Connect with us
Tuesday,05-May-2026

(جنرل (عام

حکمراں بی جے پی نے کرناٹک میں 10,889 مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت دی ہے

Published

on

Masjid

کرناٹک میں حکمراں بی جے پی حکومت نے ہفتے کے روز ریاست کی 10,889 مساجد کو لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ محکمہ پولیس نے ریاستی حکومت کی ہدایات پر اس سلسلے میں رہنما خطوط کے مطابق لائسنس جاری کیے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے لیے مساجد، مندروں اور گرجا گھروں سے کل 17,850 درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ اس کے لیے تین ہزار ہندو مندروں اور 1400 گرجا گھروں کو بھی اجازت دی گئی ہے۔ لائسنس دو سال کی مدت کے لیے دیا جاتا ہے۔ حکومت نے فیس کے طور پر 450 روپے جمع کیے ہیں۔

اس سال کے شروع میں کئی ہندو تنظیموں نے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے متحد ہو کر مظاہرے کیے تھے۔ سپریم کورٹ نے لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے حوالے سے رہنما اصول وضع کیے ہیں جن کی ہندو تنظیموں نے بھی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے لائسنس جاری کیا ہے۔

ہندو تنظیموں نے صبح 5 بجے سے ہندو دیوتاؤں کے منتر پڑھنے کی کال دی تھی۔ ہندو تنظیموں نے کہا تھا کہ وہ (مسلمان) صبح 5 بجے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرکے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کررہے ہیں، اس لیے ہم بھی اس کی خلاف ورزی کریں گے۔ مسلم تنظیموں نے ریاست بھر کی مساجد کے انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں اور لاؤڈ اسپیکر چلانے کے لائسنس حاصل کرنے میں ریاستی حکومت کے احکامات پر عمل کریں۔

مساجد، مندروں اور گرجا گھروں میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے لیے بھی رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کی اجازت ہوگی۔ لاؤڈ سپیکر کو ڈیسیبل کی حد کے مطابق بجانا ہوگا۔ ڈیسیبل کنٹرول ڈیوائسز کو اپنانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائن اسپتال میں زیر علاج مریض کے سر میں پیوست چاقو نکالا گیا، اسپتال انتظامیہ کی بہتر کارکردگی کے سبب مریض حالت مستحکم

Published

on

ICU

ممبئی ایک 27 سالہ مریض کو لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال، سائن کے شعبہ حادثات میں 2 مئی 2026 کی اولین ساعتوں میں لایا گیا تھا۔ مریض کو ناریل کاٹنے والے چاقو سے سر پر مبینہ حملے کے بعد داخل کیا گیا تھا۔ مریض مکمل طور پر ہوش میں اور مستعد تھا اور داخلے پر اس میں کوئی اعصابی کمی نہیں تھی۔ مریض کو فوری طور پر ٹراما آئی سی یو (ایکسیڈنٹ انٹینسیو کیئر یونٹ) میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد مریض کے علاج کے مطابق ضروری طبی ٹیسٹ کرائے گئے۔ مریض کے ریڈیولاجیکل معائنے سے معلوم ہوا کہ ناریل کاٹنے والا چاقو بائیں جانب سے کھوپڑی میں داخل ہوا تھا اور دماغ میں تقریباً 1.5 انچ تک گھس گیا تھا۔ مریض کا فوری طور پر اسپتال کے سرجن نے آپریشن کیا۔ نیورو سرجری ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر بٹوک دیورا کی قیادت میں ٹیم اور اینستھیزیولوجسٹ ڈاکٹر شویتا مبرے کی قیادت میں ٹیم نے سر میں داخل ہونے والے چاقو کو کامیابی سے نکال دیا۔ مریض کی سرجری کامیاب رہی۔ مریض سرجری کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور ٹراما آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ مریض کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ مریض کی حالت بھی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سنسنی خیز واقعہ : سائن اسپتال کے آئی سی یو کے باہر سر میں چاقو گھسا ہوا شخص، علاج میں لاپرواہی کے الزامات

Published

on

ممبئی سے ایک نہایت چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے اسپتال کے احاطے میں موجود مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، لوکمانیہ تلک میونسپل جنرل اسپتال (سائن اسپتال) کے ٹراما انٹینسو کیئر یونٹ (آئی سی یو) کے باہر ایک شخص سر میں چاقو گھسے ہوئے حالت میں کھڑا نظر آیا۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر وہاں موجود افراد میں افراتفری مچ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق، مذکورہ شخص شدید زخمی تھا، لیکن کچھ وقت تک اسے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ الزام ہے کہ وہ علاج کے لیے اسپتال پہنچا تھا، مگر کسی بھی ڈاکٹر نے اسے فوری ایمرجنسی کیس کے طور پر نہیں دیکھا اور مبینہ طور پر اسے نظر انداز کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ بعد ازاں زخمی شخص کو آئی سی یو میں داخل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس واقعے نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت علاج فراہم کیا جاتا تو صورتِ حال اتنی سنگین نہ ہوتی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھولیہ مسلم بستی پر کارروائی سراسر ناانصافی، ابوعاصم اعظمی کا اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال، کاروائی اور نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کی درخواست

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے دھولیہ میں مسلم بستیوں کو غیر قانونی طریقے سے مکانات خالی کرنے اور انہدامی کارروائی کے نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ اقلیتی کمیشن چیئرمین پیارے خان سے کیا ہے۔ انہوسن نے کہا کہ دھولیہ میں ۲۷۵ مسلمانوں کو بےگھر کرنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ سرکار نے وزیر اعظم آواس یوجنا کے معرفت ان کی باز آبادکاری کرنے کا جی آر بھی جاری کیا تھا, یہ کنبہ دھولیہ لال سردارنگر اینٹ بٹی علاقہ میں ۴۰ سے ۵۰ برسوں سے آباد تھا, لیکن انتظامیہ نے اچانک انہدامی کارروائی کر انہیں بے دخل کر دیا ہے, انہیں 21 اپریل کو غیر قانونی طریقے سے نوٹس ارسال کی گئی۔ ریاستی سرکار نے ۲۶ مارچ ۲۰۲۶ کے جی آر کے مناسبت سے وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت مکینوں کی باز آبادکاری کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا۔ انتظامیہ کی اچانک کارروائی غیر انسانی او ر غیر قانونی ہے اس لئے اقلیتی کمیشن سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر قانونی نوٹس پر اسٹے حکم امتناعی نافذ کرے اور مکینوں پر انصاف دے اس متعلق دھولیہ کے ایڈوکیٹ زبیر اور مکینوں نے درخواست کی ہے کہ انہیں انصاف میسر ہو اور غیر قانونی انہدامی نوٹس پر اسٹے عائد ہو۔ ابوعاصم اعظمی نے مکینوں کے مطالبہ پر اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال کر کے کارروائی پر روک اور اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان