Connect with us
Thursday,19-March-2026

سیاست

بی جے پی سے دلبرداشتہ شیو سینا کے قدم این سی پی کی طرف!

Published

on

مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان جاری تلخیوں کے درمیان سیاسی ماہرین اب اس بات پر غور کرنے کے لیے مجبور ہیں کہ کیا شیوسینا-این سی پی حکومت سازی کے لیے قدم آگے بڑھا سکتی ہے۔ اس سوچ کو اس وقت مزید قوت ملی جب مہاراشٹر کے معروف لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ حسین دلوئی نے پارٹی قومی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر انھیں مشورہ دیا کہ شیوسینا کی حمایت کرنا بہتر قدم ہوگا۔حسین دلوئی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ سال 2007 میں ہوئے صدارتی انتخاب میں شیو سینا نے کانگریس امیدوار پرتبھا پاٹل کی حمایت کی تھی اور 2012 کے صدارتی انتخاب میں اس نے کانگریس امیدوار پرنب مکھرجی کی بھی حمایت کی تھی۔ علاوہ ازیں 1980 کے انتخاب میں بھی شیوسینا نے کانگریس کا تعاون کیا تھا، اس لیے آج بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے مقصد سے کانگریس کو چاہیے کہ وہ شیوسینا کی حمایت کرے۔حسین دلوئی کے علاوہ بھی مہاراشٹر میں بی جے پی مخالف پارٹیوں کے کئی لیڈران نے این سی پی۔شیوسینا۔کانگریس اتحاد بنانے کے لیے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ جمعہ کے روز مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈروں کے ساتھ سونیا گاندھی کی ہوئی میٹنگ کے بعد اس طرح کی خبریں باہر آئیں کہ کانگریس فی الحال ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر کام کرے گی اور بی جے پی و شیوسینا کا اتحاد ٹوٹنے کے بعد ہی باضابطہ کوئی اعلان کرے گی۔سینئر لیڈروں کے سونیا گاندھی سے میٹنگ کے بعد سیاسی سرگرمیاں مہاراشٹر میں مزید تیز ہو گئیں اور پھر این سی پی ترجمان نواب ملک کا ایک بیان سامنے آیا جو بی جے پی کے لیے کافی فکر انگیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر بی جے پی اور شیو سینا اتحاد مہاراشٹر میں حکومت نہیں بناتی ہے تو این سی پی حکومت سازی کا دوسرا راستہ تلاش کرے گی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پارٹی ان کے لیے اچھوت نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ این سی پی کو اگر موقع ملے گا تو وہ شیو سینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہو جائے گی۔مہاراشٹر اس وقت سب سے زیادہ پاور فُل کوئی لیڈر نظر آ رہا ہے تو وہ ہیں شرد پوار۔ این سی پی سربراہ شرد پوار اس وقت اپنے تجربے کا پورا استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو انھوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ عوام نے انھیں اپوزیشن میں بیٹھنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو وہ اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں گے، اور دوسری طرف سنجے راؤت کے ساتھ ملاقات کر کے سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے۔ سنجے راؤت اور شرد پوار کے درمیان ملاقات جمعہ کے روز ہوئی جس کے کئی معنی سیاسی ماہرین نکال رہے ہیں۔ حالانکہ شرد پوار نے اس ملاقات کے بعد بھی یہی کہا ہے کہ بی جے پی-شیوسینا کو حکومت بنانی چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے شیوسینا کے ذریعہ وزیر اعلیٰ عہدہ کے مطالبہ کو صحیح ٹھہرا دیا۔ انھوں نے میڈیا سے کہا کہ ’’اگر بی جے پی کو حکومت سازی کرنی ہے تو چاہیے کہ وہ جھکے اور وزیر اعلیٰ عہدہ شیو سینا کے ساتھ بانٹے۔‘‘اس پورے معاملے میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور بی جے پی لیڈران بہت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالانکہ کئی بار وہ شیوسینا سے کوئی تلخی نہ ہونے کی بات کہہ چکے ہیں لیکن اس بات پر وہ رضامند نہیں ہیں کہ شیوسینا سے کوئی وزیر اعلیٰ بنے۔ یہی ایک بات ہے جس پر شیوسینا بضد ہے اور بی جے پی کا کھیل خراب ہو رہا ہے۔ جمعہ کے روز شیوسینا اس وقت مزیدناراض ہو گئی جب ایک بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار نےشیوسینا کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر 7 نومبر تک اس نے بی جے پی کے ساتھ حکومت نہیں بنائی تو ریاست میں صدر راج نافذ ہو جائے گا۔ 2 نومبر کے’سامنا‘ میں شیوسینا نے اس بیان پر اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار بھی کیا اور بی جے پی کو پھٹکار بھی لگائی۔جس طرح کے بیانات مختلف سیاسی پارٹی لیڈران کے ذریعہ اس وقت سامنے آ رہے ہیں، وہ مہاراشٹر میں تذبذب کی حالت پوری طرح ظاہر کر رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شیوسینا اور بی جے پی اتحاد ٹوٹتا ہے تو این سی پی حکومت سازی کے لیے ضرور آگے آئے گی اور شیوسینا کو وزیر اعلیٰ عہدہ بھی مل جائے گا۔ لیکن 56 سیٹوں والی شیو سینا اور 54 سیٹوں والی این سی پی کے ملنے سے حکومت سازی ممکن نہیں، اور ایسے وقت میں قوی امکان ہے کہ 44 سیٹوں والی کانگریس باہر سے حمایت کر دے۔ ایسا اس لیے بھی کیونکہ اسمبلی الیکشن کے دوران کانگریس نے این سی پی کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔ ایسا کرنے سے کانگریس کے اوپر شیوسینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا داغ بھی نہیں لگے گا اور بی جے پی کی ریاست سے چھٹی بھی ہو جائے گی۔واضح رہے کہ 288 اسمبلی سیٹوں والی اس ریاست میں اسمبلی انتخاب کا نتیجہ گزشتہ 24 اکتوبر کو ہی برآمد ہو چکا ہے اور بی جے پی کو 105 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کی اتحادی پارٹی شیوسینا کو 56 سیٹیں ملی ہیں، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اتحاد سے قبل بی جے پی نے 50-50 فارمولہ اختیار کرنے کی بات کہی تھی جس سے اب وہ پیچھے ہٹ رہی ہے۔ شیو سینا کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی تحریری طور پر یہ دے کہ شیو سینا سے 2.5 سال کا وزیر اعلیٰ بنے گا اور 2.5 سال کے لیے وزیر اعلیٰ بی جے پی کا ہوگا۔ لیکن بی جے پی کو یہ منظور نہیں اور یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں سیاسی گرمی ابھی عروج پر ہے۔

سیاست

بھوپال: مکیش ملہوترا کو بڑی راحت، وجے پور سے ایم ایل اے رہیں گے۔

Published

on

بھوپال: سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کانگریس اور مکیش ملہوترا کے لیے خوشخبری سنائی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی گوالیار بنچ کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ اس سے مکیش ملہوترا کو وجے پور سے ایم ایل اے رہنے کا موقع ملے گا۔ شیوپور ضلع کے وجے پور اسمبلی حلقہ میں ہوئے ضمنی انتخاب میں کانگریس کے مکیش ملہوترا نے بی جے پی امیدوار رامنیواس راوت کو شکست دی۔ راوت نے ہائی کورٹ کی گوالیار بنچ میں ایک عرضی دائر کی، جس میں ملہوترا پر ان کے خلاف فوجداری مقدمات سمیت معلومات چھپانے کا الزام لگایا۔ عدالت نے ملہوترا کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا اور راوت کے ایم ایل اے کے طور پر تصدیق کی۔ کانگریس لیڈر مکیش ملہوترا نے گوالیار بنچ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی اور جمعرات کو انہیں اسٹے دے دیا گیا۔ جب کہ ان کی ایم ایل اے کی حیثیت برقرار ہے، سپریم کورٹ نے انہیں راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹ دینے کے حق سے انکار کر دیا ہے، اور وہ اپنی تنخواہ اور الاؤنسز سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

حال ہی میں، گوالیار ڈیویژن بنچ میں ملہوترا کے خلاف رامنیواس کی طرف سے دائر ایک درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ دو معاملات سے متعلق معلومات کو چھپایا گیا ہے۔ ملہوترا نے کہا کہ مقدمات طے ہو چکے ہیں اور انہیں ٹرائل کورٹ نے دو مقدمات میں بری کر دیا ہے۔ رامنیواس راوت نے الزام لگایا کہ مکیش ملہوترا کے خلاف اضافی مقدمات ہیں اور ان سے متعلق معلومات کو چھپایا گیا ہے۔ اس کیس میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ کیس کی معلومات کو چھپانا ایک غلط عمل ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملہوترا نے اپیل کے لیے 15 دن کی درخواست کی جسے منظور کر لیا گیا۔

مکیش ملہوترا نے ہائی کورٹ ڈویژن بنچ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، جہاں انہیں اسٹے مل گیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سچائی اور انصاف کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وجے پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس ایم ایل اے مکیش ملہوترا کی رکنیت کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس تاریخی فیصلے نے ایک بار پھر بی جے پی کی سیاسی چالوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ امید ہے کہ جمہوریت اور آئین کی مسلسل بے عزتی کرنے والی بی جے پی اس قانونی سبق کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : باندرہ بی کے سی پاسپورٹ آفس کو بم سے اڑانے کی دھمکی، تلاشی کے دوران کوئی بھی دھماکہ خیز مادہ برآمد نہیں، علاقہ میں الرٹ جاری

Published

on

Bomb-Disposal-Team

ممبئی : باندرہ بی کے سی میں بم کی دھمکی کے بعد سنسی پھیل گئی ہے ۔ای میل میں 19 سائینائیڈ بم نیوکلیر بم ممبئی کے بی کے سی میں پاسپورٹ آفس میں نصب ہونے کی ای میل موصول ہونے کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ پولیس کو فوری طور پر اس ای میل کی اطلاع ملنے کے بعد بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں پاسپورٹ آفس میں بم کی دھمکی ملنے کے بعد ہنگامہ برپاہو گیا۔ یہ دھمکی ای میل کے ذریعے دی گئی ہے۔ پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں سائینائیڈ سے بھرے 19 بموں کی تنصیب کی دھمکی دی گئی۔ ای میل موصول ہونے کے بعد خوف و دہشت پیدا ہوگئی دھمکی آمیز ای میل میں کہا گیا کہ بم آج دوپہر 1.30 بجے پھٹ جائیں گے۔ اس دھمکی آمیز ای میل کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ موقع پر پہنچ گیا۔ پورے علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے اور بم اسکواڈ نے تلاشی لی لیکن کچھ نہیں ملا۔ اس لیے پولیس اس ای میل کی تفصیلات لے رہی ہے جس کے ذریعے یہ دھمکی بھیجی گئی تھی۔ ممبئی پولیس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

: تین ای میل آئی ڈیز پر دھمکی آمیز میل
بدھ کو، بی کے سی میں پاسپورٹ آفس کو تین دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئے۔ جس میں پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں رکھے گئے 19 سائینائیڈ بم دوپہر 1.30 بجے پھٹنے کی دھمکی دی گئی۔ دھمکی آمیز میل Sourav_biswas21@hotmail.com، rpo.mumbai@mea.gov.in اور rpo.mumbai@cpo.gov.in ای میل پتے پر موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں اور ممبئی پولیس کو فوری طور پر اس کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی شروع کردی۔ بی کے سی پولیس اسٹیشن کے سینئر افسران، اے ٹی ایس کی ٹیم اور یونٹ 8 کے افسران فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔

: شہریوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل
بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پاسپورٹ آفس کی لابی، مرکزی داخلی دروازے، داخلی اور خارجی راستوں، علاقے میں موجود درختوں اور جھاڑیوں اور تمام اطراف کے علاقوں کا مکمل معائنہ کیا۔ خوش قسمتی سے اس معائنہ میں انہیں کوئی مشکوک یا قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔ پھر بھی پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کہیں بھی کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

جعلی دھمکی آمیز ای میلز بھی اکثر بھیجی جاتی ہیں۔ ایسی جعلی ای میلز خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے سائبر پولیس نے ای میل آئی ڈی کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ پاسپورٹ آفس کے سیکورٹی اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے اور حفاظتی معیارات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

Continue Reading

بزنس

امریکی فیڈ کے فیصلے کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی، چاندی 2.45 لاکھ روپے سے نیچے آ گئی۔

Published

on

ممبئی: جمعرات کے تجارتی سیشن میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ سے سونے کی قیمت تقریباً 1.52 لاکھ روپے فی 10 گرام تک گر گئی اور چاندی کی قیمت 2.45 لاکھ روپے فی کلو سے نیچے آ گئی۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر صبح 10:21 بجے، سونے کا 2 اپریل 2026 کا معاہدہ 953 روپے یا 0.62 فیصد کمی کے ساتھ 1,52,072 روپے پر تھا۔ ٹریڈنگ میں اب تک سونا 1,51,712 روپے کی کم اور 1,53,025 روپے کی اونچائی پر پہنچ چکا ہے۔ چاندی بھی کمزور رہی۔ چاندی کا معاہدہ 5 مئی 2026 کو 3,945 روپے یا 1.59 فیصد کمی کے ساتھ 2,44,249 روپے پر تھا۔ اب تک کی تجارت میں، چاندی 2,43,083 روپے کی کم اور 2,45,387 روپے کی اونچائی کو چھو چکی ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی کا سامنا ہے۔ تحریر کے وقت، سونا 0.92 فیصد کم ہوکر 4,850 ڈالر فی اونس اور چاندی 2.42 فیصد کمی کے ساتھ 75.735 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ سونے کی قیمت میں کمی کی وجہ امریکی فیڈ کے فیصلے کو قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کو امریکی فیڈ نے مسلسل دوسری بار شرح سود کو برقرار رکھا۔ فی الحال، امریکی شرح سود 3.5 فیصد اور 3.75 فیصد کے درمیان ہے۔ اس سے پہلے، امریکی فیڈ نے ستمبر، اکتوبر اور دسمبر 2025 میں شرح سود میں کمی کی تھی۔ جسٹن کھو، سینئر مارکیٹ تجزیہ کار – وی ٹی مارکیٹس میں اے پی اے سی، نے کہا کہ شرح سود کو 3.5 فیصد سے 3.75 فیصد پر رکھنے کا فیڈرل ریزرو کا فیصلہ کمیٹی کے جیو پولیٹیکل جھٹکوں اور صدموں سے نمٹنے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیڈ کے چیئرمین پاول نے تصدیق کی ہے کہ متعدد عہدیداروں نے اپنی پیش گوئیاں دو شرحوں میں کمی سے کم کر کے صرف ایک کر دی ہیں۔ یہ تبدیلی افراط زر کی توقعات میں 2.7 فیصد اضافے کے بعد ہوئی ہے، جس کی بنیادی وجہ تین ہفتوں سے جاری ایران جنگ اور تیل کی عالمی منڈی پر اس کے اثرات ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان