سیاست
یوپی:ساتویں مرحلے میں ایس پی۔ بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ
اترپردیش میں جاری اسمبلی انتخابات میں ساتویں اور آخری مرحلے کے تحت 9اضلاع کی 54سیٹوں پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی حریف سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے درمیان سخت مقابلے کے امکانات ہیں۔
اس مرحلے میں جہاں بی جے پی اپنی سبقت کو برقرار رکھنے کو کوشاں ہے تو سماج وادی پارٹی نہ صرف اپنے قلعہ اعظم گڑھ میں اپنے رسوخ کو برقرار رکھنے بلکہ اس خطے میں اپنے اثر کو وسعت دینے کے لئے کوشاں ہے۔ساتویں مرحلے کا الیکشن 7مارچ کو ہوگا۔
سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ان 54سیٹوں میں سے 29پر بی جےپی نے اور 7سیٹوں پر اس کی اتحادی پارٹیوں نے جیت کا پرچم لہرایا تھا جب کہ ایس پی کے خاطے میں11اور بی ایس پی کو6سیٹیں ملی تھیں۔وہیں سال 2012 کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے 34،بی ایس پی نے سات اور بی جے پی کو صرف 4سیٹیں ملی تھیں۔تین سیٹوں پر کانگریس اور 5سیٹوں پر دیگر چھوٹی پارٹیوں نے جیت کا علم لہرایا تھا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یوپی اسمبلی انتخابات کے اس ساتویں و آخری مرحلے کی کچھ دلچسپ جہات ہیں۔ سیاسی بھی اور جغرافیائی بھی۔وارانسی سے رکن پارلیمان ہونے کے ناطے وزیر اعظم نریندر مودی سال 2014 سے اس خطے کے سب سے موثر شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔مودی برانڈ کی وجہ سے پارٹی کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم کے وارانسی سے شخصی تعلقات کے ساتھ بڑے ہندوتوا اور بیک ورڈ شناخت نے سال 2017 میں بی جے پی کی بڑی جیت کے راستے کو ہموار کیا۔تاہم اسے سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد سے سخت چیلنجز کا سامنا کرناپڑا۔دلت۔اوبی سی ذات کا بی ایس پی۔ ایس پی کا اتحاد اسی خطے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا۔اور بی ایس پی نے غازی پور، گھوسی،جونپور اور لال گنج پارلیمانی جبکہ ایس پی نے اعظم گڑھ پارلیمانی حلقے جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔
اس خطے میں سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج نچلی ذاتوں بالخصوص جو اس خطے میں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ان کی اہمیت کو یاد دلاتا ہے۔ہاں اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس خطے کے رابرٹس گنج اور مرزاپور پارلیمانی حلقے کو کرمی۔ او بی سی ووٹروں پر مبنی اپنا دل(ایس) نے جیت کر پرچم لہرایا جو کہ بی جے پی کی اتحادی تھی اور اس الیکشن میں بھی ہے۔
سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی اس خطے میں جیت کے پیچھے سب سے اہم وجہ اس کے اتحادیوں کی توسیع تھی۔ اس وقت بی جے پی کے پاس اپنا دل کے ساتھ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی(ایس بی ایس پی)کی حمایت تھی۔اور یہ اتحادی پارٹیاں کافی ضروری کرمی اور راج بھر پسماندہ سماج کو بی جے پی خیمے میں لانے میں معاون ثابت ہوئیں۔اور اسی کا انتیجہ تھا کہ اوم پرکاش کی قیادت والی ایس بی ایس پی تین سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی جبکہ اپنا دل کو 4سیٹیں ملیں۔
وہیں نشاد ووٹروں میں اپنا رسوخ رکھنے والی نشاد پارٹی نے تنہا الیکشن لڑا تھا اور ایک سیٹ پر جیت درج کی تھی۔یہ نشاد پسماندہ سماج کے ووٹروں پر مبنی علاقائی پارٹی کا اس بار بی جے پی سے اتحاد ہے اور ساتویں مرحلے میں پارٹی نے 3امیدوار اتارے ہیں۔
تاہم ان تمام کے باجود ایس بی ایس پی کا بی جے پی کو چھوڑ کر ایس پی سے اتحاد کرنا بی جے پی کے لئے بڑا چیلنجز ہے۔سال 2017 میں یوگی کابینہ میں وزیر بنائے گئے راج بھر نے بعد میں بی جے پی سے راستہ جدا کرلیا اور اس وقت غیر یادو او بی سی لیڈروں میں وہی بی جے پی کی سب سے زیادہ کھل کر تنقید کرتے ہیں
اعظم گڑھ، مئو اور وارانسی اضلاع میں راج بھر کمیونٹی کی خاصی تعداد ہے۔ایس بی ایس پی کا ایس پی سے اتحاد ہے اور وہ پوری ریاست میں 17سیٹوں پر الیکشن لڑرہی ہے۔جس میں سے 8اس آخری مرحلے کی ہیں۔ایس پی قیادت پرامید ہے کہ راج بھر کے ساتھ اس خطے میں یادو۔ او بی سی کی اکثریت ان کے لئے ثمر آور ثابت ہوگی۔
بی جے پی نے راج بھر کی کمی کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے لیکن اس مرحلے میں موثر کرمی ووٹ بینک کے لئے بھی ایک دلچسپ لڑائی ہے۔سماج وادی پارٹی نے اپنا دل سے الگ ہونے والے اپنا دل(کے) کے ساتھ اتحاد کیا ہے جس کی سربراہ وفاقی وزیر و اپنا دل(ایس) کی سربرہ انوپریا پٹیل کی ماں کرشنا پٹیل ہیں۔
اپنا دل(ایس)4سیٹوں پر الیکشن لڑرہی ہے جبکہ ایس پی کی اتحادی اپنا دل(کے) نے اس مرحلے میں پانچ سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں۔اگرچہ سیاسی برتری کے لئے ماں۔بیٹی کی یہ لڑائی نئی نہیں ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ کرشنا پٹیل گروپ کسی بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ انتخابی میدان میں ہے۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بی جےپی اور ایس پی دونوں کے لئے یہ’اتحادی فیکٹر‘ ہے جس کی اس حتمی مرحلے میں کافی اہمیت ہے۔اور بہت کچھ اس بات پر مبنی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے کردار کتنا موثر ثابت ہوتے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹس کا استعمال کر کے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گوا سے گرفتار، ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

ممبئی : ممبئی سائبر دھوکہ بازوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کے بعد اب مزید ۷ سائبر دھوکہ بازوں کو گوا سے گرفتار کرنے کا دعویٰ ممبئی کرائم برانچ نے کیا ہے۔ اس سے قبل تین ملزمین کو اسی معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش میں پیش رفت پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔ ۱۱ ستمبر کو ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ 5 کو موصول ہونے والی خفیہ معلومات سے سائبر دھوکہ دہی کرنے والے 03 افراد کے خلاف کارررائی کرتے ہوئے دفعہ 318(4), 61, 45, 3(5) بی این ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 66(ڈ) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی, اس میں پیش رفت کے بعد یونٹ پانچ نے مزید کارروائی کی۔ مذکورہ ملزمین خود نیز اپنے دیگر ساتھیوں سمیت خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف بینکوں میں بینک اکاؤنٹ کھول کر مذکورہ بینک اکاؤنٹس سے لنک کرنے کے لیے خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف سم کارڈ خریدی کرتے تھے۔ مذکورہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ان کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، سم کارڈ نیز متعلقہ بینک اکاؤنٹس سے منسلک دیگر ذرائع کا براہ راست قبضہ اور کنٹرول خود کے پاس رکھ کر مذکورہ اکاؤنٹس کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کرتے تھے۔ ان کے پاس سے مختلف بینکوں کی 88 پاس بک، 143 چیک بک، 100 اے ٹی ایم کارڈ، 24 موبائل، 167 سم کارڈ، 2 لیپ ٹاپ ضبط کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمے کی مزید تفتیش میں تکنیکی تجزیہ اور اے آئی کی بنیاد پرریاست گوا سے ۱۳ ستمبر کو ریزورٹ میں ایک ویلا سے سائبر دھوکہ دہی آپریٹ کرنے والے 07 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے 1) مختلف کمپنیوں کے 59 موبائل فون، 2) مختلف کمپنیوں کے کل 19 سم کارڈ، 3) 09 لیپ ٹاپ، 4) 51 اے ٹی ایم، 5) 12 پاس بک اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔ ملزمان نے مالی دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے خود کی ایپلی کیشن بنا کر اس کا استعمال کیا ہے اس کا انکشاف ہوا ہے۔
مذکورہ ملزمان کی عدالت نے ۲۴ ستمبر تک پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر (جرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل کمشنر (جرائم) کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی، راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔
جرم
ایم پی کے جبل پور کالج ہاسٹل میں انجینئرنگ کے طالب علم کی خودکشی، تحقیقات جاری

جبل پور، 16 ستمبر، جبل پور انجینئرنگ کالج (جے ای سی) کے مکینیکل انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم نے مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے جبل پور کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش بھر میں خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور اداروں میں انجینئرز ڈے منائے جانے کے ایک دن بعد بدھ کو سامنے آیا۔ متوفی کی شناخت ساتویں جماعت کے طالب علم کے طور پر ہوئی ہے۔ رانجھی تھانہ علاقے میں گاندھی ویام شالا کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں اس کا کمرہ۔ پولیس کے مطابق پانڈے کمرے میں اکیلا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ اس کے دو روم میٹ باہر گئے ہوئے تھے۔
واپس آنے پر انہوں نے کمرہ بند پایا اور اسے کھولنے کے بعد پانڈے کو چھت سے لٹکا ہوا پایا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ رانجھی پولس اسٹیشن کے انچارج امیش گولہانی نے بتایا کہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنی قمیض کو پھندا لگانے کے لیے استعمال کیا تھا۔” اوم کمرے میں اکیلا تھا جب اس کے روم میٹ باہر گئے تھے۔ جب وہ کمرے میں واپس آئے تو انہیں خودکشی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ گولہانی نے مزید کہا۔پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش اور خاندان کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پانڈے ایک ہونہار طالب علم تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل بیمار ہونے کے بعد اس نے کچھ مضامین میں بیک لاگ تیار کیا تھا۔
مبینہ طور پر زیر التوا مضامین نے اسے ذہنی تناؤ کا سبب بنایا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے میں تعلیمی دباؤ کا سبب تھا، لیکن موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔” ہم اس کے دوستوں، کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات کی وجہ سے ہوا۔ صحیح وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔” جبل پور سٹیشن ہاؤس آفیسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے حصے کے طور پر اس کے حالیہ تعلیمی اور ذاتی حالات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔
سیاست
کٹکا کانگریس کے سربراہ ہری پرساد کے خلاف ‘عمر خالد ایک قوم پرست’ تبصرہ پر شکایت درج

بنگلورو، 16 ستمبر ہندو کارکن تیجس گوڑا نے بدھ کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر بی کے کے خلاف بنگلورو کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ ہری پرساد نے عمر خالد کو “قوم پرست” قرار دینے اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ان پر تبصرہ کرنے کے اختیار پر سوال اٹھانے پر اپنے ریمارکس پر۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ کانگریس لیڈر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے گوڑا نے کہا کہ ہری پرساد نے عمر خالد کو ودھانا سودھا کے احاطے میں ایک “قوم پرست” کہا تھا، جس کا ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ہندوستانی شہریوں کی توہین تھی۔ سبھی،” ہندو کارکن نے الزام لگایا۔
گوڈا نے 2020 کے دہلی فسادات کیس کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت خالد کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دینا قانونی طور پر قابل اعتراض ہے اور اس معاملے پر کانگریس کے ملزم خالدوٹیل کے موقف پر سوال اٹھایا۔ یو اے پی اے کے تحت، ہری پرساد کے لیے ایک قوم پرست ہے، اس سے کرناٹک کانگریس کے صدر اور پارٹی کی پالیسی پر سوال اٹھتے ہیں۔” گوڑا نے کہا کہ پولیس حکام نے انہیں مطلع کیا ہے کہ شکایت درج کی جائے گی۔ مہاتما گاندھی کی تنظیم کی نظریاتی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے، اے بی وی پی کو ان کے بارے میں بات کرنے کا اختیار۔
بی کے ہری پرساد نے منگل کے روز جیل میں بند کارکن عمر خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دیا اور اس کے ناقدین کو اخلاقیات اور اخلاقیات سے عاری قرار دیا۔”عمر خالد ایک قوم پرست ہیں، اور اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کو عمر خالد پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اے بی وی پی ناتھورام کو پوجتی ہے اور وہ پہلے ملک دشمن دہشت گرد تھے۔ ہری پرساد نے بنگلورو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ عمر خالد پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق یا اخلاقیات نہیں ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
