Connect with us
Saturday,01-August-2026

سیاست

یوپی:ساتویں مرحلے میں ایس پی۔ بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ

Published

on

BJP-SP

اترپردیش میں جاری اسمبلی انتخابات میں ساتویں اور آخری مرحلے کے تحت 9اضلاع کی 54سیٹوں پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی حریف سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے درمیان سخت مقابلے کے امکانات ہیں۔
اس مرحلے میں جہاں بی جے پی اپنی سبقت کو برقرار رکھنے کو کوشاں ہے تو سماج وادی پارٹی نہ صرف اپنے قلعہ اعظم گڑھ میں اپنے رسوخ کو برقرار رکھنے بلکہ اس خطے میں اپنے اثر کو وسعت دینے کے لئے کوشاں ہے۔ساتویں مرحلے کا الیکشن 7مارچ کو ہوگا۔
سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ان 54سیٹوں میں سے 29پر بی جےپی نے اور 7سیٹوں پر اس کی اتحادی پارٹیوں نے جیت کا پرچم لہرایا تھا جب کہ ایس پی کے خاطے میں11اور بی ایس پی کو6سیٹیں ملی تھیں۔وہیں سال 2012 کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے 34،بی ایس پی نے سات اور بی جے پی کو صرف 4سیٹیں ملی تھیں۔تین سیٹوں پر کانگریس اور 5سیٹوں پر دیگر چھوٹی پارٹیوں نے جیت کا علم لہرایا تھا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یوپی اسمبلی انتخابات کے اس ساتویں و آخری مرحلے کی کچھ دلچسپ جہات ہیں۔ سیاسی بھی اور جغرافیائی بھی۔وارانسی سے رکن پارلیمان ہونے کے ناطے وزیر اعظم نریندر مودی سال 2014 سے اس خطے کے سب سے موثر شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔مودی برانڈ کی وجہ سے پارٹی کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم کے وارانسی سے شخصی تعلقات کے ساتھ بڑے ہندوتوا اور بیک ورڈ شناخت نے سال 2017 میں بی جے پی کی بڑی جیت کے راستے کو ہموار کیا۔تاہم اسے سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد سے سخت چیلنجز کا سامنا کرناپڑا۔دلت۔اوبی سی ذات کا بی ایس پی۔ ایس پی کا اتحاد اسی خطے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا۔اور بی ایس پی نے غازی پور، گھوسی،جونپور اور لال گنج پارلیمانی جبکہ ایس پی نے اعظم گڑھ پارلیمانی حلقے جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔
اس خطے میں سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج نچلی ذاتوں بالخصوص جو اس خطے میں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ان کی اہمیت کو یاد دلاتا ہے۔ہاں اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس خطے کے رابرٹس گنج اور مرزاپور پارلیمانی حلقے کو کرمی۔ او بی سی ووٹروں پر مبنی اپنا دل(ایس) نے جیت کر پرچم لہرایا جو کہ بی جے پی کی اتحادی تھی اور اس الیکشن میں بھی ہے۔
سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی اس خطے میں جیت کے پیچھے سب سے اہم وجہ اس کے اتحادیوں کی توسیع تھی۔ اس وقت بی جے پی کے پاس اپنا دل کے ساتھ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی(ایس بی ایس پی)کی حمایت تھی۔اور یہ اتحادی پارٹیاں کافی ضروری کرمی اور راج بھر پسماندہ سماج کو بی جے پی خیمے میں لانے میں معاون ثابت ہوئیں۔اور اسی کا انتیجہ تھا کہ اوم پرکاش کی قیادت والی ایس بی ایس پی تین سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی جبکہ اپنا دل کو 4سیٹیں ملیں۔
وہیں نشاد ووٹروں میں اپنا رسوخ رکھنے والی نشاد پارٹی نے تنہا الیکشن لڑا تھا اور ایک سیٹ پر جیت درج کی تھی۔یہ نشاد پسماندہ سماج کے ووٹروں پر مبنی علاقائی پارٹی کا اس بار بی جے پی سے اتحاد ہے اور ساتویں مرحلے میں پارٹی نے 3امیدوار اتارے ہیں۔
تاہم ان تمام کے باجود ایس بی ایس پی کا بی جے پی کو چھوڑ کر ایس پی سے اتحاد کرنا بی جے پی کے لئے بڑا چیلنجز ہے۔سال 2017 میں یوگی کابینہ میں وزیر بنائے گئے راج بھر نے بعد میں بی جے پی سے راستہ جدا کرلیا اور اس وقت غیر یادو او بی سی لیڈروں میں وہی بی جے پی کی سب سے زیادہ کھل کر تنقید کرتے ہیں

اعظم گڑھ، مئو اور وارانسی اضلاع میں راج بھر کمیونٹی کی خاصی تعداد ہے۔ایس بی ایس پی کا ایس پی سے اتحاد ہے اور وہ پوری ریاست میں 17سیٹوں پر الیکشن لڑرہی ہے۔جس میں سے 8اس آخری مرحلے کی ہیں۔ایس پی قیادت پرامید ہے کہ راج بھر کے ساتھ اس خطے میں یادو۔ او بی سی کی اکثریت ان کے لئے ثمر آور ثابت ہوگی۔
بی جے پی نے راج بھر کی کمی کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے لیکن اس مرحلے میں موثر کرمی ووٹ بینک کے لئے بھی ایک دلچسپ لڑائی ہے۔سماج وادی پارٹی نے اپنا دل سے الگ ہونے والے اپنا دل(کے) کے ساتھ اتحاد کیا ہے جس کی سربراہ وفاقی وزیر و اپنا دل(ایس) کی سربرہ انوپریا پٹیل کی ماں کرشنا پٹیل ہیں۔
اپنا دل(ایس)4سیٹوں پر الیکشن لڑرہی ہے جبکہ ایس پی کی اتحادی اپنا دل(کے) نے اس مرحلے میں پانچ سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں۔اگرچہ سیاسی برتری کے لئے ماں۔بیٹی کی یہ لڑائی نئی نہیں ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ کرشنا پٹیل گروپ کسی بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ انتخابی میدان میں ہے۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بی جےپی اور ایس پی دونوں کے لئے یہ’اتحادی فیکٹر‘ ہے جس کی اس حتمی مرحلے میں کافی اہمیت ہے۔اور بہت کچھ اس بات پر مبنی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے کردار کتنا موثر ثابت ہوتے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان