Connect with us
Tuesday,07-April-2026

(جنرل (عام

گیان واپی مسجد سروے کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت آج

Published

on

gyan-vapi-masjid

گیانواپی مسجد سروے پر الہ آباد ہائی کورٹ جمعرات یعنی آج دوپہر 3.30 بجے دوبارہ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس پریتنکر دیواکر نے گیانواپی مسجد کے احاطے میں ہونے والے سروے کے سلسلے میں مسلم فریق کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اے ایس آئی سائنسدان کو بدھ کی دیر شام 4.30 بجے طلب کیا تھا۔ اے ایس آئی کی جانب سے سائنسدان آلوک ترپاٹھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جی پی آر طریقہ اور فوٹو گرافی کے طریقہ کار سے سروے کیسے کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اے ایس آئی کے سائنسدانوں نے بتایاکہ سائنسی سروے سے اصل ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس دوران عدالت نے اے ایس آئی سے پوچھا کہ کتنے سروے ہوئے ہیں؟ آپ سروے کب مکمل کریں گے؟ اس پر اے ایس آئی نے کہا کہ اگر اجازت مل گئی تو سروے 31 جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا۔

عدالت اے ایس آئی پر واضح کرنا چاہتی ہے کہ سروے کے دوران کچھ نقصان ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں عدالت اے ایس آئی سے جاننا چاہتی ہے کہ اے ایس آئی کس طریقہ سے سروے کر رہا ہے۔ کورٹ سروے سسٹم کا ڈیمو بھی دیکھیں گے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران مسجد انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سروے سے ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ جج کو سروے کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ حکم غلط ہے۔ اس کے جواب میں مندر کی جانب سے جواب دیا گیا کہ سروے کے بعد ہی مندر کی ساخت کا صحیح طور پر پتہ چل سکے گا۔

اے ایس آئی دو تکنیکوں کے ذریعے سروے کر رہا ہے۔ اس فوٹوگرافی میں امیجنگ کی جائے گی۔ کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس پر عدالت نے سروے کا ڈیمو جاننا چاہا اور سروے میں مصروف اے ایس آئی کے سائنسدان کو 4.30 بجے طلب کر لیا۔

قبل ازیں سماعت کے دوران ہندو فریق کے وکیل نے کہا کہ سائنسی سروے سے قائم ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مسلم فریق نے دلیل دی کہ نقصان نہ ہونے کی ضمانت کون لے گا۔ 1992 کے ایودھیا انہدام کے تجربے کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

گیانواپی کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی عدالت میں وکلاء کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس معاملے میں آج شام تک کوئی فیصلہ آسکتا ہے۔ مسلم فرہق کا الزام ہے کہ نچلی عدالت نے اپنے حکم میں سائنسی سروے کی کوئی منطقی وجہ نہیں بتائی ہے۔ نچلی عدالت نے اپنے حکم میں ان حالات کا بھی ذکر نہیں کیا جن میں سائنسی سروے لازمی ہے۔

مسلم فریق نے کہا کہ کاشی وشوناتھ ٹرسٹ اور انتظامیہ کمیٹی کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے، اس لیے مدعی کو مقدمہ دائر کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ سول سوٹ کی برقراری پر سوال اٹھایا۔ مسلم فریق کی دلیل جاری ہے۔ مسلم فریق کے ایک اور وکیل پونیت گپتا بھی بحث کر رہے ہیں۔

مسلم فریق کی طرف سے دلیل دیتے ہوئے ایڈوکیٹ پونیت گپتا نے کہا کہ سول سوٹ میں ثبوت کے عمل کو مکمل کیے بغیر سائنسی سروے کرنا غلط ہے۔ سول سوٹ میں اس مرحلے پر جلد بازی میں سائنسی سروے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ اے ایس آئی کیا کرنے جا رہے ہیں؟

ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ اے ایس آئی گیانواپی میں کیا کرے گا اور وہ وہاں کیوں جا رہا ہے۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل ششی پرکاش سنگھ سے سوال پوچھا۔ عدالت نے پوچھا کہ اے ایس آئی سروے کیسے کرے گا؟ کھودیں گے یا نہیں؟

ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 1993 تک متنازعہ جگہ پر پوجا ہوتی رہی ہے۔ ما شرنگر گوری، ہنومان جی، بھگوان گنیش اور بھگوان شیو کی پوجا کی جاتی ہے۔ متنازعہ جگہ پر پرکرما ہو رہی ہے۔ ہندو فریق نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اورنگ زیب نے مندر کو تباہ کیا تھا۔

سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ جی پی آر کا طریقہ کیا ہے؟ سائنسی سروے کیسے کیا جائے گا؟ عدالت نے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے کتنے سائنسدان عدالت میں کتنے وقت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔
اے ایس آئی کے سائنسدان کو ساڑھے 4 بجے طلب کیا گیا۔

مسلم فریق کے وکیل نے کہا کہ قانونی سوالات اے ایس آئی کے حلف نامہ سے حل نہیں ہوسکتے اور سروے کی جلدی کیا ہے۔ پٹیشن کی برقراری کا سوال حل نہیں ہوا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد سے کلینا ودیا پیٹھ تک نئی بس سروس شروع کرنے کا ابوعاصم اعظمی مطالبہ

Published

on

ممبئی: مانخورد شیواجی نگر حلقہ کے سینکڑوں غریب اور نادار طلباء ممبئی یونیورسٹی کے کلینا کیمپس میں زیر تعلیم ہیں۔ صرف، یا طلبہ کی نقل و حمل کے لیے بیسٹ بسوں کی کمی، نقل و حمل کی ٹکٹ زیادہ ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے ‘بیسٹ’ کمیٹی کے چیئرمین کو خط لکھ کر نئی بس سروس شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعظمی نے اپنے خط میں بتایا بروقت سفر کے لیے بسوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلبہ کو صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے اور شام 5 سے 6 بجے کے درمیان عجلت سفر کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود طلبا کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء کا تعلیمی نقصان ہوتا ہے اور انہیں جسمانی اور ذہنی صدمے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ 90 فٹ روڈ پر واقع نئے بس اسٹینڈ سے کلینا ودیا پیٹھ تک نئی بس سروس فراہم کی جائے اور اوقات میں زیادہ بسیں فراہم کی جائیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : آن لائن دہشت گرد ‘سولجرز آف خلافت’ نامی گروپ میں ملوث ہونے کے الزام میں دو گرفتار

Published

on

arrested

ممبئی: مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس اور دلی اسپیشل سیل نے تھانہ اور ممبئی میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران دہشت گردانہ سر گرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں دو مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر نے کا دعوی کیا ہے ان دونوں کی شناخت کرلا کے ساکن18 سالہ حماد صدیقی اور کلیان میں معصیب احمد عرف افتحار احمدعرف کلام سونو 32 سالہ کے طور پر ہوئی ہے ان دونوں کے پاس سے الیکٹرک گزٹ کو بھی برآمد کیا گیا ہے اور دونوں کے موبائل بھی ضبط کئے گئے ہیں۔ اے ٹی ایس نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ 3 اپریل کو علی الصبح چھاپہ مار کارروائی کی گئی تھی اس دوران یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اس کے ساتھ ہی تھانہ سے یاسر مسلم خان کو زیر حراست لیا گیا اور کاندیولی سے ایک 15 سالہ نابالغ کے گھر کی بھی تلاشی لی گئی اس دوران ان کے گھروں سے بھی سامان ضبط کئے گئے ہیں اے ٹی ایس نے بتایا کہ دلی اسپیشل سیل نے ان دونوں کو تفتیش کیلئے طلب کیا ہے اس معاملہ میں دلی اسپیشل سیل اور اے ٹی ایس مزید تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ان کے رابطہ میں مزید کون تھے۔ سوشل میڈیا پر یہ فعال تھے اتنا ہی نہیں خلافت سولجزر نامی گروپ سے بھی یہ وابستہ تھے اس معاملہ میں مزید گرفتاریوں کا بھی اندیشہ ہے اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس کی کارروائی کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے کئی ایسے نوجوان بھی اب اے ٹی ایس کے رڈار پر ہے جو مشتبہ اور دہشت گرد تنظیموں کے گروپ پر اس تنظیموں کے رابطے میں ہے بتایا جاتا ہے کہ جیش محمد اور داعش نے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلانا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے ایسے میں اے ٹی ایس نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کے شدت پسند گروپ سے اجتناب کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : جئے شری رام پر تنازع 5 گرفتار, ملزمین کے گھر پر بلڈزور کارروائی, حالات کشیدہ امن برقرار۔

Published

on

mumbai police

ممبئی: ممبئی کے ڈنڈوشی کے پوجا کی تقریب میں جئے شری رام کاگانا بجانے پر اعتراض کو لے کر تنازع کے بعد اب حالات پرامن ضرور ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے یہ تنازع گزشتہ شب اس وقت پیدا ہوا جب یہاں گانے پر اعتراض کیا گیا اس کے بعد وشو ہندوپریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان نے اس کے خلاف احتجاج کیا نصف شب پولیس نے کارروائی کر تے ہوئے اس معاملہ میں ملوث 5 افراد کو گرفتار کر نے کا دعوی کیا ہے ان پر فساد برپا کرنے کا الزام ہے۔ گزشتہ شب دو فرقوں کے مابین تصادم کے بعد پولیس نے حالات کنٹرول کر نے کیلئے ہلکا لا ٹھی چارج کیا تھا کے جس پر وشو ہندوپریشد اور بجرنگ دل نے ان پولیس والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے جو اس کارروائی میں شریک تھے اور 12 گھنٹے کا الٹی میٹم بھی دیا ہے۔ ڈنڈوشی سنتوش نگر میں گز شتہ شب فرقہ وارانہ تشدد کے بعد اب حالات پرامن ضرور ہے لیکن کشیدگی ہنوز برقرار ہے اس واقعہ کے بعد بی ایم سی بھی حرکت میں آگئی اور بی ایم سی نے یہاں ملزمین کے غیرقانونی تعمیرات دکان پر بلڈوز چلایا ہے جس سے اب یہ سوال پیدا ہو رہاہے کہ کیا اب فیصلہ بلڈوزر سے ہوگا یو پی کے بعد اب مہاراشٹر میں بھی بلڈروز ایکشن کو فوقیت دی جارہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر اس متعلق بحث بھی جاری ہے۔ ڈی سی پی مہیش چمٹے نے کہا کہ ڈنڈوشی میں حالات پرامن ہے اور اس معاملہ میں پولیس نے خاطیوں کے خلاف کارروائی بھی شروع کردی ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا جبکہ اب تک اس معاملہ میں 5 افراد کی گرفتاری بھی میں لائی گئی ہے پولیس نے علاقہ میں سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر ڈنڈوشی میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں کیونکہ آج بی ایم سی نے بھی کارروائی کی ہے اور اس پر بھی پولیس کا بھاری بندوبست تعینات تھا۔ اس واقعہ کے بعد اب اس پر سیاست بھی شروع ہوگئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان