Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

سمستی پور کالج بہار، 75 واں سال مکمل ہونے پر جشن منایا گیا

Published

on

Samastipur College

سمستی پور (وفا ناہید) سمستی پور کالج ہندستان کی آزادی کے ٹھیک اٹھارہ دن بعد سمستی پور کی عوام کے ذریعہ اسکول کی صورت میں قائم کیا گیا۔ یہاں کے اساتذہ کی تنخواہ بھی عوام کے ذریعہ ایک ایک روپیہ اکٹھا کر کے دی جاتی تھی، ان سب کا مقصد سمستی پور کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانا تھا، دھیرے دھیرے اس اسکول نے کالج کی صورت اختیار کی، اور آج اس کالج کا شمار بہار کی مشہور ومعروف یونیورسٹی، متھلا یونیورسٹی کا اہم کالج ہے، اور یہ بہار کے بہترین کالجز میں صف اول کی حیثیت رکھتا ہے۔

21 جولائی 2022 کو یہ جشن کالج کے ہال میں منعقد کیا گیا جس میں اس کالج کے سابق اساتذہ کے ساتھ ساتھ تمام اسٹاف کو بھی مدعو گیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کالج پرنسپل ڈاکٹر ستین کے ہاتھوں اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے بعد تمام اساتذہ نے اپنے کالج کے دنوں کے تجربات، یادیں، تاثرات اور اس کالج سے جڑی تاریخ کو یاد کیا۔ اس کالج کی تاریخی اہمیت پر اور کالج کے ۵۷ویں سال مکمل ہونے کی خوشی میں ڈاکٹر صالحہ صدیقی (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہء اردو) نے منظوم تاثر پیش کیا، چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

ہے سمستی پور کالج علم کی جوئے رواں
جو پچتھر سال سے ہے نازش ہندوستاں

سب کے ہے ورد زباں اس کا پچھتر سالہ جشن
جس کے ہیں مداح یکساں مرد وزن، پیر و جواں

ہیں پرنسپل اس کے عالمگیر ہر اک دل عزیز
علم کی نشر و اشاعت کے ہیں جو روح رواں

آج اس کالج کی اپنی اک نرالی شان ہے
نام میتھلا یونیورسٹی کا اس سے روشن ہے یہاں

صالحہ کی ہے دعا روشن رہے کالج سمستی پور کا
جاری ہو اس سے علم و فن کا بحر بیکراں

اس موقع پر سکچھک سنگھ سمستی پور کالج ایسوسیشن کے صدر ڈاکٹر آلوک کمار پا ٹھک نے کہا کہ میں ہمیشہ تعلیم کے حق میں کالج کا ساتھ دیتا رہوں گا، اور اس کی ترقّی و فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا رہوں گا۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سیتن کمار نے کالج میں آئے نئے اساتذہ کا خیر مقدم کیا، کالج کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کالج میں ان کے ذریعہ آئی نئی تبدیلیوں پر بھر پور روشنی ڈالی اور نئے اقدام کی تفصیلات بتاتے ہوئے طلباء و طالبات سے مطالبہ کیا کہ وہ کالج میں کلاس کرنے ضرور آئیں۔ آخر میں ڈاکٹر کرانتی کمار (شعبہ اکنامکس) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، میں اس کالج کے روشن مستقبل کی دعا کرتا ہوں ساتھ ہی یہ امید بھی کہ اس کالج کی تابناک تاریخ کو دوبارہ ہم سب مل کر رقم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اُنہوں نے آخر میں اظہار تشکر کیا، اور اسی کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر صفوان (صدر شعبہ اردو) کے ساتھ کالج کے تمام اساتذہ نے شرکت کیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان