Connect with us
Friday,07-August-2026

(جنرل (عام

گیان واپی مسجد سروے کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت آج

Published

on

gyan-vapi-masjid

گیانواپی مسجد سروے پر الہ آباد ہائی کورٹ جمعرات یعنی آج دوپہر 3.30 بجے دوبارہ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس پریتنکر دیواکر نے گیانواپی مسجد کے احاطے میں ہونے والے سروے کے سلسلے میں مسلم فریق کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اے ایس آئی سائنسدان کو بدھ کی دیر شام 4.30 بجے طلب کیا تھا۔ اے ایس آئی کی جانب سے سائنسدان آلوک ترپاٹھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جی پی آر طریقہ اور فوٹو گرافی کے طریقہ کار سے سروے کیسے کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اے ایس آئی کے سائنسدانوں نے بتایاکہ سائنسی سروے سے اصل ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس دوران عدالت نے اے ایس آئی سے پوچھا کہ کتنے سروے ہوئے ہیں؟ آپ سروے کب مکمل کریں گے؟ اس پر اے ایس آئی نے کہا کہ اگر اجازت مل گئی تو سروے 31 جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا۔

عدالت اے ایس آئی پر واضح کرنا چاہتی ہے کہ سروے کے دوران کچھ نقصان ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں عدالت اے ایس آئی سے جاننا چاہتی ہے کہ اے ایس آئی کس طریقہ سے سروے کر رہا ہے۔ کورٹ سروے سسٹم کا ڈیمو بھی دیکھیں گے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران مسجد انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سروے سے ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ جج کو سروے کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ حکم غلط ہے۔ اس کے جواب میں مندر کی جانب سے جواب دیا گیا کہ سروے کے بعد ہی مندر کی ساخت کا صحیح طور پر پتہ چل سکے گا۔

اے ایس آئی دو تکنیکوں کے ذریعے سروے کر رہا ہے۔ اس فوٹوگرافی میں امیجنگ کی جائے گی۔ کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس پر عدالت نے سروے کا ڈیمو جاننا چاہا اور سروے میں مصروف اے ایس آئی کے سائنسدان کو 4.30 بجے طلب کر لیا۔

قبل ازیں سماعت کے دوران ہندو فریق کے وکیل نے کہا کہ سائنسی سروے سے قائم ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مسلم فریق نے دلیل دی کہ نقصان نہ ہونے کی ضمانت کون لے گا۔ 1992 کے ایودھیا انہدام کے تجربے کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

گیانواپی کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی عدالت میں وکلاء کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس معاملے میں آج شام تک کوئی فیصلہ آسکتا ہے۔ مسلم فرہق کا الزام ہے کہ نچلی عدالت نے اپنے حکم میں سائنسی سروے کی کوئی منطقی وجہ نہیں بتائی ہے۔ نچلی عدالت نے اپنے حکم میں ان حالات کا بھی ذکر نہیں کیا جن میں سائنسی سروے لازمی ہے۔

مسلم فریق نے کہا کہ کاشی وشوناتھ ٹرسٹ اور انتظامیہ کمیٹی کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے، اس لیے مدعی کو مقدمہ دائر کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ سول سوٹ کی برقراری پر سوال اٹھایا۔ مسلم فریق کی دلیل جاری ہے۔ مسلم فریق کے ایک اور وکیل پونیت گپتا بھی بحث کر رہے ہیں۔

مسلم فریق کی طرف سے دلیل دیتے ہوئے ایڈوکیٹ پونیت گپتا نے کہا کہ سول سوٹ میں ثبوت کے عمل کو مکمل کیے بغیر سائنسی سروے کرنا غلط ہے۔ سول سوٹ میں اس مرحلے پر جلد بازی میں سائنسی سروے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ اے ایس آئی کیا کرنے جا رہے ہیں؟

ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ اے ایس آئی گیانواپی میں کیا کرے گا اور وہ وہاں کیوں جا رہا ہے۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل ششی پرکاش سنگھ سے سوال پوچھا۔ عدالت نے پوچھا کہ اے ایس آئی سروے کیسے کرے گا؟ کھودیں گے یا نہیں؟

ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 1993 تک متنازعہ جگہ پر پوجا ہوتی رہی ہے۔ ما شرنگر گوری، ہنومان جی، بھگوان گنیش اور بھگوان شیو کی پوجا کی جاتی ہے۔ متنازعہ جگہ پر پرکرما ہو رہی ہے۔ ہندو فریق نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اورنگ زیب نے مندر کو تباہ کیا تھا۔

سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ جی پی آر کا طریقہ کیا ہے؟ سائنسی سروے کیسے کیا جائے گا؟ عدالت نے سالیسٹر جنرل سے پوچھا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے کتنے سائنسدان عدالت میں کتنے وقت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔
اے ایس آئی کے سائنسدان کو ساڑھے 4 بجے طلب کیا گیا۔

مسلم فریق کے وکیل نے کہا کہ قانونی سوالات اے ایس آئی کے حلف نامہ سے حل نہیں ہوسکتے اور سروے کی جلدی کیا ہے۔ پٹیشن کی برقراری کا سوال حل نہیں ہوا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان