Connect with us
Monday,10-August-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

حقیقی موضوعات سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی نے آرٹیکل 370 لایا ہے : شرد پوار

Published

on

ممبئی : شرد پوار نے کہاکہ ”مذکورہ وزیراعظم نے کہاکہ ’اپنے منشور میں مسٹر شرد پوار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘ سب سے پہلے ہمارے منشور جاری ہوگیا ہے۔ اور جب ارٹیکل 370 ہٹا دیا گیا ہے تو ہم اس پر اب کیا کہہ سکتے ہیں ؟“ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ 78 سالہ شرد پوار 21 اکٹوبر کو مہارشٹرا میں منعقد ہونے والے اسمبلی الیکشن میں مرکزی اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے قومی معاملات پر توجہہ مرکوز کرنے کی وجہہ سے اپوزیشن کو درپیش مشکلات کے متعلق بات کی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے اگر یہ ایک طرفہ لڑائی ہے تو وزیراعظم (نریندر مودی) یہاں پر نو عوامی جلسوں سے کیوں خطاب کررہے ہیں؟ کیوں مرکزی وزیرداخلہ (امیت شاہ) 20 جلسوں سے خطاب کررہے ہیں؟ کیوں وہ یہاں پر اتنا وقت گذار رہے ہیں؟ سارے ملک سے بی جے پی قائدین اس کے اراکین پارلیمنٹ ریاست کے کونے کونے میں جارہے ہیں۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حالات ان کے موافق نہیں ہیں۔ جو ہم نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں دیکھا ہے اور جو ہم اسمبلی الیکشن میں دیکھ رہے ہیں اس میں بڑا فرق ہے۔ اسی طرح کے حالات پورے مہارشٹرا میں ہیں‘ اور جن کے پاس معلومات کی کمی ہے وہی یہ کہہ رہے ہیں کہ (لڑائی یکطرفہ ہے) مذکورہ کانگریس کو بڑی مشکل سے راجستھان اور مدھیہ پردیش میں 2018 کے اسمبلی الیکشن میں اکثریت حاصل ہوئی ہے؟ وہاں پر بی جے پی کی سابق میں حکومت تھی۔ لہذا عوام نے بڑے پیمانے پر بی جے پی حکومت کو نکال باہر کیا۔ ایک اکثریت ہر حال میں اکثریت ہوتی ہے کیا آپ کو احساس ہورہا ہے کہ ایک کا ساتھی کمزور ہے؟ مذکورہ کانگریس کو بڑے پیمانے پر داخلی خلفشار کا سامنا ہے۔ ملند دیوا اور سنجے نروپم جیسے لوگ ایک دوسرے پر حملہ کررہے ہیں؟ میں اتنا نہیں سونچتا، آپ اگر کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں وہاں پر کانگریس کی حمایت میں ایک بڑی آبادی ملے گی۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ امیدوار کون ہے‘ وہ صرف کانگریس کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ اس قسم کی بنیاد وہاں پر ہے۔ درج فہرست پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے لئے ان کی پارٹی کانگریس ہے۔ یہ ایک مضبوط بنیاد ہے۔ جن لوگوں کے نام کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ ریاست میں کانگریس کے حقیقی لیڈران نہیں ہیں۔ وہ ٹیم میں شامل ہیں مگر زمینی سطح سے جڑے لیڈران میں ان کا شمار نہیں ہوتا۔ بی جے پی نے قومیت کو اجاگر کیا ہے اور جموں اور وکشمیر سے ارٹیکل 370 کو ہٹادیا۔ اس کا کیااثر پڑے گا؟ آپ کو مذکورہ الیکشن میں اصلی مسائل دیکھنے ہوں گے۔ زراعی طبقات میں بحران ہے۔ 16000 کسانوں نے خودکشی کرلی۔ اگر کچھ حالات بہتر قیمتوں کے انہیں ملتے ہیں تو حکومت فوری مداخلت کرتی ہے۔ اس کے لئے پیاز کے کسانوں کا معاملہ ہے۔ جب انہیں اچھی قیمت مل رہی تھی، مذکورہ حکومت نے پیاز کی درآمد بند کردی۔ یہ تمام پالیسیوں سے زراعت پر اثر پڑ رہا ہے۔ بینج اور کھاد کی قیمتوں پر کنٹرول یا قابو بلکل نہیں ہے۔ دوسری بات ہم تمام کئی سالوں سے مہارشٹرا کو ایک صنعتی اسٹیٹ کے طور پر ترقی دینے کے فیصلے پر سنجیدہ ہیں۔ اسی وجہہ سے (ریاست کے پہلے چیف منسٹر) وائی بی چوہان کے دنوں سے ہم نے ناگپور‘ اورنگ آباد‘ اور صنعتی پالیسیوں کو پیش کیا۔ان تمام علاقوں میں ہزاروں لوگ کام کررہے ہیں۔ آج کے وقت میں بی جے پی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ پالیسیوں کی وجہہ سے 50 فیصد سے زیادہ صنعتی یونٹس بند ہوگئے ہیں۔ صنعتوں کی تباہی ریاست کا سب سے حساس مسئلہ ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری۔ پونا میں 30-40 انجینئرنگ کالج آپ کو مل جائیں گے‘ مگر گریجویٹ ہونے والے لاکھوں طلبہ کو نوکری نہیں مل رہی ہے۔ یہ تمام انتخابات مسائل ہیں جس سے توجہہ ہٹانے کے لئے (مذکورہ بی جے پی) بار بار ارٹیکل 370 کو سامنے لارہی ہے۔ مذکورہ وزیراعظم نے کہاکہ ’اپنے منشور میں مسٹر شرد پوار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘ سب سے پہلے ہمارے منشور جاری ہوگیا ہے۔ اور جب (ارٹیکل) 370 ہٹا دیا گیا ہے تو ہم اس پر اب کیا کہہ سکتے ہیں؟“ میں نے برسر عام یہ بیان دیا کہ اقدام اچھا ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی کہا‘ کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ارٹیکل 370 آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ میں ہر عوامی جلسہ عام میں کہا ہے‘ کون جموں وکشمیر میں اراضی خریدے گا اور وہاں پر زراعت کرے گا۔ مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ ارٹیکل 371 کا کیا اگر میں ناگالینڈ، سکم میں اراضی خریدتا ہوں میں شمال مشرق کے کسی حصہ میں نہیں کرسکتا۔ یہ بڑے پیمانے پر عوامی مسئلہ نہیں ہے یہاں پر ایک تاثر یہ ہے کہ مودی کے ساتھ آپ کا موزانہ بہتر ہے۔ میں ہوں۔ میں ان کی کئی پالیسیوں پر یقین نہیں رکھتا اور میں اب ان سے ملاقات کو موقع مل جائے تو ضرور تبادلہ خیال کروں گا۔ حال ہی میں میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ میں دہلی میں نہیں تھا اور زیادہ تر وقت میں ہندوستان کے باہر رہتا ہوں۔ میرے پاس ذاتی نفرت نہیں ہے۔ سب سے کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ ذاتی تعلقات اور سیاسی پیش قدمی دونوں الگ بات ہیں۔ سیاسی پیش قدمی اس ملک کے لیڈروں کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ آپ کے اور اپنے بھیتجے اجیت پوار اور این سی پی لیڈر پرفال پٹیل کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے کیسے کا کیا نتیجہ نکلے گا ہم اس کے متعلق نہیں جانتے۔ میرے خلاف کیا معاملہ ہے؟ یہاں پر ریاستی اسٹیٹ کوپراٹیو بینک کے 50 ڈائرکٹرس ہیں۔ انہوں نے ضلع بینکوں اور انڈسٹریز کے لئے پیسے لئے، انفرادی طور پر نہیں۔ یہاں پر تمام ڈائرکٹرس کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ہیں، جو بی جے پی- شیو سینا کانگریس اوراین سی پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکورہ شکایت کردہ نے کہاکہ زیادہ تر ڈائرکٹرس مسٹر پوار کو جانتے ہیں۔ ہاں میں جانتاہوں کیونکہ وہ اہم لوگ ہیں۔ اگر میں کسی کو جانتا ہوں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوا ہے کہ میں مجرم ہوں؟ نہ تو میں بینک کا ڈائرکٹر تھا اور نہ ہی فیصلہ ساز باڈی کا رکن تھا۔ اس بنیاد پر آپ کیس بناتے ہیں، محض اجیت پوار کے نام کا ذکر کر کے؟ پھر کیوں نہیں بی جے پی اور شیو سینا کے لیڈران کو بھی شامل کرتے ہیں، جو ڈائرکٹرس ہیں؟ شرد پوار نے بات چیت میں پرفال پٹیل پر عائد کیس کو بھی بے بنیاد الزامات کا نتیجہ قرار دیا۔ اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی جانب سے رافائیل معاملے کو اٹھانے پر لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم تو کسانوں کے بحران، خودکشی اور صنعتی شعبہ کی تباہی جیسے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔ آرٹیکل 370 اور رافائیل جیسے معاملات کو کیوں اٹھایا جارہا ہے؟ مہارشٹرا کے الیکشن سے اس کا کیا لینا دینا ہے؟

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سائبر فراڈ، ایک کروڑ سے زائد کی ٹھگی، ۷ ملزمین گرفتار

Published

on

ARRESTED..8

ممبئی : سائبر پولس اسٹیشن نے ایک ایسے سائبر جرائم کا معمہ حل کرنے کا دعوی کیا ہے, جس میں شکایت کنندہ کو وہاٹس اپ پر۲ اپریل سے ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ تک ڈیجیٹل اریسٹ کر کے منی لانڈنگ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی اور فرضی الیکٹرانک ڈستاویزات ارسال کر کے آن لائن ایک کروڑ ۶۷ لاکھ ۴۰ ہزار کی دھوکہ دہی کی تھی, اس معاملہ میں ٹیکنیکل تفتیش کے دوران پولس نے۷ ملزمین کو گرفتار کیا ہے, جس کی شناخت سنجے ہیرا لال ۵۷ سالہ جو او ٹی پی تیار کیا کرتا تھا، ۳۲ سالہ خاتون ملزمہ دھوکہ کی رقم ٹھکانہ لگایا کرتی تھی، رشی رام چندر مینا ۳۸ بینک اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقومات کی منتقلی کیا کرتا تھا، نوشاد علی ۳۱ سالہ شکایت کنندہ اور متاثرہ کو ڈیجیٹل اریسٹ کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل طریقے سے اس گروہ میں کام کیا کرتا تھا, محمد خالد حفیظ الدین سیف ۲۷ ڈیجیٹل ماہر، جوگیش مہتا ۴۳ سالہ اور زبیر حسین کو اپنے اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقم جمع کرنے میں تعاون کیا کرتے تھے ملزمین کے قبضے سے ۲۷ موبائل، ۲ لیپ ٹاپ، ۵ ڈیجیٹل سائن ڈیوائس ۶۱۳ متعدد کمپنیوں کے سم کارڈ ۱۰ چیک بک ۲ پاس بک ۲ اے ٹی ایم کارڈ ضبط کیے ہیں ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈیجیٹل اریسٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور ایسے میں نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر رابطہ نہ رکھیں, اگر کوئی ڈیجیٹل اریسٹ کی دھمکی دیتا ہے تو پر یقین نہ کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاوٹی دودھ فروخت کرنے والا گروہ بے نقاب… کرائم برانچ کی کاروائی، اب تک ۴ ملزمین گرفتار، مشین اور اسباب ضبط

Published

on

arrested...-1

ممبئی : نامور دودھ کمپنی میں گندہ پانی کر ملاؤٹی دودھ تیار کرنے والے گروہ کو ممبئی کرائم برانچ نے بے نقاب کیا تھا اور دہیسر میں نامور کمپنی کے دودھ میں ملاؤٹ کرنے والے ملزمین کو گرفتار کیا تھا امول اور تازہ دودھ کی تھیلیوں میں ملاؤٹی دودھ بھر کر اسے فروخت کیا جاتا تھا۔ اس معاملہ میں دو ملزمین کو ۹ جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش میں پیش رفت میں یہ انکشاف ہوا کہ وسئی میں امول اور نامور کمپنیوں کی تھیلیاں طبع کی جاتی ہے اور اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ کو تلنگانہ سے گرفتار کیا گیا دودھ کی تھیلیاں تیار کرنے والی مشین کو ۱۰ لاکھ روپے کو بھی ضبط کیا گیا ہے۔ یہ ممبئی شہر و مضافات میں ۲۰۲۱ سے دودھ میں ملاوٹ کر رہے تھے اور ملاؤٹی دودھ کی فروخت کی جارہی تھی. اس معاملہ میں کل ۴ ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں پولس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملاؤٹی دودھ کی تھیلیاں اور دیگر اسباب ضبط کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ ۱۲ نے انجام دی تھی. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے اور ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : پولیس کی کارروائی کے دوران سانتا کروز نقب زنی کا معمہ حل، چوری کی رقومات بینک میں جمع کرنے والے کا بھی خلاصہ، ایک گرفتار

Published

on

Arrest...8

ممبئی : سانتا کروز علاقہ میں نقب زنی کے معمہ کو حل کر کے پولیس نے 76.36 لاکھ روپے کی نقدی سمیت دیگر زیورات ضبط کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سانتا کروز علاقہ میں 20 جون سے 27 جون کے درمیان جوہو تارہ روڈ پر واقع ایک گھر کی کھڑکی توڑ کر نامعلوم چوری نے نقب زنی کے غرض سے داخلہ لیا اور یہاں الماری میں موجود زیورات نقدی اور سونے کے بسکٹ لے کر فرار ہوگیا, اس معاملہ میں پولیس نے ٹیکنیکل تفتیش کے دوران ملزم چندن کملیش مکھیا 26 سالہ دربھنگہ ساکن کو گرفتار کیا کرلیا اس کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کر کے اسے مبئی میں حاضر کیا گیا اس معاملہ میں مزید مفرور ملزم کی تلاش جاری ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ مفرور ملزم کی مدد سے چور نے اپنے شناسا کیلاش شاہ کو رقم اور چوری کا مال سے زمین خریدنے کو کہا تھا اس لئے کیلاش شاہ نے نقدی رقم جمع کی اور اسے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا۔ پولیس کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ کیلاش شاہ نے چوری کی رقم 46.31 لاکھ روپے جمع کی ہے اس لئے اسے نوٹس دیا ہے۔ پولیس نے 200 گرام سونے کے زیورات رولیکس کمپنی کی گھڑیاں بھی برآمد کرلی ہے۔ یہ کاروائی ممبئی کے ایڈیشنل کمشنر ابھینو دیشمکھ ڈی سی پی موہیت کمار گرگ کی رہنمائی میں انجام دی گئی, جبکہ سانتا کروز کے سنیئر پولیس انسپکٹر دتاترے مسویکر نے اس چوری کے معمہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان