Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

ممبئی بورڈ کی ستمبر میں 2000 گھروں کی لاٹری، گورے گاؤں میں بھی مہاڈا دے ​​گی 332 مکان

Published

on

mahada-house

ممبئی: مہاراشٹر ہاؤسنگ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مہاڈا) کے ممبئی بورڈ کی لاٹری کا انتظار کر رہے لوگوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ ممبئی بورڈ ستمبر میں تقریباً 2000 مکانات کے لیے لاٹری جاری کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ گورگاؤں میں واقع MHADA کی جدید عمارت میں لگ بھگ 332 مکانات بھی قرعہ اندازی میں شامل ہوں گے، یہ مکانات اعلیٰ اور متوسط ​​طبقے کے ہوں گے۔ اپر کلاس کے گھر تقریباً 979 مربع فٹ اور متوسط ​​طبقے کے گھر 714 مربع فٹ کے لگ بھگ ہوں گے۔ اعلیٰ طبقے کے مکانات کی قیمت تقریباً 1.25 کروڑ روپے اور متوسط ​​طبقے کے مکانات کی قیمت تقریباً 80 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ پہلی بار، MHADA نے گورگاؤں کی عمارتوں میں جم، سوئمنگ پول اور الیکٹرک چارجنگ پوائنٹ کا انتظام کیا ہے۔ ان گھروں پر تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، فی الحال کام کا آخری مرحلہ جاری ہے۔ گھر دو سے ڈھائی ماہ میں تیار ہو جائیں گے۔

ممبئی بورڈ کی آخری لاٹری گزشتہ سال جاری ہوئی تھی، جس میں 1.22 لاکھ لوگوں نے 4082 مکانات کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دہندگان جو لاٹری میں حصہ نہیں لے سکے وہ ایم ایچ اے ڈی اے کی اگلی لاٹری کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ MHADA کے ایک سینئر افسر کے مطابق ممبئی کے مختلف علاقوں سے تیار مکانات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ممبئی میں اگلے چند مہینوں میں تقریباً 2 ہزار مکانات تیار ہونے کی امید ہے۔ اسی وجہ سے ان مکانات کا انتخاب قرعہ اندازی کے لیے کیا گیا ہے۔

ممبئی بورڈ کی 2023 میں جاری کی گئی 4082 گھروں کی لاٹریوں میں سے اب تقریباً 150 مکانات فروخت نہیں ہوئے ہیں۔ MHADA کے ایک سینئر افسر کے مطابق، پچھلی قرعہ اندازی کے باقی مکانات ویٹنگ لسٹ کے درخواست دہندگان کو الاٹ کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ چند روز میں ایک میٹنگ طے کی گئی ہے جس میں ویٹنگ لسٹ میں شامل درخواست گزاروں کو رقم گھر لے جانے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔ اگر اس موقع کے بعد گھر فروخت نہیں کیے گئے تو یہ گھر اگلی لاٹری میں شامل کیے جائیں گے۔ پچھلی قرعہ اندازی میں 196 درخواست گزاروں کے پاس ایک سے زیادہ گھر تھے۔ قواعد کے مطابق کوئی بھی درخواست گزار ایک سے زیادہ مکان نہیں لے سکتا۔ جس کے بعد درخواست گزاروں نے مکانات MHADA کو واپس کر دیئے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ تقریباً 200 فاتحین کے کاغذات میں خامیاں یا غلط معلومات تھیں۔ اس کے بعد یہ گھر ویٹنگ لسٹ میں شامل لوگوں کو بھی الاٹ کر دیے گئے ہیں۔ اس وقت صرف 150 کے قریب گھر فروخت ہونے باقی ہیں۔

ہر شخص کا خواب ہوتا ہے کہ ممبئی میں اپنا گھر ہو۔ اس وجہ سے، لاٹری میں حصہ لینے کے لیے درخواست دہندگان کے پاس 7 دستاویزات کا ہونا لازمی ہے۔ اس وجہ سے، قرعہ اندازی کی تاریخ کے اجراء سے پہلے، درخواست دہندگان ریزرویشن کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے آدھار کارڈ، پین کارڈ، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، انکم سرٹیفکیٹ، حلف نامہ، ذات کا سرٹیفکیٹ اور اس زمرے کے سرٹیفکیٹ کو اپنے پاس رکھ کر MHADA کی ویب سائٹ پر اندراج کر سکتے ہیں۔ .

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان