Connect with us
Saturday,27-June-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : یوم عاشورہ پر غزاداروں میں گولیاں تقسیم کرنے کے بعد ایک شخص کی طبیعت خراب، ایک مشتبہ شخص زیر حراست، پولس تفتیش میں مصروف

Published

on

Byculla-Police-S.

ممبئی : ممبئی یوم عاشورہ پر عزاداروں کو گولیاں تقسیم کرنے والے مشکوک شخض کو پولس نے زیر حراست لیا ہے۔ محرم کے جلوس میں گولی تقسیم کرنے کا کیا معاملہ تھا اور اس ادویات میں جو شئے کی آمیزش تھی اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس نے زہریلی اور ادویات فراہمی کے معاملہ میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس معاملہ میں مزید تفتیش بھی جاری ہے۔ ابتدائی تفتیش میں مذکورہ مشتبہ شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ گولی قوت کے لیے دی تھی۔ اس گولی یا ادویات کے استعمال سے درد کم ہوتا اور اس سے راحت ملتی ہے جب اس گولی خول کو کھولا گیا تو اس میں پاؤڈر ڈالا گیا تھا اور اس کا خول بھی انتہائی سخت اور ساخت بھی عجیب تھی, اس لیے اس گولی کی تقسیم پر شبہ ہوا اور مذکورہ شخص کو زیر حراست لیا گیا۔ اس واردات سے سنسنی پھیل گئی ہے, اس کی انکوائری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ کل کے جلوس کے دوران بائیکلہ پولیس نے ایک مشکوک شخص کو گولیاں بانٹتے ہوئے پکڑا تھا۔ فرد نے دعویٰ کیا کہ گولیاں درد کم کرنے والی تھیں۔ تاہم، ان کا استعمال کرنے والے ایک شخص نے مبینہ طور پر قئے اور تکلیف کی منفی علامات پیدا کیں۔

پولیس کی فوری کارروائی نے گولیوں کی مزید تقسیم کو روک دیا۔ شخص خطرے سے باہر ہے۔ اس کی شکایت کی بنیاد پر بائیکلہ پی ایس میں بھارتیہ نیا سنہتا، 2023 کی دفعہ 123 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے, تفتیش جاری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : شہریوں اور تجارتی اداروں کو پانی اور غذائی معیار کے ٹیسٹ کے لیے ممبئی میونسپل کارپوریشن کی میونسپل تجزیاتی لیبارٹری کا استفادہ ضروری

Published

on

laboratory

ممبئی : پانی اور خوراک ہماری روزمرہ کی زندگی کے لازم و ملزوم حصے ہیں ممبئی میونسپل کارپوریشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک تجزیاتی تجربہ گاہ چلا رہی ہے کہ شہریوں کو یہ دونوں چیزیں خالص اور معیاری طریقے سے دستیاب ہو۔ دادر میں ’جی‘ دفتر میں میونسپل تجزیاتی لیبارٹری میں ہر سال 70 ہزار سے زیادہ پانی اور کھانے کے نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ لیبارٹری کے ذریعے صارف کے موبائل اور ای میل پر پانی کی جانچ کی رپورٹیں انتہائی کم قیمت پر اور 24 گھنٹے کے اندر فراہم کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ تاہم ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورمالاونگارے نے شہریوں اور تجارتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی اور کھانے کی پاکیزگی کی جانچ کے لیے ممبئی میونسپل کارپوریشن کی تجزیاتی لیبارٹری سے فائدہ اٹھائیں۔

برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت عامہ کے تحت میونسپل تجزیاتی لیبارٹری ایک تجربہ گاہ ہے جو تقریباً 123 سال پرانی ہے اور اس کے بعد سے مسلسل ممبئی کے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے۔ 1903 میں شروع ہونے والی لیبارٹری کو وقت کے ساتھ ساتھ اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں اس لیبارٹری میں 7 لاکھ سے زائد پانی اور خوراک کے نمونوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ کھانے اور پانی کے نمونوں کی جانچ کرنے کے لیے برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کی یہ واحد لیبارٹری ہے، جو دادر میں کام کر رہی ہے۔ اس لیبارٹری میں میونسپل کارپوریشن کے محکمہ واٹر سپلائی کی جانب سے روزانہ تقسیم کیے جانے والے پانی کے نمونے، فوڈ کورٹ میں فاسٹ فوڈ، برف کے نمونے، تعمیرات کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے علاوہ سوئمنگ پولز کے لیے استعمال ہونے والے پانی وغیرہ کا باقاعدگی سے ٹیسٹ اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے متعلقہ پانی کے معیار اور پاکیزگی کو جاننا اور بروقت ضروری اقدامات کرنا ممکن ہے۔ نمونوں کی جانچ کے لیے اس لیبارٹری میں تجزیے کے لیے جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک سال میں 45 ہزار سے زائد پانی کے نمونے لیبارٹری سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پانی کے نمونوں کی ٹیسٹ رپورٹ صرف 24 گھنٹے میں دستیاب ہوتی ہے۔ یہ رپورٹ اداروں کے لیے ویب سائٹ پر اور شہریوں کو ای میل اور واٹس ایپ پر دستیاب کرائی گئی ہے۔ کھانے اور پانی کے نمونے بھی سینٹرل ریلوے، ویسٹرن ریلوے اور کونکن ریلوے کے ذریعے جانچ کے لیے میونسپل تجزیاتی لیبارٹری میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں پیش کیے جانے والے دوپہر کے کھانے کے نمونے، ممبئی کے مختلف تھانوں کے ذریعے بھیجے گئے ممنوعہ اشیاء کے نمونے، گٹکھا، خوشبودار سپاری اور خوشبودار تمباکو کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس لیبارٹری میں سال کے دوران تقریباً 8 ہزار ایسے نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس لیبارٹری میں جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے اس لیبارٹری کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا نے ریاستی سطح کی فوڈ لیبارٹری کا درجہ دیا ہے۔ ممبئی والوں کی محفوظ اور معیاری صحت کی سہولیات کے لیے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کی لیبارٹری کے ذریعے مزید تفصیلی تجزیہ اور مزید ٹیسٹوں کے لیے لیبارٹری کو جدید بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما لاونگارے نے اس سلسلے میں کہا کہ ممبئی والوں کی صحت کے لیے کھانا اور پانی دونوں ہی معیاری دستیاب ہونا چاہیے۔ اس کے لیے مزید تجزیاتی اور تفصیلی ٹیسٹوں کے لیے لیبارٹری کو اپ گریڈ کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے پیچھے کردار یہ ہے کہ بین الاقوامی معیار اور جانچ کی صلاحیت کے ساتھ ایک لیبارٹری مسلسل ممبئی والوں کی خدمت میں دستیاب رہے۔ لیبارٹری بہت کم قیمت پر خوراک اور پانی کی جانچ کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ شہریوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے اداروں اور دیگر تجارتی اداروں کو اس سہولت سے کافی حد تک فائدہ اٹھانا چاہیے۔ تاکہ ہمارے کھانے اور پانی کی کوالٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی میں ٹی ای ٹی امتحان کے پرچہ لیک، حکومت طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے : ابوعاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-Azmi-

ممبئی : بھیونڈی میں ٹی ای ٹی امتحان کے پیپر لیک پر ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ حکومت طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ اعظمی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا، “حکومت شفافیت کے وعدے کرتی ہے، لیکن وہ صرف باتیں کرتی ہےلیکن وعدہ وفا نہیں کیا جاتا سرکارکا کوئی کنٹرول نہیں، ان کے تمام اہلکار کرپٹ ہیں، اور ہر طرف کرپشن عروج پر ہے، حکومت ان چیزوں پر توجہ نہیں دے رہی ہے، اور بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے، حکومت اس معاملے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دیویندر فڑنویس کو مہاراشٹر وشواش ناگرے پاٹل کی آر ایس ایس تقریب میں شمولیت پر موقف واضح کرنا چاہیے، کانگریس نے انکوائری کا کیا مطالبہ

Published

on

ممبئی انٹی کرپشن بیورو سے ناگپور کے کمشنر کے عہدہ پر مقرر وشواس ناگرے پاٹل کی آر ایس ایس کی تقریب میں اس کے بانی ڈاکٹر کرشنا ہیگڑے وار کی قصدہ خوانی اور آر ایس ایس کو ایک دیش بھکت یعنی محب وطن تنظیم قراردئیے جانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کانگریس نے اس پر کارروائی اس کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس نے ٹویٹ اور ایکس پر تحریر کیا ہے کہ ایک آئی پی ایس افسر ہندوستانی آئین پر حلف لے کر اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کی ذمہ داری قبول کر کے سروس میں داخل ہوتا ہے۔ وہ کسی مذہب، ذات، جماعت یا نظریے سے شناخت نہیں رکھتا۔ وہ صرف آئین سے شناخت کرتا ہے۔ تاہم، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اسٹیج پر جانے اور سنگھ، ہندوتوا اور ڈاکٹر ہیڈگیوار کی قصیدہ خوانی کرنے والی نانگرے پاٹل کی تقریر کو دیکھنے کے بعد، ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہےکیا وہ آئینی عہدہ کے طور پر تقرر کر رہے تھے۔ یا پھر کسی خاص نظریہ کی نمائندگی کررہے تھے؟ اب سوال صرف نانگرے پاٹل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا براہ راست تعلق مہاراشٹر کے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ہے۔ لہذا، وزیر اعلی/ داخلہ کے طور پر، فڑنویس کو مہاراشٹر کے عوام کے سامنے کچھ سوالات کے واضح جواب دینے چاہئے۔ آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز، 1968 کے قاعدہ 13(2)(ایف) (iii) کے مطابق، ایک آئی پی ایس افسر کو نجی میڈیا ویڈیو یا اس سے ملتی جلتی تقریب میں شرکت کے لیے حکومت سے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے۔ کیا وشواس نانگرے پاٹل کی اس تقریب میں شرکت کے لیے مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ یا ریاستی حکومت سے پیشگی اجازت لی گئی تھی؟ اگر ایسا ہے تو یہ کس قاعدے کے تحت دیا گیا تھا، کیا اس کی کاپی پبلک کی جائے گی؟ اگر اجازت نہیں لی گئی تو کیا حکومت آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز 1968 کی خلاف ورزی پر کارروائی کرے گی؟ رول 3(1) کی خلاف ورزی؟۔ آل انڈیا سروسز (کنڈکٹ) رولز، 1968 واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی افسر کو کسی ایسے طرز عمل میں ملوث نہیں ہونا چاہیے جو اس کے عہدے کے لیے ناگوار ہو۔ ایک عام شہری کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ کسی مخصوص نظریاتی تنظیم کے فورم پر جائے اور عوامی سطح پر اس نظریے کی تعریف کرے۔ لیکن کیا سروس میں آئی پی ایس افسر کے لیے یہ مناسب ہے؟ پولیس آفیسر قانون کا محافظ ہے نظریہ کا پرچار کرنے والا نہیں۔

سیاسی غیر جانبداری یا سیاسی وفاداری؟
قاعدہ 3(1اے)(ii) واضح طور پر کہتا ہےسروس کا ہر رکن سیاسی غیر جانبداری برقرار رکھے گا۔” “سیاسی غیر جانبداری آئی پی ایس سروس کی روح ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ سنگھ کے فورم پر جا کر نظریہ غیرجانبداری کی تعریف کرنا ہے یا کسی خاص سیاسی نظریاتی دھارے سے عوامی وفاداری کا اظہار کرنا؟ اگر کل کو کوئی اعلیٰ پولیس افسر کسی اور مذہبی یا سیاسی تنظیم کے فورم پر جا کر ان کی اسی طرح قصیدہ خوانی کرنے لگے تو عوام کا انتظامیہ پر اعتماد کیسے رہے گا؟ کیا آئین سپریم ہے یا سنگھ کا نظریہ؟

قاعدہ 3(2بی)(ii) ہر افسر کو آئین کی بالادستی کا پابند کرتا ہے۔ آئین کا تعلق کسی ایک مذہب، ذات یا نظریے سے نہیں ہے۔ یہ تمام ہندوستانیوں کا ہے۔ تو کیا یہ آئینی غیر جانبداری ہے کہ ایک آئینی افسر کسی مخصوص نظریاتی تنظیم کے فورم پر جا کر اس کی سرعام تعریف کرے؟ قاعدہ 3(2بی)(vi) : “متاثر ہونے کا شبہ”یہ اصول کسی افسر کو کسی بھی تنظیم یا شخص سے متاثر ہونے سے روکتا ہے جو اس کے سرکاری فرائض کو متاثر کر سکتا ہے۔

آج مہاراشٹر کے لاکھوں شہری پوچھ رہے ہیں کہ اگر کوئی افسر پلیٹ فارم پر کسی خاص نظریاتی تنظیم کی کھلے عام تعریف کرتا ہے، تو کون اس بات کی ضمانت دے گا کہ کل اس کے فیصلے اس نظریے سے متاثر نہیں ہوں گے؟ یہ سب سے سنجیدہ سوال ہے۔ قاعدہ 5(1): کہتا ہے، “سروس کا کوئی رکن سیاست میں حصہ لینے والی کسی بھی تنظیم سے وابستہ نہیں ہوگا۔” “خدمت میں کوئی افسر سیاست میں حصہ لینے والی کسی بھی تنظیم سے وابستہ نہیں ہوگا۔” یہ اصول صرف رکنیت تک محدود نہیں ہے۔ “وابستگی کے ساتھ” کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا گیا ہے۔ پھر کیا سنگھ کے پلیٹ فارم پر جانا اور اس کی کھلے عام تعریف کرنا ’’ایسوسی ایشن‘‘ نہیں سمجھا جائے گا؟ آج سوال ایک شخص کا نہیں ہے۔

سوال ہندوستانی انتظامی نظام کی ساکھ کا ہے۔ سوال آئین کی بالادستی کا ہے۔
سوال خاکی وردی کے وقار کو برقرار رکھنے کا ہے۔ اس لیے اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے، اجازت ناموں کو عام کیا جانا چاہیے اور حکومت کو واضح ہونا چاہیے کہ آیا اس میں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ کیونکہ آئین سے بڑا کوئی شخص، ادارہ نہیں اور آئین سے بڑا کوئی نظریہ نہیں ہو سکتا۔ اس معاملہ میں جب آئی پی ایس افسر اور ناگپور کے کمشنر وشواش ناگرے پاٹل کا موقف جاننے کےلئے ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال ریسیو نہیں کیا۔ اس وائرل ویڈیو کے بعد آئی پی ایس افسران میں بھی ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ بیشتر آئی پی ایس افسران وقتا فوقتا کسی بھی تقریب کا حصہ بنتے ہیں ایسے میں کیا ان آئی پی ایس افسران پر بھی کارروائی ہو گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان