Connect with us
Friday,07-August-2026

(جنرل (عام

کسم تیواری نے منجھے ہوئے نیوز اینکر سمیت اوستھی کے چھکے چھڑا دیئے ،ملک کا میڈیا عوامل گمراہ کر رہا ہے

Published

on

اس وقت پورے ملک کے مسلمان ایک عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں، یکے بعد دیگرے حکومت مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کررہی ہیں اور مسلمانان ہند نہایت صبر و تحمل سے حکومت کا ہر وار برداشت کررہے ہیں، کانگریس این سی پی جیسی سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کے ڈسے ہوئے مسلمانوں کو بی جے پی سالم نگل جانا چاہتی ہے سچ کہا جائے تو جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں سب نے مسلمانوں کا استحصال ہی کیا ہے، مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے . پھر چاہے وہ کانگریس ہو راشٹریہ وادی ہو یا سماج وادی سب نے مسلمانوں کے مسائل پر صرف سیاسی روٹیاں ہی سینکی ہیں ، ان پارٹیوں اور ان کے لیڈران نے کبھی مسلمانوں کو متحد ہونے نہیں دیا، ہمیشہ ان کے درمیان آپسی نفرت ہی پیدا کی، یہی وجہ ہے کہ اب تک مسلمان اپنے قائد و سالار سے محروم رہیں، یہ پارٹیاں مسلمانوں سے ہمدردی کا جھوٹا ناٹک کرکے انہیں آپس میں الجھائے رکھتی ہیں ، تاکہ یہ کسی پرچم تلے یکجا نہ ہوسکیں ، جب کہ مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے بھی مسلمان چاہے سفر پر جاتے یا جنگ پر اپنا امیر یا سالار مقرر کرتے تھے ، اب جب کہ مسلمانوں پر ہند کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے ایسے میں مسلمان بے یار و مددگار کچھ کانگریس کے پالے میں ہیں تو کچھ کو این سی پی نے ہتھیا لیا ہے اور کچھ سماج وادی میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں،( یہاں ہم ان نام نہاد مسلمانوں کا تذکرہ نہیں کریں گے جو فرقہ پرست شیوسینا اور بی جے پی کے ٹٹو ہیں ) یہ تینوں بظاہر سیکولر پارٹیاں ہیں، جنھوں نے کبھی مسلمانوں کا بھلا نہیں سوچا، ہمیشہ اقتدار کا لالچ دے کر ایک دوسرے کے خلاف الجھائے رکھا ، جس کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہیں، جس کا پورا فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ، آج بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیمیں مسلمانوں کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے، ہجومی تشدد (مآب لنچنگ) میں مسلمانوں کا سیاسی قتل عام (Political Murder) کیا جارہا ہے ،یہ وہ تنظیمیں ہیں جو جانوروں پر تشدد کے خلاف احتجاج کرکے قانون ہاتھ میں لیتی ہیں ، جانوروں کی حفاظت کے لئے قانون ہیں مگر مسلمانوں کا خون پانی کی طرح سڑکوں پر بہہ رہا ہے، کیا اسی دن کے لئے ملک کو آزاد کرایا گیا تھا، بجرنگ دل ، وشوہندو پریشد اور آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست پارٹیاں آج مسلمانوں کو غدار کہہ کر بھارت چھوڑنے کا کہہ رہی ہیں مگر نہ کانگریس کے منہ میں زبان ہے نہ راشٹروادی گونگی ہے بہری تو سماج وادی بھی نہیں ہے ، پھر کیا وجہ ہے کہ کچھ کہنے سے پہلے ان پارٹیوں کو لکنت طاری ہو جاتی ہے ، آج مآب لنچنگ کے بعد مسلمانوں کے سر پر سب سے بڑا خطرہ این آر سی کا ہے ، مسلمان باہر محفوظ نہ تھا، اب تو این آر سی کے نام پر اسے ملک بدر کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں ، طلاق ثلاثہ بل منظور کرکے شریعتِ میں مداخلت کی کوشش کی گئی ، یوں تو لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر ہم حالیہ مسلمانوں کے سلگتے مسائل پر بات کریں گے ، اس وقت مآب لنچنگ کے وجہ سے ملک کا مسلمان گھر سے نکلتے ہوئے ڈر رہا ہے کہ پتہ نہیں کب ظالم جنونی ہجوم اسے ییٹ پیٹ کر قتل کردیں ، ان سب باتوں کو ہوا دے رہا ہے ملک کا الیکٹرانک میڈیا، میڈیا چاہے کوئی بھی ہو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا ، اگر میڈیا ہی گمراہ کرنے لگے تو عوام کی حفاظت خطرے کی زد میں آجاتی ہے ، ابھی ہم اس کا خلاصہ کردیتے ہیں، کملیش تیواری مرڈر کیس میں اے بی نیوزنے حد کردی، اے بی کے نیوز اینکر سمیت اوستھی نے کملیش تیواری کی ماں کسم تیواری کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا، سمیت اوستھی نے کملیش تیواری مرڈر کیس کے تار بلاوجہ مسلمانوں سے جوڑنے اور اسے ہندو مسلمان کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی مگر اس بزرگ خاتون کسم تیواری نے اس منجھے ہوئے نیوز اینکر کی ساری اینکری نکال دی ، یوپی کی اس خاتون نے سمیت اوستھی کو جھاڑ دیا کہ ہندو اور مسلمان کا نام میں نے نہیں لیا بلکہ آپ نے لیا ہے، کسم تیواری کے جھاڑنے پر سمیت اوستھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ لائیو ٹیلی کاسٹ چل رہا ہے، کسم تیواری باربار کملیش تیواری مرڈر کیس میں یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ کا نام لے رہی تھی، اس کے باوجود اس مرڈر کیس کو مسلمانوں سے جوڑ کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،آج مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے لئے تمام ہندو تنظیمیں ایک ہوگئی ہیں ، دبے دبے کانگریس راشٹروادی اور سماج وادی بھی اس کی ہمنوا ہے مگر مسلمانوں میں اتحاد کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات بھول کر بلاتفریق ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو جائے تو پھر یہ فرقہ پرست ان کی مآب لنچنگ بھول جائیں گے، لیکن آج مسلمان ہی مسلمان کا سب سے بڑا دشمن ہے، معاف کرنا مگر یہ اتنا ہی سچ ہے جتنا کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوب جاتا ہے، اسمبلی الیکشن کے نتائج کے بعد ابو عاصم اعظمی نے ایک انٹرویو دیا، جس میں اعظمی صاحب نے ایم آئی ایم پر تنقید کی، ان کا کہنا ہے کہ صرف مسلمانوں کو نہیں ہندوؤں کو بھی ساتھ لے کر چلیں اور اتحاد المسلمین کی وجہ سے سے یہ صرف مسلمانوں کی پارٹی کہلاتی ہے، موصوف جب سماج وادی سے منسلک ہوئے تھے تب مسلمانوں نے خوشیاں منائیں تھی ، انہیں قائد ملت کے خطاب سے نوازا تھا، ابو عاصم اعظمی کی شہرت کا ڈنکا بجتا تھا مگر سماج وادی نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور بابری مسجد شہادت کے مجرم کلیان سنگھ سے ہاتھ ملا لیا تھا، تب زخم خوردہ مسلمانوں نے واپس کانگریس میں پناہ لی تھی کیونکہ ان کے پاس سیکولر کے نام پر کانگریس اور سماج وادی پارٹی تھی دونوں ہی پارٹیاں سیکولر کے مکھوٹے میں اپنا چہرہ جھپائے ہوئے تھی، راشڑ وادی بھی کانگریس کی کوکھ سے جنمی ہے، ایسے میں مسلمانوں کو ایک اپنی پارٹی کی اشد ضرورت تھی، جو واقعی ان کی اپنی ہو ، انہیں پتہ ہے کہ اگر مسلمان ایک ہوگئے تو یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔، ایک شخص اگر مسلمانوں کے لئے لڑرہا ہے انہیں متحد کررہاہے تو خدارا اگر اس شخص کے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتے تو نہ کریں مگر برائے کرم اس کی ٹانگ نہ کھینچے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔

‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔

مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بمبئی ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیا۔

Published

on

high

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا تو ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کی بھی موت ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

مہاراشٹر میں ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو برج کورس کے ذریعے ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کردی۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست گزشتہ 12 سالوں سے زیر التوا ہے۔ اب 3 اگست کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا کام مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔

اس کے جواب میں ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے کہا کہ “فرض کریں کہ بعد میں آپ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڑتال کے دوران 50 مریض مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنی چاہیے، ورنہ ہم تنخواہیں منجمد کرنے کا حکم دیں گے۔” عدالت نے تمام ڈاکٹروں کو کھانے کے وقفے کے بعد کام پر واپس آنے کی ہدایت کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مظاہرین کے کیس کی مکمل سماعت کرے گی۔

مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (سارڈ) نے حکومت اور مہاراشٹر میڈیکل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے جس میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے تحت ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں، بڑی تعداد میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کے عہدیداروں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے، حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے “کوئی سی سی ایم پی نہیں” کے نعرے لگائے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف 90 دن کا کورس کر کے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی ڈاکٹروں کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت اور صحت سے سمجھوتہ کرتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان