Connect with us
Monday,28-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

حقیقی موضوعات سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی نے آرٹیکل 370 لایا ہے : شرد پوار

Published

on

ممبئی : شرد پوار نے کہاکہ ”مذکورہ وزیراعظم نے کہاکہ ’اپنے منشور میں مسٹر شرد پوار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘ سب سے پہلے ہمارے منشور جاری ہوگیا ہے۔ اور جب ارٹیکل 370 ہٹا دیا گیا ہے تو ہم اس پر اب کیا کہہ سکتے ہیں ؟“ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ 78 سالہ شرد پوار 21 اکٹوبر کو مہارشٹرا میں منعقد ہونے والے اسمبلی الیکشن میں مرکزی اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے قومی معاملات پر توجہہ مرکوز کرنے کی وجہہ سے اپوزیشن کو درپیش مشکلات کے متعلق بات کی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے اگر یہ ایک طرفہ لڑائی ہے تو وزیراعظم (نریندر مودی) یہاں پر نو عوامی جلسوں سے کیوں خطاب کررہے ہیں؟ کیوں مرکزی وزیرداخلہ (امیت شاہ) 20 جلسوں سے خطاب کررہے ہیں؟ کیوں وہ یہاں پر اتنا وقت گذار رہے ہیں؟ سارے ملک سے بی جے پی قائدین اس کے اراکین پارلیمنٹ ریاست کے کونے کونے میں جارہے ہیں۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حالات ان کے موافق نہیں ہیں۔ جو ہم نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں دیکھا ہے اور جو ہم اسمبلی الیکشن میں دیکھ رہے ہیں اس میں بڑا فرق ہے۔ اسی طرح کے حالات پورے مہارشٹرا میں ہیں‘ اور جن کے پاس معلومات کی کمی ہے وہی یہ کہہ رہے ہیں کہ (لڑائی یکطرفہ ہے) مذکورہ کانگریس کو بڑی مشکل سے راجستھان اور مدھیہ پردیش میں 2018 کے اسمبلی الیکشن میں اکثریت حاصل ہوئی ہے؟ وہاں پر بی جے پی کی سابق میں حکومت تھی۔ لہذا عوام نے بڑے پیمانے پر بی جے پی حکومت کو نکال باہر کیا۔ ایک اکثریت ہر حال میں اکثریت ہوتی ہے کیا آپ کو احساس ہورہا ہے کہ ایک کا ساتھی کمزور ہے؟ مذکورہ کانگریس کو بڑے پیمانے پر داخلی خلفشار کا سامنا ہے۔ ملند دیوا اور سنجے نروپم جیسے لوگ ایک دوسرے پر حملہ کررہے ہیں؟ میں اتنا نہیں سونچتا، آپ اگر کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں وہاں پر کانگریس کی حمایت میں ایک بڑی آبادی ملے گی۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ امیدوار کون ہے‘ وہ صرف کانگریس کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ اس قسم کی بنیاد وہاں پر ہے۔ درج فہرست پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے لئے ان کی پارٹی کانگریس ہے۔ یہ ایک مضبوط بنیاد ہے۔ جن لوگوں کے نام کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ ریاست میں کانگریس کے حقیقی لیڈران نہیں ہیں۔ وہ ٹیم میں شامل ہیں مگر زمینی سطح سے جڑے لیڈران میں ان کا شمار نہیں ہوتا۔ بی جے پی نے قومیت کو اجاگر کیا ہے اور جموں اور وکشمیر سے ارٹیکل 370 کو ہٹادیا۔ اس کا کیااثر پڑے گا؟ آپ کو مذکورہ الیکشن میں اصلی مسائل دیکھنے ہوں گے۔ زراعی طبقات میں بحران ہے۔ 16000 کسانوں نے خودکشی کرلی۔ اگر کچھ حالات بہتر قیمتوں کے انہیں ملتے ہیں تو حکومت فوری مداخلت کرتی ہے۔ اس کے لئے پیاز کے کسانوں کا معاملہ ہے۔ جب انہیں اچھی قیمت مل رہی تھی، مذکورہ حکومت نے پیاز کی درآمد بند کردی۔ یہ تمام پالیسیوں سے زراعت پر اثر پڑ رہا ہے۔ بینج اور کھاد کی قیمتوں پر کنٹرول یا قابو بلکل نہیں ہے۔ دوسری بات ہم تمام کئی سالوں سے مہارشٹرا کو ایک صنعتی اسٹیٹ کے طور پر ترقی دینے کے فیصلے پر سنجیدہ ہیں۔ اسی وجہہ سے (ریاست کے پہلے چیف منسٹر) وائی بی چوہان کے دنوں سے ہم نے ناگپور‘ اورنگ آباد‘ اور صنعتی پالیسیوں کو پیش کیا۔ان تمام علاقوں میں ہزاروں لوگ کام کررہے ہیں۔ آج کے وقت میں بی جے پی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ پالیسیوں کی وجہہ سے 50 فیصد سے زیادہ صنعتی یونٹس بند ہوگئے ہیں۔ صنعتوں کی تباہی ریاست کا سب سے حساس مسئلہ ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری۔ پونا میں 30-40 انجینئرنگ کالج آپ کو مل جائیں گے‘ مگر گریجویٹ ہونے والے لاکھوں طلبہ کو نوکری نہیں مل رہی ہے۔ یہ تمام انتخابات مسائل ہیں جس سے توجہہ ہٹانے کے لئے (مذکورہ بی جے پی) بار بار ارٹیکل 370 کو سامنے لارہی ہے۔ مذکورہ وزیراعظم نے کہاکہ ’اپنے منشور میں مسٹر شرد پوار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘ سب سے پہلے ہمارے منشور جاری ہوگیا ہے۔ اور جب (ارٹیکل) 370 ہٹا دیا گیا ہے تو ہم اس پر اب کیا کہہ سکتے ہیں؟“ میں نے برسر عام یہ بیان دیا کہ اقدام اچھا ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی کہا‘ کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ارٹیکل 370 آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ میں ہر عوامی جلسہ عام میں کہا ہے‘ کون جموں وکشمیر میں اراضی خریدے گا اور وہاں پر زراعت کرے گا۔ مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ ارٹیکل 371 کا کیا اگر میں ناگالینڈ، سکم میں اراضی خریدتا ہوں میں شمال مشرق کے کسی حصہ میں نہیں کرسکتا۔ یہ بڑے پیمانے پر عوامی مسئلہ نہیں ہے یہاں پر ایک تاثر یہ ہے کہ مودی کے ساتھ آپ کا موزانہ بہتر ہے۔ میں ہوں۔ میں ان کی کئی پالیسیوں پر یقین نہیں رکھتا اور میں اب ان سے ملاقات کو موقع مل جائے تو ضرور تبادلہ خیال کروں گا۔ حال ہی میں میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ میں دہلی میں نہیں تھا اور زیادہ تر وقت میں ہندوستان کے باہر رہتا ہوں۔ میرے پاس ذاتی نفرت نہیں ہے۔ سب سے کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ ذاتی تعلقات اور سیاسی پیش قدمی دونوں الگ بات ہیں۔ سیاسی پیش قدمی اس ملک کے لیڈروں کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ آپ کے اور اپنے بھیتجے اجیت پوار اور این سی پی لیڈر پرفال پٹیل کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے کیسے کا کیا نتیجہ نکلے گا ہم اس کے متعلق نہیں جانتے۔ میرے خلاف کیا معاملہ ہے؟ یہاں پر ریاستی اسٹیٹ کوپراٹیو بینک کے 50 ڈائرکٹرس ہیں۔ انہوں نے ضلع بینکوں اور انڈسٹریز کے لئے پیسے لئے، انفرادی طور پر نہیں۔ یہاں پر تمام ڈائرکٹرس کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ہیں، جو بی جے پی- شیو سینا کانگریس اوراین سی پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکورہ شکایت کردہ نے کہاکہ زیادہ تر ڈائرکٹرس مسٹر پوار کو جانتے ہیں۔ ہاں میں جانتاہوں کیونکہ وہ اہم لوگ ہیں۔ اگر میں کسی کو جانتا ہوں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوا ہے کہ میں مجرم ہوں؟ نہ تو میں بینک کا ڈائرکٹر تھا اور نہ ہی فیصلہ ساز باڈی کا رکن تھا۔ اس بنیاد پر آپ کیس بناتے ہیں، محض اجیت پوار کے نام کا ذکر کر کے؟ پھر کیوں نہیں بی جے پی اور شیو سینا کے لیڈران کو بھی شامل کرتے ہیں، جو ڈائرکٹرس ہیں؟ شرد پوار نے بات چیت میں پرفال پٹیل پر عائد کیس کو بھی بے بنیاد الزامات کا نتیجہ قرار دیا۔ اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی جانب سے رافائیل معاملے کو اٹھانے پر لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم تو کسانوں کے بحران، خودکشی اور صنعتی شعبہ کی تباہی جیسے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔ آرٹیکل 370 اور رافائیل جیسے معاملات کو کیوں اٹھایا جارہا ہے؟ مہارشٹرا کے الیکشن سے اس کا کیا لینا دینا ہے؟

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان