Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

1998میں 44 گھنٹے تک وزیراعلی رہنے کا ریکارڈ، آج بھی جگد مبکاپال کے نام

Published

on

اسمبلی الیکشن کے نتائج کے بعد سے مہاراشٹر میں چل رہے سیاسی ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد بی جے پی کے دیویندر فڈنویس کو بھلے ہی 3 دن میں استعفی دینا پڑا ہو، لیکن سب سے کم وقت تک وزیراعلی رہنے کا ریکارڈ ابھی بھی اترپردیش کے جگدمبکا پال کے نام ہے جواس وقت بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ڈیموکریٹکس پارٹی کے جگدمبکا پال کے پاس 1998 میں اب سے کم وقت یعنی 44 گھنٹے کا ہے۔ واضح رہے کہ اترپردیش کے اس وقت کے گورنر رومیش بھنڈاری نے کلیان سنگھ سرکار کو برخواست کردیا تھا، اور ڈیموکریٹکس پارٹی کے جگدمبکا پال کو 21 فروری 1998 میں حلف دلا دیا تھا، لیکن وہ صرف 44 گھنٹے ہی وزیراعلی رہ سکے تھے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے جگدمبکا پال کے وزیراعلی کے طور پر حلف لینے کے پورے عمل کو ہی خارج کردیا تھا۔اس وقت یو پی اسمبلی تشدد کا بھی نشانہ بنی تھی، جب اراکین اسمبلی نے ایک دوسرے پر ایوان میں ہی بنچ پر لگے مائیک کواکھاڑ کر حملہ کردیا تھا۔اس میں کئی اراکین اسمبلی کو چوٹیں بھی آئی تھیں اور کچھ صحافی بھی زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسمبلی میں 24 فروری کو فلور ٹیسٹ ہوا جس میں اسمبلی اسپیکر کیشری ناتھ ترپاٹھی نے اپنی ایک جانب جگدمبکا پال کواور دوسری جانب کلیان سنگھ کو بٹھایا تھا۔ اراکین اسمبلی کی حمایت کلیان سنگھ کو حاصل تھی، اس لئے انہوں نے اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔ جگدمبکا پال کوہٹانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہائی وولٹیج ڈرامہ ہوا۔ جگدمبکا پال نے لکھنؤ کے پانچویں منزل پر وزیراعلی کی کرسی سے اترنے سے انکار کردیا تو پولس کو کاروائی کرنی پڑی۔ پانچویں منزل کی بجلی کاٹی گئی اندھیرا ہوجانے کے بعد ہی جگدمبکا پال کرسی سے اترے۔ دلچسپ ہے کہ جگدمبکا پال اب ڈومریا گنج پارلیمانی حلقے سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ کرناٹک کے بی ایس یدی رپا نے سال 2018 میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھالی، گورنر نے انہیں سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کے طور پر وزیراعلیٰ کا حلف دلایا، لیکن انہوں نے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے ہی استعفی دے دیا تھا۔ کیونکہ ان کے پاس اراکین کی مطلوبہ تعداد نہیں تھی۔ اس وقت یدی رپا کا وزیراعلیٰ کی حیثیت سے میعاد کار 17 سے 19 مئی 2018 تک محض 55 کھنٹوں کا رہا تھا۔ اسی طرح سے بہار کے موجودہ وزیراعلی نتیش کمار سال 2000 میں تین دن کے لئے وزیراعلی بنے، اور اکثریت نہ ثابت کر پانے کی وجہ سے ان کی کرسی چلی گئی۔ انڈین نیشنل لوک دل کے اوم پرکاش چوٹالہ 1990 میں 5 دنوں اور 1991 میں چار دنوں کے لئے وزیراعلی بنے تھے۔ ادھر مہاراشٹر میں بی جے پی کے دیویندر فڈنویس نے 23 نومبر کی صبح مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا، اور 26 نومبر کو وزیراعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ رات کے اندھیرے میں بننے والی فڈنویس کو شیوشینا، این سی پی اور کانگریس نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ دھوکے سے این سی پی کے 56 اراکین اسمبلی کے دستخط کی بنیاد پر محض 11 گھنٹے میں صدر راج منسوخ کرکے بنائی گئی تھی۔ صبح کی اولین ساعتوں میں جب لوگ پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوئے تھے، کہ دیویندر فڈنویس نے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ اور اجیت پوار نائب وزیراعلیٰ کا حلف لے چکے تھے۔ دیویندر فڈنویس نے این سی پی کے اجیت پوار کی حمایت پر وزیراعلیٰ کا حلف لیا تھا، لیکن تین دنوں میں ہی اجیت پوار نے حمایت سے انکار کردیا۔ کیونکہ اجیت پوار نے اپنے چچا راشٹروادی سپریمو شردپوار سے بغاوت کرکے بی جے پی کی حمایت کی تھی۔ مگر دیویندر فڈنویس بے وقت کی نزاکت کو پھانپتے ہوئے اسمبلی میں فلور ٹیسٹ سے قبل ہی اپنااستعفی دے دیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

Published

on

Asaduddin-Owaisi

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔

اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com