیا۔ ان میں سے 1,92,237 مورتیاں (جن کی اونچائی 6 فٹ تک تھی) 383 مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں اس تعداد میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ مٹی (قدرتی مٹی) کی مورتیاں شامل تھیں۔ دریں اثنا، 6 فٹ سے زیادہ اونچی 5,382 مورتیاں وسرجن کے 67 قدرتی مقامات پر وسرجن کی گئیں؛ اس زمرے میں 5,259 پی او پی مورتیاں اور 123 ‘شادو’ مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس سال کے شری گنیش اتسو کے لیے ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے اور ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی کی رہنمائی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے کی ہدایات کے تحت مختلف اقدامات کیے گئے؛ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی قیادت اور ڈپٹی کمشنر (زون 2) گنیش اتسو کوآرڈینیٹر شری پرشانت سپکالے کی نگرانی میں یہ اقدامات کیے گئے۔ممبئی کے قدرتی آبی ذخائر پر مورتی وسرجن کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے، انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شری گنیش کی مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کریں۔ اس کے نتیجے میں، شہر بھر میں مختلف مقامات پر مصنوعی تالاب قائم کیے گئے، جن میں کھلے پلاٹ، پارکس اور شہریوں کے گھروں کے قریب موجود گراؤنڈز شامل تھے۔ اس اقدام کو فروغ دینے کے لیے عوامی آگاہی کی مؤثر مہمات بھی چلائی گئیں۔ نتیجتاً، مورتی وسرجن کے دوران مختلف ساحلوں پر ہجوم میں نمایاں کمی آئی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ نے اس سال مصنوعی تالابوں کے لیے وسیع انتظامات کیے تھے۔ ممبئی بھر میں کل 383 مصنوعی تالاب دستیاب کرائے گئے تھے، اس کے علاوہ سمندری کناروں، ساحلوں اور دیگر مقامات پر وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات بھی موجود تھے۔

6 فٹ تک کی اونچائی والی گنیش کی مورتیوں کے وسرجن کے لیے مصنوعی تالابوں کے استعمال کا اختیار دیا گیا تھا۔ بی ایم سی کی جانب سے فراہم کردہ مصنوعی تالابوں کے اس اختیار کو اس سال زبردست پذیرائی ملی مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی جانے والی 6 فٹ تک کی اونچائی والی مورتیوں میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ (شادو) مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں۔ دریں اثنا، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے لیے قدرتی وسرجن کے مقامات کا استعمال کیا گیا۔ ان مقامات پر کل 5,382 مورتیاں وسرجن کی گئیں جن میں 5,259 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) اور 123 ‘شادو’ مٹی سے بنی مورتیاں شامل تھیں۔ماحول دوست گنیش اتسو کو فروغ دینے کے لیے، میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے تہوار کے آغاز سے کافی پہلے ہی مختلف اقدامات نافذ کر دیے تھے۔ ماحول دوست مورتیاں تیار کرنے کے لیے مجسمہ سازوں کو 940 میٹرک ٹن سے زیادہ ‘شادو’ مٹی مفت فراہم کی گئی تھی۔ مزید برآں، ان مورتیوں کی تیاری کے لیے 25,400 لیٹر ماحول دوست پینٹ مفت فراہم کیا گیا۔میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے مورتیوں کے وسرجن (پانی میں بہانے کے عمل) کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت اور مشینری تعینات کی۔ وسرجن کی تقریب کو محفوظ اور خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور عملے کے ارکان ڈیوٹی پر مامور تھے اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوںامات، اور سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ و مہاراشٹر پولوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کی تعمیل میں، میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے اس سال کے گنیش اتسو کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں مصنوعی تالابوں کی فراہمی، ماحول دوست مورتیاں بنانے کی حوصلہ افزائی، وسرجن کے مقامات پر حفاظتی انتظامات، ‘نرمالیہ’ (مذہبی رسومات میں پیش کی جانے والی اشیاء) کو جمع کرنا، اور وسرجن کے بعد مورتیوں کے مواد کو اکٹھا کرنے اور اس کے انتظام کا عمل شامل تھا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ کمیٹی میں اقلیتی برادری کے نمائندے کو بطور مشیر مقرر کیا جائے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے محکمہ قانون و عدلیہ کو میمورنڈم کیا پیش

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ آئی اے ایس (آئی اے ایس) افسر مسٹر شتروگھن سنگھ کو یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کمیٹی کا مشیر مقرر کیے جانے کے بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو یو سی سی مسودہ کمیٹی میں بطور مشیر اور رکن مقرر کیا جائے۔ مہاراشٹر کے لیے مجوزہ یونیفارم سول کوڈ کا مسودہ تیار کرتے وقت عمل کو وسیع، سب کو شامل کرنے والا اور شفاف بنانے کے لیے یہ اقدام انتہائی ضروری ہے۔ریاست کے محکمہ قانون و عدلیہ کے پرنسپل سیکریٹری سوپنل کھاٹی کو ذاتی طور پر پیش کیے گئے ایک خط میں، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ یو سی سی مسودہ کمیٹی میں مشیر کی حالیہ تقرری کے پیش نظر، حکومت کو کمیٹی میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی اہل فرد کو مشیر مقرر کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

“اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مسودہ سازی اور مشاورت کے عمل کے دوران پرسنل لا (ذاتی قوانین)، خاندانی معاملات اور مجوزہ یو سی سی مسودے کے عملی اثرات کے حوالے سے مناسب نقطہ نظر کو پوری طرح مدنظر رکھا جائے۔”گزشتہ ہفتے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھ کر یو سی سی کمیٹی میں اقلیتی برادری کے رکن کی تقرری پر زور دیا تھا۔ اپنے خط میں، رکن اسمبلی شیخ نے نشاندہی کی کہ معزز جسٹس (ریٹائرڈ) آر سی چوہان کے استعفے کے بعد کمیٹی میں ایک نشست خالی ہوئی ہے۔ یو سی سی مسودہ کمیٹی کو ایسے موضوعات پر کام کرنا ہے جو شہریوں کی ذاتی اور خاندانی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں جن میں شادی، طلاق، وراثت، گود لینے کا عمل اور دیگر متعلقہ شہری معاملات شامل ہیں۔ لہٰذا، مجوزہ خاکہ تیار کرتے وقت مہاراشٹر کی متنوع برادریوں کے تجربات، خدشات، خیالات اور نقطہ نظر کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ ایم ایل اے شیخ نے محکمہ قانون و عدلیہ کے پرنسپل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ مسودہ کمیٹی (ڈرافٹنگ کمیٹی) میں موجود خالی آسامی کو پُر کرنے کے لیے اقلیتی برادری، بالخصوص مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے کسی مناسب اہل فرد کو مقرر کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ کمیٹی مشاورت کے عمل کے دوران مہاراشٹر کی آبادی کے تمام طبقات جن میں اقلیتی برادریاں، خواتین، قانونی ماہرین، مذہبی و سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے گروہ اور عوام شامل ہیں کو اپنے خیالات کے اظہار کا شفاف موقع فراہم کرے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان